Friday, 8 September 2017

ہم ایک مردہ پرست قوم ہیں

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو زندوں کی نسبت انسان کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب وہ اس دنیا کو چھوڑ جاتا ہے ابھی پھچلے دنوں میرے خاندان کے دو بزرگوں کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا اللہ جانے والوں کی مغفرت فرمائے  اور انکو جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے آمین۔
دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جیسے ہی کوئ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے تمام ہی افراد کے نزدیک وہ اس دنیا کا سب سے بہترین  نسان ہوچکا ہوتا ہےا ور اسکا ٹھکانہ جنت ہونے کی گارنٹی لوگ اسکے جنازے سے پہلے ہی دینا شروع کردیتے ہیں۔
ایک صاحب جن  کا انتقال ہوا انکا جب تک زندہ تھے یہ حال تھا کہ زندگی بھر محنت کی سعودیہ اور امارات میں تپتی دھوپ  میں کام کرکے روپیہ کمایا اور یہاں بچوں کا پڑھا لکھا کر کسی قابل کیا واپس آئے تو بھی ایک دوکان کھول کر رات دن بیٹھا کرتے رات جب تھکے ہوئے واپس آتے تو نہ انکی بیوی نہ ہی کوئ اولاد پانی کو بھی پوچھتی۔
میں نے کئ مرتبہ ان کو دیکھا کہ رات میں گھر سے نکل کر سگریٹ خریدنے بھی خود ہی جارہے ہوتے انتقال سے ایک رات پہلے بھی اسی حالت میں گھر آئے اور جو سوئے تو صبح اٹھ نہ سکے نیند میں ہی اللہ کوپیارے ہوگئے۔
تعزیت کرنے گیا تو انکا جوان بیٹا افسوس میں آنسو بہا رہا تھا کہ میرا باپ ایسے ہی چلا گیا مجھے کوئ خدمت کا موقع ہی نہ دیا  ۔۔۔۔ہائے میں کیسا بیٹا تھا کہ جسکا باپ مرگیا اور وہ سوتا رہا اور  یہ خیال بھی دل میں نہ آیا کہ شاید ابا کو میری ضرورت ہو ۔دل میں تو آیا کہ  کہ دوں  لیکن مجبور خاموش رہا کہ میاں ضروری تو نہیں کہ باپ پلنگ پر پڑا ہو تو ہی اسکی خدمت کی جائے  یعنی جب یقین ہوجائے کہ اب  یہ بچنے والا نہیں  تب ہی کیوں کی جائے باپ کی خدمت جب تونے دیکھا کہ میرا باپ بوڑھا ہوگیا ہے تو کم از کم اتنا ہی کرتا کہ ان سے کہتا کہ ابا آپ نے زندگی بھر محنت کی ہے اب آپ گھر رہ کر آرام کریں لیکن ہمیشہ یہی شکوہ سنا کہ ابا  کو تو ڈھنگ سے دوکان بھی چلانا نہیں آتی دن کی پانچ سو کی سیل بھی نہیں کرتے ۔
دوسرے جب دنیا سے گئے تو انکی اولادیں رو رو کر ہلکان ہورہی تھیں لیکن کہ ہم بے آسرا ہوگئے ہمارا باپ مرگیا اب ہمارا کیا ہوگا لیکن  اس سے پہلے تک کسی نے انکی زبان سے اپنے باپ کیلئے کبھی کلمہ خیر نہیں سنا۔
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ کیوں ہم ایک ایسے ہوگئے کہ ہماری محبت کے حقدار زندوں سے زیادہ مردے ہوگئے؟ ہم کیوں انسان کی قدر تب نہیں کرتے جب کہ وہ زندہ ہوتا ہےا ور ہمارے محبت اور توجہ کا زیادہ حقدار ہوتا ہے؟ کیوں ہم اپنی زبان سے اور اپنے فعل سے اس کی زندگی میں اس شخص سے محبت کا اظہار نہیں کرپاتے کیوں اس کے تب کام نہیں آتے جب وہ ابھی ہمارے درمیان ہوتا ہے؟ ہمیں ایک انسان کی کیفیات کا خیال تب ہی کیوں آتا ہے جب وہ مرچکا ہوتا ہے کہ فلاں وقت ہم نے اپنی کسی بات سے یا اپنے کسی فعل سے اس شخص کا دل دکھایا؟ اور ہمیں کیوں افسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اس سے معافی مانگنے کا موقع بھی نہیں ملا حالانکہ ہمیں موقع ملاہوتا ہے لیکن ہمیں احساس صرف اس کے جانے کے بعد ہی کیوں آتا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مردو پرست قوم ہیں اور ہمیں احساس تب ہی ہوتا ہے کہ جب موقع ہمارے ساتھ سے نکل جاتا ہے اس کے بعد چاہے باپ کی قبر پر سونے کی اینٹوں سے بھی مزار بنوا دیں کیا فائدہ۔
کاش کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کا وقت پر احساس کرنے والے ہوجائیں تاکہ تاکے ہمارے بعد آنے والے بھی ہمارا احساس ہماری زندگی میں کرلیں۔

Thursday, 6 April 2017

لاہور آوارگی. مستنصر حسین تارڑ۔ ایک تعارف


لاہور آوارگی۔ ایک تعارف
کتاب: لاہور آوارگی (سفرنامہ)
مصنف: مستنصر حسین تارڑ
اشاعت: جنوری 2017
لاہور آوارگی مستنصر حسین تار ڑ صاحب کی تازہ اشاعت شدہ کتاب ہے اور حال میں ہی میں میں نے اس کتاب کا مطالعہ مکمل کیا ہے اور دوران مطالعہ ہمیشہ کی طرح مکمل طور پر اس کتاب کے سحر میں جکڑا رہا اور یہ تارڑ صاحب کی تحریر کا خاصہ ہے کہ وہ قاری کو جکڑے رکھتی ہے۔

اس کتاب کی ابتدا تارڑ صاحب کے اپنے صبح کے سیر کے ساتھیوں کے ساتھ کئے گئے اندرون لاہور کے دوروں سے ہوتی ہے ابتدائیہ میں تارڑ صاحب نے اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ " یہ ایک مبسوط بیانیہ نہیں ہے، بکھرا بکھرا سا ہے کہ لاہور بھی ایک مبسوط شہر نہیں ہے ،بکھرا بکھرا سا ہے"۔

تو اس بکھرے بکھرے بیانئے کی شروعات لاہور کے قدیم محلوں، حویلیوں، بیٹھکوں، مزاروں مسجدوں ، مندروں اور گردواروں کے گرد گھومتی ہے ان کی تاریخ پر گفتگو ہوتی ہے اور پھر تارڑ صاحب ماضی میں غوطہ زن ہوتے ہیں اور کتاب کا رنگ ہی بدل جاتا ہے یہ کتاب ایک سفرنامے سے ایک سوانح حیات بن جاتی ہے جسکا موضوع تارڑ صاحب اور انکا شہر لاہور ہے۔

تارڑ صاحب کی حیات کے اٹھتر برسوں کہ کہانی ہے ان صبحوں اور شاموں کے قصے ہیں جو انہوں نے اس شہر میں گزاریں، ان میلوں اور تہواروں کی باتیں ہیں جو آج کے دور میں ختم ہوچکے ہیں، ان لوگوں کی باتیں ہیں جو خاک نشین ہوچکے ہیں جنہیں تارڑ صاحب نے اس کتاب کے ذریعہ پھر یاد کیا۔

لاہور کی سڑکیں اور ان پر زندگی کی وہ تصاویر ہیں جو اب صرف خواب ہیں، سینما ہال، ریسٹورنٹ، لائبریریاں، لاہور کے مصور، شعراء، مصنفین، گلوار، لاہور کی ادبی محفلیں اور وہ تمام افراد جن کا تارڑ صاحب کی زندگی میں کسی طور بھی کوئ تعلق رہا چاہے وہ دوستی ہو، محلے داری ہو یا صرف لاہوری ہونا اسکاتذکر ہ اس کتاب میں موجود ہے۔
لاہور میں بسنت کی سرکاری سطح پر بندش پر تارڑ صاحب کے جذبات کچھ یوں ہیں" اور اب لاہور کا آسمان بسنت کے روز بھی ایک بیاباں ہوتا ہے اس میں کسی خوش رنگ پتنگ کا پھول نہیں کھلتا، ایک بنجر آسمان ہوتا ہے" 

لاہور میں ہونے والی تعمیرات اور ان کے نتیجے میں تاریخٰی ورثے کوہونے والے نقصان پر لکھتے ہیں کہ
""لاہور آوارگی" محض ایک تاریخی اور تاثراتی بیانیہ نہیں ہے ایک احتجاج ہے، نہ صرف ایک مرتبہ پھر افغانیوں نے اس شہر پر قبضہ کرلیا ہے بلکہ ترقی کے نام پر اس کے چہرے کو مسخ کیا جارہا ہے، اس کی سب تاریخی نشانیاں مسمار کی جارہی ہیں، اس کے درمیان میں ایک دیوار برلن تعمیر کرکے اس کی پہچان کو معدوم کردیا گیا ہے۔۔میں اس شہر بے مثال کا نوحہ گر ہوں، میں جانتا ہوں کہ میری فغاں کا کچھ اثر نہ ہوگا، میں نے بھی تو اسطو کا کہا نہ مانا کہ کبھی سوداگر کو اپنا حکمران نہ بنانا وہ تمہارے قدیم معبد ڈھا دے گا ، عہد رفتہ کے سب قصر مسمار کرکے وہاں تجارتی منڈیاں قائم کردے گا"
گزشتہ دنوں کراچی میں ہونے والے لیٹریچر فیسٹیول میں تارڑ صاحب نے ایک پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا اور میں بھی وہیں موجود تھا کہ انہوں نے بہت سے سفرنامے تحریر کئے جن میں پاکستان کے بارے میں اور دنیا کے دیگر بہت سے ممالک کے بارے میں لکھے گئے سفرنامے شامل ہیں لیکن پنجاب کے بارے میں اور خاص طور پر لاہور کے بارے میں کوئ کتاب تحریر نہیں کی تو جب انہوں نے پنجاب کے بارے میں کتاب لکھنا شروع کی تو ابتدا میں لاہور بھی اسی کتاب کا حصہ بننا تھا لیکن بعد میں انہوں نے لاہور کو ایک الگ کتاب کی صورت میں شایع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائ کہ میں نے پوری زندگی جس شہر میں بسر کی اسکا میرے اوپر قرض ہے اور یہ کتاب اس قرض کی ادائیگی کی ایک صورت ہے گو کہ میں وہ قرض کبھی اتار نہیں سکتا۔
میری کوئ اوقات نہیں کہ میں تارڑ صاحب کی کتب پر تبصرہ کی جسارت کروں کہ وہ یہ قرض اتارنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں یہ بس اس کتاب کا مختصر تعارف ہے مقصد آپ کو اس کتاب کے مطالعے پر ابھارنا ہے۔

"میں اب بھی کبھی کبھی کسی سویر باغ جناح میں جا نکلتا ہوں۔۔ ستتر برس کا ہوچکا ہوں تب بھی اس باغ میں قدم رکھتا ہوں تو میرا بدن نوجوانی کے بخار سے آشنا ہونے لگتا ہے۔۔سب کچھ وہی ہے۔۔۔صرف اب شیر نہیں دھاڑتا اور میں اس گھنے شجر کے نیچے کھڑے ہوکر نہایت سوگواری اور سرگوشی میں "کوہو کوہو" ہولے سے پکارتا ہوں لیکن جواب نہیں آتا۔۔
وہ پرندہ۔۔ وہ پکھیرو۔۔ جس سے میں باتیں کیا کرتا تھا۔۔ یا تو مرگیا تھا یا کوچ کرچکا تھا۔۔
میں نے بھی اب مرجانا تھا۔۔ کوچ کرجانا تھا"(لاہور آوارگی صفحہ نمبر 2477)

Wednesday, 28 December 2016

اشفاق احمد


تحریر اشفاق احمد
ﺯﺍﺭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮍﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﺮﺱ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﯾﮟ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ
ﯾﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﺎﺯ ﻧﺨﺮﮮ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﺍﻭﻻﺩ
ﮐﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﻮﺭ ﺭﮨﯽ، ﺻﺤﺖ ﺑﮭﯽ ﻋﺎﻡ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮩﺖ ﺍﯾﮑﭩﯿﻮ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﯿﻦ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﭼﻠﻨﮯ، ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻧﮯ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ
ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﻣﺰﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﺳﻨﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ
ﺟﺴﺎﻣﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮕﻢ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻭﯾﻦ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎ ﺑﭽﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺑﭽﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮔﺌﯽ۔ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺭﻭﺯ ﺍﭘﻨﯽ
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﯽ ﮐﭽﯽ ﭘﮑﯽ ﻧﻈﻤﯿﮟ ﺳﻨﺎﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻭ ﻣﺎﮦ ﮔﺬﺭﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﺏ
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﺁﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍ ﺳﻮﺟﺎﺗﯽ، ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﮨﻮﻡ ﻭﺭﮎ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﻣﯿﮟ
ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺩﻓﺘﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻮ ﻧﻈﻢ ﺳﻨﺎﺩﻭ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ
ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﻧﻈﻢ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺧﻼﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﺭ ﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ
ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭘﺮ ﮐﺎﺭﭨﻮﻥ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ۔
ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺯﺍﺭﺍ ﮨﻮﻡ ﻭﺭﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺗﯽ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ
ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﮕﻢ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺯ ﮨﻮﻡ ﻭﺭﮎ ﮐﺮﻭﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﺎﭘﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ
ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﮯ ﭘﮭﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻠﮯ۔ ﺯﺍﺭﺍ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ۔ ﭨﯿﭽﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ
ﺷﮑﺎﯾﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺒﺎﺭ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﯿﮕﻢ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﺻﺮﻑ
ﭘﯿﻨﺴﻞ ﺳﮯ ﻟﮑﯿﺮﯾﮟ ﻣﺎﺭﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﮈﮬﭩﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﺎﺭﺍ ﺑﮭﯽ۔ ﺯﺍﺭﺍ ﺭﻭﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻮ ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮔﺬﺭ ﮔﯿﺎ ﺯﺍﺭﺍ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ
ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺭﻭﻧﻖ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ
ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﯿﮍﺍ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻭﮨﯽ ﺭﮨﺎ۔
ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭩﻨﮯ ﮐﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﮯ ﺍﺛﺮ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ
ﮐﻮ ﭘﺎﺭﮎ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﻭٔ ﮐﮭﯿﻠﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔
ﺯﺍﺭﺍ ﺟﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﻼﺋﯿﮉ
ﭘﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺳﻼﺋﯿﮉ ﻟﯿﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮬﮑﺎ ﺩﯾﺘﮯ، ﮐﮩﻨﯽ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﯼ ﺭﮨﯽ
ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺧﻦ ﭼﺒﺎﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮨﺎﮞ
ﺑﮭﺌﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ؟ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﭽﯽ ﻧﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﺩﻻﯾﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮏ
ﮔﺌﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﻼﺋﯿﮉ ﻟﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﮔﮭﺮ ﭼﻠﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﻼ ﮈﺍﻻ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ
ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﺎﻭﮔﯽ؟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﺎ ﻟﻨﭻ ﺑﮭﯽ
ﻟﮯ ﻟﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﻮ ﻣﺮﺿﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ ﺑﺎﺑﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﮭﺎﻟﻮﮞ ﮔﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻻ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﻤﭙﺮﻭﻣﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ
ﮐﮧ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻭﯾﻦ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮈﺭﺍﭖ ﮐﺮﻭﮞ۔ ﺷﺎﻡ ﺩﻓﺘﺮ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ
ﭘﺎﺭﮎ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺯﺍﺭﺍ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﺁﺝ ﻭﯾﻦ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ
ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻨﭻ ﺁﺝ ﺻﺒﺢ
ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺳﮑﺎ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺎﺭﺍ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ
ﺧﻮﻑ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺭﻭﺯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻟﻨﭻ ﺑﭽﮯ ﮐﮭﺎﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ
ﺟﯽ ﺭﻭﺯ ﻭﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍﻥ ﻟﻨﭻ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺑﭽﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﻨﺴﻠﺰ ﭼﺒﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﺎﻏﺬ
ﮐﮯ ﮔﻮﻟﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ؟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ
ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺗﻀﺤﯿﮏ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻦ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﮓ ﺳﮯ ﮐﺎﭘﯿﺎﮞ
ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭼﮭﭙﺎﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﮨﻮﻡ ﻭﺭﮎ ﭘﮭﺎﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ
ﭘﺮ ﮈﺍﻻ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﺳﮯ
ﺳﺰﺍ ﭘﺎﺗﯽ، ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺑﻨﺘﯽ، ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﻧﻮﻟﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ
ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺗﮭﯽ، ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﻧﻈﻤﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ، ﭘﮭﺮ ﭨﯿﺒﻞ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ
ﭘﯿﭙﺮ ﺧﺎﻟﯽ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﻟﮕﯽ، ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺍﺭﺍ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ،
ﮐﮭﻠﻮﻧﮯ ﺭﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﻣﭩﯽ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ، ﻻﻥ ﮐﺎ ﺟﮭﻮﻻ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺳﺎ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ، ﺟﮩﺎﮞ ﺩﻭ ﻟﻮﮒ
ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ
ﺗﺒﺪﯾﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﻻﺋﭧ ﺁﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ
ﻭﮦ ﺗﮑﯿﮧ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﯽ، ﭼﮫ ﺳﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺿﺪﯼ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ
ﺑﺎﺕ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﻦ ﻣﺎﻧﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ۔
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﮐﺌﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﺍﺭﻧﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ
ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺟﺎ ﮈﺍﻧﭧ ﮈﭘﭧ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﮞ
ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺍﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﺑﯿﭩﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﺍﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﺷﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﮨﻮﻟﮉﺭ ﻣﯿﮟ
ﺳﮯ ﺑﻠﺐ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﮯ۔ ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﺑﺎﮨﺮ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ
ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﭼﮭﮍ ﺟﺎﺗﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﺍﯾﮏ ﻣﻼﺯﻣﮧ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺳﻨﮉﮮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻮ
ﮐﺎﻓﯽ ﺑﺮﺍ ﻟﮕﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺯﺍﺭﺍ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﮎ ﭨﻮﮐﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ
ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﭩﺎﻟﺰ ﭘﺮ ﻣﺤﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮈﮬﯿﺮﻭﮞ ﺍﺳﭩﻮﺭﯼ ﺑﮑﺲ ﺩﻻﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﯾﺪ
ﺩﻻﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ، ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﯾﮏ ﭨﺎﺭﭺ ﭼﺎﺋﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺟﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻻﺩﯼ۔
ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻭﮦ ﮐﺘﺎﺏ ﭨﺎﺭﭺ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﺭﮨ
ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﻈﺮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﯽ۔ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻗﺮﯾﺐ
ﺁﺗﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﺮﯼ ﭘﻮﺭﭨﺮ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﯾﺎ ﮐﭽﮫ ﻟﮑﮭﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﭙﺎ ﺩﯾﺘﯽ۔ ﻣﯿﮟ
ﻧﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﻼﺱ ﺳﮑﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﺮﯾﮉﺯ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺫﮨﯿﻦ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﭨﺎﺋﻢ ﭘﺮ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﻼﺷﯽ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺻﻔﺤﮯ ﻣﻠﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻧﻈﻤﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯﺍﮦ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﺮ ﻧﻈﻢ ﻣﯿﮟ دکھ، ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ، ﺧﻮﻑ، ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺮﻭﻣﯽ ﭼﮭﻠﮏ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﻠﻨﮓ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﺑﮧ ﻣﻼ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﮐﺎﻧﭻ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﭨﻮﭨﮯ ﺑﻠﺐ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ
ﭨﻮﭨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﻼﺱ ﮐﮯ ﺗﮭﮯ ﮨﺮ ﮨﻔﺘﮯ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻼﺱ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ
ﭘﯿﻨﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻧﭻ ﺍﺱ ﮈﺑﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺭ ﺳﺎ ﻟﮕﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﯽ
ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﻟﮯ۔ ﺳﻮﭼﺎ ﮈﺑﮧ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﯾﺎ
ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﮎ ﮐﺮﻟﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺿﯽ
ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻨﺎﺋﯽ۔ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺗﯿﻦ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﯽ ﭘﻠﯿﭩﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﺑﮍﺍ
ﻣﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﻮﮌﮮ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﺒﮫ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﺗﯿﺰ ﺗﮭﺎ
ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻧﭻ ﭼﻦ ﮐﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﭩﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ
ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺳﮯ ﮔﺘﮯ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﻮ ﭼﭙﮑﺎﯾﺎ، ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﻻﯾﺎ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺭﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺟﻤﻊ ﮐﺌﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻓﺮﯾﻢ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ ﺍﺑﺎ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺗﺤﻔﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ
ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﭘﻠﯿﭩﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻡ ﺁﮔﺌﯿﮟ۔
ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﺎ ﺍﮔﻼ ﺳﻮﺍﻝ ﺁﯾﺎ ﯾﮧ ﺭﻧﮓ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻓﺮﯾﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﮐﮩﺎ ﮐﻞ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﮔﻠﮯ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﭘﺮ ﺯﺍﺭﺍ ﺑﻨﺎﺀ ﻓﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﯽ
ﺍﯾﮏ ﭘﯿﻨﭩﻨﮓ ﻻﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻓﺮﯾﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﺮﺍ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮔﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻓﺮﯾﻢ ﺑﻨﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻻﻭٔﻧﺞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﻟﯿﺎ۔ ﻧﮧ ﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﻞ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﭘﯿﻨﭩﻨﮓ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺍﺭﺍ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﮐﯽ ﮔﺮﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ
ﺍﻥ ﭨﻮﭨﮯ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮐﺎﻧﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺑﮯ ﺭﺑﻂ ﭘﯿﻨﭩﻨﮓ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻣﻨﮯ
ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺭﺙ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﺟﮕﻤﮕﺎﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﻟﮯ۔
ﺳﺪﺭﮦ ! ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﮭﻮﻝ ﮨﻮﺋﯽ، ﺯﺍﺭﺍ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮔﺌﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺗﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ
ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﮯ، ﺑﺎﻗﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﻠﻂ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ
ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ
ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﻨﺎﯾﺎ
ﺟﺐ ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﻧﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ
ﻃﻠﺒﮕﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮈﺭ، ﺧﻮﻑ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﭼﮑﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺮﺍ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺁﺝ
ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﻮ ﺟﺎﻭٔﮞ؟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺁﺟﺎ ﯾﺎﺭ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﻭﮦ ﮔﮩﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ
ﺳﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻭﮦ ﻭﺍﺣﺪ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﭘﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﮨﺮ ﮨﻔﺘﮯ ﯾﺎ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮔﻼﺱ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮈﺍﺋﺮﯼ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﮯ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺍﺏ
ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﺮﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﮭﭙﺎﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﮯ ﺭﺑﻂ ﺳﮯ ﻟﮑﯿﺮﯾﮟ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﺌﯽ ﺍﺳﮑﯿﭻ
ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺎﺵ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺗﺒﺪﯾﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﻨﺠﯿﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺘﮏ ﺁﻣﯿﺰ ﺳﻠﻮﮎ ﺍﺱ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﺑﮍﮬﺘﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ
ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ، ﮐﻤﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﮐﺎﺵ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻭﺟﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺑﻨﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﺨﺘﯽ ﻧﮧ ﺑﺮﺗﺘﯽ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺳﺪ ﺑﺎﺏ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ
ﺁﺝ ﯾﮧ ﺯﺍﺭﺍ ﺍﻟﮓ ﺯﺍﺭﺍ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﻨﮭﮯ
ﻣﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﻃﺮﺡ ﺑﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﮐﺲ ﺍﺫﯾﺖ ﺳﮯ ﺩﻭﭼﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﮞ
ﮔﮯ۔ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺐ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﺎﺹ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻥ
ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﻣﺮﺟﮭﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ
ﮨﮯ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﮨﯽ ﻏﻠﻂ ﮨﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ۔ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ
ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.

Monday, 26 December 2016

اعمال کا دارو مدار




جب ہم چھوٹے چھوٹے تھے اور امی ہمیں روز صبح گھر سے نکال کر سکول بھیج دیا کرتی تھیں یعنی روزانہ ہی ایک سزا تھی حالانکہ جس مبارک دور میں ہمارا بچپن گزرا ہے اس دور میں والدین کو ابھی اتنی عقل نہیں آئ تھی کہ بچہ جونہی چلنا سیکھ لے اسے گھر سے نکال کر کسی مونٹیسری میں بہترین تربیت کے لئے بھیج دینا عین ثواب کا کام ہے اور ثواب کے ساتھ ساتھ بچے کی بنیاد بھی اتنی مضبوط ہوجائے گی کہ دنیا کی کوئ طاقت اسے سے ٹکر نہیں لے سکے گی خیر تو اسی دور میں ہمیں سکول میں پڑھایا گیا کہ 

"اعمال کا دارومدار نیت پر ہے" 

یہ حدیث مبارکہ ہے اور اس کی تفسیر ہمیں یوں سمجھائ گئ کہ بچو! کسی بھی کام کو کرنے کی جو نیت ہوگی ویسا ہی نتیجہ حاصل ہوگا بری نیت کے ساتھ اچھا کام بھی فائدہ مند نہیں جیسے کسی کی مدد اس لئے کرنا کہ وہ بھی آپ کی مدد کرے گا غلط ہے کسی کی مدد کبھی اس نیت سے نہ کرو کہ وہ بھی آپ کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریگا بلکہ کسی کی مدد صرف اس لئے کرو کہ اسے مدد کی ضرورت ہے اور اللہ آپ کو اسکا اجر دیگا, ایک اور بات بھی سمجھ آئ کہ اچھی نیت ہو تو کام بن جاتے ہیں اور نیت خراب ہو تو بنتے کام بگڑ جاتے ہیں۔

ہم نے اس بات کو اپنا نصب العین بنا لیا کہ نیت ہمیشہ اچھی رکھنی ہے چاہے کچھ بھی ہوجائے اور جہاں کہیں ہماری نیت میں کھوٹ تھا اسکا نتیجہ بھی ہم نے بھگتا جیسے یونیورسٹی میں خالدہ اور رقیہ کو پورا سمیسٹر اسائنمنٹ کاپی کر کرکے دیئے، لیکچر چھاپ چھاپ کردئے ، حاضریاں لگوائیں لیکن پس پردہ نیت یہی رہی کہ یہ دونوں نہ سہی کوئ ایک تو ہمارے اچھے کردار سے متاثر ہوگی اور ہماری زندگی کی بنجر زمین پر بارش کے پہلے قطرے کی طرح گرے گی تو ہر طرف خوشبو ہی خوشبو پھیل جائے گی لیکن ایک دن جب ہم نے دونوں کو باری باری شکیل بھائ کےساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتے دیکھا تو بچپن میں پڑھائےگئے سبق کی صداقت پر کامل یقین آگیا ۔ 

ایک حکایت ہماری دادی مرحومہ نے ہمیں سنائ تھی کہ ایک بادشاہ تھا جسے شکار کا بہت شوق تھا اور وہ اپنے اس شوق کی تکمیل کیلئے لمبے لمبے سفر اختیار کرتا رہتا۔ ایک مرتبہ وہ ایسے ہی ایک سفر میں تھا اور شکار کا پیچھا کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا اور کافی آگے نکل گیا شکار تو خاک ملتا وہ اپنے ساتھیوں کو بھی نہ ڈھونڈ پایا اور بھٹکتے بھٹکتے ایک گاؤں میں جا پہنچا اور کیا دیکھتا ہے کہ سامنے ایک انار کا باغ ہے ۔بادشاہ باغ میں داخل ہوگیا اور باغ کے مالک سے پانی کی درخواست کی باغ کے مالک نے اس نیت سے کہ ایک مسافر کو کیا صرف پانی پلانا اپنے ہی باغ سے ایک انار توڑا اور چند منٹوں میں ہی پورا پیالہ انار کے رس کا بھر کر پیش کردیا۔ بادشاہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ صرف ایک انار کے رس سے پورا پیالہ بھر گیا اور ذائقہ بھی نہایت عمدہ اور بہترین تب ہی اسے یہ خیال آیا کہ یہ جو کہ اس بیابان میں ایسے عمدہ اور رسیلے انار اگا رہا ہے انکی فروخت سے اچھا منافع بھی کمارہا ہوگا لیکن چونکہ اس کی خبر اب تک ہمیں نہیں تھی تو اس پر ٹیکس بھی نہیں لگتا اور اسکی آمدن میں سے سرکار کو کوئ حصہ نہیں ملتا اور تب ہی اس نے یہ فیصلہ کرلیا کہ واپس جاکر اپنے نمائندے یہاں بھیج کر اس باغ سے ٹیکس وصولی کا انتظام کروائے گا ۔


مزید کچھ دیر گزری تو بادشاہ نے ایک اور گلاس کی فرمائش کردی لیکن اس بار دو انار بھی ایک پیالہ نہ بھر سکے تو بادشاہ نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہوا کہ پہلے تو ایک انار ہی کافی ہوا اور اب کی بار دو بھی ناکافی ہوئے ایک پیالہ بھرنے میں جس پر باغ نے مالک نے مختصر جواب دیا کہ "ہمارے حکمران کی نیت بدل گئی" اور بادشاہ حیران رہ گیا کہ اسے یہ بات کیسے معلوم ہوگئ یہ تو اس بات سے بے خبر ہے کہ میں ہی بادشاہ ہوں خیر قصہ مختصر بادشاہ اپنے فیصلے پر دل ہی دل میں شرمندہ ہوا (حالانکہ بادشاہ تھا چاہتا تو نہ بھی ہوتا تو تب بھی کوئ کیا کرلیتا) اور اپنے ارادے سے باز آیا اور پھر کچھ دیر بعد دوبارہ فرمائش کی اور اس مرتبہ وہ جام دوبارہ بھر گیا ۔

یہاں میں نے دادی سے شکایت کی کہ غلط تو بادشاہ کی نیت تھی تو اسکا نقصان بے چارے باغ کے مالک کو کیوں ہوا بادشاہ کے گلاس میں مکھی گر جاتی تو زیادہ اچھا ہوتا تو دادی نے ہمیں سمجھایا کہ بیٹا حکمران عوا م کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اسکی نیت کا اثر عوام پر براہ راست ہوتا کہ یعنی حکمران چاہے جو بھی خباثت کرے بھگتے گی عوام خیر یہ ایک الگ بحث رہی۔

یہی حکایت ایک دوسرےی جگہ کچھ یوں نظر سے گزری کہ جب بادشاہ نے دوسرے گلاس کی فرمائش کی تو باغ کے مالک نے دل میں کہا کہ "مفت خورے کو مزے لگے گئے اب شام تک اسکے ساتھی نہ ملے تو یہ تو پورا باغ اجاڑ دیگا" اور پھر یہ ہوا کہ دو اناروں سے بھی ایک گلاس نہ بھر پایا اور تب بادشاہ نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہوا تو باغ کا مالک شرمندہ ہوا اور بولا "میری نیت بدل گئ تھی"

خیر ان تمام مثالوں سے ہم یہی ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ نیت کا براہ راست اثر آپ کے کام پر پڑتا ہے کام نیک ہو لیکن ارادہ برا تو بھی نتیجہ اچھا نہیں ہوگا اور کام بگڑے گا ہی بگڑے گا۔

کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اپنی نیت کو اچھی طرح چیک کرلیں کہ وہ "نیک " ہی ہے اور بعد میں بھی "نیک " ہی رہے گی اور اگر نیت کا نیکی سے بدی کی طرف سفر شروع ہوا تو یاد رکھئیے کہ آپ کامیابی سے خود دور ہونا شروع ہوجائیں گے اور تب ادارہ ذمہ دار نہ ہوگا۔

Thursday, 29 September 2016

دوبارہ رتی گلی --- قسط تین


"یار فیضان میری بس ہوگئ ہے" راناصاحب نے دہائ دی
"یار آپ تو کہ رہے تھے آپ نے بڑے ٹریک کئے ہیں"میں نے ابرار کے انداز میں کہا حالانکہ میرا اپنا حال بھی پتلا ہی تھا
"او بکواس نہ کر رک جا" میں جو پہلے ہی رکا ہوا تھا قریب آکر انکے ساتھ بیٹھ گیا
"ارے کیا ہوا بھائ تھوڑا سا راستہ ہے بس یہ چڑھائ ہے اور آگے کھلا میدان ہے"میں نے ہمت بندھانے کی کوشش کی حالانکہ میں اندر سے ڈر رہا تھا کہ اگر میرے ہمت دینے سے اگر رانا صاحب کھڑے ہوگئے تو بڑی مشکل ہوجائے گی ہم دونوں راستے ہی ہٹ کر ایک ٹیلے نما جگہ سے ٹیک لگا کر سستانے لگے کہ پیچھے سے چودھری صاحب تشریف لے آئے اور دور سے ہمیں دیکھتے ہی ایک موٹی سی گالی دی
"ــــ او تم لوگ ادھر بیٹھے ہو میری  ادھر موت واقع ہوجاتی پیچھے" ہم دونوں کو ہی چودھری کی حالت دیکھ کر ہنسی آگئ بے چار ے کی حالت واقعی غیر تھی  سردی کی وجہ سے گرم ٹوپی کو گردن تک کھینچا ہوا تھا اور چھوٹی بڑی چڑھائیوں اور ناہموار راستے کی وجہ سے سانس دھونکی کی طرح چل رہا تھا ۔
"کیوں ہنس رہے ہو خبیثو۔۔۔ اور رانا صاحب یہ سب کیا دھرا تیرا ہی ہے"
"او ادھر آجا آرام سے بڑ بڑ نہ کر" رانا صاحب نے ہانک لگائ اور چودھری تھوڑی دیر میں ہم تک پہنچ کر زمین پر لیٹ کر ہاؤ ہاؤ کرکے سانس درست کرنے لگا
"بلوچ کہاں گیا" میں نے پوچھا
"زندہ بچ گیا" چودھری نے جواب دیا جس کی سانسیں اب قدرے قابو میں آچکی تھیں
"کیا مطلب؟" میں نے دوبارہ پوچھا
"تم دونوں تو بھاگ گئے آگے میں اور بلوچ پیچھے تھے پہلی اترائ پر پہلے میں سلپ ہوا اور میرے ساتھ بلوچ بھی کافی دور تک پھسلے پھر ایک بڑے پتھر کی وجہ سے رک گئے ورنہ جانا تھا نیچے ملنا بھی نہیں تھا" چودھری نے تفصیل بتائ
"بلوچ کدھر گیا پھر" رانا صاحب نے تشویش سے پوچھا
"اسکو چوٹ آئ ہے کمر میں اور ٹانگ  نظیر واپس لے گیا اسے کیمپ میں" چودھری نے  بات مکمل کی تو رانا صاحب نے پوچھا
"تجھے نہیں لگی؟"
"واہ واہـــــــ بڑا ارمان ہے تجھے نہیں لگی" چودھری نے ایک اور موٹی گالی دیکر جواب مکمل کیا پھر خود ہی بولا "نہیں میں پہلے ہی رک گیا تھا بلوچ زیادہ سلپ ہوا بے چارے کولگی ہے کس کے"
"اب کیا کریں چلیں واپس؟ اندھیرا ہوجائے گا نہیں تو" رانا صاحب نے صلاح مانگی
"یار اب آگئے ہیں تو چلتے ہیں دیکھ لیں گے اندھیرا ہوا تو اللہ مالک ہے بلوچ کی فکر نہ کرو وہ کیمپ میں سویا پڑا ہوگا اب اور دیر بھی رانا صاحب آپ کی وجہ سے ہوئ ہے کچھ تو سزا ملنی چاھئے آپ  کو بھی" چودھری نے واپس پلٹنے سے انکار کا فیصلہ سنا دیا
ہوا کچھ یوں تھا کہ جب ہم سب نے ایک دوسرے کو کھینچ کھانچ کر کھڑا کرلیا تو رانا صاحب نے ہی کہا تھا کہ ابھی سورج غروب ہونے میں کافی وقت ہے کیمپ لگا کر اور سامان پیک کرکے چلتے ہیں کیمپ چودھری صاحب ساتھ لائے تھے جو کہ بالکل "زیرو میٹر " تھا یعنی بازار سے خرید کر سیدھا اپنے ساتھ لے آئے تھے اس زیرو میٹر خیمے کو نصب کرنے میں ایک تو کافی دقت ہوئ دوسرے وقت بھی کافی لگا گیا کیوں کہ  ایک تو اسکی تیلیاں مکمل نہیں تھیں اور تھیں تو انکی ترتیب سمجھ نہیں آرہے تھے رانا صاحب بار بار کوشش کرتے اور پھر جھنجھلا کر کہنے لگے "یار چودھری تو چیک تو کرلیتا"
جس پر چودھری صاحب نے جواب دیا"یا ر میں نے ادھر دوکان میں پورا کا پورا لگوا کر دیکھا تھا فل اتنا بڑا بن گیا تھا کہ بارات لیکر گھس جاؤ اندر" جس پر رانا صاحب دوبارہ کوشش کرنے میں لگ گئے"نہیں یار یہ تیلیاں پوری نہیں ہیں خیمہ ایسے کھڑا نہیں ہوتا تو چیک کر بیگ میں دیکھ کچھ اور بھی ہوگا"
چودھری نے ایک ایک کرکے اپنے بیگ سے تمام سامان نکال کر زمین پر ڈھیر کرنا شروع کیا اور ایک تھیلی رانا صاحب کی طرف اچھالی "یار چیک کر  کچھ نیٹ بولٹس ہیں"
"نیٹ بولٹس نہیں ہیں یار یہی باقی کا سامان ہے" رانا صاحب نے سامان چیک کیا اور پھر چندمنٹوں میں ہی خیمہ اٹھا کر کھڑا کردیا
ہم سب نے اپنا اپنا سامان خیمے کے اندر ڈالا اور رانا صاحب نے کہا "چلو بھائ چلو"
"یار عثمان چھوڑ یار نہیں جاتے ابھی دیر ہوگئ ہے" چودھری نے ایکدم سے فیصلہ سنا دیا
"ہاں نظیر بتا یار جاسکتے ہیں یا نہیں" بلوچ نے نظیر سے صلاح مانگی
"جاسکتے ہیں سر آرام سے واپسی میں شاید سورج ڈوب جائے اگر ادھر زیادہ ٹائم جھیل پر لگاؤ گے تو" نظیر کی طرف سے گرین سگنل تھا سب ہی تیار ہوگئے اور چل پڑے ابتدا میں ہم سب ساتھ ساتھ تھے لیکن تھوڑی ہی دور جاکر بلوچ اور چودھری الگ رہ گئے جب کہ میں اور رانا صاحب پہلے سے بنی ہوئ پکڈنڈی پر چلتے رہے ایک چڑھائ چڑھ کر پار اترے تو ہمارے پس منظر میں کیمپ سائیٹ غائب ہوچکی تھی اور بس وہی زنگ آلود پہاڑ، نیلے  اور سرخ پھول رہ گئے تھے۔
"یار رانا صاحب کیسا عجیب سا منظر ہے" میں نے کہا
"یار منظر میں کچھ نہیں ہوتا انسا ن کے اندر ہوتا ہے" رانا صاحب شاید فلسفے کے موڈ میں تھے
"تو پھر لودھراں میں ایسا کیوں محسوس نہیں ہوتا یا پھر حیدرآباد میں کیوں نہیں ہوتا" میں نے دوبارہ سوال کیا
"ہوتا ہوگا جس کیلئے لودھرا یا حیدرآباد اہم ہوگا اسے ضرور ہوتا ہوگا" رانا صاحب نے پھر فلسفے کا سہارا لیا
"یار آپ تو فریدہ خانم اور شکیرا کو ایک صف میں کھڑا کرہے ہیں فریدہ خانم کو سن کر بندہ عبادت کی طرف راغب ہوجائے جبکہ شکیرا کی تو آواز میں ہی آوارگی ہے واللہ" میری با ت سب کر رانا صاحب نے قہقہ لگایا اور بولے یار مولوی تو بھی کیسی باتیں کرتا ہے
چھوٹی جھیل کا ٹریک کوئ ایسا آسان ٹریک بھی نہیں تھا کوئ باقاعدہ راستہ نہیں ہے بس آڑے ترچھے قدموں کے نشان سے ایک پکڈنڈی کی صورت میں موجود تھے او ر کہیں کہیں وہ بھی غائب ہوجاتے تھے اور ہم یونہی ہوا میں رہ جاتے دوسرے ہوا اتنی تیز تھی کہ باقاعدہ سوئیوں کی طرح چھیدتی ہوئ محسوس ہورہی تھی ہم دونوں کے پاس ہی دستانے نہیں تھے اور ہماری ہاتھ زیادہ دیر کھلے رہتے تو سن ہوتے ہوئے محسوس ہونے لگتے مسلسل اترائ چڑھائ کی وجہ سے ہم تھک بھی زیادہ رہے تھے اور تب ہی رانا صاحب تھک کر بیٹھ گئے "یار فیضان میری بس ہوگئی ہے"
رانا صاحب کی بس ہونے کے باوجود چوہدری کے زور دینے پر ہم بادل ناخواستہ اٹھے اور اٹھ کر چلے، چلے کیا خود کو گھسیٹتے رہے کسی ایک کو رکتا دیکھ کر اسکا ساتھ دینے کے بہانے سب رک جاتے  اور دم درست کرتے سانس بحال کرتے اور ساتھ ہی دعا بھی کرتے کہ کوئ منع کردے کہ وہ نہیں جائے گا تو وہیں سے واپس پلٹ جائیں۔
تھوڑی دیر یونہی ایک دوسرے کے آسرے رکتے رکتے چلتے  رہے بلکہ رلتے رہے آخر چوہدی نے کہا" چھوڑ یار رانا چل واپس چلتے ہیں چھوٹی جھیل کیا دیکھنے بندہ دیکھے تو کوئ بڑی شے دیکھے  کیوں"
رانا صاحب جو چوہدری کو جھکتا دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے لیکن  ظاہر ایسا کررہے تھے کہ  جیسے انہیں اس فیصلے سے خوشی نہیں ہوئ "ابے چوہدری بس پہنچ گئے ہیں ہمت کرلے تھوڑی ویسے بھی تجھے ہی شوق چڑھا تھا  ادھر"
"یار رانا صاحب ضد چھوڑ دے کتی ٹریک  ہے بڑی اور اس سے بھی کتی ٹھنڈ ہے  چل تو جیتا میں ہار گیا واپس مڑ اب" چوہدری کے ہار ماننے پر رانا صاحب واپسی پر رضامند نظر آنے لگے۔
واپس مڑے اور کیمپ سائٹ کی طرف دوبارہ چلے تو تقریبا" آدھے راستے میں ہی  اندھیرا ہوگیا  جس پر چوہدری نے کہا تھا " دیکھ لو رانا صاحب تیری ضد کے چکر میں رہ جاتے تو واپسی میں کسی کھو میں پڑے ہونا تھا یا بھیڑیا کھا جاتا ادھر ہی کدھر ہمیں"
"میری ضد کا چکر کہاں سے آگیا میں نے تو تب ہی بولا تھا واپس چلے چلو جب  تو آیا تھا بلوچ کو چھوڑ کر" رانا صاحب نے جواب دیا
"چل یار چھوڑ اب سویرے دیکھیں گے کیا کرنا ہے" چوہدری نے بھی زیادہ بحث کو فضول سمجھا
چلتے چلتے واپس کیمپ تک پہنچے بلوچ کی خیریت معلوم کی ان کی طبیعت کافی بہتر تھی اور وہ کچھ دیر سو کر دوبارہ  تازہ دم ہوچکے تھے کھانا بھی تیار تھا اور بھوک بھی زوروں پر تھی تو کھانا کھا لیا گیا اور اسکے بعد چائے کافی اور مزید چائے اور مزید کافی کا دور چلا  اور  تھوڑی دیر میں ہی اندھیرا گھپ ہوتا چلا گیا روشنی بس کیمپ میں موجود مصنوعی  بلب اور ٹارچوں کی تھی چاند کی آخری تاریخیں تھیں اور موسم صاف نہ ہونے کی وجہ سے تارے میں ظاہر نہیں تھے ۔
"یا ر رانا تو ہمیں سیدھا لاہور سے یہاں لے آیا  سوچ کل اس وقت ہم لاہور میں تھے اور ابھی ادھر" چوہدری صاحب بیٹھے بیٹھے گویا ہوئے
"شکر کر ادھر ہی رات گزر رہی ہے اگر تو رکتا نہیں ناں تو میری تو دریا کے اندر ہونی تھی" بلوچ صاحب نے  کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بات مکمل کی۔
"اور اللہ کا شکر ادا کر  بے وقوف انسان بچ گئے ورنہ ہماری رات پھر سفر میں گزر جاتی تجھے واپس لے جانے میں"چوہدری نے پھتی کسی جس پر بلوچ صاحب واقعی ناراض ہوگئے اور اپنا جوتا کھینچ کر مارا پھر یہ بولتے ہوئے  اٹھ کھڑے ہوئے کہ " میں چلا سونے ویسے  بھی میں انجرڈ ہوں" بلوچ صاحب گئے تو پھر ہم سب بھی تھکن محسوس کرنے لگے میں تو سیدھا کراچی سے پنڈی اور پنڈی سے یہاں کیمپ تک بغیر رکے چلا آیا تھا اس خیال کے آنے کے بعد سے تھکاوٹ شدت سے محسوس ہونے لگی اور نیند بھی تو میں اٹھا اور خیمے کے اندر سلیپنگ بیگ میں جالیٹا اور کچھ ہی دیر میں  سوبھی گیا رانا صاحب اور چوہدری باہر ہی بیٹھے باتیں کررہے تھے اس رات اتنی گہری نیند آئ کہ کیا کبھی کسی فائیو سٹار ہوٹل کے لگژری  کمرے میں آتی ہوگی۔
صبح مجھے رانا صاحب نے بہت جلدی کھینچ کھینچ کر اٹھا دیا  خیمے سے باہر نکلے تو ابھی سورج نکلے میں کچھ وقت باقی تھا  یعنی اندھیرا تھا لیکن دم توڑتا ہوا اندھیرا اور سورج نہ نکلے کی وجہ سے شدید ٹھنڈک محسوس ہورہی تھی ہوا بند تھی لیکن ٹھنڈک پورے ماحول میں موجود تھی۔
سوچا نماز پڑھ لوں   ٹھنڈے یخ پانی سے  ٹھٹھرتا ہوا وضو کیا قبلہ کا  اندازے سے تعین کرکے  کپکپاتے  ہوئے نماز ادا کرلی پہاڑوں پر ادا کی جانے والی نماز کا اپنا ہی مزا ہے اور شاید ان نمازوں کا ثواب بھی زیادہ ہوتا ہو اپنی بات کروں تو مجھے خدا سے تعلق کا جو احساس کسی پہاڑی علاقے میں ہوتا ہے اتنا کبھی شہروں میں نہیں ہوتا۔
"یار آجا ایک چکر لگا کر آئیں" رانا صاحب نے  کہا جب میں جوتے پہن رہا تھا
"چلیں کدھر کو چلنا ہے"  میں نے بے وقوفانہ سا سوال کرلیا
"کہیں نہیں بس ادھر ہی کیمپ سائٹ کا راؤنڈ لگاتے ہیں"
اور ہم دونوں راؤنڈ لگانے نکل چلے
رات کو بارش ہوئ تھی جسکے آثار نمایاں تھے گوکہ ایسی بارشیں ان علاقوں  اکثر ہوجایا کرتی ہیں اور اس بارش کی وجہ سے فضا میں ایک خاص قسم کی تازگی کا احساس تھا چلتے چلتے ہم نے پوری کیمپ سائٹ کا ایک چکر لگایا ہمارے خیمے کے علاوہ وہاں چار پانچ خیمے اور بھی لگے ہوئے تھے لیکن جب ہم وہاں پہنچے تھے تو اس وقت وہ خیمے موجود نہیں تھے شاید جب ہم جھیل کی طرف چلے گئے تھے تو ہمارے پیچھے میں کچھ مزید سیاح وہاں آئے تھے لیکن اس وقت سناٹا تھا دور دور تک پہاڑ مرجھائے ہوئے سبزے کی وجہ سے کہیں کہیں گندمی اور کہیں کہیں زنگ آلود نظر آرہے تھے سبزہ بھی تھا لیکن اتنے رنگوں کی بہتات کی وجہ سے نمایاں نہیں ہورہا تھا ۔
کیمپ سائٹ کے پیچھے کی جانب ٹریک کے دوسری جانب سرکنڈے نماں پھول لہلہا رہے تھے اور یہ پھول کچھ تو  ساہی مائل سرخ تھے  اور کچھ جامنی رنگت  لئے ہوئے تھے لیکن تعداد میں بہت کم تھے بس چند ایک جھاڑیاں ہی تھیں یعنی ماحول تو تھا لیکن بے دیوانہ کرسکنے کے قابل نہیں تھا  یعنی ابھی بچہ تھا بالغ نہ ہوا تھا۔
خیموں کے دائیں جانب چلتے چلتے ہم ایک چھوٹی سی پہاڑی کے اوپر پہنچ کر رک گئے وہاں سے منظر کچھ یوں تھا کہ  کیمپ سائٹ  ہمارے بائیں جانب نیچے کی طرف ہوگئی اور اس پر لگے ہوئے خیمے تین خیمے ایک ساتھ سرخ رنگ کے اور ان سے کچھ پرے نیلے رنگ کا چوکور خیمہ جو کہ انقلابی صاحب کا تھا اور سب سے الگ تھلگ ہمارا پیلے رنگ کا خیمہ جیسے کوئ مایوں کی دلہن  اور وہاں سے مزید نیچے بائیں جانب  بہت نیچےرتی گلی نالہ گزرتا ہوا اور اسکے گزرنے کا شور بہت ہی مدھم مدھم ہماری سماعتوں سے ٹکراتا ہوا اور سامنے تاحد نگاہ تک پہاڑوں کا ایک سلسلہ اور ہر پہاڑ ایک دوسرے میں گم ہوتا ہوا گویا کراچی سے طویل مسافت طے کرنے کے بعد پہلی صبح ایسی شاندار تھی کہ میری ساری تھکن اتر گئ اور آنے کا مقصد پورا  ہوگیا اب آگے اس سفر میں مجھے کچھ بھی نہ ملتا اور وہیں سے واپس لوٹ جانے کا  اذن ملتا تو بھی ایسی کوئ ناامیدی نہیں ہوتی یا شاید یہ میرا صرف گمان تھا کہ آگے جو کچھ میرے لئے تھا اور جو کچھ مجھے دکھادیا گیا اسے دیکھ لینے کے بعد بھی میرے اندر ایسے مناظر کی ہوس ختم تو کیا کم بھی نہیں ہوتی بلکہ مزید بڑھتی ہی رہی اور شاید بڑھتی ہی رہے گی۔
"یار کیا ایسا  ہوتا ہے کہ جب کوئ مرجائے تو اسکی روح اسی دنیا میں بھٹکتی رہ جائے؟" رانا صاحب نے بالکل ہی آؤٹ اور سلیبس سوال پوچھ لیا
"ہو سکتا ہے  ایسا ممکن ہو قدرت اللہ شہاب نے ایک واقعہ اسی نوعیت کا ذکر کیا ہے لیکن ہوسکتا ہے وہ بس زیب داستان کیلئے کیا ہو، میرا اپنا کوئ ذاتی تجربہ نہیں ہے" میرے جواب سے رانا صاحب مطئن نہیں ہوئے
"نہیں فرض کر کہ کوئ بندہ یہاں پہنچ جائے اور پہنچ کر مرجائے یا یہاں آنے کی طلب ہو اسکے دل میں لیکن یہاں آنہ سکے اور آنے سے پہلے ہی مرجائے تو کیا ایسا ممکن ہے کہ اسکی روح یہاں بھٹکتی پھرے؟"
"یار اس بات  کا جواب تو کوئ صاحب علم ہی دے سکتا ہے ویسے محمد احسن اس قسم کی خواہش کرتے پائے گئے ہیں انہیں علم ہوگا ان سے پوچھئے گاویسے میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جسم روح کا ایک لباس ہے جیسے آپ شرٹ پہن لیتے ہیں تو وہ شرٹ آپ کی طرح ہوجاتی ہے یعنی اس وقت وہ آپ ہی ہوتی ہے لیکن جب آپ اسے اتار دیتے ہیں تو وہ صرف شرٹ ہوجاتی ہے  تو ایسے ہی جسم بھی  روح کے نکل جانے کے بعد صرف جسم رہ جاتا ہے ویسے بھی  یہ تو قران میں بھی ہے کہ اللہ نے تمام ارواح کو جمع کیا اور ان سے اقرار لیا کہ تمہارا رب کون ہے اور جب حضرت ابراہیم نے خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کرلی تو انکو بھی حکم ہوا تھا کہ پکارو اور انہوں نے پکارا تو اللہ نے انکی آواز پورے عالم میں پہنچا دی اور تمام جن و انس اور ارواح نے وہ پکار سنی اور لبیک کہا لیکن رانا صاحب میں یہ بات نہیں کہ سکتا کہ روح اپنی مرضی سے بھی بھٹکتی پھرتی رہے وہ بہر حال  حکم کی تابع ہے" رانا صاحب پھر  بھی مطمئن نہ ہوئے
"یار ایک بات ہے لیکن تم لوگ میرا مذاق اڑاؤ گے بعد میں اس لئے چھوڑ  ابھی"
"یار بتاد یں کیا ہوا کوئ بھوت دیکھ لیا کیا؟"
"یار رات تم تو سوگئے جلدی اور بلوچ بھی سوگیا میں او رنوید بیٹھے تھے باہر تب موسم بھی صاف ہوگیا تھا کچھ دیر باتیں کرتے رہے نظیر اور وہ دوسرا بندہ بھی ساتھ بیٹھا تھا  ایوں شغل لگا رہے تھے جب وہ دونوں چلے گئے تو  پھر تھوڑی دیرمیں نوید بھی چلا گیا سونے اور میں بھی اندر لیٹ گیا  باہر سردی ہورہ تھی کافی لیکن نیند نہیں آئ کافی دیر لیٹا رہا  پھر اٹھ کر باہر آگیا کہ کچھ نائٹ فوٹو گرافی کرلوں"
"رات میں یہ جو ٹینٹ دیکھ رہا ہے" راناں صاحب نے ان تین خیموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا" یہاں بھی چھ سات لڑکے آئے تھے  وہ دیر سے پہنچے تو غل غپاڑا مچارہے تھے پتہ نہیں کیا چرچ شراب کیا پی کر آئے تھےبہت مستی میں تھے"
"میں کیمرہ اٹھا کر تھوڑی دور نکل گیا ٹرائ پاڈ لگا کر کھڑا تھا ٹارچ میں نے بند کیا ہوا تھا کبھی کبھی جلا لیا کرتا فوکس دیکھنے کیلئے خیردوتین تصویریں کھینچی ہونگی کہ سامنے کی طرف سے ایک لڑکی آئ خوبصورت سی جینز پہنی ہوئ"
"صرف جینز؟؟" میں نے اشتیاق میں بے صبرے پن سے پوچھ لیا  جس پر رانا صاحب غصہ کرگئے لیکن کچھ بولے نہیں اپنی بات جاری رکھی
"جینز شرٹ اور سر پر ہیٹ جیسے ٹوپی ہاتھ میں سٹک پکڑی تھی اس نے میرے پاس آکر بولی کہ آپ مجھے آگے تک راستہ دکھا دیں گے میرے پاس ٹارچ نہیں ہے"
"اکیلی لڑکی تھی رات میں؟"
"ہاں اکیلی تھی خیر میں نے ٹارچ جلایا اور آگے آگے چلا ابھی چار قدم ہی چلا تھا کہ  پیچھے روشی دکھانے پلٹا تو پیچھے کوئ نہیں دور دور روشنی ماری لیکن کوئ تھا ہی نہیں "
"پھر؟" میں نے پوچھا لیکن مجھے رانا صاحب کی کسی بات پر یقین نہیں آرہا تھا
"پھر کچھ نہیں میری حالت خراب ہوگئ  بھاگا وہاں سے تو ٹینٹ میں آکر دم لیا تم تینوں سو رہے تھے آیت الکرسی پڑھ پڑھ کر رات گزاری ہے کیمرہ بھی میرا ادھر ہی پڑا ہوگا ابھی تک بارش بھی ہوگئ رات میں کیمرے کی تو ماں بہن ہوگئ ہوگی"
"یار سرجی آپ کو بھوت بھی نظر آیا تو لڑکی کا سچ میں آپ کے نصیب میں بڑی لڑکیاں ہیں مجھے آپ کی قسمت پر رشک  آنے لگا ہے۔۔ہاہاہا"
"مجھے معلوم تھا کہ تجھے جھوٹ ہی لگے گا خیرکوئ با ت نہیں چل آجا کیمرے کی خیریت لے کر آتے ہیں"
ہم وہاں سے نیچے اتر کر خیمے تک آئے اندر جھانکا نویدین سورہے تھے پھر وہاں سے تھوڑا نیچے اتر کر  آگے گئے تو رانا صاحب کا کیمرہ بمع ٹرائ پاڈ زمین پر گرا ہوا نظر آگیا اور اسکی واقعی ماں بہن ہوچکی تھی۔
رانا صاحب دوڑ کر گئے کیمرے کو مٹی سے اٹھایا سینے سے لگایا جھاڑا پونچھا لیکن سب بے سود وہ زندگی کی جنگ شاید ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی ہار چکا تھا۔
کیمرے کو اس حالت میں دیکھ کر رانا صاحب نے اس رات والی  لڑکی کو وہ پنجابی میں وہ  گالیاں سنائیں کہ اگر وہ ان کو سن سکتی تو اس کے  کانوں سے دھواں نکل آتا مجھے رانا صاحب کو بمشکل قابو کرنا پڑا کہ اگر وہ دوبارہ نظر آگئ اور ان مغلظات پر سوال کر بیٹھی تو لینے کے دینے پڑجائیں گے ۔
خیر رانا صاحب ان لوگو ں میں سے نہیں جو گزری پر ماتم کرتے ہیں بلکہ ان میں سے ہیں بلکہ ان میں سب سے آگے ہیں جو کہ گزری پر بہت جلد تین حرف پڑھ کر آگے کے بارے میں سوچتے ہیں تھوڑی دیر کیمرے کو الٹ پلٹ کر دیکھتے رہے اور پوری طرح معائنہ کرنے کے بعد بولے
 "یار دیکھنے میں تو ٹھیک ہی ہے بس آن نہیں ہورہا ہے شاید بیٹری ختم ہوگئ ہو چل اب تو لاہور واپس جاکر ہی چیک ہوگا"  کچھ دیر وہی بیٹھے رہے پھر رانا صاحب بولے :
" یار میں اسے رکھ کر آتا ہوں  " ا
ور چلے گئے واپس آئے تو  اپنے بیگ سے بسکٹ اور نمکو نکال کر لے آئے  اور اس وقت تقریبا ساڑھے چھ بجے ہونگے تو  بلوچ صاحب بخار میں مبتلا تھے اور چوہدری بھی فوری اٹھنے کا کوئ ارادہ نہیں رکھتے تھے تب ہی رانا صاحب اچانک اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے :
"یار چل چھوٹی جھیل سے ہوکر آتے ہیں یہ دونوں سو رہے ہیں  جلدی کر گھنٹے ڈیڑھ میں واپس آجائیں گے"
"یار رانا صاحب آدھے راستے میں آپ کی بس ہوجاتی ہے کل بھی آپ بیٹھ گئے آدھےراستے میں ہی" میں نے کہا تو رانا صاحب بولے
"اب نہیں ہوگا تو بس تیار ہوجا جلدی فٹا فٹ جائیں گے اور گھنٹے ڈیڑھ میں واپس"
اور فٹافٹ ہی ہم نکل کھڑے ہوئے اور واقعی رانا صاحب وہ چال چلے کہ بس کیا بتاؤں یوں سمجھیں کہ  جیسے پارک میں واک کررہے ہوں بغیر رکے بغیر لڑکھڑائے خود بھی چلے اور مجھے بھی چلایا اور واقعی وہاں کا راستہ رات کے مقابلے میں بہت آسان معلوم ہوا  سورج نکل چکا تھا  موسم صاف  ہلکی ہلکی  ہوا چل رہی تھی اور ٹھنڈ کے باوجود چلنے میں پسینہ آرہا تھا.نیلے رنگ کے سرکنڈے کے مشابہ پھول صبح کی ہوا میں لہلہا رہے تھے اور یہ پھول بہت سارے تھے یوں سمجھیں جیسے کھیت کے کھیت وہاں موجود تھے جلد ہم جھیل تک پہنچے میں کامیاب ہوگئے  یہ جھیل اچانک ہی سامنے آگئ تھی گو کہ ابھی ہماری پہنچ سے بہت دور تھی لیکن پوری وسعت میں ہمارے سامنے موجود تھی پیچھے پہاڑ وہی زنگ رنگ میں سرخی بکھیر رہے تھے اور جھیل کی  سبزی مائل نیلی سطح  پر ہوا سے پانی پر لہریں بن رہی تھیں میرے پہلے منظر میں ایک پرندہ کہیں سے اڑتا ہوا آیا جھیل کی سطح پر  تیزی سے چہل قدمی کرکے ایک طرف اڑ گیا۔
میں نے رانا صاحب کی طرف دیکھا  اور محسوس کیا کہ وہ اپنے کیمرے کر بہت مس کررہے ہیں  لیکن کیا کرسکتے تھے موبائل سے ایک آدھ تصویر کھینچ لی کیمرے میں لے جانے کو کچھ نہیں تھا لیکن بہت کچھ یادوں میں بسایا جاسکتا تھا وہ منظر کچھ کم  انوکھا نہیں تھا بالکل ہی بہشتی منظر تھا میں نے سوچا کہ نہ جانے کیوں اس منظر کو سیاحوں میں مقبولیت کیوں حاصل نہیں ہوئ اور ایک خوشی بھی ہوئ کہ اچھا ہی ہوا ورنہ یہ جگہ بھی بہت جلد تباہ ہوجاتی شیوسر جھیل میں پانی کی بوتل تیرتے تو میں خود دیکھ کر آیا ہوں۔
منظر کچھ ایسا ہی تھا کہ ہمارے جیسے مناظر کے  پیاسے اپنی پیاس بجھائے جاتے لیکن وہ بجھتی نہیں بلکہ اور بھڑکتی ہے  ہم ہوس کے مارے شرابیوں کی طرح جام پر جام لنڈھاتے لیکن پھر بھی یہی کہتے کہ:
یہ دور جب چلے چلائے جا
تیرے قربان ساقی عالم
یہ مئے عشق ہے پلائے جا
مجھ کو بھرپور ابھی تک نہ کوئ جام ملا
ساقیا اور پلا اور پلا اور پلا
کافی وقت اسی مستی کے  عالم میں گزر گیا اور پھر مصیبت کہ جب خمار چڑھنا شروع بھی نہیں ہوتا  ہمیں مے خانہ چھوڑنے کا حکم ہوتا ہے اور تب بھی ایسا ہی ہوا اورا ٹھنا پڑا ہمارے دونوں ساتھے اٹھ چکے ہونگے اور ہمیں اگلی منزل کیلئے کوچ کرنا تھا بے دلی سے اٹھے اور واپس اسی راستے پر پلٹ گئے جہاں 
سے چل کر آئے تھے لیکن اب ہماری دل خوشی سے بھرے ہونے کے باوجود بھی بھاری تھے۔ 

تصویر رانا صاحب
فوٹو رانا عثمان

Sunday, 18 September 2016

The Whole thing is that......



ہمارے  قریبی دوست  ہیں زوہیب شیخ  بڑے دلچسپ اور بزلہ سنج آدمی ہیں  بات بات پر قہقہ لگانا اور لگوانا  انکا مشغلہ  ہے خالص کراچیائ انداز کی اردو بولتے ہیں کہ سننے والا صرف سن کر ہی محضوظ ہوتا رہے ایک مشہور یونیورسٹی سے  سیلز اینڈ مارکٹنگ میں ڈگری لے رکھی ہے اپنے کام کے ماہر بھی ہیں  اور شاید پیدا بھی اسی کام کیلئے ہوئے   ہیں کہ زبان کے لپیٹوں سے بڑے بڑوں کو  جلد زیر کر لیتے ہیں دوستوں کے حلقہ میں بہت مقبو ل ہیں اور کوئ بھی ان سے صلاح لئے بغیر  کوئ کام نہیں کرتا چاہے وہ گاڑی خریدنے کا معاملہ ہو یا کسی محبوبہ کے گھر شادی کا پیغام بھیجنا ہو اور اب ان کو صلاح دینے کی ایسے عادت ہوچکی ہے کہ اگر صلاح نہ لی گئ اور انکو بعد میں معلوم ہوا تو اکثر روٹھ جاتے ہیں اور پھر دوست ان کو مناتے پھرتے ہیں اور یہ اس شرط پر کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا مان بھی جاتے ہیں۔
بڑے دن غائب رہے پھر ایک دن اچانک  فون آیا کہ تشریف لارہے ہیں  خبر سن کر ہی دل باغ باغ ہوگیا  کہنے لگے کہ بس پانچ منٹ میں پہنچ رہے ہیں  چائے تیار رکھی جائے پابندئ وقت کی بالکل پابندی نہیں کرتے تو پانچ منٹ کوئ پونے دو گھنٹے بعد پورے ہوئے  آئے تو ایک ہاتھ میں مٹھائ کا ڈبہ  اور دوسرے میں اپنا بستہ تھامے ہوئے تھے  آتے ہی بولے
" سوری بھائ  دیر ہوگئ "
"وہ تو آپ کی پرانی عادت ہے لیکن یہ مٹھائ کس خوشی میں"
"ابے تیرےبھائ کی جاب لگ گئ  ہے دادا۔۔   دبئ میں بارہ ہزار درہم سیلری "
"ارےواہ بھائ مبارک ہو بہت بہت  بہت خوشی کی خبر ہے اور صرف مٹھائ پر ٹرخارہے ہو لڑکے"
بولے"ابے لونڈے کیوں بے صبرا ہوا جارہا ہے جانے تو دے بھائ کو  پھر جمیرا بیچ پر پارٹی دیگا تیرا بھائ فکر کیوں کرتا ہے نوٹ  تو آنے دے پہلے "
کچھ دیر خاموش رہے اسکے بعد پھر دوبار بولے"ویسے دادا ایک بات دیکھ لی تیرے بھائ نے کہ پیسے میں بڑی پاور ہے"
"وہ تو ہے لیکن آپ نے کیسے اور کب دیکھی"
" ابے دیکھ لی بھائ اور بڑے اچھے سے دیکھ لی  خیر چل ایک واقعہ سناتا ہوں ۔۔۔ شیخ سعدی کا نام سنا ہے؟ ابے بڑے مشہور شاعر تھے ایران کے خیر نہیں پتہ تو سن لے"
"ایران کا بادشاہ بھی بڑا کوئ افلاطون تھا  ہر وقت  علم کی باتیں کرتا گھر میں کوئ یونیورسٹی ٹائپ بھی کچھ سیٹ اپ ڈالا ہوا تھا بڑے بڑے علامہ بھرے ہوئے تھے جیب سے سیلری دیتا مزے لگے ہوئے تھے سب کے"
"ایک دن بادشاہ کو لگا کہ وہ بھرتی والے علاماؤں کی باتیں سن سن کر پک گیا ہے تو اس نے پورے ملک سے سارے بڑے بڑے عالم فاضل سب کو بولا کہ باس فلاں فلاں دن ہمارے محل میں آئیں کھانا بھی پھوڑیں اور بھاشن بھی  سنیں  اور سنائیں"
"خیر بھائ بادشاہ کے بندے ہر ہر عالم کے گھر گھر گئے تب سیٹ اپ ایسا ایڈوانس نہیں تھا کہ ایک ویٹس ایپ میسج کردیا سب کو پتہ لگ گیا   "
"بادشاہ کا بندہ شیخ سعدی کے گھر بھی پہنچا  اور انکو بولا کہ دادا یہ سین ہے آنا پڑے گا"
"شیخ سعدی بھن ہوگئے بولے ابے پاگل واگل ہوگیا ہے کیا بادشاہ  جا کر بول دو نکل لے اپنے پاس فالتو  ٹائم  کوئ ہے"
"ابے بھائ بادشاہ کے بندوں کی ہوا شاٹ ہوگئ کہ واپس جاکر کیا بولیں الٹا ڈنڈے پڑ جائیں گے کہ ایک بابا نہ پٹا کر لاسکے  تم  تو انہوں نے جاکر بول دیا کہ بھئ وہ کہ رہے ہیں کہ بادشاہ  کو کام ہے تو خود آئے"
"یہ سب کر بادشاہ ایک منٹ کو سن ہوگیا پھر بولا ہاں استاد بات تو ٹھیک ہے مجھے کام ہے تو مجھے جانا چاھئے تھا آخر کو اپنا بڑا بندہ ہے تو وہ صاحب تیا ر ہوئے اور پہنچ گئے"

"وہاں پہنچے تو شیخ صاحب بولے "اور لڑکے سب سیٹ کوئ نئ تازی  کیسے آنا ہوا؟"، یعنی کوئ لفٹ  ہی نہیں کرائ سائڈ کرادیا بلکل"
"بادشاہ کی ہٹی تو بہت  لیکن شریف  بندہ تھا  چپ کرگیا  آجکل کا کوئ بادشاہ ہوتا ناں تو گن نکال لیتا  کہ ابے بڈھے ایک تو طالبان تیار کررہاہے مدرسہ کھول کر اوپر سے بھرم دکھا رہا ہے خیر  اس نے کیا مولوی صاحب آپ کے بھائ نے دعوت رکھی ہے اور آپ کو آنا پڑے گا"
"شیح صاحب بولے ابے نہیں بھائ میں ویں نہیں آتا جا تا کہیں ٹائم کے لسن لگ جاتے ہیں اس سے اچھا ہے کہ بندہ یہاں بیٹھ کر  کچھ کرلے گلستان بوستان کے ایک دو چیپٹر نکال لیگا تیرا بھائ"

"بادشاہ  نے بڑی منت کرلی کہ دادا اور بھی آپ کے دوست ہونگے وہاں اچھی گیدرنگ رہے گی مزا آئے گا لش پش لیکن مولانا مان کے نہیں دئے"
"خیر بھی بادشاہ تھک ہار کر اٹھا کہ چل بھائ یہ تو مانے گا نہیں ہم نکلتے ہیں تو  شیخ صاحب بولے کہ چل تو خود آیاہے  بلانے تو تیرا بھائ آجائے گا  لیکن زیاد لمبی نہیں کرنا  بس تھوڑی دیر میں کھا پی کے نکل لیں گے "

"بادشاہ راضی ہوگیا کہ خیر ہوگئ آپ آئیں تو سہی آپ کے آتے ہی کھانا کھول دیں گے اور پھر بولا  چلو دادا  یہ تو ہوگیا اب ملتے ہیں پارٹی میں"
"خیر دعوت والے دن شیخ صاحب بھی گھر سے نکلے کہ چلو اب بلایا ہے تو جانا تو پڑے گا لیکن تھے بڑے درویش آدمی جس حلیہ میں گھر میں بیٹھے تھے اسی میں اٹھ کر پہنچ گئے وہاں اب چوکیدار نے روک لیا کہ بھیا کدھر ؟ یہاں بادشاہ کی پارٹی چل رہی ہے"

"شیخ صاحب نے بھی بولاکہ دادا گیٹ کھولو ہم بھی بادشاہ کے مہمان ہیں تو چوکیدار ہنسنے لگے کہ بڑے میاں بادشاہ کے مہمان ایسے حلیہ میں آتے ہیں کیا  تو شیخ صاحب نے بھی بولا کہ بیٹا مجھے بھی کوئ شوق نہیں تھا وہ تیرا باپ ہی آیا تھا بھائ کو بلانے گھر تو میں آیا ہوں لیکن چوکیدار پھر بولا کہ جائیں سرکار کسی نے دیکھ لیا کہ میں یہاں آپ سے بحث میں لگا ہوں تو میری نوکری تیل ہوجائے گی   میرے بھی بچے ہیں مجھے بھی بیگم کو سنا سفیناز  دلانا ہے عید  پر نوکری چلی گئ تو اپنا تو گیم بج جائے گا  اس لئے معاف کرو بابا" 

" خیر اب تو شیخ صاحب کی بھن ہوگئ بولے واہ بھئ بلایا اور اندر بھی نہیں آنے دیا خیر آدمی تیز تھے فورا" کسی ڈیزائنر کے پاس پہنچ گئے اور فل ٹپ ٹاپ کپڑے وپڑے پہن کر تیار ہوکر دوبارہ پہنچ گئے ادھر پارٹی میں"

"اب کی بار جو پہنچے تو  دیکھا کہ بادشاہ خود باہر کھڑا ہوا ہے نکل کر جیسے ہی شیخ صاحب وہاں پہنچے لپک کر بازو پکڑ لیا اور اندر کھینچتے ہوئے بولا کہ دادا کہاں رہ گئے تھے کب سے سب ویٹ کر رہے ہیں بھوک لگ رہی ہے ٹائٹ انتظار ہورہا ہے تو شیخ صاحب نے ٹوپی کرادی کی بس سگریٹ لینے رک گیا تھا  یا کوئ بھی ٹوپی کرادی پان وان کی اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا خیر۔۔۔"

"کھانا لگ گیا سب شروع ہوگئے لیکن شیخ صاحب بیٹھے رہے تو  بادشاہ بولا چلو بھیا شروع کردو اور کھینچ کے رکھو  بہت آئٹم ہیں"
"شیخ صاحب نے ایک پلیٹ میں کھانا نکالا  اور اپنے سوٹ کا دامن شوربہ میں ڈبا دیا اور  کچھ سالن وغیرہ سے اپنا عمامہ رنگین کردیا "
"اس پر وہ بولا کی ابے بھائ یہ کیا کر رہا ہے؟"

تو شیخ صاحب بولے "میری بات سن لے اب ذرا کان کھول کر، یہ جو مجھے دیر ہوئ ہے آنے میں یہ میں کوئ ٹریفک میں نہیں پھنسا ہوا تھا یا کوئ سگریٹ پان لینے نہیں گیا تھا پوچھ لے اپنے چوکیدار کو میں نارمل کپڑوں میں آیا تھا تو انہوں نے مجھے گیٹ سے بھگا دیا کہ ایسے حلیہ میں پارٹی میں نہیں گھس سکتے کیوں کی بادشاہ کی پارٹی ہے"

"اس کے بعد ہی یہ کرایہ پر سوٹ لیا ہے عمامہ  لیا اور تو جو یہ پھنکتا ہے ناں  کہ تجھے علم ولم کی باتیں کرنی ہیں اور سننی ہیں تو  یہ سب  تو جھوٹ بولتا ہے یہ سب ڈرامہ بند کر یہ سب جو دعوت ہے وہ  اسی لباس کی دعوت ہے تو کھانا بھی اسی کو ملنا چاھئے ناں ہماری عزت کوئ نہیں اگر اچھے کپڑے نہ ہوں یا لش پس دکھتے نہ ہوں  علم ولم اور کتابیں شاعری سب اس کے بعد ہے"

ہم انتظار میں تھے کہ آگے بھی کچھ سنائیں گے تو پوچھ لیا " پھر"

بولے" ابے کوئ فلم کی سٹوری تھوڑی تھی ختم ہوگئ بس"

ہم نے پوچھا  "لیکن آج اس داستا ن کو سنانے کی وجہ کیا تھی؟"

بولے" وجہ سادہ سی تھی تجھے پتہ ہے تیرا بھائ جاب لیس تھا کنگال تھا سگریٹ بھی ابا کے ڈبے سے چوری کرکے پیا کرتا تھا یعنی کہ کوئ سین ہی نہیں تھا اپنا "
"ہاں تو"

"ابے خاندان میں تو کیا گھر میں بھی کوئ منہ نہیں لگاتا تھا  بھائ کہ یہ فالتو چیز ہے کسی کام کا نہیں صرف امی بیچاری چوری چھپے خیال کیا کرتی تھیں پیسے ویسے  دے دیا کرتی تھیں"

"لیکن دادا کل تو بھئ انت ہی ہوگیا  ناں  شام میں دیکھا تو اپنے ماموں ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں اور بڑی ہنس ہنس کر باتیں ہورہی ہیں ہم سے استاد اٹھ کر گلے ملے مبارکباد  دی کب جارہے ہو کیا سیٹ اپ ہے وغیرہ وغیرہ  پھر بولے جارہے پھر سیٹ ہوجاؤ تو اپنے بھائیوں کا بھی دیکھنا کچھ سیٹنگ بن جائے تو"
"صبح امی نے بتایا کہ باتوں باتوں میں عارفین کے رشتے کی بات کرگئے ہیں تمہارے لئے۔ امی نے ہی کہا کہ میں نے کہ دیا کی ابھی تو جارہا ہے کچھ دن رک جائیں 
سیٹ ہوجائے پھر اس سے بات کرتے ہیں تو اصل میں یہ جو ماموں ہمارے لئے رشتہ لیکر آئے تھے وہ ہمارے لئے نہیں بارہ ہزار درہم سلیری کیلئے لے کر آئے تھے"

"یعنی میرے عزیز کل ملا کہ یہ کہ