Tuesday, 12 December 2017

سرکاری نوکری

گریجویشن کے بعد میں فارغ تھا جب ابا کی طبیعت خراب ہوئ میں نے ایم بی اے کا ارادہ فی الوقت موخر کردیا۔
ابا کی طبیعت بگڑتی گئ اور وہ چھٹی لیکر کبھی ہسپتال اور کبھی گھر میں پڑے رہتے۔
دن گزرتے گئے اور ایک صبح ابا ہمیں ہمیشہ کیلئے چھوڑ گئے۔
ابا کے محکمے میں سرکاری سن کوٹہ میری تقرری ہوگئ۔
میری خالہ میری نوکری ہونے کی مٹھائ لیکر آئیں اور کہنے لگیں "بہت مبارک ہو بیٹا تمہاری سرکاری نوکری ہوگئی آجکل ویسے بھی سرکاری نوکری اتنے آرام سے نہیں ملتی"
مجھے یوں لگا جیسے مجھے سرکاری نوکری کی نہیں باپ کے مرنے کی مٹھائ کھلائ جارہی تھی۔





Sunday, 8 October 2017

والدین کی خدمت


میرے دفتر کے ایک ساتھی کی والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا، چند دن غیر حاضر رہ کر جب وہ دفتر واپس آئے تو ہم نے کہتعزیت کے بعد دریافت کیا کہ انتقال کی وجہ کیا بنی حالانکہ جس کا وقت پورا ہوگیا اسے جانا ہی ہے لیکن کوئ نہ کوئ بہانہ تو بنتا ہی ہے سو دریافت کرلیا۔

کہنے لگے کہ کوئ بیماری وغیرہ کچھ نہیں تھی بس ایک دن ہلکا سابخار بوا اور رات میں انتقال ہوگیا۔ وجہ بتا کر غمگین ہوگئے اور کہنے لگے امی کے جانے کا غم الگ لیکن اس بات کا بہت غم ہے کہ ہمیں خدمت کا موقع بھی نہیں ملا۔

ان کے منہ سے یہ بات سن کر میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ہم والدین کی خدمت سے مراد صرف یہ لیتے ہیں کہ وہ آخری عمر میں بیمار ہوں اور بیماری میں اس حد تک گھر جائیں کہ انکا چلنا پھرنا کھانا پینا حتیٰ کے حوائج ضروریہ بھی دوسروں کی ذمہ داری بن جائے اور تکلیف اٹھانے کے بعد جب وہ اس دنیا سے چلے جائیں تب ہمیں سکون حاصل ہوتا ہے کہ ہم نے والدین کی خدمت کا حق ادا کردیا ۔

کیا والدین کی خدمت صرف اسے ہی کہتے ہیں؟
ہمارا دین تو والدین سے حسن سلوک کا حکم دیتا ہے ان سے نرم رویہ رکھنے کا حکم دیتا ہے ۔
اور والدین کی خدمت تو اور بھی بہت طرح ہوتی ہے۔
روزانہ صبح اٹھ کر کام پر جانا اور رزق کمانا بھی خدمت ہی ہے۔
والدین سے ان کی زندگی میں ہی اچھا رویہ رکھنا ان کی قدر کرنا اہم ہے نہ کے ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد افسوس کرنا کہ ہم ان کی خدمت نہ کرسکے۔

ضروری نہیں کہ والدین جب بستر مرگ پر ہی ہوں تب ہی ان کو ہماری خدمت کی ضرورت ہو۔۔باپ جب دھوپ سے گھر واپس آئے تو اسے پانی پلادینا بھی اتنا ہی ثواب ہے جتنا بیماری کی حالت میں اپنے ہاتھ سے اس کے پیر دھونا۔

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا۔ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا۔ اور عاجزی ومحبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھنا۔ اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پرودگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا کہ انہوں نے میرے بچپن میں میری  پرورش کی ہے ۔۔۔۔۔ (سورہ بنی اسرائیل 23،24،)۲


* حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کے ساتھ آپ کے ہاتھ پر ہجرت اور جہاد کرنے کے لئے بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس شخص نے کہا : (الحمد للہ) دونوں حیات ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا : کیا تو واقعی اللہ تعالیٰ سے اجر عظیم کا طالب ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے والدین کے پاس جا اور ان کی خدمت کر۔ مسلم

* ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر دریافت کیا: میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کو ن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری ماں ۔ اس شخص نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا باپ۔ بخاری

Friday, 8 September 2017

ہم ایک مردہ پرست قوم ہیں

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو زندوں کی نسبت انسان کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب وہ اس دنیا کو چھوڑ جاتا ہے ابھی پھچلے دنوں میرے خاندان کے دو بزرگوں کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا اللہ جانے والوں کی مغفرت فرمائے  اور انکو جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے آمین۔
دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جیسے ہی کوئ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے تمام ہی افراد کے نزدیک وہ اس دنیا کا سب سے بہترین  نسان ہوچکا ہوتا ہےا ور اسکا ٹھکانہ جنت ہونے کی گارنٹی لوگ اسکے جنازے سے پہلے ہی دینا شروع کردیتے ہیں۔
ایک صاحب جن  کا انتقال ہوا انکا جب تک زندہ تھے یہ حال تھا کہ زندگی بھر محنت کی سعودیہ اور امارات میں تپتی دھوپ  میں کام کرکے روپیہ کمایا اور یہاں بچوں کا پڑھا لکھا کر کسی قابل کیا واپس آئے تو بھی ایک دوکان کھول کر رات دن بیٹھا کرتے رات جب تھکے ہوئے واپس آتے تو نہ انکی بیوی نہ ہی کوئ اولاد پانی کو بھی پوچھتی۔
میں نے کئ مرتبہ ان کو دیکھا کہ رات میں گھر سے نکل کر سگریٹ خریدنے بھی خود ہی جارہے ہوتے انتقال سے ایک رات پہلے بھی اسی حالت میں گھر آئے اور جو سوئے تو صبح اٹھ نہ سکے نیند میں ہی اللہ کوپیارے ہوگئے۔
تعزیت کرنے گیا تو انکا جوان بیٹا افسوس میں آنسو بہا رہا تھا کہ میرا باپ ایسے ہی چلا گیا مجھے کوئ خدمت کا موقع ہی نہ دیا  ۔۔۔۔ہائے میں کیسا بیٹا تھا کہ جسکا باپ مرگیا اور وہ سوتا رہا اور  یہ خیال بھی دل میں نہ آیا کہ شاید ابا کو میری ضرورت ہو ۔دل میں تو آیا کہ  کہ دوں  لیکن مجبور خاموش رہا کہ میاں ضروری تو نہیں کہ باپ پلنگ پر پڑا ہو تو ہی اسکی خدمت کی جائے  یعنی جب یقین ہوجائے کہ اب  یہ بچنے والا نہیں  تب ہی کیوں کی جائے باپ کی خدمت جب تونے دیکھا کہ میرا باپ بوڑھا ہوگیا ہے تو کم از کم اتنا ہی کرتا کہ ان سے کہتا کہ ابا آپ نے زندگی بھر محنت کی ہے اب آپ گھر رہ کر آرام کریں لیکن ہمیشہ یہی شکوہ سنا کہ ابا  کو تو ڈھنگ سے دوکان بھی چلانا نہیں آتی دن کی پانچ سو کی سیل بھی نہیں کرتے ۔
دوسرے جب دنیا سے گئے تو انکی اولادیں رو رو کر ہلکان ہورہی تھیں لیکن کہ ہم بے آسرا ہوگئے ہمارا باپ مرگیا اب ہمارا کیا ہوگا لیکن  اس سے پہلے تک کسی نے انکی زبان سے اپنے باپ کیلئے کبھی کلمہ خیر نہیں سنا۔
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ کیوں ہم ایک ایسے ہوگئے کہ ہماری محبت کے حقدار زندوں سے زیادہ مردے ہوگئے؟ ہم کیوں انسان کی قدر تب نہیں کرتے جب کہ وہ زندہ ہوتا ہےا ور ہمارے محبت اور توجہ کا زیادہ حقدار ہوتا ہے؟ کیوں ہم اپنی زبان سے اور اپنے فعل سے اس کی زندگی میں اس شخص سے محبت کا اظہار نہیں کرپاتے کیوں اس کے تب کام نہیں آتے جب وہ ابھی ہمارے درمیان ہوتا ہے؟ ہمیں ایک انسان کی کیفیات کا خیال تب ہی کیوں آتا ہے جب وہ مرچکا ہوتا ہے کہ فلاں وقت ہم نے اپنی کسی بات سے یا اپنے کسی فعل سے اس شخص کا دل دکھایا؟ اور ہمیں کیوں افسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اس سے معافی مانگنے کا موقع بھی نہیں ملا حالانکہ ہمیں موقع ملاہوتا ہے لیکن ہمیں احساس صرف اس کے جانے کے بعد ہی کیوں آتا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مردو پرست قوم ہیں اور ہمیں احساس تب ہی ہوتا ہے کہ جب موقع ہمارے ساتھ سے نکل جاتا ہے اس کے بعد چاہے باپ کی قبر پر سونے کی اینٹوں سے بھی مزار بنوا دیں کیا فائدہ۔
کاش کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کا وقت پر احساس کرنے والے ہوجائیں تاکہ تاکے ہمارے بعد آنے والے بھی ہمارا احساس ہماری زندگی میں کرلیں۔

Thursday, 6 April 2017

لاہور آوارگی. مستنصر حسین تارڑ۔ ایک تعارف


لاہور آوارگی۔ ایک تعارف
کتاب: لاہور آوارگی (سفرنامہ)
مصنف: مستنصر حسین تارڑ
اشاعت: جنوری 2017
لاہور آوارگی مستنصر حسین تار ڑ صاحب کی تازہ اشاعت شدہ کتاب ہے اور حال میں ہی میں میں نے اس کتاب کا مطالعہ مکمل کیا ہے اور دوران مطالعہ ہمیشہ کی طرح مکمل طور پر اس کتاب کے سحر میں جکڑا رہا اور یہ تارڑ صاحب کی تحریر کا خاصہ ہے کہ وہ قاری کو جکڑے رکھتی ہے۔

اس کتاب کی ابتدا تارڑ صاحب کے اپنے صبح کے سیر کے ساتھیوں کے ساتھ کئے گئے اندرون لاہور کے دوروں سے ہوتی ہے ابتدائیہ میں تارڑ صاحب نے اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ " یہ ایک مبسوط بیانیہ نہیں ہے، بکھرا بکھرا سا ہے کہ لاہور بھی ایک مبسوط شہر نہیں ہے ،بکھرا بکھرا سا ہے"۔

تو اس بکھرے بکھرے بیانئے کی شروعات لاہور کے قدیم محلوں، حویلیوں، بیٹھکوں، مزاروں مسجدوں ، مندروں اور گردواروں کے گرد گھومتی ہے ان کی تاریخ پر گفتگو ہوتی ہے اور پھر تارڑ صاحب ماضی میں غوطہ زن ہوتے ہیں اور کتاب کا رنگ ہی بدل جاتا ہے یہ کتاب ایک سفرنامے سے ایک سوانح حیات بن جاتی ہے جسکا موضوع تارڑ صاحب اور انکا شہر لاہور ہے۔

تارڑ صاحب کی حیات کے اٹھتر برسوں کہ کہانی ہے ان صبحوں اور شاموں کے قصے ہیں جو انہوں نے اس شہر میں گزاریں، ان میلوں اور تہواروں کی باتیں ہیں جو آج کے دور میں ختم ہوچکے ہیں، ان لوگوں کی باتیں ہیں جو خاک نشین ہوچکے ہیں جنہیں تارڑ صاحب نے اس کتاب کے ذریعہ پھر یاد کیا۔

لاہور کی سڑکیں اور ان پر زندگی کی وہ تصاویر ہیں جو اب صرف خواب ہیں، سینما ہال، ریسٹورنٹ، لائبریریاں، لاہور کے مصور، شعراء، مصنفین، گلوار، لاہور کی ادبی محفلیں اور وہ تمام افراد جن کا تارڑ صاحب کی زندگی میں کسی طور بھی کوئ تعلق رہا چاہے وہ دوستی ہو، محلے داری ہو یا صرف لاہوری ہونا اسکاتذکر ہ اس کتاب میں موجود ہے۔
لاہور میں بسنت کی سرکاری سطح پر بندش پر تارڑ صاحب کے جذبات کچھ یوں ہیں" اور اب لاہور کا آسمان بسنت کے روز بھی ایک بیاباں ہوتا ہے اس میں کسی خوش رنگ پتنگ کا پھول نہیں کھلتا، ایک بنجر آسمان ہوتا ہے" 

لاہور میں ہونے والی تعمیرات اور ان کے نتیجے میں تاریخٰی ورثے کوہونے والے نقصان پر لکھتے ہیں کہ
""لاہور آوارگی" محض ایک تاریخی اور تاثراتی بیانیہ نہیں ہے ایک احتجاج ہے، نہ صرف ایک مرتبہ پھر افغانیوں نے اس شہر پر قبضہ کرلیا ہے بلکہ ترقی کے نام پر اس کے چہرے کو مسخ کیا جارہا ہے، اس کی سب تاریخی نشانیاں مسمار کی جارہی ہیں، اس کے درمیان میں ایک دیوار برلن تعمیر کرکے اس کی پہچان کو معدوم کردیا گیا ہے۔۔میں اس شہر بے مثال کا نوحہ گر ہوں، میں جانتا ہوں کہ میری فغاں کا کچھ اثر نہ ہوگا، میں نے بھی تو اسطو کا کہا نہ مانا کہ کبھی سوداگر کو اپنا حکمران نہ بنانا وہ تمہارے قدیم معبد ڈھا دے گا ، عہد رفتہ کے سب قصر مسمار کرکے وہاں تجارتی منڈیاں قائم کردے گا"
گزشتہ دنوں کراچی میں ہونے والے لیٹریچر فیسٹیول میں تارڑ صاحب نے ایک پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا اور میں بھی وہیں موجود تھا کہ انہوں نے بہت سے سفرنامے تحریر کئے جن میں پاکستان کے بارے میں اور دنیا کے دیگر بہت سے ممالک کے بارے میں لکھے گئے سفرنامے شامل ہیں لیکن پنجاب کے بارے میں اور خاص طور پر لاہور کے بارے میں کوئ کتاب تحریر نہیں کی تو جب انہوں نے پنجاب کے بارے میں کتاب لکھنا شروع کی تو ابتدا میں لاہور بھی اسی کتاب کا حصہ بننا تھا لیکن بعد میں انہوں نے لاہور کو ایک الگ کتاب کی صورت میں شایع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائ کہ میں نے پوری زندگی جس شہر میں بسر کی اسکا میرے اوپر قرض ہے اور یہ کتاب اس قرض کی ادائیگی کی ایک صورت ہے گو کہ میں وہ قرض کبھی اتار نہیں سکتا۔
میری کوئ اوقات نہیں کہ میں تارڑ صاحب کی کتب پر تبصرہ کی جسارت کروں کہ وہ یہ قرض اتارنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں یہ بس اس کتاب کا مختصر تعارف ہے مقصد آپ کو اس کتاب کے مطالعے پر ابھارنا ہے۔

"میں اب بھی کبھی کبھی کسی سویر باغ جناح میں جا نکلتا ہوں۔۔ ستتر برس کا ہوچکا ہوں تب بھی اس باغ میں قدم رکھتا ہوں تو میرا بدن نوجوانی کے بخار سے آشنا ہونے لگتا ہے۔۔سب کچھ وہی ہے۔۔۔صرف اب شیر نہیں دھاڑتا اور میں اس گھنے شجر کے نیچے کھڑے ہوکر نہایت سوگواری اور سرگوشی میں "کوہو کوہو" ہولے سے پکارتا ہوں لیکن جواب نہیں آتا۔۔
وہ پرندہ۔۔ وہ پکھیرو۔۔ جس سے میں باتیں کیا کرتا تھا۔۔ یا تو مرگیا تھا یا کوچ کرچکا تھا۔۔
میں نے بھی اب مرجانا تھا۔۔ کوچ کرجانا تھا"(لاہور آوارگی صفحہ نمبر 2477)

Wednesday, 28 December 2016

اشفاق احمد


تحریر اشفاق احمد
ﺯﺍﺭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮍﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﺮﺱ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﯾﮟ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ
ﯾﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﺎﺯ ﻧﺨﺮﮮ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﺍﻭﻻﺩ
ﮐﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﻮﺭ ﺭﮨﯽ، ﺻﺤﺖ ﺑﮭﯽ ﻋﺎﻡ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮩﺖ ﺍﯾﮑﭩﯿﻮ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﯿﻦ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﭼﻠﻨﮯ، ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻧﮯ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ
ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﻣﺰﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﺳﻨﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ
ﺟﺴﺎﻣﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮕﻢ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻭﯾﻦ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎ ﺑﭽﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺑﭽﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮔﺌﯽ۔ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺭﻭﺯ ﺍﭘﻨﯽ
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﯽ ﮐﭽﯽ ﭘﮑﯽ ﻧﻈﻤﯿﮟ ﺳﻨﺎﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻭ ﻣﺎﮦ ﮔﺬﺭﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﺏ
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﺁﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍ ﺳﻮﺟﺎﺗﯽ، ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﮨﻮﻡ ﻭﺭﮎ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﻣﯿﮟ
ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺩﻓﺘﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻮ ﻧﻈﻢ ﺳﻨﺎﺩﻭ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ
ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﻧﻈﻢ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺧﻼﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﺭ ﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﯽ ﺑﺎﺑﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ
ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭘﺮ ﮐﺎﺭﭨﻮﻥ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ۔
ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺯﺍﺭﺍ ﮨﻮﻡ ﻭﺭﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺗﯽ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ
ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﮕﻢ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺯ ﮨﻮﻡ ﻭﺭﮎ ﮐﺮﻭﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﺎﭘﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ
ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﮯ ﭘﮭﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻠﮯ۔ ﺯﺍﺭﺍ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ۔ ﭨﯿﭽﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ
ﺷﮑﺎﯾﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺒﺎﺭ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﯿﮕﻢ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﺻﺮﻑ
ﭘﯿﻨﺴﻞ ﺳﮯ ﻟﮑﯿﺮﯾﮟ ﻣﺎﺭﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﮈﮬﭩﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﺎﺭﺍ ﺑﮭﯽ۔ ﺯﺍﺭﺍ ﺭﻭﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻮ ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮔﺬﺭ ﮔﯿﺎ ﺯﺍﺭﺍ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ
ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺭﻭﻧﻖ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ
ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﯿﮍﺍ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻭﮨﯽ ﺭﮨﺎ۔
ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭩﻨﮯ ﮐﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﮯ ﺍﺛﺮ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ
ﮐﻮ ﭘﺎﺭﮎ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﻭٔ ﮐﮭﯿﻠﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔
ﺯﺍﺭﺍ ﺟﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﻼﺋﯿﮉ
ﭘﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺳﻼﺋﯿﮉ ﻟﯿﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮬﮑﺎ ﺩﯾﺘﮯ، ﮐﮩﻨﯽ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﯼ ﺭﮨﯽ
ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺧﻦ ﭼﺒﺎﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮨﺎﮞ
ﺑﮭﺌﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ؟ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﭽﯽ ﻧﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﺩﻻﯾﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮏ
ﮔﺌﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﻼﺋﯿﮉ ﻟﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﮔﮭﺮ ﭼﻠﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﻼ ﮈﺍﻻ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ
ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﺎﻭﮔﯽ؟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﺎ ﻟﻨﭻ ﺑﮭﯽ
ﻟﮯ ﻟﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﻮ ﻣﺮﺿﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ ﺑﺎﺑﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﮭﺎﻟﻮﮞ ﮔﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻻ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﻤﭙﺮﻭﻣﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ
ﮐﮧ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻭﯾﻦ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮈﺭﺍﭖ ﮐﺮﻭﮞ۔ ﺷﺎﻡ ﺩﻓﺘﺮ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ
ﭘﺎﺭﮎ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺯﺍﺭﺍ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﺁﺝ ﻭﯾﻦ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ
ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻨﭻ ﺁﺝ ﺻﺒﺢ
ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺳﮑﺎ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺎﺭﺍ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ
ﺧﻮﻑ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺭﻭﺯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻟﻨﭻ ﺑﭽﮯ ﮐﮭﺎﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ
ﺟﯽ ﺭﻭﺯ ﻭﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍﻥ ﻟﻨﭻ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺑﭽﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﻨﺴﻠﺰ ﭼﺒﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﺎﻏﺬ
ﮐﮯ ﮔﻮﻟﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ؟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ
ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺗﻀﺤﯿﮏ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻦ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﮓ ﺳﮯ ﮐﺎﭘﯿﺎﮞ
ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭼﮭﭙﺎﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﮨﻮﻡ ﻭﺭﮎ ﭘﮭﺎﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ
ﭘﺮ ﮈﺍﻻ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﺳﮯ
ﺳﺰﺍ ﭘﺎﺗﯽ، ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺑﻨﺘﯽ، ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﻧﻮﻟﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ
ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺗﮭﯽ، ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﻧﻈﻤﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ، ﭘﮭﺮ ﭨﯿﺒﻞ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ
ﭘﯿﭙﺮ ﺧﺎﻟﯽ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﻟﮕﯽ، ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺍﺭﺍ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ،
ﮐﮭﻠﻮﻧﮯ ﺭﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﻣﭩﯽ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ، ﻻﻥ ﮐﺎ ﺟﮭﻮﻻ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺳﺎ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ، ﺟﮩﺎﮞ ﺩﻭ ﻟﻮﮒ
ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ
ﺗﺒﺪﯾﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﻻﺋﭧ ﺁﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ
ﻭﮦ ﺗﮑﯿﮧ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﯽ، ﭼﮫ ﺳﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺿﺪﯼ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ
ﺑﺎﺕ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﻦ ﻣﺎﻧﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ۔
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﮐﺌﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﺍﺭﻧﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ
ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺟﺎ ﮈﺍﻧﭧ ﮈﭘﭧ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﮞ
ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺍﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﺑﯿﭩﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﺍﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﺷﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﮨﻮﻟﮉﺭ ﻣﯿﮟ
ﺳﮯ ﺑﻠﺐ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﮯ۔ ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﺑﺎﮨﺮ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ
ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﭼﮭﮍ ﺟﺎﺗﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﺍﯾﮏ ﻣﻼﺯﻣﮧ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺳﻨﮉﮮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻮ
ﮐﺎﻓﯽ ﺑﺮﺍ ﻟﮕﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺯﺍﺭﺍ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﮎ ﭨﻮﮐﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ
ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﭩﺎﻟﺰ ﭘﺮ ﻣﺤﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮈﮬﯿﺮﻭﮞ ﺍﺳﭩﻮﺭﯼ ﺑﮑﺲ ﺩﻻﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﯾﺪ
ﺩﻻﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ، ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﯾﮏ ﭨﺎﺭﭺ ﭼﺎﺋﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺟﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻻﺩﯼ۔
ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻭﮦ ﮐﺘﺎﺏ ﭨﺎﺭﭺ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﺭﮨ
ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﻈﺮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﯽ۔ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻗﺮﯾﺐ
ﺁﺗﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﺮﯼ ﭘﻮﺭﭨﺮ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﯾﺎ ﮐﭽﮫ ﻟﮑﮭﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﭙﺎ ﺩﯾﺘﯽ۔ ﻣﯿﮟ
ﻧﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﻼﺱ ﺳﮑﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﺮﯾﮉﺯ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺫﮨﯿﻦ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﭨﺎﺋﻢ ﭘﺮ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﻼﺷﯽ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺻﻔﺤﮯ ﻣﻠﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻧﻈﻤﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯﺍﮦ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﺮ ﻧﻈﻢ ﻣﯿﮟ دکھ، ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ، ﺧﻮﻑ، ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺮﻭﻣﯽ ﭼﮭﻠﮏ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﻠﻨﮓ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﺑﮧ ﻣﻼ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﮐﺎﻧﭻ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﭨﻮﭨﮯ ﺑﻠﺐ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ
ﭨﻮﭨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﻼﺱ ﮐﮯ ﺗﮭﮯ ﮨﺮ ﮨﻔﺘﮯ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻼﺱ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ
ﭘﯿﻨﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻧﭻ ﺍﺱ ﮈﺑﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺭ ﺳﺎ ﻟﮕﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﯽ
ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﻟﮯ۔ ﺳﻮﭼﺎ ﮈﺑﮧ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﯾﺎ
ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﮎ ﮐﺮﻟﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺿﯽ
ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻨﺎﺋﯽ۔ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺗﯿﻦ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﯽ ﭘﻠﯿﭩﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﺑﮍﺍ
ﻣﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﻮﮌﮮ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﺒﮫ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﺗﯿﺰ ﺗﮭﺎ
ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻧﭻ ﭼﻦ ﮐﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﭩﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ
ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺳﮯ ﮔﺘﮯ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﻮ ﭼﭙﮑﺎﯾﺎ، ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﻻﯾﺎ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺭﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺟﻤﻊ ﮐﺌﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻓﺮﯾﻢ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ ﺍﺑﺎ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺗﺤﻔﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ
ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﭘﻠﯿﭩﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻡ ﺁﮔﺌﯿﮟ۔
ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﺎ ﺍﮔﻼ ﺳﻮﺍﻝ ﺁﯾﺎ ﯾﮧ ﺭﻧﮓ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻓﺮﯾﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﮐﮩﺎ ﮐﻞ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﮔﻠﮯ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﭘﺮ ﺯﺍﺭﺍ ﺑﻨﺎﺀ ﻓﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﯽ
ﺍﯾﮏ ﭘﯿﻨﭩﻨﮓ ﻻﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺑﺎ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻓﺮﯾﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﺮﺍ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮔﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻓﺮﯾﻢ ﺑﻨﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻻﻭٔﻧﺞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﻟﯿﺎ۔ ﻧﮧ ﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﻞ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﭘﯿﻨﭩﻨﮓ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺍﺭﺍ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﮐﯽ ﮔﺮﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ
ﺍﻥ ﭨﻮﭨﮯ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮐﺎﻧﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺑﮯ ﺭﺑﻂ ﭘﯿﻨﭩﻨﮓ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻣﻨﮯ
ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺭﺙ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﺟﮕﻤﮕﺎﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﻟﮯ۔
ﺳﺪﺭﮦ ! ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﮭﻮﻝ ﮨﻮﺋﯽ، ﺯﺍﺭﺍ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮔﺌﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺗﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ
ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﮯ، ﺑﺎﻗﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﻠﻂ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ
ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ
ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﻨﺎﯾﺎ
ﺟﺐ ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﻧﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ
ﻃﻠﺒﮕﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮈﺭ، ﺧﻮﻑ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﭼﮑﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺮﺍ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺁﺝ
ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﻮ ﺟﺎﻭٔﮞ؟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺁﺟﺎ ﯾﺎﺭ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﻭﮦ ﮔﮩﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ
ﺳﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻭﮦ ﻭﺍﺣﺪ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﭘﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﮨﺮ ﮨﻔﺘﮯ ﯾﺎ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮔﻼﺱ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮈﺍﺋﺮﯼ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﮯ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺍﺏ
ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﺮﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﮭﭙﺎﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﮯ ﺭﺑﻂ ﺳﮯ ﻟﮑﯿﺮﯾﮟ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﺌﯽ ﺍﺳﮑﯿﭻ
ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺎﺵ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺗﺒﺪﯾﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﻨﺠﯿﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺘﮏ ﺁﻣﯿﺰ ﺳﻠﻮﮎ ﺍﺱ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﺑﮍﮬﺘﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ
ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ، ﮐﻤﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﮐﺎﺵ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻭﺟﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺑﻨﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﺨﺘﯽ ﻧﮧ ﺑﺮﺗﺘﯽ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺳﺪ ﺑﺎﺏ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ
ﺁﺝ ﯾﮧ ﺯﺍﺭﺍ ﺍﻟﮓ ﺯﺍﺭﺍ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﻨﮭﮯ
ﻣﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﻃﺮﺡ ﺑﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﮐﺲ ﺍﺫﯾﺖ ﺳﮯ ﺩﻭﭼﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﮞ
ﮔﮯ۔ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺐ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﺎﺹ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻥ
ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﻣﺮﺟﮭﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ
ﮨﮯ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﮨﯽ ﻏﻠﻂ ﮨﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ۔ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ
ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.

Monday, 26 December 2016

اعمال کا دارو مدار




جب ہم چھوٹے چھوٹے تھے اور امی ہمیں روز صبح گھر سے نکال کر سکول بھیج دیا کرتی تھیں یعنی روزانہ ہی ایک سزا تھی حالانکہ جس مبارک دور میں ہمارا بچپن گزرا ہے اس دور میں والدین کو ابھی اتنی عقل نہیں آئ تھی کہ بچہ جونہی چلنا سیکھ لے اسے گھر سے نکال کر کسی مونٹیسری میں بہترین تربیت کے لئے بھیج دینا عین ثواب کا کام ہے اور ثواب کے ساتھ ساتھ بچے کی بنیاد بھی اتنی مضبوط ہوجائے گی کہ دنیا کی کوئ طاقت اسے سے ٹکر نہیں لے سکے گی خیر تو اسی دور میں ہمیں سکول میں پڑھایا گیا کہ 

"اعمال کا دارومدار نیت پر ہے" 

یہ حدیث مبارکہ ہے اور اس کی تفسیر ہمیں یوں سمجھائ گئ کہ بچو! کسی بھی کام کو کرنے کی جو نیت ہوگی ویسا ہی نتیجہ حاصل ہوگا بری نیت کے ساتھ اچھا کام بھی فائدہ مند نہیں جیسے کسی کی مدد اس لئے کرنا کہ وہ بھی آپ کی مدد کرے گا غلط ہے کسی کی مدد کبھی اس نیت سے نہ کرو کہ وہ بھی آپ کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریگا بلکہ کسی کی مدد صرف اس لئے کرو کہ اسے مدد کی ضرورت ہے اور اللہ آپ کو اسکا اجر دیگا, ایک اور بات بھی سمجھ آئ کہ اچھی نیت ہو تو کام بن جاتے ہیں اور نیت خراب ہو تو بنتے کام بگڑ جاتے ہیں۔

ہم نے اس بات کو اپنا نصب العین بنا لیا کہ نیت ہمیشہ اچھی رکھنی ہے چاہے کچھ بھی ہوجائے اور جہاں کہیں ہماری نیت میں کھوٹ تھا اسکا نتیجہ بھی ہم نے بھگتا جیسے یونیورسٹی میں خالدہ اور رقیہ کو پورا سمیسٹر اسائنمنٹ کاپی کر کرکے دیئے، لیکچر چھاپ چھاپ کردئے ، حاضریاں لگوائیں لیکن پس پردہ نیت یہی رہی کہ یہ دونوں نہ سہی کوئ ایک تو ہمارے اچھے کردار سے متاثر ہوگی اور ہماری زندگی کی بنجر زمین پر بارش کے پہلے قطرے کی طرح گرے گی تو ہر طرف خوشبو ہی خوشبو پھیل جائے گی لیکن ایک دن جب ہم نے دونوں کو باری باری شکیل بھائ کےساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتے دیکھا تو بچپن میں پڑھائےگئے سبق کی صداقت پر کامل یقین آگیا ۔ 

ایک حکایت ہماری دادی مرحومہ نے ہمیں سنائ تھی کہ ایک بادشاہ تھا جسے شکار کا بہت شوق تھا اور وہ اپنے اس شوق کی تکمیل کیلئے لمبے لمبے سفر اختیار کرتا رہتا۔ ایک مرتبہ وہ ایسے ہی ایک سفر میں تھا اور شکار کا پیچھا کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا اور کافی آگے نکل گیا شکار تو خاک ملتا وہ اپنے ساتھیوں کو بھی نہ ڈھونڈ پایا اور بھٹکتے بھٹکتے ایک گاؤں میں جا پہنچا اور کیا دیکھتا ہے کہ سامنے ایک انار کا باغ ہے ۔بادشاہ باغ میں داخل ہوگیا اور باغ کے مالک سے پانی کی درخواست کی باغ کے مالک نے اس نیت سے کہ ایک مسافر کو کیا صرف پانی پلانا اپنے ہی باغ سے ایک انار توڑا اور چند منٹوں میں ہی پورا پیالہ انار کے رس کا بھر کر پیش کردیا۔ بادشاہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ صرف ایک انار کے رس سے پورا پیالہ بھر گیا اور ذائقہ بھی نہایت عمدہ اور بہترین تب ہی اسے یہ خیال آیا کہ یہ جو کہ اس بیابان میں ایسے عمدہ اور رسیلے انار اگا رہا ہے انکی فروخت سے اچھا منافع بھی کمارہا ہوگا لیکن چونکہ اس کی خبر اب تک ہمیں نہیں تھی تو اس پر ٹیکس بھی نہیں لگتا اور اسکی آمدن میں سے سرکار کو کوئ حصہ نہیں ملتا اور تب ہی اس نے یہ فیصلہ کرلیا کہ واپس جاکر اپنے نمائندے یہاں بھیج کر اس باغ سے ٹیکس وصولی کا انتظام کروائے گا ۔


مزید کچھ دیر گزری تو بادشاہ نے ایک اور گلاس کی فرمائش کردی لیکن اس بار دو انار بھی ایک پیالہ نہ بھر سکے تو بادشاہ نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہوا کہ پہلے تو ایک انار ہی کافی ہوا اور اب کی بار دو بھی ناکافی ہوئے ایک پیالہ بھرنے میں جس پر باغ نے مالک نے مختصر جواب دیا کہ "ہمارے حکمران کی نیت بدل گئی" اور بادشاہ حیران رہ گیا کہ اسے یہ بات کیسے معلوم ہوگئ یہ تو اس بات سے بے خبر ہے کہ میں ہی بادشاہ ہوں خیر قصہ مختصر بادشاہ اپنے فیصلے پر دل ہی دل میں شرمندہ ہوا (حالانکہ بادشاہ تھا چاہتا تو نہ بھی ہوتا تو تب بھی کوئ کیا کرلیتا) اور اپنے ارادے سے باز آیا اور پھر کچھ دیر بعد دوبارہ فرمائش کی اور اس مرتبہ وہ جام دوبارہ بھر گیا ۔

یہاں میں نے دادی سے شکایت کی کہ غلط تو بادشاہ کی نیت تھی تو اسکا نقصان بے چارے باغ کے مالک کو کیوں ہوا بادشاہ کے گلاس میں مکھی گر جاتی تو زیادہ اچھا ہوتا تو دادی نے ہمیں سمجھایا کہ بیٹا حکمران عوا م کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اسکی نیت کا اثر عوام پر براہ راست ہوتا کہ یعنی حکمران چاہے جو بھی خباثت کرے بھگتے گی عوام خیر یہ ایک الگ بحث رہی۔

یہی حکایت ایک دوسرےی جگہ کچھ یوں نظر سے گزری کہ جب بادشاہ نے دوسرے گلاس کی فرمائش کی تو باغ کے مالک نے دل میں کہا کہ "مفت خورے کو مزے لگے گئے اب شام تک اسکے ساتھی نہ ملے تو یہ تو پورا باغ اجاڑ دیگا" اور پھر یہ ہوا کہ دو اناروں سے بھی ایک گلاس نہ بھر پایا اور تب بادشاہ نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہوا تو باغ کا مالک شرمندہ ہوا اور بولا "میری نیت بدل گئ تھی"

خیر ان تمام مثالوں سے ہم یہی ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ نیت کا براہ راست اثر آپ کے کام پر پڑتا ہے کام نیک ہو لیکن ارادہ برا تو بھی نتیجہ اچھا نہیں ہوگا اور کام بگڑے گا ہی بگڑے گا۔

کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اپنی نیت کو اچھی طرح چیک کرلیں کہ وہ "نیک " ہی ہے اور بعد میں بھی "نیک " ہی رہے گی اور اگر نیت کا نیکی سے بدی کی طرف سفر شروع ہوا تو یاد رکھئیے کہ آپ کامیابی سے خود دور ہونا شروع ہوجائیں گے اور تب ادارہ ذمہ دار نہ ہوگا۔