Thursday, 29 September 2016

دوبارہ رتی گلی --- قسط تین


"یار فیضان میری بس ہوگئ ہے" راناصاحب نے دہائ دی
"یار آپ تو کہ رہے تھے آپ نے بڑے ٹریک کئے ہیں"میں نے ابرار کے انداز میں کہا حالانکہ میرا اپنا حال بھی پتلا ہی تھا
"او بکواس نہ کر رک جا" میں جو پہلے ہی رکا ہوا تھا قریب آکر انکے ساتھ بیٹھ گیا
"ارے کیا ہوا بھائ تھوڑا سا راستہ ہے بس یہ چڑھائ ہے اور آگے کھلا میدان ہے"میں نے ہمت بندھانے کی کوشش کی حالانکہ میں اندر سے ڈر رہا تھا کہ اگر میرے ہمت دینے سے اگر رانا صاحب کھڑے ہوگئے تو بڑی مشکل ہوجائے گی ہم دونوں راستے ہی ہٹ کر ایک ٹیلے نما جگہ سے ٹیک لگا کر سستانے لگے کہ پیچھے سے چودھری صاحب تشریف لے آئے اور دور سے ہمیں دیکھتے ہی ایک موٹی سی گالی دی
"ــــ او تم لوگ ادھر بیٹھے ہو میری  ادھر موت واقع ہوجاتی پیچھے" ہم دونوں کو ہی چودھری کی حالت دیکھ کر ہنسی آگئ بے چار ے کی حالت واقعی غیر تھی  سردی کی وجہ سے گرم ٹوپی کو گردن تک کھینچا ہوا تھا اور چھوٹی بڑی چڑھائیوں اور ناہموار راستے کی وجہ سے سانس دھونکی کی طرح چل رہا تھا ۔
"کیوں ہنس رہے ہو خبیثو۔۔۔ اور رانا صاحب یہ سب کیا دھرا تیرا ہی ہے"
"او ادھر آجا آرام سے بڑ بڑ نہ کر" رانا صاحب نے ہانک لگائ اور چودھری تھوڑی دیر میں ہم تک پہنچ کر زمین پر لیٹ کر ہاؤ ہاؤ کرکے سانس درست کرنے لگا
"بلوچ کہاں گیا" میں نے پوچھا
"زندہ بچ گیا" چودھری نے جواب دیا جس کی سانسیں اب قدرے قابو میں آچکی تھیں
"کیا مطلب؟" میں نے دوبارہ پوچھا
"تم دونوں تو بھاگ گئے آگے میں اور بلوچ پیچھے تھے پہلی اترائ پر پہلے میں سلپ ہوا اور میرے ساتھ بلوچ بھی کافی دور تک پھسلے پھر ایک بڑے پتھر کی وجہ سے رک گئے ورنہ جانا تھا نیچے ملنا بھی نہیں تھا" چودھری نے تفصیل بتائ
"بلوچ کدھر گیا پھر" رانا صاحب نے تشویش سے پوچھا
"اسکو چوٹ آئ ہے کمر میں اور ٹانگ  نظیر واپس لے گیا اسے کیمپ میں" چودھری نے  بات مکمل کی تو رانا صاحب نے پوچھا
"تجھے نہیں لگی؟"
"واہ واہـــــــ بڑا ارمان ہے تجھے نہیں لگی" چودھری نے ایک اور موٹی گالی دیکر جواب مکمل کیا پھر خود ہی بولا "نہیں میں پہلے ہی رک گیا تھا بلوچ زیادہ سلپ ہوا بے چارے کولگی ہے کس کے"
"اب کیا کریں چلیں واپس؟ اندھیرا ہوجائے گا نہیں تو" رانا صاحب نے صلاح مانگی
"یار اب آگئے ہیں تو چلتے ہیں دیکھ لیں گے اندھیرا ہوا تو اللہ مالک ہے بلوچ کی فکر نہ کرو وہ کیمپ میں سویا پڑا ہوگا اب اور دیر بھی رانا صاحب آپ کی وجہ سے ہوئ ہے کچھ تو سزا ملنی چاھئے آپ  کو بھی" چودھری نے واپس پلٹنے سے انکار کا فیصلہ سنا دیا
ہوا کچھ یوں تھا کہ جب ہم سب نے ایک دوسرے کو کھینچ کھانچ کر کھڑا کرلیا تو رانا صاحب نے ہی کہا تھا کہ ابھی سورج غروب ہونے میں کافی وقت ہے کیمپ لگا کر اور سامان پیک کرکے چلتے ہیں کیمپ چودھری صاحب ساتھ لائے تھے جو کہ بالکل "زیرو میٹر " تھا یعنی بازار سے خرید کر سیدھا اپنے ساتھ لے آئے تھے اس زیرو میٹر خیمے کو نصب کرنے میں ایک تو کافی دقت ہوئ دوسرے وقت بھی کافی لگا گیا کیوں کہ  ایک تو اسکی تیلیاں مکمل نہیں تھیں اور تھیں تو انکی ترتیب سمجھ نہیں آرہے تھے رانا صاحب بار بار کوشش کرتے اور پھر جھنجھلا کر کہنے لگے "یار چودھری تو چیک تو کرلیتا"
جس پر چودھری صاحب نے جواب دیا"یا ر میں نے ادھر دوکان میں پورا کا پورا لگوا کر دیکھا تھا فل اتنا بڑا بن گیا تھا کہ بارات لیکر گھس جاؤ اندر" جس پر رانا صاحب دوبارہ کوشش کرنے میں لگ گئے"نہیں یار یہ تیلیاں پوری نہیں ہیں خیمہ ایسے کھڑا نہیں ہوتا تو چیک کر بیگ میں دیکھ کچھ اور بھی ہوگا"
چودھری نے ایک ایک کرکے اپنے بیگ سے تمام سامان نکال کر زمین پر ڈھیر کرنا شروع کیا اور ایک تھیلی رانا صاحب کی طرف اچھالی "یار چیک کر  کچھ نیٹ بولٹس ہیں"
"نیٹ بولٹس نہیں ہیں یار یہی باقی کا سامان ہے" رانا صاحب نے سامان چیک کیا اور پھر چندمنٹوں میں ہی خیمہ اٹھا کر کھڑا کردیا
ہم سب نے اپنا اپنا سامان خیمے کے اندر ڈالا اور رانا صاحب نے کہا "چلو بھائ چلو"
"یار عثمان چھوڑ یار نہیں جاتے ابھی دیر ہوگئ ہے" چودھری نے ایکدم سے فیصلہ سنا دیا
"ہاں نظیر بتا یار جاسکتے ہیں یا نہیں" بلوچ نے نظیر سے صلاح مانگی
"جاسکتے ہیں سر آرام سے واپسی میں شاید سورج ڈوب جائے اگر ادھر زیادہ ٹائم جھیل پر لگاؤ گے تو" نظیر کی طرف سے گرین سگنل تھا سب ہی تیار ہوگئے اور چل پڑے ابتدا میں ہم سب ساتھ ساتھ تھے لیکن تھوڑی ہی دور جاکر بلوچ اور چودھری الگ رہ گئے جب کہ میں اور رانا صاحب پہلے سے بنی ہوئ پکڈنڈی پر چلتے رہے ایک چڑھائ چڑھ کر پار اترے تو ہمارے پس منظر میں کیمپ سائیٹ غائب ہوچکی تھی اور بس وہی زنگ آلود پہاڑ، نیلے  اور سرخ پھول رہ گئے تھے۔
"یار رانا صاحب کیسا عجیب سا منظر ہے" میں نے کہا
"یار منظر میں کچھ نہیں ہوتا انسا ن کے اندر ہوتا ہے" رانا صاحب شاید فلسفے کے موڈ میں تھے
"تو پھر لودھراں میں ایسا کیوں محسوس نہیں ہوتا یا پھر حیدرآباد میں کیوں نہیں ہوتا" میں نے دوبارہ سوال کیا
"ہوتا ہوگا جس کیلئے لودھرا یا حیدرآباد اہم ہوگا اسے ضرور ہوتا ہوگا" رانا صاحب نے پھر فلسفے کا سہارا لیا
"یار آپ تو فریدہ خانم اور شکیرا کو ایک صف میں کھڑا کرہے ہیں فریدہ خانم کو سن کر بندہ عبادت کی طرف راغب ہوجائے جبکہ شکیرا کی تو آواز میں ہی آوارگی ہے واللہ" میری با ت سب کر رانا صاحب نے قہقہ لگایا اور بولے یار مولوی تو بھی کیسی باتیں کرتا ہے
چھوٹی جھیل کا ٹریک کوئ ایسا آسان ٹریک بھی نہیں تھا کوئ باقاعدہ راستہ نہیں ہے بس آڑے ترچھے قدموں کے نشان سے ایک پکڈنڈی کی صورت میں موجود تھے او ر کہیں کہیں وہ بھی غائب ہوجاتے تھے اور ہم یونہی ہوا میں رہ جاتے دوسرے ہوا اتنی تیز تھی کہ باقاعدہ سوئیوں کی طرح چھیدتی ہوئ محسوس ہورہی تھی ہم دونوں کے پاس ہی دستانے نہیں تھے اور ہماری ہاتھ زیادہ دیر کھلے رہتے تو سن ہوتے ہوئے محسوس ہونے لگتے مسلسل اترائ چڑھائ کی وجہ سے ہم تھک بھی زیادہ رہے تھے اور تب ہی رانا صاحب تھک کر بیٹھ گئے "یار فیضان میری بس ہوگئی ہے"
رانا صاحب کی بس ہونے کے باوجود چوہدری کے زور دینے پر ہم بادل ناخواستہ اٹھے اور اٹھ کر چلے، چلے کیا خود کو گھسیٹتے رہے کسی ایک کو رکتا دیکھ کر اسکا ساتھ دینے کے بہانے سب رک جاتے  اور دم درست کرتے سانس بحال کرتے اور ساتھ ہی دعا بھی کرتے کہ کوئ منع کردے کہ وہ نہیں جائے گا تو وہیں سے واپس پلٹ جائیں۔
تھوڑی دیر یونہی ایک دوسرے کے آسرے رکتے رکتے چلتے  رہے بلکہ رلتے رہے آخر چوہدی نے کہا" چھوڑ یار رانا چل واپس چلتے ہیں چھوٹی جھیل کیا دیکھنے بندہ دیکھے تو کوئ بڑی شے دیکھے  کیوں"
رانا صاحب جو چوہدری کو جھکتا دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے لیکن  ظاہر ایسا کررہے تھے کہ  جیسے انہیں اس فیصلے سے خوشی نہیں ہوئ "ابے چوہدری بس پہنچ گئے ہیں ہمت کرلے تھوڑی ویسے بھی تجھے ہی شوق چڑھا تھا  ادھر"
"یار رانا صاحب ضد چھوڑ دے کتی ٹریک  ہے بڑی اور اس سے بھی کتی ٹھنڈ ہے  چل تو جیتا میں ہار گیا واپس مڑ اب" چوہدری کے ہار ماننے پر رانا صاحب واپسی پر رضامند نظر آنے لگے۔
واپس مڑے اور کیمپ سائٹ کی طرف دوبارہ چلے تو تقریبا" آدھے راستے میں ہی  اندھیرا ہوگیا  جس پر چوہدری نے کہا تھا " دیکھ لو رانا صاحب تیری ضد کے چکر میں رہ جاتے تو واپسی میں کسی کھو میں پڑے ہونا تھا یا بھیڑیا کھا جاتا ادھر ہی کدھر ہمیں"
"میری ضد کا چکر کہاں سے آگیا میں نے تو تب ہی بولا تھا واپس چلے چلو جب  تو آیا تھا بلوچ کو چھوڑ کر" رانا صاحب نے جواب دیا
"چل یار چھوڑ اب سویرے دیکھیں گے کیا کرنا ہے" چوہدری نے بھی زیادہ بحث کو فضول سمجھا
چلتے چلتے واپس کیمپ تک پہنچے بلوچ کی خیریت معلوم کی ان کی طبیعت کافی بہتر تھی اور وہ کچھ دیر سو کر دوبارہ  تازہ دم ہوچکے تھے کھانا بھی تیار تھا اور بھوک بھی زوروں پر تھی تو کھانا کھا لیا گیا اور اسکے بعد چائے کافی اور مزید چائے اور مزید کافی کا دور چلا  اور  تھوڑی دیر میں ہی اندھیرا گھپ ہوتا چلا گیا روشنی بس کیمپ میں موجود مصنوعی  بلب اور ٹارچوں کی تھی چاند کی آخری تاریخیں تھیں اور موسم صاف نہ ہونے کی وجہ سے تارے میں ظاہر نہیں تھے ۔
"یا ر رانا تو ہمیں سیدھا لاہور سے یہاں لے آیا  سوچ کل اس وقت ہم لاہور میں تھے اور ابھی ادھر" چوہدری صاحب بیٹھے بیٹھے گویا ہوئے
"شکر کر ادھر ہی رات گزر رہی ہے اگر تو رکتا نہیں ناں تو میری تو دریا کے اندر ہونی تھی" بلوچ صاحب نے  کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بات مکمل کی۔
"اور اللہ کا شکر ادا کر  بے وقوف انسان بچ گئے ورنہ ہماری رات پھر سفر میں گزر جاتی تجھے واپس لے جانے میں"چوہدری نے پھتی کسی جس پر بلوچ صاحب واقعی ناراض ہوگئے اور اپنا جوتا کھینچ کر مارا پھر یہ بولتے ہوئے  اٹھ کھڑے ہوئے کہ " میں چلا سونے ویسے  بھی میں انجرڈ ہوں" بلوچ صاحب گئے تو پھر ہم سب بھی تھکن محسوس کرنے لگے میں تو سیدھا کراچی سے پنڈی اور پنڈی سے یہاں کیمپ تک بغیر رکے چلا آیا تھا اس خیال کے آنے کے بعد سے تھکاوٹ شدت سے محسوس ہونے لگی اور نیند بھی تو میں اٹھا اور خیمے کے اندر سلیپنگ بیگ میں جالیٹا اور کچھ ہی دیر میں  سوبھی گیا رانا صاحب اور چوہدری باہر ہی بیٹھے باتیں کررہے تھے اس رات اتنی گہری نیند آئ کہ کیا کبھی کسی فائیو سٹار ہوٹل کے لگژری  کمرے میں آتی ہوگی۔
صبح مجھے رانا صاحب نے بہت جلدی کھینچ کھینچ کر اٹھا دیا  خیمے سے باہر نکلے تو ابھی سورج نکلے میں کچھ وقت باقی تھا  یعنی اندھیرا تھا لیکن دم توڑتا ہوا اندھیرا اور سورج نہ نکلے کی وجہ سے شدید ٹھنڈک محسوس ہورہی تھی ہوا بند تھی لیکن ٹھنڈک پورے ماحول میں موجود تھی۔
سوچا نماز پڑھ لوں   ٹھنڈے یخ پانی سے  ٹھٹھرتا ہوا وضو کیا قبلہ کا  اندازے سے تعین کرکے  کپکپاتے  ہوئے نماز ادا کرلی پہاڑوں پر ادا کی جانے والی نماز کا اپنا ہی مزا ہے اور شاید ان نمازوں کا ثواب بھی زیادہ ہوتا ہو اپنی بات کروں تو مجھے خدا سے تعلق کا جو احساس کسی پہاڑی علاقے میں ہوتا ہے اتنا کبھی شہروں میں نہیں ہوتا۔
"یار آجا ایک چکر لگا کر آئیں" رانا صاحب نے  کہا جب میں جوتے پہن رہا تھا
"چلیں کدھر کو چلنا ہے"  میں نے بے وقوفانہ سا سوال کرلیا
"کہیں نہیں بس ادھر ہی کیمپ سائٹ کا راؤنڈ لگاتے ہیں"
اور ہم دونوں راؤنڈ لگانے نکل چلے
رات کو بارش ہوئ تھی جسکے آثار نمایاں تھے گوکہ ایسی بارشیں ان علاقوں  اکثر ہوجایا کرتی ہیں اور اس بارش کی وجہ سے فضا میں ایک خاص قسم کی تازگی کا احساس تھا چلتے چلتے ہم نے پوری کیمپ سائٹ کا ایک چکر لگایا ہمارے خیمے کے علاوہ وہاں چار پانچ خیمے اور بھی لگے ہوئے تھے لیکن جب ہم وہاں پہنچے تھے تو اس وقت وہ خیمے موجود نہیں تھے شاید جب ہم جھیل کی طرف چلے گئے تھے تو ہمارے پیچھے میں کچھ مزید سیاح وہاں آئے تھے لیکن اس وقت سناٹا تھا دور دور تک پہاڑ مرجھائے ہوئے سبزے کی وجہ سے کہیں کہیں گندمی اور کہیں کہیں زنگ آلود نظر آرہے تھے سبزہ بھی تھا لیکن اتنے رنگوں کی بہتات کی وجہ سے نمایاں نہیں ہورہا تھا ۔
کیمپ سائٹ کے پیچھے کی جانب ٹریک کے دوسری جانب سرکنڈے نماں پھول لہلہا رہے تھے اور یہ پھول کچھ تو  ساہی مائل سرخ تھے  اور کچھ جامنی رنگت  لئے ہوئے تھے لیکن تعداد میں بہت کم تھے بس چند ایک جھاڑیاں ہی تھیں یعنی ماحول تو تھا لیکن بے دیوانہ کرسکنے کے قابل نہیں تھا  یعنی ابھی بچہ تھا بالغ نہ ہوا تھا۔
خیموں کے دائیں جانب چلتے چلتے ہم ایک چھوٹی سی پہاڑی کے اوپر پہنچ کر رک گئے وہاں سے منظر کچھ یوں تھا کہ  کیمپ سائٹ  ہمارے بائیں جانب نیچے کی طرف ہوگئی اور اس پر لگے ہوئے خیمے تین خیمے ایک ساتھ سرخ رنگ کے اور ان سے کچھ پرے نیلے رنگ کا چوکور خیمہ جو کہ انقلابی صاحب کا تھا اور سب سے الگ تھلگ ہمارا پیلے رنگ کا خیمہ جیسے کوئ مایوں کی دلہن  اور وہاں سے مزید نیچے بائیں جانب  بہت نیچےرتی گلی نالہ گزرتا ہوا اور اسکے گزرنے کا شور بہت ہی مدھم مدھم ہماری سماعتوں سے ٹکراتا ہوا اور سامنے تاحد نگاہ تک پہاڑوں کا ایک سلسلہ اور ہر پہاڑ ایک دوسرے میں گم ہوتا ہوا گویا کراچی سے طویل مسافت طے کرنے کے بعد پہلی صبح ایسی شاندار تھی کہ میری ساری تھکن اتر گئ اور آنے کا مقصد پورا  ہوگیا اب آگے اس سفر میں مجھے کچھ بھی نہ ملتا اور وہیں سے واپس لوٹ جانے کا  اذن ملتا تو بھی ایسی کوئ ناامیدی نہیں ہوتی یا شاید یہ میرا صرف گمان تھا کہ آگے جو کچھ میرے لئے تھا اور جو کچھ مجھے دکھادیا گیا اسے دیکھ لینے کے بعد بھی میرے اندر ایسے مناظر کی ہوس ختم تو کیا کم بھی نہیں ہوتی بلکہ مزید بڑھتی ہی رہی اور شاید بڑھتی ہی رہے گی۔
"یار کیا ایسا  ہوتا ہے کہ جب کوئ مرجائے تو اسکی روح اسی دنیا میں بھٹکتی رہ جائے؟" رانا صاحب نے بالکل ہی آؤٹ اور سلیبس سوال پوچھ لیا
"ہو سکتا ہے  ایسا ممکن ہو قدرت اللہ شہاب نے ایک واقعہ اسی نوعیت کا ذکر کیا ہے لیکن ہوسکتا ہے وہ بس زیب داستان کیلئے کیا ہو، میرا اپنا کوئ ذاتی تجربہ نہیں ہے" میرے جواب سے رانا صاحب مطئن نہیں ہوئے
"نہیں فرض کر کہ کوئ بندہ یہاں پہنچ جائے اور پہنچ کر مرجائے یا یہاں آنے کی طلب ہو اسکے دل میں لیکن یہاں آنہ سکے اور آنے سے پہلے ہی مرجائے تو کیا ایسا ممکن ہے کہ اسکی روح یہاں بھٹکتی پھرے؟"
"یار اس بات  کا جواب تو کوئ صاحب علم ہی دے سکتا ہے ویسے محمد احسن اس قسم کی خواہش کرتے پائے گئے ہیں انہیں علم ہوگا ان سے پوچھئے گاویسے میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جسم روح کا ایک لباس ہے جیسے آپ شرٹ پہن لیتے ہیں تو وہ شرٹ آپ کی طرح ہوجاتی ہے یعنی اس وقت وہ آپ ہی ہوتی ہے لیکن جب آپ اسے اتار دیتے ہیں تو وہ صرف شرٹ ہوجاتی ہے  تو ایسے ہی جسم بھی  روح کے نکل جانے کے بعد صرف جسم رہ جاتا ہے ویسے بھی  یہ تو قران میں بھی ہے کہ اللہ نے تمام ارواح کو جمع کیا اور ان سے اقرار لیا کہ تمہارا رب کون ہے اور جب حضرت ابراہیم نے خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کرلی تو انکو بھی حکم ہوا تھا کہ پکارو اور انہوں نے پکارا تو اللہ نے انکی آواز پورے عالم میں پہنچا دی اور تمام جن و انس اور ارواح نے وہ پکار سنی اور لبیک کہا لیکن رانا صاحب میں یہ بات نہیں کہ سکتا کہ روح اپنی مرضی سے بھی بھٹکتی پھرتی رہے وہ بہر حال  حکم کی تابع ہے" رانا صاحب پھر  بھی مطمئن نہ ہوئے
"یار ایک بات ہے لیکن تم لوگ میرا مذاق اڑاؤ گے بعد میں اس لئے چھوڑ  ابھی"
"یار بتاد یں کیا ہوا کوئ بھوت دیکھ لیا کیا؟"
"یار رات تم تو سوگئے جلدی اور بلوچ بھی سوگیا میں او رنوید بیٹھے تھے باہر تب موسم بھی صاف ہوگیا تھا کچھ دیر باتیں کرتے رہے نظیر اور وہ دوسرا بندہ بھی ساتھ بیٹھا تھا  ایوں شغل لگا رہے تھے جب وہ دونوں چلے گئے تو  پھر تھوڑی دیرمیں نوید بھی چلا گیا سونے اور میں بھی اندر لیٹ گیا  باہر سردی ہورہ تھی کافی لیکن نیند نہیں آئ کافی دیر لیٹا رہا  پھر اٹھ کر باہر آگیا کہ کچھ نائٹ فوٹو گرافی کرلوں"
"رات میں یہ جو ٹینٹ دیکھ رہا ہے" راناں صاحب نے ان تین خیموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا" یہاں بھی چھ سات لڑکے آئے تھے  وہ دیر سے پہنچے تو غل غپاڑا مچارہے تھے پتہ نہیں کیا چرچ شراب کیا پی کر آئے تھےبہت مستی میں تھے"
"میں کیمرہ اٹھا کر تھوڑی دور نکل گیا ٹرائ پاڈ لگا کر کھڑا تھا ٹارچ میں نے بند کیا ہوا تھا کبھی کبھی جلا لیا کرتا فوکس دیکھنے کیلئے خیردوتین تصویریں کھینچی ہونگی کہ سامنے کی طرف سے ایک لڑکی آئ خوبصورت سی جینز پہنی ہوئ"
"صرف جینز؟؟" میں نے اشتیاق میں بے صبرے پن سے پوچھ لیا  جس پر رانا صاحب غصہ کرگئے لیکن کچھ بولے نہیں اپنی بات جاری رکھی
"جینز شرٹ اور سر پر ہیٹ جیسے ٹوپی ہاتھ میں سٹک پکڑی تھی اس نے میرے پاس آکر بولی کہ آپ مجھے آگے تک راستہ دکھا دیں گے میرے پاس ٹارچ نہیں ہے"
"اکیلی لڑکی تھی رات میں؟"
"ہاں اکیلی تھی خیر میں نے ٹارچ جلایا اور آگے آگے چلا ابھی چار قدم ہی چلا تھا کہ  پیچھے روشی دکھانے پلٹا تو پیچھے کوئ نہیں دور دور روشنی ماری لیکن کوئ تھا ہی نہیں "
"پھر؟" میں نے پوچھا لیکن مجھے رانا صاحب کی کسی بات پر یقین نہیں آرہا تھا
"پھر کچھ نہیں میری حالت خراب ہوگئ  بھاگا وہاں سے تو ٹینٹ میں آکر دم لیا تم تینوں سو رہے تھے آیت الکرسی پڑھ پڑھ کر رات گزاری ہے کیمرہ بھی میرا ادھر ہی پڑا ہوگا ابھی تک بارش بھی ہوگئ رات میں کیمرے کی تو ماں بہن ہوگئ ہوگی"
"یار سرجی آپ کو بھوت بھی نظر آیا تو لڑکی کا سچ میں آپ کے نصیب میں بڑی لڑکیاں ہیں مجھے آپ کی قسمت پر رشک  آنے لگا ہے۔۔ہاہاہا"
"مجھے معلوم تھا کہ تجھے جھوٹ ہی لگے گا خیرکوئ با ت نہیں چل آجا کیمرے کی خیریت لے کر آتے ہیں"
ہم وہاں سے نیچے اتر کر خیمے تک آئے اندر جھانکا نویدین سورہے تھے پھر وہاں سے تھوڑا نیچے اتر کر  آگے گئے تو رانا صاحب کا کیمرہ بمع ٹرائ پاڈ زمین پر گرا ہوا نظر آگیا اور اسکی واقعی ماں بہن ہوچکی تھی۔
رانا صاحب دوڑ کر گئے کیمرے کو مٹی سے اٹھایا سینے سے لگایا جھاڑا پونچھا لیکن سب بے سود وہ زندگی کی جنگ شاید ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی ہار چکا تھا۔
کیمرے کو اس حالت میں دیکھ کر رانا صاحب نے اس رات والی  لڑکی کو وہ پنجابی میں وہ  گالیاں سنائیں کہ اگر وہ ان کو سن سکتی تو اس کے  کانوں سے دھواں نکل آتا مجھے رانا صاحب کو بمشکل قابو کرنا پڑا کہ اگر وہ دوبارہ نظر آگئ اور ان مغلظات پر سوال کر بیٹھی تو لینے کے دینے پڑجائیں گے ۔
خیر رانا صاحب ان لوگو ں میں سے نہیں جو گزری پر ماتم کرتے ہیں بلکہ ان میں سے ہیں بلکہ ان میں سب سے آگے ہیں جو کہ گزری پر بہت جلد تین حرف پڑھ کر آگے کے بارے میں سوچتے ہیں تھوڑی دیر کیمرے کو الٹ پلٹ کر دیکھتے رہے اور پوری طرح معائنہ کرنے کے بعد بولے
 "یار دیکھنے میں تو ٹھیک ہی ہے بس آن نہیں ہورہا ہے شاید بیٹری ختم ہوگئ ہو چل اب تو لاہور واپس جاکر ہی چیک ہوگا"  کچھ دیر وہی بیٹھے رہے پھر رانا صاحب بولے :
" یار میں اسے رکھ کر آتا ہوں  " ا
ور چلے گئے واپس آئے تو  اپنے بیگ سے بسکٹ اور نمکو نکال کر لے آئے  اور اس وقت تقریبا ساڑھے چھ بجے ہونگے تو  بلوچ صاحب بخار میں مبتلا تھے اور چوہدری بھی فوری اٹھنے کا کوئ ارادہ نہیں رکھتے تھے تب ہی رانا صاحب اچانک اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے :
"یار چل چھوٹی جھیل سے ہوکر آتے ہیں یہ دونوں سو رہے ہیں  جلدی کر گھنٹے ڈیڑھ میں واپس آجائیں گے"
"یار رانا صاحب آدھے راستے میں آپ کی بس ہوجاتی ہے کل بھی آپ بیٹھ گئے آدھےراستے میں ہی" میں نے کہا تو رانا صاحب بولے
"اب نہیں ہوگا تو بس تیار ہوجا جلدی فٹا فٹ جائیں گے اور گھنٹے ڈیڑھ میں واپس"
اور فٹافٹ ہی ہم نکل کھڑے ہوئے اور واقعی رانا صاحب وہ چال چلے کہ بس کیا بتاؤں یوں سمجھیں کہ  جیسے پارک میں واک کررہے ہوں بغیر رکے بغیر لڑکھڑائے خود بھی چلے اور مجھے بھی چلایا اور واقعی وہاں کا راستہ رات کے مقابلے میں بہت آسان معلوم ہوا  سورج نکل چکا تھا  موسم صاف  ہلکی ہلکی  ہوا چل رہی تھی اور ٹھنڈ کے باوجود چلنے میں پسینہ آرہا تھا.نیلے رنگ کے سرکنڈے کے مشابہ پھول صبح کی ہوا میں لہلہا رہے تھے اور یہ پھول بہت سارے تھے یوں سمجھیں جیسے کھیت کے کھیت وہاں موجود تھے جلد ہم جھیل تک پہنچے میں کامیاب ہوگئے  یہ جھیل اچانک ہی سامنے آگئ تھی گو کہ ابھی ہماری پہنچ سے بہت دور تھی لیکن پوری وسعت میں ہمارے سامنے موجود تھی پیچھے پہاڑ وہی زنگ رنگ میں سرخی بکھیر رہے تھے اور جھیل کی  سبزی مائل نیلی سطح  پر ہوا سے پانی پر لہریں بن رہی تھیں میرے پہلے منظر میں ایک پرندہ کہیں سے اڑتا ہوا آیا جھیل کی سطح پر  تیزی سے چہل قدمی کرکے ایک طرف اڑ گیا۔
میں نے رانا صاحب کی طرف دیکھا  اور محسوس کیا کہ وہ اپنے کیمرے کر بہت مس کررہے ہیں  لیکن کیا کرسکتے تھے موبائل سے ایک آدھ تصویر کھینچ لی کیمرے میں لے جانے کو کچھ نہیں تھا لیکن بہت کچھ یادوں میں بسایا جاسکتا تھا وہ منظر کچھ کم  انوکھا نہیں تھا بالکل ہی بہشتی منظر تھا میں نے سوچا کہ نہ جانے کیوں اس منظر کو سیاحوں میں مقبولیت کیوں حاصل نہیں ہوئ اور ایک خوشی بھی ہوئ کہ اچھا ہی ہوا ورنہ یہ جگہ بھی بہت جلد تباہ ہوجاتی شیوسر جھیل میں پانی کی بوتل تیرتے تو میں خود دیکھ کر آیا ہوں۔
منظر کچھ ایسا ہی تھا کہ ہمارے جیسے مناظر کے  پیاسے اپنی پیاس بجھائے جاتے لیکن وہ بجھتی نہیں بلکہ اور بھڑکتی ہے  ہم ہوس کے مارے شرابیوں کی طرح جام پر جام لنڈھاتے لیکن پھر بھی یہی کہتے کہ:
یہ دور جب چلے چلائے جا
تیرے قربان ساقی عالم
یہ مئے عشق ہے پلائے جا
مجھ کو بھرپور ابھی تک نہ کوئ جام ملا
ساقیا اور پلا اور پلا اور پلا
کافی وقت اسی مستی کے  عالم میں گزر گیا اور پھر مصیبت کہ جب خمار چڑھنا شروع بھی نہیں ہوتا  ہمیں مے خانہ چھوڑنے کا حکم ہوتا ہے اور تب بھی ایسا ہی ہوا اورا ٹھنا پڑا ہمارے دونوں ساتھے اٹھ چکے ہونگے اور ہمیں اگلی منزل کیلئے کوچ کرنا تھا بے دلی سے اٹھے اور واپس اسی راستے پر پلٹ گئے جہاں 
سے چل کر آئے تھے لیکن اب ہماری دل خوشی سے بھرے ہونے کے باوجود بھی بھاری تھے۔ 

تصویر رانا صاحب
فوٹو رانا عثمان

6 comments:

  1. Beautifull.... i doubt I did not read this before..is not it?

    ReplyDelete
    Replies
    1. This is posted for the first time on blog

      Delete
  2. Beautifull.... i doubt I did not read this before..is not it?

    ReplyDelete
  3. ے جیسے مناظر کے پیاسے اپنی پیاس بجھائے جاتے لیکن وہ بجھتی نہیں بلکہ اور بھڑکتی ہے
    زبردست بہت ہی خوب لکھا
    سب مناظر تخیل کے پردے پہ بنتے گئے
    کمال منظر نگاری
    رانا صاحب پھر کبھی وہ حسینہ ملی؟؟؟؟

    ReplyDelete