Thursday, 4 June 2015

سیف الملوک ایک سرد رات کا احوال


رتی گلی کی برف ابھی پگھلی نہیں تھی اور وہاں کے سحر سے ابھی ہم پوری طرح باہر بھی نہیں آئے تھے کہ ہمارے پیر ایک مرتبہ پھر آبلوں کیلئے ترسنے لگے گھر کے آرام سے تنگ آچکے بدن ایک مرتبہ پھر سفر کی بے آرامی اور مشقت کیلئے بےچین ہونے لگے دماغ پر دھن سوار ہوگئ اور نئے سال کی ابتدا کے ساتھ ہی سالانہ چھٹیوں کا اکاؤنٹ جب دوبارہ بھر گیا تو میں نے رانا صاحب پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ جلد از جلد کوئ سفر اختیار کرلیا جائے اور وہ مجھے تسلی دیتے رہے کہ جب سفر کا وقت آئے گا سفر کے اسباب خود بخود بننا شروع ہوجائیں گے۔

لیکن شاید بے چینی تب ہی ہوتی ہے جب وقت آچکا ہوتا ہے رانا صاحب اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں نکال پارہے تھے اور انہوں نے مجھے بارہا سفر کی تاریخ آگے بڑھانے کوبولا لیکن جیسے میں نے کہا کہ وقت آچکا تھا تو میں ٹکٹ کٹا کر لاہور جانے کیلئے تیار ہوگیا۔ 
روانگی سے قبل ہم نے سفر کے ضروری سامان کے حصول کراچی کے مختلف بازاروں کے چکر کاٹنا شروع کردئے جس میں گرم جیکٹ، موزے ،دستانے اور جوتے وغیرہ شامل تھے یہ سب سامان جمع کرنے کے بعد ہم جانب لاہور عازم سفر ہوگئے۔ 
کراچی سے مصطفیٰ صابر جو رتی گلی کے سفر میں بھی میرے ساتھ تھا اور لاہور سے رانا عثمان کے علاوہ راولپنڈی سے فرخ شہزاد میرے ہمسفر تھے ہمسفر اچھے ہوں تو سفر اچھا کٹ جاتا ہے۔ 

کراچی سے ہم لاہور پہنچے وہاں رانا صاحب ہمارے منتظر تھے اور وہاں پہنچتے ہی ہم مانسہرہ کیلئے روانہ ہوگئے فرخ کو اسی بس میں ہمارے ساتھ شامل ہونا تھا ڈائیو سروس کی یہ بس زیادہ تر خالی ہی تھی جس کا فائدہ اٹھا کر میں اور رانا صاحب پچھلی سیٹوں پر دراز ہوگئے گوکہ جگہ تنگ تھی لیکن کہتے ہیں دل میں جگہ ہونی چاہئے ہم دونوں دل سے دل ملا کر اسی طرح سوتے رہے یہاں تک کہ اسلام آباد چنگی نمبر چھبیس سے فرخ شہزاد بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگئے۔ 

صبح فجر کے کچھ پہلے ہم مانسہرہ پہنچ گئے ہمارے بس سٹینڈ پر اترتے ہی چاروں طرف سے کمبلوں کی بکل ماری ہوئ ایک فوج نے ہمیں گھیر لیا کوئ ہمارے بیگ کھینچ رہا تھا اور کوئ ہمیں دکھیل کر اپنی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش میں مصروف جیسے ہمیں اغوا کرنا چاہتا ہو صبح کے نیم اندھیرے میں ایسی صورت حال خاصی پریشان کن تھی ہمیں سب سے محفوظ مقام خدائے ذولجلال کا گھر ہی معلوم ہوا اور ہم سب اپنا سامان اٹھائے وہیں بس سٹینڈ پر بنی مسجد میں داخل ہوگئے۔ 

باہر آنے پر پھر وہی جمگھٹا وہی لڑائ وہی اغوا کی کوششیں کچھ تو اس قدر جزباتی ہوئے کہ آپس میں گالم گلوچ پر اتر آئے قبل اسکے کہ وہ ہاتھا پائ پر اتر آتے رانا صاحب نے ایک شریف اور اس تمام لڑائ سے دور کھڑے ایک مسکراتے ہوئے ایک گاڑی والے سے سودا طے کرلیا کہ وہ ہمیں بالاکوٹ تک چھوڑ آئے وہاں سے آگے کے تمام انتظامات عدیل حسین کی ذمہ داری تھے جن سے ہماری بات پہلے سے طے ہوچکی تھی۔ 

مانسرہ سے بالا کوٹ کا راستہ مکمل گولائیوں والی سڑک پر مشتمل ہے اور کچھ کچھ اسی راستے سے مشابہ ہے جو راولپنڈی سے مری جاتا ہے ایک طرف پہاڑپر زمین سے سروں اوپر دیار کے درخت ہیں اور نیچے گہرائ میں سبزہ اور ان میں بنے ہوئے حسین گاؤں فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ فاصلہ طے کرنے پر دریائے کنہار ساتھ چلنے لگتا ہے کبھی قریب اور کبھی دوری پر ایسی ہی گولائیوں پر چکراتے چکراتے ہم بالاکوٹ سے نزدیک ہوتے جارہے تھے کہ اچانک ہمیں گاڑی روکنا پڑی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے رانا صاحب کی طبیعت بگڑ گئ تھی۔ 

یہ طبیعت بگڑنا ہمارے لئے کافی مفید ثابت ہوا اور اسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرخ اور میں دونوں ہی کیمرے اٹھا کر ادھر ادھر بٹھک گئے سڑک کے پرے تھوڑا نیچےایک جنگل نما علاقہ تھا اور اس سے بھی نیچے ایک گاؤں بلندی سے 


صرف اکا دکا گھر نظر آرہے تھے حالانکہ وہاں اور بھی ہونگے۔ 


رانا صاحب کی طبیعت سنبھلی تو سفر دوبارہ شروع ہوا اور ابکی مرتبہ جو ہم چلے تو بالاکوٹ میں ہی رکے جہاں سے ہمیں عدیل کی قیادت میں سرنگوں کرنا تھا 

بالاکوٹ ایک دلبر شہر ہے اور اس شہر نے ہمارا استقبال بہت اچھےطریقے سے کیا سورج جو ابھی بادلوں میں تھا پوری طرح روشن ہوکر چمکنے لگا اور ہلکی سی کہر میں پہاڑوں کا جو منظر تھا وہ قدرے واضح ہوگیا اور ان پہاڑوں پر جمی برف کی ہلکی سی تہ سورج کی ان شعاؤں کے پڑنے سے دمکنے لگیں گوکہ جہاں سے مجھے یہ منظر دکھائ دے رہا تھا وہاں بجلی کی تاروں ،جا بجا لگے اشتہاری بینروں اور دوکانوں پر لگے بورڈز کی وجہ سے منظر کافی بدنما ہوچکا تھا لیکن پھر بھی یہ ایک قابل دید منظر بلاشبہ تھا کچھ وقت اور گزرا اور سورج کی روشنی نے جان پکڑی تو دھوپ کی چمک اس قدر بڑھ گئ کہ آنکھیں چندھیانے لگیں سردی کی اپنی جگہ قائم تھی اور دھوپ بھی سردی میں کوئ کمی نہیں لا سکی تھی سانس کے ساتھ منہ ناک سے بھاپ نکلے کے عمل میں کسی قدر کمی البتہ ضرور آچکی تھی۔ 

وہیں بازار میں جہاں عدیل کو ہمیں وصول کرنا تھا ہم اپنا سامان رکھ کر ایک ہوٹل میں ناشتہ کی غرض سے داخل ہوگئے اور رانا صاحب اپنا فون کان پر لگائے باہر کھڑے ہوگئے اور کچھ دیر بعد جب وہ اندر واپس آئے تو چہرے پر پریشانی کے آثار نمایا تھے۔ 

"کیا ہوا رانا صاحب" میں نے پوچھا 

"ہاں کیا ہوا عثمان؟" فرخ نے بھی میرے ساتھ ہی سوال کیا 

"کچھ نہیں یار ناشتہ آرڈر کیا؟" رانا صاحب نے موبائل کی سکرین جیکٹ سے رگڑ کر صاف کی 

"بات ہوئ عدیل سے؟" فرخ نے رانا صاحب سے پوچھا 

"نہیں موبائل بند آرہا ہے لیکن میں نے لاہور سے نکلتے ہوئے بتا دیا تھا وہ پہنچ جائے گا راستے میں ہوگا سگنل نہیں مل رہا ہوگا" رانا صاحب نے جواب دیا اور اسی دوران ناشتے کا آرڈر بھی دیا جا چکا تھا۔ 

ناشتہ آیا اور ابھی ہم ناشتہ کر ہی رہے تھے کہ رانا صاحب کے فون کی گھنٹی بجی اور وہ اٹھ کر باہر چلے گئے اور پھر غائب ہوگئے ہم ناشتے سے فارغ ہوچکے اور دو دو پیالی چائے چڑھا چکنے کے بعد بھی جب رانا صاحب واپس نہ آئے تو ہمیں تشویش ہوئ اور سب سے پہلے فرخ باہر گیا اور اسکے پیچھے مصطفیٰ اور آخر میں میں اٹھا پھر خیال آیا کہ یوں سب سامان چھوڑ کر چلے جانا مناسب رہے گا یا نہیں لیکن بعد میں جانے والے بھی جب واپس نہ پلٹے تو میں نے بھی ارادہ کیا کہ باہر جانا ہی چاہئے پتہ نہیں کیا ہوگیا کہ جو باہر جاتا ہے واپس نہیں آتا سامان کے بارے میں ہوٹل والے سے کہ کر میں باہر نکلا تو تینوں میں سے کوئ بھی موجود نہیں تھا ادھر ادھر نظریں دوڑانے پر رانا صاحب تو نہیں لیکن فرخ اور مصطفیٰ نظر آگئے وہ ایک جیپ والے کے ساتھ کھڑے بات چیت میں مصروف تھے جب میں قریب ہوا تو انکے درمیان جو گفتگو ہورہی تھی وہ کچھ اس قسم کی تھی میں نے جہاں سے اس مکالمے کو پکڑا وہاں سے ہی لکھ رہا ہوں 

جیپ والا:"تو اسکو چھوڑو ناں وہ آجائے گا پیچھے" 

فرخ:" یار ایسا تھوڑی ہوسکتا ہے" 

جیپ والا:" آپ کا بکنگ کس کے ساتھ ہے" 

مصطفیٰ:"بھائ نام ہمیں نہیں معلوم لیکن بکنگ ہے ہماری کوئ ہمیں لینے آنے والا ہے" 

جیپ والا:"بھائ ادھر سب گاڑی انجیر کا چلتا ہے ہم بھی انجیر کیلئے کام کرتا ہے" 

ایک لڑکا جو جیپ کی صفائ میں مصروف تھا اس جیپ والے سے کوئ سگنل ملتے ہی غائب ہوگیا اور چند منٹوں میں دو کندھوں پر ہمارے دوبیگ لاد کر باہر آیا اور جیپ پر لوڈ کرنے لگا۔ 

فرخ:" بھائ کیا کررہے ہو رکو ابھی بڑابھائ آجائے سامان کیوں اٹھا لائے ہو" 

اسی موقع پر رانا صاحب کہیں سے نمودار ہوئے اور آتے ہیں اونچی آواز میں سلام کیا 

"السلام وعلیکم " مصافحہ کے بعد سوال کیا "عدیل نہیں آیا؟" 

"یار یہ عدیل کے ساتھ نہیں ہے پتہ نہیں کون ہے زبردستی سامان رکھ رہا ہے گاڑی میں آپ بھی غائب ہوگئے اچانک" مصطفیٰ نے جلدی جلدی معلومات مہیا کیں۔ 

رانا صاحب جو پہلے ہی کچھ پریشان لگ رہے تھے اچانک غصہ کر بیٹھے "یار تم لوگ بچے ہو کیا کوئ بھی سامان اٹھا کر رکھ رہا ہے اور تم لوگ دیکھ رہے ہے کھڑے کھڑے بچوں کی طرح" اسکے بعد جیپ والے سے بولے "یار تم سامان نکالو میری بات ہوگئ ہے بندہ آرہا ہے" 

جیپ والا ہمارا سامان باہر رکھ کر وہیں جیپ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اور منہ میں کوئ بہت ہی بدبودار سگریٹ سلگا کر دبا لیا اور اس سے پہلے اس نے ہم سے یہ کہا کہ وہ یہیں بیٹھا ہوا ہے اگر ہمارا بندہ نہیں آتا تو ہم اسکے ساتھ ناران جائیں کسی اور کے ساتھ نہیں اور ہم اس سے وعدہ کرکے کہ اگر واقعی ایسا ہوا تو بالکل اسی کے ساتھ جائیں گے واپس ہوٹل کے اندر آکر بیٹھ گئے رانا صاحب نے چونکہ ناشتہ نہیں کیا تھا چناچہ انکو ناشتہ کرایا گیا اوروہ بے دلی سے ناشتہ کرتے رہے۔ 

کچھ دیر بعد میں فوٹوگرافی کے غرض سے باہر نکلا ہوٹل کے سامنے ہی ایک کالے رنگ کا بالوں سے بھرا لیکن کیچڑ اور مٹی میں اٹا لیکن معصوم کتورا بھاگتا پھر رہا تھا جب وہ رکتا میں اپنے کیمرے کا زوم اور فوکس سیٹ کرکے اسکی تصویر لینے کیا کوشش کرتا وہ بھاگ جاتا کافی بھاگ دوڑ کے بعد جب اسے کچھ چین آیا تو ایک تو تصویریں ہی بنا سکا اور وہ بھی اسکی مسلسل حرکت کی وجہ سے آؤٹ آف فوکس خیر اسی دوران میں عدیل اپنی ٹیم کے ساتھ ہمیں وصول کرنے پہنچ چکا تھا ابتدائ تعارف کے ہم سب اپنی آگے سفر کیلئے ضروری سامان خریدنے کی غرض سے بازار کی 
طرف چل دئے۔ 

دو ٹیمیں بنائ گئیں ایک میری اور مصطفیٰ کی اور دوسری فرخ اور رانا صاحب سامان آدھا آدھا بانٹ دیا گیا کافی دماغ کھپانے کے بعد جب یہ خریداری مکمل ہوئ اور ہم دونوں بازار میں ٹیم کے باقی افراد کو ڈھونڈتے ہوئے جب اسی ہوٹل تک واپس پہنچے تو دیکھا کہ نہ تو وہاں ہمارا سامان موجود ہے نہ ہی کوئ اور ٹیم ممبر ہم یہ سوچ کر کہ شاید سامان جیپ میں لوڈ کیا جاچکا ہے ہوٹل سے وہاں تک پہنچے جہاں جیپ کھڑی تھی تو وہاں بھی نہ تو جیپ تھی نہ ہی ہوئ ٹیم ممبر وہی جیپ والا ابھی تک اپنی جیپ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ہم نے آواز لگا کر اس سے دریافت کیا کہ ہماری والی جیپ کدھر چلی گئ تو وہ اطمنان سے بولا کہ " وہ تو سب لوگ گیا" 

اب اگر یہ مذاق تھا تو کافی بھونڈا لیکن نہ تو جیپ تھی نہ ہی سامان نہ کوئ اور فرد تو ہمیں اس بات کو سنجیدگی سے لینا پڑا ہم اپنے خرید شدہ سامان کے ساتھ واپس ان تمام دوکانوں میں جھانکتے ہوئے جہاں ہمارے باقی ساتھ خریداری کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے پورے بازار کا ایک چکر لگا آئے ہمیں یہ اطمنان تو تھا کہ ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں گے لیکن سوال یہ کہ گئے تو کہاں گئے اور ایسے گئے کہ واپسی کا کوئ نشان ہی نہیں پورے بازار اور منسلک مقامات پر ڈھونڈائ کرنے کے بعد ہم دونوں واپس آکر اسی ہوٹل کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔ کافی دیر ہم دونوں ایسے ہی بے مقصد سیڑھیوں پر بیٹھے رہے اور انتظار میں رہے کہ ابھی جیپ آتی ہوگی لیکن جیپ کو آنا تھا نہ آئ چنانچہ بلا سوچے سمجھے ہم دونوں اٹھے اور دوبارہ بازار کی طرف چل دئے خیال یہ تھا کہ دوبارہ بازار میں ان سب کو تلاش کریں گے شاید ہم نے دیکھنے میں کوئ غلطی ہوئ ہو بازار پہنچنے پر دور سے فرخ شہزاد اپنا کیمرہ سنبھالے مناظر کو اپنے لینس میں محفوظ کرتے نظر آگئے میں نے دور سے ہی آواز لگا ئ"فرخ کہاں چلے گئے تھے بھائ""میں تو ادھر ہی ہوں" فرخ کی ایک خاص عادت ہے وہ ہر بات مسکرا کر ہی کرتے ہیں لیکن سنجیدگی حد سے زیادہ طاری رکھتے ہیں اور بہت سوچ کر الفاظ کا کم سے کم استعمال کرتے ہیں اور جہاں اپنے دخیرہ الفاظ میں کسی قسم کی کمی کا اندیشہ ہو وہاں صرف مسکرا کر ہی گزارا کرلیتے ہیں۔"یہاں کیا کر رہے ہو بھائ باقی لوگ کہاں گئے" میں نے دوبارہ ہمت کرکے سوال کیا"وہ ادھر گئے ہیں" فرخ نے ایک جانب اشارہ کرکے اپنا جواب مکمل کردیا

"کیا کرنے چلے گئے اور سب کا سامان کہاں ہے؟" مزید ہمت کرنی پڑی معلومات نکلوانا آسان ثابت نہیں ہورہا تھا 

"شاید پٹرول ڈلوانے" شاید کافی پریشان کن تھا یعنی فرخ کو کوئ تشویش نہیں تھی کہ باقی ساتھی کہاں چلے گئے وہ اکیلے ہی گھوم کر تصویریں بنا رہے تھے۔ 

ہم دونوں نے بھی تمام پریشانی کو پرے رکھا اور دوکانوں میں تانک جھانک شروع کردی اور کچھ ضروری اور زیادہ تر غیر ضروری سامان کی خریداری بھی کرڈالی اسی دوران میں رانا صاحب اور باقی کی ٹیم بھی آگئ وہ واقعی ڈیزل بھروانے چلے گئے تھے وہاں رش ہونےکی وجہ سے انکو وقت زیادہ لگ گیا ہمارا سامان پہلے ہی جیپ میں لوڈ کیا جا چکا تھا ۔ 
اب یہاں مناسب رہے گا کہ ان تمام لوگوں کا تعارف کرادیاجائے جو عدیل کے ساتھ ہمیں بالاکوٹ میں ملے۔ 
کفیل جو سب سے کم عمر تھا اور سب سے زیادہ ہنس مکھ بھی بلکہ اسکے چہرے پر تمام وقت مسکراہٹ سجی رہی 
یاسر جو ایک جرمن اوور کوٹ پہن کر ہم سب پر بڑی کڑی نظر رکھتا رہا اور ساتھ ہی ہر جگہ کہ مکمل معلومات بھی رکھتا تھا 
مسکین خاموش طبع جو بھی کام سپرد کیا جاتا خاموشی سے مکمل کرکے کنارے ہوجاتا پورے وقت میں شاید دو یا چار جملے یہ منہ سے ادا کئے ہونگے 
اور عدیل جو کہ اس تمام ٹیم کا لیڈر اور اب سے ہمارا لیڈر پورے علاقے کی مکمل معلومات رکھنے کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی کافی گہرا لگاؤ کافی کتابیں پڑھ رکھی اور تارڑ صاحب کی کافی کتابوں کے حوالے سے ہمارے درمیان بات چیت بھی ہوئ۔ 
ان کے علادہ چاچا جی جو جیپ ڈرائیو کر رہے تھے انکا نام نہ تو میں نے پوچھا نا ہی ضرورت محسوس ہوئ ۔ 
رانا صاحب واپس آگئے تو مزید کچھ خریداری کی گئ جسمیں زیادہ تر پکانے والے اشیاء تھیں پچھلی مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی کھانا پکانے کا شعبہ میرے ذمہ تھا لیکن اس بار ذیشان ساتھ نہیں تھا تو کسی نے مجھے زبیدہ آپا کے لقب سے نہیں نوازا ۔ 
خریداری مکمل ہوجانے پر ہم سب جیپ میں سوار ہوئے فرخ اور مصطفیٰ باقی چاروں کے ساتھ پچھلے حصہ میں جبکہ میں اور رانا صاحب ڈرائیور چاچا کے ساتھ آگے بیٹھے سفر شروع ہوا اور تب تک سورچ کافی اوپر چڑھ چکا تھا آسمان صاف تھا
اور ایک چمکیلا دن نکلا ہوا تھا۔ 

راستے میں پڑنے والا ایک گاوں 



بالاکوٹ




دوران انتظار مصطفیٰ صابر
 

بالا کوٹ سے نکل کر ہم پہلی مرتبہ کاغان پہنچ کر رکے چائے پی گئ چند ایک تصاویر بنائ گئیں اور پھر سفر دوبارہ شروع ہوا اس سے آگے کا سفر بلند و بالا پہاڑ دریائے کنہار کا ساتھ اور پھیلا ہوا وادی کا منظر راستے میں مکڑا پیک کے علادہ بہت سے دوسری چوٹیاں بھی نظر آتی ہیں جو تمام کی تمام برف پوش تھیں یونہی چلتے رہے کہ ہمارے سامنے کا منظر بدل گیا سڑک جو ابھی تک سیاہ تھی اچانک سفید ہوگئ اب ہم وادئ ناران کی حدود میں داخل ہورہے تھے۔ 

"سر اس سال تو برف باری ابھی کم ہوئ ہے ورنہ ابھی تک تو گزرنے کا راستہ بھی بند ہوچکا ہوتا ہے ادھر پرسوں پہلی برف باری ہوئ ہے نیچے اور کاغان میں تو ابھی برف گری ہی نہیں " عدیل نے پچھلی سیٹ سے ہمیں معلومات مہیا کیں 

ایسا ہی کچھ شکوہ صبح ان صاحب نے بھی کیا تھا جن کےساتھ ہم نے مانہسرہ سے بالا کوٹ کا سفر کیا تھا پچھلے کچھ سالوں میں اگر دیکھا جائے تو ملک میں بارش اور برف باری کا سلسلہ کافی کم ہوتا جا رہا ہے قسمت سے اگر کسی سال یہ مقدار ضرورت کے مطابق ہوئ بھی ہے تو ملک کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کی صورت میں اسکا اثر دیکھنے میں آیا ہے میں غلط بھی ہوسکتا ہوں لیکن اسکی وجہ بارش یا برف باری کے بجائے خود ہماری نا اہلی ہے ہم نے نہ تو پانی ذخیرہ کرنے کا کوئ بہتر انتظام کیا نہ ہی کوئ دوسرا حل نکالا نتیجہ یہ کہ ہم آج بھی 1960 میں ہی کھڑے ہیں جبکہ دیگر ممالک اس دوڑ میں ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ 

گھومتی ہوئ اس سڑک پر جو کہ ناران جارہی تھی ہماری جیپ آہستہ خرامی سے (آہستہ خرامی درست لفظ ہے ؟ میں نے یہ لفظ اسی طرح پڑھا ہوا ہے لیکن مجھے شک ہے کہ یہ غلط بھی ہو سکتا ہے اگر یہ غلط ہے تو میری اصلاح کریں اور صحیح لفظ سے میری معلومات میں اضافہ کریں شکریہ) چلتی جارہی تھی کچھ سفر کرنے کے بعد دریائے کنہار ہمارے بائیں ہاتھ پر آگیا آہستہ آہستہ نیلی بلکہ سبز رنگت میں بہتا ہوا اور سردی کی وجہ سے اسکا پاٹ اتنا ہوچکا تھا کہ پیدل بھی اسکو پار کیا جا سکتا تھا دوسرے کنارے پر بہت سے درخت خزاں کی بہار دکھارہے تھے یعنی پتوں اور پھولوں سے بے نیاز ایک مقام پر ایسے ہی درختوں کا پورا جھنڈ نظر آیا جن کے پتے سوکھ کر گرنے کے قریب تھے اور اس عمر کو پہنچے پر سرخی مائل بھورے رنگ کے ہوچکے تھے یہ ایسا نظارہ تھا کہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ اگر میں کسی اور موسم میں یہاں آیا ہوتا تو میرا دھیان کبھی ان درختوں کی طرف یوں نہ جاتا جیسا کہ بھی میں ان کو دیکھ رہا ہوں یعنی کہ سبز رنگ میں درخت دوسرے بہت سے درختوں کے درمیان اپنی الگ پہچان کرانے میں ناکام رہتے لیکن اس وقت اپنی منفرد رنگت کی وجہ سے بہت ہی نمایاں نظر آرہے تھے۔ 

خیر ہم یونہی آگے بڑھتے رہے سڑک آگے چل کر سیدھی ہوئ اور سامنے رنگ برنگی چھتوں والے ہوٹل نظر آنا شروع ہوگئے یعنی کہ ناران شہر آچکا تھا دور سے سفید پیش منظر میں پہاڑوں کے دامن میں یہ رنگ برنگی چھتیں اور انکے پس منظر میں ایک برف پوش چوٹی اور ایک باریک لکیر کی صورت میں بہتا سبز رنگ دریائے کنہار اس نظارے میں بس چند چیزیں ایسی تھیں جو اس با ت یا یقین دلا رہے تھے کہ یہ اسی دنیا کا نظار ہے ایک تو پکی سڑک اگر سڑک سے صرف نظر کرلیں تو وہاں ایک موبائل فون کمپنی کا ٹاور بھی تھا ایک نہیں کئ ایک تھے لیکن پہلی نظر میں ایک ہی نظر آیا۔ 

دریا پر بنے ایک کنکریٹ کا پل پار کرکے ہم ناران شہر میں داخل ہوگئے شروع میں لکڑی کے بنے کچھ کیبن ہیں اور اس سے آگے سڑک کے دونوں جانب ہوٹل ،ریسٹ ہاؤسز اور دوکانیں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بنے ہوئے ہیں اور اس دن وہ تما م کے تمام بند تھے کچھ کے دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے بعض نے دروازے اور کھڑکیوں پر لکڑی کے تختے ٹھونک کر انکو بند کیا ہوا تھا اس وقت شہر میں داخل ہونے والے صرف ہم تھے اور ہم ایسے داخل ہوئے جیسے کوئ فاتح داخل ہوتا ہے بغیر کسی مزاحمت کے ہماری سواری ایک سرے سے دوسرے سرے تک بغیر روک ٹوک کے گزرتی گئ کسی نے راستے میں آکر یہ نہیں کہا کہ ہمارے یہاں سستے کمرے کرائے پر خالی ہیں ناں ہی کسی نے اس بات پر اصرار کیا کہ اصل پشاوری کچن کڑھائ یا ناران کے مشہور چپلی کباب کھائے بغیر آگے سفر کرنا کفران نعمت کے مترادف ہےہم چلتے رہے یہاں تک کہ ناران کا پل آگیا جہاں سے ایک راستہ پی ٹی ڈی سی ناران کی طرف جا رہا ہے اس وقت دوپہر کےکوئ ڈیڑھ بج رہے تھے ہم چونکہ ارادہ کرکے آئے تھے کہ آج کی رات ناران میں قیام کریں گے اور کل صبح جھیل کا ٹریک کریں گے تو سب سے پہلا کام ایک کمرے کی تلاش کرنا تھا جو کہ عام حالت میں اتنا مشکل نہیں ہوتا لیکن اس روز کافی مشکل کام ثابت ہوا کیوں کہ سب سے پہلے تو ایک ایسے ہوٹل کی تلاش جو کھلا ہوا ہو اور ایسا کوئ ہوٹل نہیں تھا پھر کسی ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار کی تلاش جس کے پاس چابی بھی ہو یہ اتنا آسان نہیں ہم ایک ایسا کمرہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن وہ اتنا مختصر تھا کہ آٹھ افراد کو اپنے اندر سما تو سکتا تھا سلا نہیں سکتا تھا سونے کی اگر کوئ ترتیب بنا بھی لی جاتی پھر بھی کم از کم دوافراد کو باتھ روم میں سونا پڑتا اس دوڑ دھوپ میں کچھ وقت ضائع ہوا اور تب ہی ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے کھانا کھا لیا جائے سو ہم واپس آکر وہیں جہاں جیپ سے اترے تھے بیٹھ گئے ایک کھانے کا ہوٹل کھلا ہوا تھا اور ہمارا سامان جیپ سے اتار کر یہیں رکھا ہوا تھا کھانا تیار ہوا اور ابھی ہم نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ جیپ والے چاچا ہمارے پاس آئے اور رانا صاحب کو مخاطب کرکے بولے 

"عثمان بھائ آپ نے اوپر جانا ہے تو کل کا انتظار نہیں کرو ابھی جاؤ آج موسم کیسا شاندار ہے کل کا کیا بھروسہ بارش 
آجائے کہ طوفان ہو" 
اور بات واقعی قابل غور تھی کہ واقعی اس دن موسم بہت شاندار تھا تیز چمکیلی دھوپ نکلی ہوئ تھی اور آسمان بالکل صاف کہیں ایک بادل کا ٹکرا بھی نہیں تھا کسی بھی برفانی ٹریک کیلئے ایک نہایت موزوں دن انگریزی میں کہتے ہیں کہ "آئیڈیل ٹائم" وہ واقعی آئیڈیل ٹائم تھا 

یعنی بقول شاعر 
خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد 
سر من فدائ راہی کہ سوار خواہی آمد 
یعنی کہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ محبوب نے ارادہ کیا ہے میری جانب آنے کا تو میں نے اپنا سر اس راہ پر قربان کردیا جس پر چل کر وہ آنے والا ہے 

تمام بادل چھٹ گئے ،سورج نکل آیا ،راستے صاف ہوگئے ،حالات سازگار ہوگئے ،گری ہوئ طبیعت بحال ہوگئ، ہمت جوان ہوگئ جب سیف الملوک کی طرف ہم نے رخت سفر باندھا ۔ 

چاچا مزید بولے کہ جیپ کیلئے زنجیر کا پوچھا ہے اگر مل جائے تو اوپر جھیل تک جیپ ہی چلی جائے گی یعنی کہ ٹریک کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی جس پر ہمیں اعتراض تھا کہ ہم تو ٹریک کرنے ہی آئے تھے پھر طے یہ پایا کہ جیپ میں سامان لاد کر اوپر بھیج دیا جائے اور ہم سب ٹریکنگ کرکے اوپر پہنچیں اور جو جیپ میں جانا چاہےوہ جیپ میں بھی جاسکتا ہے۔ 
ویسے بھی کہتے ہیں کہ کل کس نے دیکھا ہے تو جب یہ فیصلہ ہوگیا کہ اوپر کا سفر آج ہی کیا جائے گا تو ہم سب کے اندر بجلیاں سے بھر گئیں جلدی جلدی تمام تیاریاں مکمل کی گئیں جو گرم کپڑے ، موزے جوتے ، دستانے، ٹوپیاں اور وہ سب جو کچھ ضروری تھا وہ نکال کر پہن اوڑھ لیا گیا کھانے کا ارداہ ترک کیا گیا اور اسکی جگہ بس ہلکا پھلکا آسرا کرلیا گیا باقی سامان جو ساتھ لیکر چلے تھے وہ اس ترتیب سے رکھ لیا گیا کہ بوقت ضرورت نکالنے میں آسانی رہے۔ 
سب تیاریاں مکمل ہوگئیں عدیل نے سلیپنگ بیگ اور کمبلوں کا انتظام کسی ریسٹ ہاؤس سے کرلیا یہ سب سامان جیپ میں رکھ کر ہم بھی بیٹھ گئے فیصلہ یہ ہوا تھا کہ ہم آدھے راستے تک جیپ میں جائیں گے اور اسکے بعد جیپ سامان لیکر اوپر پہنچ جائے گی اور ہم باقی کا راستہ پیدل طے کریں گے فرخ اور مصطفیٰ پورا راستہ پیدل طے کرنا چاہتے تھے انکو روکا تو نہیں گیا لیکن وہ خود ہی ہمارے ساتھ جیپ میں سوار ہوچکے تھے جب سب بیٹھ گئے تو چاچا نے چابی گھما کر جیپ سٹارٹ کی انجن نے زور لگایا ہم راستے سے ہٹ کر تھوڑا نیچے اترے اور پھر ایک راستے پر ہوگئے محبوب کی طرف سفر شروع ہوچکا تھا دید کی طلب اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔جب ہم سب جیپ میں تما سامان کے ساتھ ٹھس ٹھسا کر بیٹھ گئے تو ڈرائیور چاچا نےتمام تیاریاں چیک کرنے کے بعد پوچھا "چلیں جی" 
"چلیں" رانا صاحب نے پچھلی سیٹ سے جواب دیا 
"چلو جی بسم اللہ" جیپ سٹارٹ ہوگئ 

ہوٹل سے ہم ناران پل تک آئے اور وہاں نے سے ہم نے سڑک چھوڑ دی اور جھیل تک جانے والے ٹریک پر آگئے۔ 




 








آئیڈیل ٹائم 




نارن شہر دھوپ میں





جانے کی تیاریاں


ہر عروج کو زوال ہے اور ہر بلندی کو پستی اسی طرح ہر سفر کی کوئ نہ کوئ منزل کوئ نہ کوئ پڑاؤ کوئ نہ کوئ اختتام کبھی یوں بھی تو ہوتا ہے کہ انسان نہیں چاہتا کہ منزل آجائے اور سفر ختم ہوجائے یوں بھی ہوتا ہے کہ جس محبوب کی دید کی طلب دل میں ہر پل بسا کر جیتے رہے وہ سامنے آئے تو آنکھیں بند کرلیں کہ دیکھ لینے پر دل میں طلب وہ نہیں رہے گی جو کہ دیکھنے سے پہلے تھی آپ انہیں کتابی باتیں کہ سکتے ہیں لیکن کیا کتابی باتوں کا حقیقت سے کوئ تعلق نہیں ہوتا؟ ہوتا ہوگا جبھی کتابیں لکھی جاتی ہیں آپ یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ میں بہت زیادہ رومانٹک ہورہا ہوں ممکن ہے آپ ٹھیک سمجھ رہے ہوں یا میں الفاظ کی ڈگڈگی بجا کر خود کو بڑا اور منجھا ہوا مصنف ثابت کرنا چاہتا ہوں تو بھی آپ اپنی جگہ درست ہونگے کیونکہ ہر کسی کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ جیسا چاہے سمجھ سکتا ہے۔ 

جب بھی منزل قریب آنے لگتی ہے میرے اوپر کچھ دیر کیلئے ایک مایوسی طاری ہوناشروع ہوجاتی ہے یہ وہی کیفیت ہے جسکا اوپر ذکر کیا گیا ہے اسی لئے جب جیپ چل پڑی تو میرے دل میں وہی کیفیت بیدار ہوئ منزل قریب ہوتی جارہی ہے منزل تک پہنچنا اور پھر واپسی کا سفر شروع لیکن کیا کریں کہ ایسا کرنا بھی ضروری ہے خیر چھوڑئے ان باتوں کو کام کی بات کرتے ہیں۔ 

جیپ نے چڑھائ شروع کی ابتدا میں یہ خاصی ہموار اور آسان چڑھائ ثابت ہوئ لیکن آگے چلنے پر جب پیچ و خم شروع ہوا تو کئ جگہ ایسا ہوا کہ جیپ اوپر جانے کو زور مار رہی ہے لیکن برف میں پھسل کر نیچے آتی جارہی ہے پہیوں پر زنجیر چڑھے ہونے کی وجہ سے ہر چکر پر عجیب سی ایک آواز نکل رہی تھی جیسے کوئ آرا مشین چل رہی ہو۔ 

چڑھائ کے ساتھ ساتھ منظر کھلتا چلا جا رہا تھا ایک مقام سے نیچے دیکھنے پر ناران شہر ایک پیالے کی صورت نظر آنے لگا اور جہاں سے چڑھائ شروع ہوئ تھی وہاں بنا ہوا لال چھت والا "ہوٹل ڈیمنچی" یہ بتا رہا تھا کہ ہم کتنا اوپر آچکے ہیں اس ہوٹل کی خاص بات اسکی پیشانی پرلکھی ہوئ ایک عبارت " ایڈونچر ودھ کمفرٹ" پتہ نہیں انکی مراد اپنے ہاں کی رہائشی سہولیات کی تشہیر تھا یا کہ مہم جوئ سہولت سے کرانا چاہتے ہیں فرخ کو اعتراض تھا کہ یہ عبارت صحیح نہیں ہے خیر انکا ہوٹل انکی مرضی فی الحال یہ ہمیں ہماری بلندی سے آگاہی دے رہا تھا ہم اتنا اوپر آچکے تھے کہ یہ ہمیں صرف ایک لال دھبہ نظر آنے لگا۔ 

اسی آہستگی اور احتیاط سے چڑھائ کے دوران ایک موڑ آیا حسب معمول جیپ نے زور لگایا اور کئ گز نیچے کھسک آئ لیکن اس مرتبہ ہوا کچھ یوں کہ جیپ کھسک کر صرف نیچے ہی نہیں آئ بلکہ ایک جھٹکے کے ساتھ پھسل کر کنارے تک چلی آئ اور قریب تھا کہ کھائ میں گر جاتی لیکن اللہ کا کرم ہوا اور جند فیٹ ادھر ہی رک گئ جیپ کے گھسٹنے سے برف میں لمبے لمبے نشان پڑگئے تھے جیپ کو قابو میں کرنے کے بعد ڈرائیور چاچا نے پیچھے مڑ کر ہمیں دیکھا انکے چہرے پر عجیب مسکراہٹ تھی جسکااکوئ بھی مطلب ہوسکتا تھا ۔ 

آرا مشین کی گرگراہٹ سے ساتھ جیپ ہلتی ڈولتی کچھ دیر اور چلی اور رک گئ ہمیں یہاں اترنا تھا اور یہاں سے آگے پیدل ٹریک کرنا تھا ہم جیپ سے اترے اور باہر ایک تیز اور سخت موسم نے ہمارا استقبال کی اترے ہی تیز ہوا کا تھپیڑا منہ پر لگا اور ٹھنڈک ہڈیوں تک اتر گئ۔ 

جیپ سے اترتے ہی مصطفیٰ نے بولا "جب جیپ پھسلی تو میں نے کلمہ پڑھ لیا تھا موت سامنے نظر آرہی تھی" 

"میں نے بھی تم لوگ تو آگے تھے ضرورت پڑنے پر کود سکتے تھے لیکن پیچھے سے نکلنا تو ناممکن ہی تھا" میں نے جواب دیا 

ہمارا سامان اتار لیا گیا تھا اور برف میں چلنے کیلیے ہم ضروری تیاریاں کر رہے تھے سردی کی وجہ سے ہماری انگلیاں سن ہورہی تھیں سب سے مشکل ٹانگوں پر گیٹرز چڑھانا ہورہا تھا کیوں کہ پنڈلیوں پر پلیٹنے کے بعد زپ چڑھا کر اسے کسنا ہوتا ہے جوکہ ہاتھ سب ہوجانے کی وجہ سے بہت مشکل ثابت ہورہا تھا خیر اس تیاری کے بعد ہم چلنا شروع ہوئے۔ 

جہاں ہم کحڑے تھے وہاں زمین مکمل طور پر برف میں چھپی ہوئ تھی برف نرم تھی اور ہمارے پاؤں اسمیں دھنس رہے تھے چاروں طرف بھی باقی سب کچھ تو برف میں تھا لیکن پیچھے کی طرف ایک پہاڑ بھورے رنگ میں تھا اور اس پر ہلکی سی برف کی تہ کہیں کہیں جمی ہوئ تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے تھوڑا سا چونا کہیں کہیں مل دیا گیا ہو اور اسکے ٹھیک سامنے ایک دوسرا پہاڑ مکمل برف میں دفن تھا لیکن کہیں کہیں بھورا رنگ جھلک رہا تھا اور اسی پہاڑ پر چند برف کے بوجھ سے جھکے ہوئے درخت تھے جنکا سبزہ پوری طرح چھپا تو نہیں تھا لیکن نمایاں بھی نہیں ہورہا تھا اور ان دونوں کے پس منظر میں ایک عظیم الجثہ چوٹیوں کا سلسلہ تھا جہاں برف ابھی پوری طرح پڑ نہیں سکی تھی۔ 

ہم نے چلنا شروع کیا لیکن اس سے پہلے ایسا کیسا ہوسکتا تھا کہ رانا صاحب ساتھ ہوں اور ہم تصویریں نہ بنائیں چلنے سے پہلے ڈھیروں ڈھیر تصاویر بنائ گئیں کچھ تصاویر میں ایسی بنائ گئیں جسمیں چہرے پر خوف طاری کیا گیا مخفلف پوز مارے گئے گروپ بندیاں اورانفرادی یہ سلسلہ بہت زیادہ طول پکڑ جاتا لیکن اس مقام پر ہوا اتنی تیز اور ٹھنڈ ی تھی کہ چند لمحوں میں ہی محسوس ہونے لگا کہ خون رگوں میں جم جائے گا اور یونہی کھڑے کھڑے ہی موت گلے لگا لےگی میں نے ہی زور ڈالا اور قافلہ رواں ہوگیا فرخ البتہ ہمارا انتظار کئے بغیر ہی آگے جا چکا تھا۔ 

ہماری جیپ ہمیں اتار کر اوپر جاچکی تھی ایک جیپ جو ہم سے آگے چل رہی تھی ہمیں رکی ہوئ نظر آئ اور کچھ ہی دیر میں ہماری برابر آگئ ہمیں دیکھ کر ڈرائیور نے گاڑی روکی سلام جواب کے بعد ہم سے پوچھا 

"سر جی کدھر جل ساں" 

"جھیل تے بھائ اتھے رات گزاراں گے" رانا صاحب نے جواب دیا 

"کیوں مرنے چلے ہو ۔۔۔۔سردی بہت زیادہ ہے واپس پلٹ جاؤ"جیپ والے نے گویا ہمیں وارننگ دی تھی 

"نہیں جی اللہ مالک ہے" رانا صاحب نے جواب دیا 

"اللہ تو مالک ہے ہی بندے کو بھی عقل کرنی چاہئے" جیپ کے اندر ایک ادھیڑ عمر کے صاحب اور تین لڑکے بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں جھانک کر ایسے دیکھ رہے تھے گویا ہمارا آخری دیدار کرنا چاہ رہے ہوں شاید انہوں نے ایسے دیوانے پہلے نہیں دیکھے تھے 

اس با ت کے جواب میں عادل نہیں اس جیپ ڈرائیور سے مقامی زبان میں کچھ بات چیت کی جس پر وہ "چلو جی اللہ کے حوالے" کہ کر جیپ آگے بڑھا گیا 

"کیا بولا تم نے اسے" میں نے عدیل سے پوچھا 

"بولنا کیا تھا بھائ میں نے بولا کہ جب دیکھ رہے ہو میرے ساتھ آئے ہیں تو میری ذمہ داری ہے ہم انتظام کرکے آئے ہیں " 

ہم چلتے رہے برف اتنی تھی کہ چلتے ہوئے ہمارے پیر دھنس جاتے یہ بالکل تازہ اور نرم برف تھی چلنے کیلئے زور نہیں لگانا پڑتا تھا لیکن احتیاط بحرحال ضروری تھا۔ 


عادل نے ہمیں بتایا کہ اس وقت درجہ حرارت منفی پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تھا یہ نہیں پوچھا گیا کہ یہ ٹمپریچر کہاں نوٹ کیا تھا اور ہوا کا زاویہ معلوم نہیں کیسا تھا کہ ہر طرف سے گھس رہی تھی پورے جسم کو ڈھانپنے کے بعد چہرے کا جو حصہ کھلا تھا خاص طور پر ناک اور آنکھیں وہ اس ہوا کی وجہ سے کافی پریشانی میں تھیں ہر سانس کے ساتھ ٹھنڈی ہوا اندر جاتی اور جسم کو گرما جاتی(جی ہاں گرما جاتی کبھی برف سے دھواں نکلتا دیکھا ہے ویسی ہی گرمی) آکسیجن کہ کمی یا شاید سردی کی وجہ سے سانس ذرا سا چلنے سے چڑھنے لگتا یا وجہ شاید خوف رہی ہو موت کا خوف۔ 


جہاں سے سفر شروع ہوا



ہم آدھا گھنٹہ چلیں ہونگے کہ منزل قریب آگئ جھیل سیف الملوک پاکستان کی شاید ان چند جھیلوں میں سے ایک ہے جو کہ آسانی سے ہاتھ آجاتی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ دیگر آسانی سے ہاتھ آجانے والی جھیلوں کی طرح سیاحوں نے اسکا ناطقہ بند کیا ہوا ہے فرض کریں آپ ایک حسین لڑکی ہیں ( مرد حضرات بھی کریں) اورہر روز رشتہ کیلئے لوگ آپ کو دیکھنے آجائیں شروع میں تو یقینا دل میں لڈو پھوٹیں گے لیکن جب یہ سلسلہ زور زور چل نکلے اور سینکڑوں لوگ آپ کا دیدار کرنے آنا شروع ہوجائیں تو آپ کیسا محسوس کریں گے / گی؟ یہی حال کچھ اس جھیل کا بھی ہے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں آتے ہیں اور اگر آپ بھول سے پیک سیزن میں یہاں پہنچ جائیں تو یہاں آپ کو ہزاروں سیاحوں کے ساتھ سینکڑوں خوانچے والے، اور مختلف اشیاء فروخت کرنے والوں کے علاوہ بے حساب "تاڑو" بھی مل جائیں گے اگر آپ کے ساتھ خواتین ہیں تو آپکو انہیں ان سےبچانے میں کافی پریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے کیوں کہ ایک چھوڑو ہزار اور مل جائیں گے۔ 

خیر بات کسی اور رخ نکل گئ چلتے چلتے ہم مڑے تو اچانک ہی جھیل کو اپنے سامنے پایا گو کہ وہ مکمل طور پر برف کی چادر میں پردہ پوش تھی اور ہم جھیل سے کافی بلندی پر تھے لیکن محبوب کا سامنے ہونا ایک الگ ہی کیفیت ہے پردہ دار ہونے سے کوئ خاص فرق نہیں پڑتا ہمارے باقی ساتھی یعنی عدیل اینڈ کمپنی ہماری رہائش کیلئے کوئ مناسب جگہ ڈھونڈنے چلے گئے تھے ۔ 

پہلی ملاقات 


فرخ ایک کشتی میں سوار ہمارا انتظار کررہا تھا آپ میں سے اکثر نے جھیل سیف المکوک کی تصاویر میں جھیل میں چلتی ایک کشتی دیکھی ہوگی یہ وہی کشتی تھی لیکن تب وہ کشی برف میں دھنسی ہوئ تھی برف میں پھنسی اس کشتی کو دیکھ کر مجھے پتہ نہیں کیوں کشتی نوح یاد آگئ برف میں دھنسی ہوئ مسافروں کے انتظار میں جس کیلئے اسے ابھی بہت انتظار کرنا تھا فرخ ہمیں دیکھتے ہی بولا "کہاں رہ گئے تھے یہاں بیٹھ بیٹھ کر سوکھ گیا" 
"یار ہم ناتجربہ کار ٹریکر ہیں آرام آرام سے ٹریک کرتے ہیں" رانا صاحب نے مزاح کے انداز میں جواب دیا 

بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ انہیں سکون کی نیند صرف اپنے بستر پر آتی ہے چاہے دوسری جگہ کتنا ہی آرامدہ بستر اور ماحول مہیا کردیا جائے وہ مزہ نہیں آتا جو اپنے بستر پر ہونے میں آتا ہے بات بھی درست ہے اصل چیز وابستگی ہے جو آپکی اس مقام کے ساتھ ہے وابستگی کی بات ہے تو بہت سے ایسے ہیں جو روزگار اور دوسرے سلسلوں میں پاکستان سے باہر مقیم ہیں لیکن وہ ہمیشہ یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ پاکستان پاکستان ہے اور اس جیسا ملک دوسرا کوئ نہیں ہے میرے بہت سے دوست اور جاننے والے یہی کہتے ہوئے پائے گئے ہیں اور بہت تھوڑے عرصہ کیلئے میراذاتی تجربہ بھی یہی رہا تارڑ صاحب نے بھی کچھ ایسا ہی تجربہ بیان کیا ہے کہ وہ ملک سے وابستگی کیلئے پاکستان کا جھنڈا اپنے رک سیک پر لگایا کرتے تھے اور دوسرے ملکوں کے جھنڈوں کے بیچ انکی آنکھیں اپنے ملک کا جھنڈا تلاش کرتی تھیں جھنڈا ایک علامت ہے ایک اعلان ہے قوم سے وابستگی کا دنیا بھر میں جتنے بھی پاکستانی سفارت خانے ہیں ان پر پرچم لہرایا جاتا ہے، ملک بھر کی تمام سرکاری عمارتوں پر پرچم لگایا جاتا ہے یوم آزادی اور دیگر قومی دنوں کے موقع پر ملک کے تقریبا ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے، تمام فوجی شہدا کے تابوت بھی قومی پرچم سے ڈھکے جاتے ہیں ایسا ہی ایک پاکستانی پرچم میں نے اس برف زار میں بھی لہراتا دیکھا سفید پس منظر میں شان سے لہراتا ہواپاکستانی پرچم تیز ہوا کے باعث پھڑپھڑاتا ہوا کچھ کچھ بوسیدہ ہوچلا تھا لیکن تب بھی اسکی شان میں کوئ کمی نہیں آئ تھی میرے دل سے ہمشہ دعا نکلتی ہے کہ یہ ملک ہمشہ قائم ودائم رہے اور یہ پرچم ہونہی لہراتا ہے اور جو اس ملک کے خلاف ہیں اور اسکی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں انکو ہمیشہ رسوائ کا سامنا رہے آمین ہم نے رک کر پرچم کو سلامی دی اور رانا صاحب نے اس منظر کو کیمرے میں محفوظ کرلیا ہم آگے چلے جہاں ہمارا سامان ایک ڈھیر کی صورت برف پر پڑا ہواتھا۔ 

اس مقام سے جھیل کا منظر اپنی پوری وسعت کے ساتھ نظر آرہا تھا پورے منظر میں واحد مصنوعی چیز جھیل پر بنایا گیا لکڑی کا پل تھا اور ہاں چند لوہے کے بنے کچرہ دان بھی تھے جو صرف برفباری کے دنوں میں پورے بھرتے ہیں سال کا باقی حصہ اسکے ارد گرد اور جھیل میں اور جھیل کے ساحل پر کچرہ پھینک کر اسکا منہ چڑاتے ہیں کسی اکا دکا نے کوئ کچرہ ان میں ڈال دیا تو ڈال دیا۔ 

جہاں سے ہم چل کر آرہے تھے وہاں پیچھے کی طرف برف کے بیچوں بیچ بغیر چھت دیوار کے ایک دروازہ کھڑا ہوا تھا جسکے دونوں پٹ بند تھے یقینا یہ کسی گھر کا دروازہ ہی تھا گھر گر جائے اور دروازہ بچ جائے یہ کیونکر ممکن ہو یہ بھی ممکن تھا کہ وہ بہشتی دروازہ ہو لیکن جب آپ خود بہشت میں ہوں تو کسی دروازے کی کیا ضرورت ہم اس دروازے کی پرسرائیت پر غور کر ہی رہے تھے کہ عدیل اور باقی لڑکے ہمارے پاس آگئے وہ ہمارے ٹھکانے کیلئے کوئ مناسب جگہ دیکھ آئے تھے سامان اٹھایا گیا ہمارا رخ جھیل پر بنے اس لکڑی کے پل کی طرف تھا جھیل کے ساتھ ہی فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کا ایک ہٹ بنا ہوا ہے سیزن نہ ہونے کی وجہ سے وہ بند تھا عدیل نے اس کے نزدیک ہی خیمہ نصب کرنے کا کہا تھا کیوں کہ ہم کمرے بند ہونے کے باوجود اسکے بارامدے کی چھت کو استعمال کر سکتے تھے۔ 

خیمہ نصب ہونا شروع ہوا شام ڈھلنے والی تھی اور سورج کی آخری بچ جانے والی چند کرنیں چوٹیوں کو سونا بنا رہی تھیں اس پوری سلطنت میں آج داخل ہونے والے ہم تھے اور کوئ نہیں تھا میں اپنا سامان رکھ کر باہر آگیا میرے عین سامنے جھیل سیف المکوک تھی مکمل برف پوش لیکن اسکے باجود اسکے حسن میں کوئ کمی نہیں تھی تین اطراف سے پہاڑوں میں گھری اور دور کہیں بادلوں میں ملکہ پربت بھی تھی یہ میری اس رات سیف الملوک سے پہلی ملاقات تھی۔ 

تھا تخیل جو ہم سفر میرا 
آسماں پر ہوا گزر میرا 
اڑتا جاتا تھا،اور نہ تھا کوئ 
جا ننے والا چرخ پر میرا 
تارے حیرت سے دیکھتے تھے مجھے 
راز سربستہ تھا سفر میرا 
حلقہ صبح و شام سے نکلا 
اس پرانے نظام سے نکلا 
کیا سناؤں تمہیں ارم کیا ہے؟ 
خاتم آرزوئے دیدہ وگوش 
شاخ طوبیٰ پر نغمہ ریز طیور 
بے حجابانہ حور جلوہ فروش 
ساقیان جمیل بدست 
پینے والوں میں شور نوشانوش

 اقبال نے تو کتنی آسانی سے اپنے جنت کے سفر کی داستان بیان کردی لیکن بس مجبور ہیں کہ ہم کو وہ طرز عطا نہ ہوا کہ جو محسوس کریں وہ بتا بھی سکیں

خیمہ لگ چکا تو سب سامان اندر رکھ دیا گیا بس کھانے کا سامان اورلکڑیاں ہٹ کے برامدے میں پہنچا دی گئیں کفیل اور یاسر اندھیرا ہونے سے پہلے تمام کام مکمل کر لینا چاہتے تھے انہوں نے جلانے کیلئے لکڑیاں کاٹنا شروع کردیں مسکین نے برامدے کو صاف کرکے بیٹھنے کی جگہ بنالی اور عدیل پکانے کا گوشت اور سبزیاں وغیرہ لیکر دھونے کیلئے جھیل کے اس حصہ کی طرف چلا گیا جہاں پانی ابھی جما نہیں تھا۔ 
اندھیرا ہونے میں تھوڑی ہی دیر تھی سورج کی آخری کرنیں اپنے نور سے پہاڑوں کی چوٹیوں سے منعکس ہورہی تھیں اور رنگ بکھیر رہی تھیں وہاں سکوت تھا خاموشی تھی سکون تھا اور ہمارے بالکل سامنے بدیع الجمال جھیل سیف الملوک تھی۔

رات گزارنے کی تیاریاں 


رات گزارنے کی تیاریاں



گم ہوتی ہوئی روشنی میں جھیل کا منظر 




جھیل پر لگا ہوا ہمارا خیمہ اور چمکتے تارے










 







فرخ ہٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا جبکہ میں رانا صاحب اور مصطفیٰ جھیل کو تھوڑا اور قریب سے دیکھنے کیلئے کافی آگے تک چلے آئے مدھم ہوتی ہوئ روشنی میں جھیل کا منظر کسی کو بھی ہیپناٹائز کرنے کیلئے کافی تھا پچھلی رات ہونے والی برف باری سے بننے والی لہریں جھیل کی سطح پر واضح تھیں ہمیں بتایا گیا تھا کہ چند دن ہوئے کسی منچلے نے جھیل پر سائیکل چلائ تھی اور اسکے پہیوں کے نشان اس وقت تک دیکھے جا سکتے تھے۔ 

"میں نے اپنے سفر کا آغاز یہاں سے ہی کیا تھا" رانا صاحب گویا ہوئے " انیس سو ننانوے میں جب میں نے میٹرک کیا تھا تو گھر سے پہلی بار نکلا تھا اس وقت یہاں کچھ بھی نہیں تھا" وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے 

"وہ سامنے دیکھ رہے ہو" انہوں نے جھیل کے دوسرے کنارے پر ملکہ پربت کی جانب اشارہ کیا "وہاں پر ایک بابا جی ہوتے تھے ایک چھوٹا سا کھوکھا تھا صرف چائے اور پکوڑے ملتے تھے" رانا صاحب ناسٹلجک ہونے لگے تھے 

"تب یہاں اتنے لوگ بھی نہیں آتے تھے اب تو ---- یہاں اتنا رش ہونے لگا ہے کہ جیسے مری کی مال روڈ ہو 

"ہاں وقت کے ساتھ ایسا ہوتا ہی ہے اس سے مقامی آبادی کا فائدہ بھی ہے انکا کاروبار بھی چلتا ہے اسی سے" مصطفیٰ نے جواب دیا جوکہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں تھا 

"ہاں لیکن جب ہمارے جیسا کوئ پاگل یہاں آتا ہے تو اسے اچھا نہیں لگتا یہ سب" رانا صاحب نے جواب دیا 

"سر جی ہمارے جیسے پاگلوں کی وجہ سے دنیا کی ترقی تو نہیں روکی جاسکتی ناں وقت کے ساتھ خود کو بدلنا پڑتا ہے ایڈجسٹمنٹس کرنی پڑتی ہیں ماحول کے ساتھ ساتھ" مصطفیٰ نے جواب دیا اور اسکے بعد خاموشی ہوگئ ہم ایک اندازے کے مطابق جھیل کے اندر تقریبا چانچ چھ فٹ تک جاچکے تھے عام حالات میں ایسا قطعی ممکن نہیں تھابرف اتنی تھی کہ ہمارے پیر پنڈلیوں تک دھنسے ہوئے تھے۔ 

کافی دیر تو ہم محویت کے عالم میں اس پورے منظر کو دیکھتے رہے پھر سورج غروب ہوا اندھیرا جیسے جیسے گہرا ہونا شروع ہوا آسمان سینکڑوں ہزاروں تاروں سے بھرتا چلا گیا اور ذرا سی دیر میں گویا ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چھوٹے بڑے تیز اور دھیمے کچھ ٹمٹماتے کچھ روشن جگنو سے پھیل گئے ہمارے خیمے کے اوپرسیا ہی مائل آسمان پر اور جھیل کے اوپر پہاڑوں سے پرے انکی وجہ سے رات کے حسن میں یوں اضافہ ہورہا تھا جیسے بقول شاعر 

ع
 یکے چشم سیاہ داری، یوئم سرمہ درو کردی 
اہا ظالم چہا کردی، بلا اندر بلا کردی 

یعنی ایک تو تمہاری آنکھیں پہلے سے ہی کالی تھیں اوپر سے تم نے ظلم یہ کیا کہ سرمہ لگا لیا یہ تو تم نے غضب ہی کردیا ہماری تو موت کا سامان ہوگیا کہ جھیل کا حسن پہلے ہی ناقابل برداشت ہورہا تھا اوپر ظلم یہ کہ تاروں نے تو مزید سنگھار کرادیا ہم آنکھیں چار کرتے رہے اور بہکتے رہے مدہوش ہوتے رہے 

ع 
 خدا بچائے تیرے مست مست آنکھوں سے 
فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے 

ہم دیکھتے رہے اور بہکتے رہے کہ قصور اس منظر کا تھا جو ہمارے سامنے تھا 


ع 
 رگ رگ میں عوض خون کے مئے دوڑ رہی ہے 
وہ دیکھ رہے ہیں مجھے مخمور نظر سے 

یعنی کہ شراب میں نے نہیں پی یہ تو قصور ان شرابی آنکھوں کا ہے جو مجھے دیکھتی ہیں تو نشہ بڑھتا جاتا ہے یعنی یہ ماحول کا اثر تھاجو بڑھتا جارہا تھا۔ 
پس منظر میں آسمان پہلے سرمئ ہوا پھر جامنی پھر آہستہ آہستہ سیاہ ہوتا گیا کچھ دیر میں سب کچھ اس اندھیرے میں ڈوب گیا اور صرف اندھیرا باقی رہا اور تارے اور ہم ۔اندھیرا بڑھنے کے ساتھ ہم نے اوپر واپسی کا سفر شروع کیا لیکن آدھے راستے میں الگ الگ ہوکر رک گئے ایسا کچھ آسان نہیں تھا وہاں سے خود کو واپس لانا ۔ 
ہٹ کے برامدے میں لکڑیاں جلا کر آگ لگالی گئ تھی اندھیرا ہونے پر سردی کی شدت میں واضح طور پر اضافہ محسوس ہونے لگا تھا ہم سب جہاں کہیں مدہوشی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے آگ کے نزدیک جمع ہوگئے یا زبردستی آواز لگا کر بلالئے گئے۔ 
یخنی تیار کی گئ اور ذرا دیر میں سب گرم گرم یخنی کی چسکیاں لے رہے تھے 
"یار کہتے ہیں ادھر رات میں پریاں اترتی ہیں" اندھیر ے میں سے سوال ہوا 
"کہنے کی باتیں ہیں سب" رانا صاحب نے دل توڑ دیا 
"یار تنی رومینٹک باتیں صرف کہنے کی کیسے ہوسکتی ہیں" مصطفیٰ شایدکسی پری سے ملاقات کا خواہش مند تھا 
"رات باہر گزارو کوئ آئ تو دیکھ لینا ہمیں بھی بلا لینا" فرخ نے مشورہ دیا 

"یار کوئ نہیں آتا ادھر آیا بھی تو برفانی چیتا آئے گا رات بس" ہنس مکھ پورٹر کفیل نے یقینا" مسکراتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا ہوگا 
"واقعی آتا ہے یا مذاق کررہے ہو" رانا صاحب نے پوچھا 
"نہیں نہیں واقعی آتا ہے کبھی کبھی" عدیل نےکفیل کی بات کی تصدیق کی 
"اگر واقعی آتا ہے تو میں دعا کرتا ہوں کہ آج رات آجائے میں اپنی زندگی کا سب سے انوکھا تجربہ کرنا چاہونگا" رانا صاحب ایسے لہجے میں کہا جیسے وہ نیند میں ہوں 
"رانا صاحب خیر ہوگئ بعد میں آکر دیکھ لینا سب کو شوق نہیں ہوا"میں نے کہا 
ایسی ہی گپ شب کچھ دیر اور چلی اور رات جوں جوں گہری ہوتی گئ سردی کا زور بڑھتا ہی گیا منہ سے دھواں تو پہلے ہی جاری تھا لیکن ان ہاتھوں کو کھلا رکھنا مشکل ہونے لگا ذرا دیر کو اگر دستانے اتارتے تو انگلیاں سن ہوجاتیں اور تصویریں کھینچے والوں کو یہ مشکل لاحق تھی کہ دستانے پہن کر کیمرہ چلانا بھی کوئ آسان نہیں ۔ 
ہم سب آگ کے گرد جمع تھے لیکن ایک مصیبت یہ کہ گیلی لکڑیوں کے جلنے سے پیدا ہونے والا دھواں آنکھوں کی سخت آزمائش کررہا تھا سب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے لیکن اگر منہ موڑتے تو سردی اور ہوا کا زور ہمارے رخ دوبارہ ادھر ہی موڑدیتا کوئ مشکل سی مشکل تھی حل یہ نکالا گیا کہ ہم سب اس چھت تلے جمع ہوگئے اب ہوا کا زور کم ہوگیا اورہم آگ سے منہ موڑ کر بیٹھ گئے۔ 
جب ہمیں بیٹھے بیٹھے بہت دیر گزر چکی ہماری باتوں کا ذخیرہ جو کہ پہلے ہی کم تھا ختم ہونے لگا رانا صاحب کی سپیکر سے بجنے والے گانے دہرائے جانے لگے تو خیال آیا کہ وقت کافی ہوچکا ہوگا لیکن جب معلوم ہوا کہ ابھی صرف ساڑھے چھ بجے ہیں تو ایک لمحہ تو سوچ کر روح فنا ہوگئ کہ اتنی لمبی رات کیسے گزرے گی جب کہ ابھی تو بس ابتدا ہی تھی۔ 
کھانے بنانے کی ذمہ داری میری تھی اور کھانا بنانے کا سامان عدیل نے پہلے ہی تیار رکھا ہوا تھا اندھیرے میں کھانا بنانے کا تجربہ میں اس سے پہلے بھی کرچکا تھا لیکن اس وقت اتنی سردی نہیں تھی اگر وہ چاروں میرے ساتھ نہ ہوتے تو شاید کچھ بھی نہ بن پاتا بس اندازے سے ہوتا چلا گیا میں نے جذبات میں تین کلو گوشت میں تقریبا آدھا پاؤ کٹی ہوئ لال مرچیں اور اس سے کچھ زیادہ تیز ہری مرچیں ڈال دیں اور جب یہ کھانا کھایا گیا تو بعد میں سب ہی جام جیلی کی بوتلوں میں انگیاں ڈال ڈال کر چاٹ رہے تھے اور گڑ کی ڈلیاں چبارہے تھے حلق اور معدے تک تیزابیت پھیل چکی تھی۔ 
کھانے کے بعد کافی کا دور چلا اور پھر کافی دیر بے سر پیر گفتگو جو کہ اصل رنگ ہے کسی بھی رت گجے کا کبھی لطیفہ گوئ ہوتی اور زور دار قہقہے لگتے مردانہ محافل میں جو لطیفے عموما گردش کرتے ہیں اور ایسے شریفانہ نہیں ہوتے کہ یہاں ذکر کئے جاسکیں اور اگر انکو شرافت کا جامہ کسی طرح پہنا بھی دیا جائے تو سارا لطف اسی جامے میں رہ جاتا ہے باہر کچھ نہیں رہتا خیر بے جا صفائ برطرف یہ محفل یونہی چلتی رہی سب سے پہلے مصطفیٰ نے اٹھنے کا ارادہ کیا سردی اور تھکن اب اسکی برداشت ہونے لگی تھی خیمہ کے اندر بستر لگ چکے تھے وہ اٹھا اور پردہ گرا کر خیمہ میں روپوش ہوگیا۔ 
تخیل اگر مضبوط ہو تو جو سوچا جائے وہ ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے کوئ بھی مصور اپنا خیال ہی پینٹ کرتا ہے جو وہ سوچتا ہے اور جو وہ دیکھتا ہے وہ اپنے رنگوں کے ذریعے دنیا کو دکھاتا ہے یہ اسکو عطا کردا صلاحیت ہے ہم سب ہی اپنے تخیل میں بہت کچھ دیکھتے ہیں جب بھی آپ کوئ کتاب پڑھتے ہیں تو مناظر اور کرداروں کی تصاویر آپ کے ذہنوں میں خود بخود بنتی جاتی ہیں کردار اپنے آپ حرکت کرنا شروع کردیتے ہیں جب کچھ اور وقت گزرا تو فرخ بھی اٹھ کر اندر چلا گیا صرف میں اور رانا صاحب بیٹھے رہے اور باقی چاروں عدیل ،کفیل، مسکین اور یاسر ہم کچھ دیر مزید انکے ساتھ بیٹھے رہے پھر کمبلوں میں خود کو لپیٹ کر ہٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے ہمارے سامنے ایک خالی کینوس تھا اور ہمارا تخیل اتنا مضبوط تھا کہ جو کچھ سوچا وہ دیکھا بھی۔ 
سب سے پہلے جھیل کے دوسرے کنارے پر ملکہ پربت کی طرف سے گھڑ سوار آنا شروع ہوئے وہ چند سو کی تعداد میں آکر جمع ہوگئے ان کے ہاتھوں میں مشعلیں تھیں ہوا سے پھڑپھڑاتی ہوئ شعلے لپک رہے تھے وہ کچھ دیر وہیں رکے رہے پھر ان میں سے چند ایک آگے بڑھے اور اپنے گھوڑوں کولیکر جھیل میں اتر گئے اور جھیل کی سطح پر گھوڑے دوڑاتے ہوئے درمیان تک آئے باقی سب دوسرے کنارے پر کھڑے رہے ان میں سے کسی کی نظر ہم پر پڑی اور وہ رک گیا 

"کون ہوتم؟" ان میں سے کسی نے وہیں سے سوال کیا 
جواب میں ہم نے اپنی سانس تک روک لی کوئ جواب نہ دیا 

دوبارہ کوئ سوال نہیں ہوا جھیل کے درمیان میں انہوں نے الاؤ روشن کرنا شروع کیا لیکن ہم پر بھی نگاہ رکھی ہم دم سادھے بیٹھے رہے الاؤ روشن ہوگیا آگ بھڑک اٹھی شعلے اوپر اٹھنے لگے اور انکی نارنجی روشنی میں ہم نے ملکہ پربت کا حسن دیکھا پھروہ سب غائب ہوگئے آگ روشن رہی الاؤ بھڑکتا رہا پھر ڈھول کی تھاپ پر اس آگ کے گرد رقص شروع ہوا رقص کرنے والوں کی شکلیں واضح نہیں تھیں ہم بھی ان رقص کرنے والوں میں شامل تھے تیرےعشق نچایا تھیا تھیا۔ 

رقص ختم ہوا وہ سب جہاں سے آئے تھے وہیں چلے گئے الاؤ بجھ گیا ادندھیرا ہوگیا ہم وہیں بیٹھے رہے ہمارا دل بہلانے کو آسمان پر لاکھوں تارے موجود تھے بڑی دیر تک ہم ان سے کھیلتے رہے ہم جو چاہتے تارے وہی شکل اختیار کرلیتے پھر بادل آتے گئے تارے چھپتے چلے گئے آسمان بے نور ہوگیا ہمارا جلایا ہوا الاؤ بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا تھا۔ 

میں نے سوچا ہم یہاں کیوں آئے ہیں کیا بس ایک برف میں چھپی ہوئ جھیل کو دیکھنے یا یہ ثابت کرنے کہ ہم انتہائ سخت موسم میں زندہ رہ سکتے ہیں یا کوئ اور وجہ تھی شائد ہم وہ پروانے تھے جو شمع پر قربان ہونے پہنچ گئے تھے بلا سوچے سمجے نتیجہ یا نقصان کی پروا کئے بغیریہی عشق کی پہلی سیڑھی ہے نتیجہ سے بے پروا ہونا۔ 

"سلسلہ قاف کی ایک جھیل میں جہاں صنوبر کے بہت سے درخت ایستادہ ہیں اور جس کے کنارے گھنے بید کی شاخیں صدیوں سے سورج کو روکے کھڑی ہیں ایک ڈونگا تیر رہتا ہے جس میں ایک جواں سال شہزادی بال کھولے لیٹی رہتی ہے اس علاقے کے متعدد دیو مالا نے اس شہزادی کی زندگی سے وقت کو خارج کردیا ہے اور شہزادی کی عمر آج بھی اتنی ہی ہے جتنی آج سے کئ ہزار برس پہلے تھی۔ جب شہزادی کو اس گھو راندھیرے میں زندگی بسر کرتے کے قرن گزر گئے تو اس نے بید کے جھنڈ میں چہچہانے والی چڑیوں سے درخواست کی کہ وہ کہیں سے اسے روشنی کی ایک کرن لادیں لیکن چڑیاں اسی طرح چہچہاتی رہیں۔ اس نے صنوبر کی شاخوں میں بسیرا لینے والے پرندوں سے گڑگڑا کر کہا کہ وہ روشنی کے پہاڑ سے اجالے کی ایک ڈلی توڑ کر لادیں پر اسکی گڑگڑاہٹ جھیل میں ڈوب کر رہ گئ۔ان تاریک لمحوں میں ایک شام وہ رشنی کی تمنا میں سسکیاں بھر رہی تھی تو پروانوں کا ایک گروہ ادھر آنکلا۔ شہزادی نے انہیں پکار کر اپنی طرف بلایا اور کراہتے ہوئے کہا۔"میں روشنی کی ایک کرن کیلئے ترس گئ ہوں اور میرے ساتھی میری مدد نہیں کرتے تم میں سے جو کوئ مجھے روشنی لادے گا میں اس کے ساتھ شادی کرلوں گی" یہ سنتے ہی پروانے دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل گئے اور روشنی حاصل کرنے کیلئے شمعوں پر جل جل کر مرنے لگے کئ سال گزر گئے ان پروانوں کے بچے اور پھر ان کے بچے اور ان بچوں کے بچے شہزادی کا سوئمبر جیتنے کی غرض سے دھڑا دھڑ جلتے رہے لیکن وہ اس ڈونگے کا کوئ کونہ منور نہ کرسکے۔ صدیاں گزر گئیں زمانے بنتے اور بگڑتے رہے اور پروانے جلتے رہے ایک دن ایک کاہل جگنو اچانک اس وادی میں جانکلا اور اڑتا گھومتا بید کی شاخوں سے ہوتا ہوا اس جھیل کے کنارے پہنچ گیا شہزادی خوشی سے چلا اٹھی اس نے اپنی بانہیں آگے پھیلا کر کہا "تم میرے لئے روشنی لے آئےمیرے پروانے" جگنو شہزادی کی بات سمجھے بغیر اس کی جھولی میں گرگیا اور شہزادی کے چہرے پر روشنی کی لہریں مٹنے ابھرنے لگیں اس نے جگنو سے شادی کرلی اور ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے لیکن اس شادی کی خبر پروانوں کو آج تک نہیں ملی وہ اسی طرح جل رہے ہیں اور شعلوں پر جھپٹ رہے ہیں آج بھی ہر پروانہ جو سر سے کفن لپیٹے شعلے کی طرف لپکتا ہے یہی سمجھتا ہے کہ اس نے سہرا باندھ رکھا ہے اور وہ شہزادی کو بیاہنے جا رہا ہے۔"(اشفاق احمد گڈریا ۔۔ایک پرانی روایت) 

ہم بھی ایسی ہی پروانے تھے جو اس رات جھیل کی شہزادی کیلئے اپنے پروں میں آگ لگا کر روشنی لئے پہنچے تھے اور ہم اسی آگ کی حدت کے سہارے زندہ تھے جو ہمارے پروں میں لگی تھی لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اسکی حدت میں کمی آتی جارہی تھی گزرتی رات ہماری زندگی کی آخری رات ثابت ہوسکتی تھی ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا تھا اس سے بچنے کیلئے ہم اٹھے اور خیمہ کے اندر اپنے بستروں میں جاگھسے۔ 

سنا ہے کہ جو لوگ سردی سے اکڑ کر مرتے ہیں وہ مسکراتے ہوئے ملتے ہیں ایسا عضلات کے اکڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن موت کیا صرف موت ہوتی ہے ایک ایسا تجربہ ہے جس کے بارے میں کوئ بھی نہیں بتا سکتا مرنے سے پہلے ایک انسان پر کیا کچھ بیت جاتا ہے اس کے بارے میں کوئ نہیں بتا سکتا کتنے سارے خیالات کتنی ساری کیفیات وابستہ ہوتی ہونگی اس کے ساتھ جن کے بارے میں کوئ نہیں جانتا جو یہ جھیل جاتا ہے وہ بتا نہیں سکتا بے شک ایک دن ہم سب اسی تجربہ سے گزریں گے۔ 

ہمارے خیمے کی چادر کے نیچے کچی برف تھی اور اس پر ہمارے بستر لگے ہوئے تھے تو جب ہمارے جسموں کے وزن اس برف پر پڑتے تو وہ دھنسنا شروع ہوجاتی کروٹ بدلنے پر یہ عمل ہو بار ہوتا اور "کھر کھر اور کھرچ کھرچ " کی آواز نکلتی اور ایسا ہر چند لمحے بعد ہوتا یعنی ہم سب ہی بے آرام تھے جب ہم اندر آئے تھے تو میں نے گھڑی میں وقت دیکھا تھا تب رات کے پونے دس بجے تھے یعنی ابھی بہت رات کاٹنا تھی برف میں کافی دیر چلنے پھرنے سے میرے جوتے گیلے ہوگئے تھے اور موزے بھی جب تک میں باہر تھا تو سردی اس قدر نہیں محسوس ہورہی تھی جتنی کہ اندر آنے پر جوتے اتارنے کے بعد سے ہونا شروع ہوگئ تھی دوسرے اپنے بیگ کے مکمل چھان بین کے بعد میں موزوں کی دوسری جوڑی ڈھونڈنے میں ناکام رہا تھا وہ تو اللہ بھلا کرے رانا صاحب کا کہ انہوں نے اپنے بیگ سے مجھے دوسرے موزے نکال دئے تھے لیکن ٹھنڈے پیروں پر صرف موزے چڑھا لینے سے سردی میں کوئ کمی نہیں آئ تھی میں اپنے سلیپنگ بیگ کے اندر لیٹا کبھی ہلکے ہلکے اور کبھی بری طرح کانپ رہا تھا مجھے لگ رہا تھا جیسے میری ٹانگیں ٹخنوں کے نیچے سے کٹ چکی ہیں 

"یار ایسا سونا تو بہت مشکل ہے" میرے الفاظ کچھ اندر ہی جم گئے 

"سو چا چپ چاپ" رانا صاحب نے بھی ہلکورے لیتی ہوئ آواز میں ڈانٹا 

"چپ تو کرجاؤنگا لیکن سو نہیں پاؤنگا" میں نے دہائ دی لیکن کوئ جواب نہیں آیا تھوڑی دیر بعد میں نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولنا چاہا تو میرے دانت کٹکٹانا شروع ہوگئے اور دوسری طرف سے رانا صاحب کے خراٹے بلند ہوئے مجھے انکی اس نیند پر رشک آمیز غصہ آیا 

میں آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرتا لیکن نیند تو کیا آتی میں نے محسوس کیا کہ مصطفیٰ اور فرخ بھی اپنے بستروں میں پڑے کانپ رہے تھے 

"یار ٹمپریچر کیا ہوگا ابھی" میں نے دونوں سے ہی سوال کیا 

"مائنس ٹویلو سے زیادہ ہوگا(زیادہ مطلب کم)" فرخ کا جواب آگیا 

"یہ کیسے پتہ بھائ" میں نے پوچھا 

"یار میرا سلیپنگ بیگ اتنا ہی سپورٹ کرتا ہے اور مجھے بھی سردی لگ رہی ہے شاید منفی پندرہ سے نیچے ہو کچھ" فرخ کے جواب کے بعد سردی اور زیادہ محسوس ہونا شروع ہوگئ 

"واہ بھائ کیا تیرا تھرمامیٹر ہے" مصطفیٰ نے داد دی 

"فرخ بھائ ابھی کوئ نہیں کوئ نہیں مائنس اٹھارہ انیس ہوگا ٹمپریچر" عدیل نے تصیح کی 

"اور بھائ چپ ہوجا یار اور سردی لگ رہی ہے" مصطفیٰ ٹھہر ٹھہر کر اپنا جملہ مکمل کیا جس پر کفیل نے ایک دھیما قہقہ لگایا ساتھ ہی میں بھی ہنسنے لگا اور مصطفیٰ اور فرخ بھی شاید یاسر بھی کیمپ کے اندر ہم سب چاہتے ہوئے بھی اپنی ہنسی روک نہیں پارہے تھے سانس پھولنے لگا اور آنکھوں سے پانی نکلنے کی نوبت آپہنچی لیکن ہنسی نہ رک پائ ایسے میں رانا صاحب کی زور دار "ہوں" کی آواز آئ وہ شاید خواب میں کسی پری سے ملاقات کر رہے تھے اور ہم مخل ہوگئے پھر رانا صاحب کی نیند میں آواز آئ 

" پانی" 

کسی نے بھی جواب نہیں دیا انہوں نے بھی دوبارہ کوئ آواز نہیں دی سب ہی خاموش ہوگئے اور خاموشی طویل ہوگئ کافی دیر گزری میں اپنے پیروں کو گرم کرنے میں ناکام رہا اور سردی سے بے حال اٹھ کر بیٹھ گیا کیمپ کے اندر ایک ٹارچ روشن چھوڑ دی گئ تھی یاسر نے مجھ سے وجہ پوچھی اور پھر ایک گرم شال میرے طرف پھینکی کہ اس سے اپنے پیر ڈھانپ لوں سلیپنگ بیگ کے اندر میں نے وہ شال اپنے پیروں کے گرد لپیٹ لی اور دوباری لیٹ گیا میرے اٹھنے اور دوبارہ لیٹنے میں مشکل سے کوئ بیس سیکنڈ کا وقفہ ہوگا لیکن تب تک بستر ٹھنڈہ ہوچکا تھا اور ایسا پہلی بات نہیں ہوا تھا چت لیٹ کر بستر گرما لیں اور کروٹ لیں اور فورا دوبارہ اسی رخ پر پلٹ جائیں تو بھی بستر ٹھنڈا ہی ملتا تھا میں نے وقت دیکھا گیارہ بجے تھے ایک طویل سرد رات کو ختم ہونے میں نہیں آرہی تھی بلکہ شہری اعتبار سے تو ابھی رات شروع بھی نہیں ہوئ تھی۔ 

کہتے ہیں کہ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے ویسے تو یہ باکل غلط بات ہےلیکن کچھ دیر بعد میری آنکھ لگ گئ اور تب کھلی جب رانا صاحب پانی کیلئے ایک مرتبہ پھر آواز لگا رہے تھے اس بات کفیل اپنے بستر سے نکلا اور سامان میں دبی ہوئ پانی کی ایک بوتل نکالی اسے ہلایا بوتل ہلانے پر اندر سے "کڑ کڑ " کی آوازآئ 

"عثمان بھائ پانی جم گیا ہے" کفیل نے اعلان کیا 

"یار کوئ مالٹا پڑا ہوگا دیکھو میرا حلق سوکھ گیا ہے" رانا صاحب واقعی پیاسے ہورہے تھے 
کفیل نے ایک مالٹا چھیل کر رانا صاحب کو دیا اور اسے منہ میں رکھتے ہی رانا صاحب نے کہا "یار یہ بھی جما ہوا ہے" 
"سر جی ابھی تو کچھ نہیں کرسکتے آپ تھوڑا سا کھا لیں حلق تو گیلا ہوجائے گا" کفیل نے صورت حال سے آگاہ کیا 
رانا صاحب اپنے بسترمیں دراز ہوچکے تھے رات بھر اسی طرح آنکھ لگتی اور کھلتی رہی ایک مرتبہ آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ فرخ اپنے بستر میں بیٹھا ہوا تھا اسے سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی آخری مربتہ جب آنکھ کھلی تو مجھے خیمے کے پردے کے باہر روشنی محسوس ہوئ یعنی کہ ایک طویل سرد رات اختتام کو پہنچنے والی تھی باقی سب بھی اپنے اپنے بستروں میں پڑے کسمسا رہے تھے کچھ دیر میں جب سورج نکل آیا تو ایک ایک کرکے باہر نکلے ہمارے باہر آتے ہی عدیل اور باقی لڑکوں نے سامان باندھنا شروع کردیا سورج نکل چکا تھا اور تمام جہاں روشن تھا تمامتر منظر سفید براق صبح کی روشنی میں سفیدی کچھ نیلگوں سی تھی رات کے اندھیرے میں جو کچھ چھپ گیا 

تھا وہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے سامنے عیاں ہوگیا اور ایسی اجلی صبح اس منظر کو چھوڑ کر ہمیں چلے جانا تھا یہ ایسا ہی تھا کہ بھری محفل سے کوئ دنیا چھوڑ کر جاتا ہے 

ع
 اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آجائے 


لیکن ہم خود بھٹک رہے تھے اپنی مرضی سے سامنے منزل کو چھوڑ کر جارہے تھےمیں جھیل کی طرف چہرہ کئے کھڑا تھا 

آخری منظر کو یاد بنا کر اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا پھر میں پلٹا جھیل کی طرف سے آواز آئ 

"رک جاؤ ۔۔۔نہ جاؤ" 

"میں نہیں رک سکتا" 

"تم تو کہتے تھے تمہیں مجھ سے محبت ہے" 

"مجھے تم سے محبت ہے لیکن میں رک نہیں سکتا" 

"میں نے پہلے ہی کہا تھا یہاں کوئ زندگی نہیں بتا سکتا" 

"تم نے ٹھیک کہا تھا۔۔۔۔مجھے اجازت دو" 

"تم بھی ان ہزاروں لوگوں میں سے نکلے جو مجے چھوتے ہیں، میرے بدن سے اپنی خوشی کے لمحات نچوڑتے ہیں اور پھر پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے چلے جاتے ہیں آتے ہیں تو صرف مجھ سے جھوٹی محبت کا دعوہ کرتے ہیں" 


"میری محبت جھوٹی نہیں لیکن میں رک نہیں سکتا" 

"رک جاؤ ۔۔۔مجھے بھی تم سے محبت ہے" 

"ہم ایک دوسرے سے محبت نباہ نہیں سکتے بہتر ہے مجھے اجازت دو بہت کچھ ہے جس سے میں جکڑا ہواہوں" 

"کوئ نشانی دے جاؤ" 

"کیایہ کافی نہیں کہ میں یہاں آیا تھا اور میری کچھ سانسیں ابھی بھی موجود ہیں" 

"کچھ دیر ہی رک جاؤ" 

"نہیں بس اتنا ہی وقت لکھا تھا جو دے چکا" 

"اچھا۔۔۔۔جاؤ تمہیں اجازت ہے" 

میں نے ایک آخری نظر ڈالی اور پلٹ گیا اور واپسی کے راستے پر چل دیا کفیل میرے برابر سے گزرا اس کے کندھے پر سامان لدا ہوا تھا اور اس میں وہ خیمہ بھی تھا جس میں ہم نے رات گزاری تھی 








































19 comments:

  1. Replies
    1. Thanks alot for reading and likning

      Delete
    2. Thanks alot for reading and likning

      Delete
  2. Boht ala janab... Maza agia

    ReplyDelete
    Replies
    1. بہت شکریہ جناب اللہ خوش رکھے

      Delete
  3. very nice bro. specially camp k pas e manzar main tary.. i love that picture..

    ReplyDelete
  4. Faizan bahaut aalaa tehreer aur tasaweer....acha laga aap k blog perh kar

    ReplyDelete
  5. بہت خوب
    بلاگ کا کوئی اچھا سا نام بھی رکھ لو
    مسافر ہوں یارو ٹائپ کا

    ReplyDelete
    Replies
    1. بہت شکریہ
      نام کے بارے میں سوچ جاری ہے
      انشاءاللہ جلد کوئ اچھا سا نام رکھا جائے گا

      Delete
  6. فیضان بھائی تصویریں دیکھنے کا مزہ آیا۔ باقی اتی تفصلی تحریر پڑھنے کا وقت اور حوصلہ پایا تو پڑھوں گا، وگرنہ آپ نے لکھا ہے تو اچھا ہی ہوگا۔ واہ واہ :D

    ReplyDelete
    Replies
    1. فیضان بھائی یہ میں ہوں آپ کا عزیز ہر دل عزیز طارق عزیز فرام لاہور بقلم خود
      :D

      Delete
  7. zabardast dost aisa lag rha tha jaisa m bhi ap k sath ghoom rha ho nice pic

    ReplyDelete
  8. Faizan Bhai Now I Realize that you are wonderful. wonderful writing, just wow

    ReplyDelete