Saturday, 17 September 2016

ماضی کی یادوں سے





یہ قصہ ہے ہمارے بچپن کا   ویسے تو یہ  قصہ کوئ زیادہ پرانا نہیں ہمارا بچپن ابھی گزرا کہا ں ہے یہی کوئ سال دو سال پرانی بات لگتی ہے  قصہ یوں شروع ہوتا  ہے کہ  ایک مرتبہ ہم اپنی پھوپھی کے گھر گئے   ہمارے پھوپھا خیر سے سرکاری افسر تھے اور رہنے کو انکو  انگریز کے زمانے کا بنا ہوا ایک سرکاری کواٹر ملا ہوا تھا ۔کواٹرمیں رہنے کو  کمرے کم لیکن صحن، دالان ،برامدے بہت  سارے تھے گھر سے سامنے  کی طرف پکی دیوار تھی جس پر لکڑی کا ایک دروازہ لگا تھا لیکن پچھواڑے ایک دروازے کے بعد ایک بہت بڑا میدان بھی گھر کے حصہ میں شامل تھا  جسے آپ بیرونی صحن کہ سکتے ہیں اور اس کے آخری سرے پر  کیکر کی ایک باڑ بنا کر چھوٹا تین فٹا ایک دروازہ لگا ہوا تھا اور ہر دو گھروں کے درمیان بھی  ایسی ہی ایک باڑ تھی جوایک گھر کو دوسرے سے جدا کرتی تھی اور یہی دروازہ آمد و رفت کیلئے استعمال ہوتا تھا۔
 خیر قصہ  شروع ہوتا ہے جب ہم ایک دن اپنی ان  ہی پھوپھی کے گھر پہنچ جاتے ہیں  شاید کوئ دعوت تھی یا معلوم نہیں کسی بچے کے عقیے  یا ختنے کا کوئ پروگرام  تھا  بہر حال وہاں ہمارے علاوہ اور بھی بہت سے ہمارے ہم عمر   بچے بچیاں  جمع تھے۔
کم عمر بچوں کیلئے اس گھر میں بہت سا دلچسپی کا سامان موجود تھا جیسے کہ ہر کمرے میں ایک چمنی  اور ایسی کھڑکیاں جہاں ایک بندہ آرام سے بیٹھ سکتا  تھا ، روشن دان جو چھت پر کھلتے  اور ان روشندانوں سے کمروں میں جھانکنے کیلئے  چھت پر جاناپڑتا اور وہاں جانے کیلئے لوہے کا ایک گول زینہ   اور  خاص بات یہ تھی کہ کالونی کے ایک لائن میں بنے تمام مکانوں کی چھتیں ملی ہوئ تھیں تو چھت پر پہنچ کر صرف وہی روشن دان ایسا نہیں تھا جس سے ہم اندر جھانکتے بلکہ ہر ہر کھلے روشندان سے اندر جھانکنا اپنا فرض سمجھتے اب سوچتا ہوں کبھی کبھی انسان کو نعمتیں تب عطا ہوجاتی ہے جب انہیں انکی افادیت کا شعور نہیں ہوتا ان کھلے روشندانوں سے وہ وہ مناظر نظر آنے کے قوی امکانات موجود تھے جن کا بیان یہاں قطعی غیر مناسب ہے خیر چھوڑئے  کیا جلے دل کے پھپھولے پھوڑنا۔
تو صاحبان ہمارا قصہ شروع ہوتا ہے جب ہم ایک دن کسی تقریب میں پھوپھی کے گھر پہنچ گئے اب جہاں بہت سے بچے ہوں تو ظاہر ہے بڑے بھی ہوتے ہیں اور جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ ان گھروں میں کمرے کم اور دالان اور برامدے اور صحن زیادہ  تھے تو ایک کمرے میں خواتین نے غیبت چوک کھول لیا دوسرے میں مرد حضرات نے کرکٹ ، سیاست ، دفتر وغیرہ  وغیرہ  جیسے پھیکے موضوعات پر گفتگو کا بازار گرم کردیا ظاہرہے ان دونوں میں بچوں کا کوئ خاص دلچسپی نہیں ہوتی  ۔
پہلے زمانوں کے بچے بھی عجیب ہوا کرتے تھے پہلے پہل جب کسی رشتہ دار کے گھر جاتے تو امی کے پلو یا ابو کے پہلو سے لگ کر بیٹھ جاتے اور اس بات کا انتظار کرتے کہ بڑے خود ان سے کہ دیں کہ جاکر کھیلو   تو اس دن بھی ہم ابو کے پہلو میں بیٹھے عمران ، میانداد اور ضیا الحق کے بارے میں جاری ہونے والے بیان سن رہے تھے اور سنے جارہے تھے اور سامنے کسی اور انکل کے پہلو میں بیٹھا کوئ اور بچہ بھی  اسی امتحان سے گزر رہا تھا  اور اندر کمرے میں بھی بہت سے بچے امیوں کے پلوؤں سے بندھے اپنی دادیوں اور دیگر خواتین  کے  بارے میں ہونے والی گفتگو سن رہے تھے اور جب گفتگو میں کوئ ایسا خطرناک موڑ آیا کہ بچوں کی موجودگی کو ناموزوں جاناگیا تو ان کو اذن ملا کہ "جاؤ باہر جاکر کھیلو" اور اگلے ہی لمحے کئ ایک جانے پہچانے چہرے دروازے میں کھڑے نظرآنے لگے جنہیں دیکھ کر ہماری بےچینی عروج کو پہنچنے لگی تو ہماری کسی دادا نما شخصیت نے ہماری آزادی کا  پروانہ جاری کردیا اور ہم وہاں سے رفو چکر ہوئے اور دروازے کھڑے  دیگر بچوں میں پہنچ کر دوسرا سانس لیا۔
اب جو سب بچے مل گئے تو وہ شور ڈالا کی الامان الحفیظ  بڑوں نےحکم جاری کردیا کہ گھر سے باہر جاکر کھیلو   ساتھ ہی یہ حکم بھی ملا کہ سب بچے صرف گھر کے سامنے کھلییں گے ،بچوں کی تو عید ہی ہوگئی باہر نکل کر ادھر ادھر بھاگ دوڑ پکڑم پکڑائ اور چھپن چھپائ شروع ہوگیا کھیلنے کو ایک بہت بڑا میدان  جو میسر آگیا۔
چھپن چھپائ کے دوران ہی  ایک باری میں ہم چور تھے اور  پھوپھی کے گھر کے سامنے روڈ کی دوسری طرف موجود مسجد  کی دیوار کے ساتھ  اصول  کے  مطابق با آواز بلند گنتی گن کر سب کو چھپنے کا موقع فراہم کر رہے تھے کہ اچانک پاس ہی سے ایک غراہٹ سنائ دی اور جو پلٹ کر دیکھا تو ایک کتیا ننھے ننھے پلوں کے ساتھ اسے دیوار کے ساتھ موجود تھی جہاں ہم کھڑے گنتی گننے میں مشغول تھے ایک لمحے میں سٹی گم اور گنتی بھول کر جو دم دبا کر بھاگے تو  معلوم نہیں کہاں تک دم واپس سیدھا نہ کرسکے  اور جب رکے تو میدان کے دوسری طرف سڑک پر کھڑے ہانپ رہے تھے خیر جب دم میں دم آیا تو اپنے ساتھیوں کو آوازیں لگانا شروع کیں لیکن جواب ندارد  ایک بات جو ہم بتانا بھول گئے ہیں وہ یہ کہ کالونی کے تمام ہی مکان باہر سے بھی ایک جیسے دکھتے تھے یعنی وہی چھوٹا سا گیٹ اور وہی لیمپ وہی باڑ  مکان نمبر اس دور میں یاد ہوتے نہیں تھے ،تو  ہم تب تک اس بات سے آگاہ نہیں تھے کہ ہم  بھٹک چکے ہیں لیکن مکانوں  اور گلیوں کی یکسانیت کی وجہ سے خود کو راہ راست پر سمجھ رہے تھے۔
کچھ دیر دوستوں کو آوازیں دینے کے بعد ہم نے یہ  سمجھا کہ وہ سب چھپے ہوئے ہیں اسی وجہ سے ہماری آواز کے جواب میں کوئ بول نہیں رہا  اور انکی تلاش میں کئ گز اور ادھر ادھر نکل گئے لیکن کوئ بھی نظر نہ آیا تو ایک لمحہ کو تو بہت غصہ آیا کہ بھلا یہ کیا حرکت ہوئ کہ چھپ گئے تو کوئ آواز ہی نہیں نکال رہا  اور دوسرے لمحے فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کو چھپا چھوڑ کر ہم گھر چلے جاتے ہیں اب جو نظر اٹھا کر دیکھا تو سب کے سب گھر ایک شکل کے لیکن پھوپھی کے گھر کی نشانی تھی کہ انکے گھر کے سامنے کچھ دور مسجد تھی سوچا واپس مسجد تک چلتے ہیں اور وہاں پہنچ گئے تو سمجھو گھر پہنچ گئے اب جو پلٹے اور مسجد کی طرف چلے تو مسجد تو وہاں تھی ہی نہیں خیال آیا کہ شاید ہم زیادہ آگے نکل آئے ہیں تھوڑا اور چلیں گے تو مسجد مل جائے گی  لیکن تھوڑا اور چلنے پر ایک ڈبل روڈ آگیا  اور ہم وہاں حیران پریشان کھڑے رہ گئے۔
ایک طرف تو یہ ہوا اب دوسری طرف کا حال بھی سن لیں کہ جب ہم گنتی پوری کرکے واپس نہیں آئے تو  بچے ہمیں تلاش کرتے مسجد کی دیوار تک آئے اور ہمیں وہاں نہ پاکر  دوڑے ہوئے گھر آئے اور بڑوں کو  اطلا ع دی کہ فیضان گم ہوگیا  کچھ بچوں کے یہ بھی کہا کہ مسجد کی دیوار کے ساتھ نیم کے درخت پر جو جن ہے وہ اسے اٹھا کر لے گیا ہے ایک بچے نے تو گواہی بھی دی کہ اس نے خود ہمیں وہاں کھڑا کسی سے باتیں کرتے اور پھر غائب ہوتے دیکھا ہے۔
جب یہ اطلاع ہماری والدہ تک پہنچی تو انہوں نے سینے پر دوہتڑ مارا اور با آواز بلند رونا شروع کردیا  وہاں موجود  باقی خواتین نے ان کو سنبھالا  اور فوری طور پر  امدادی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور  وہ ہماری تلاش میں کالونی کے طول و عرض میں گشت کرنے نکل کھڑی ہوئیں۔
دوسری طرف ہم  اس ڈبل روڈ کے کنارے کھڑے سوچتے رہے کہ کدھر کو چلنا چاہئے اور جب کچھ سمجھ نہ آیا  تو رونے لگے اور روتے روتے ہی واپس اسی راستے پر پلٹ گئے جدھر سے چلے تھے اب حال یہ ہے کہ روتے جارہے ہیں اور چلتے چلتے گھروں میں جھانکتے جارہے ہیں کہ کونسا گھر ہماری پھوپھی کا ہے ایسے ہی ایک گھر میں جھانکا تو اندر بھیڑ بھاڑ نظر آئ تو پھاٹک اٹھا کر اندر داخل ہوگئے اور لمبے صحن سے گزر کر روتے روتے ہی اندر جھانک لیا  ابھی ہم باہر ہی کھڑے تانکا جھانکی کررہے تھے کہ اچانک دروازہ کھلا اور ایک انکل نما صاحب باہر آگئے اور ہمیں ڈانتے ہوئے بولے کہ " یہاں کھڑے کھڑے کیا رو رہے ہو اندر جاؤ تمہارے پیچھے میں کیک کٹ جائے گا یہ سن کر ہم بغیر سوچے سمجھے اندر بھاگ گئے اور جونہی اندر پہنچے ہماری عمر کے کسی بچے نے ہمارے سر پر سالگرہ والی تکون ٹوپی پہنادی   سامنے ہی ایک ٹیبل پر بڑا سا کیک رکھا ہوا تھا اور قریب ہی تھا کہ ایک بچی کیک پر لگی موم بتیوں کو پھونک مار کر بجھاتی اور ایسا ہی ہوا سب بچوں بڑوں نے مل ہر ہیپی برتھ ڈے ٹو یو گایا  کیک کٹا  تالیاں بجیں اور ہم بھی ان سب میں شامل رہے لیکن ان سب کے دوران بھی ہماری نگاہیں کسی آشنا چہرے کی متلاشی تھیں لیکن کوئ بھی دکھائ نہ دیا   اسی دوران کسی نے ایک پلیٹ میں کیک کا ٹکرا  ہمیں بھی پکڑا دیا  طرح طرح کے وسوسے ذہن میں جنم لینے لگے کہ جب ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ ہم ان کے مہمان نہیں ہیں تو نہ جانے کیا سلوک کریں گے ہمارے ساتھ  وغیرہ وغیرہ ۔
اب حال یہ تھا کہ کیک بھی کھاتے جارہے ہیں اور بھاں بھاں روتے بھی جارہے ہیں پہلے تو بڑے بزرگوں نے نظر انداز کیا لیکن جب ہمارا رونا   ختم نہ ہوا اور کوئ بھی ہماری جانب متوجہ نہ ہوا تو ایک شفیق سی خاتون جو غالبا" خاتون خانہ تھیں ہمارے پاس آئیں پہلے تو بلند آواز میں سوال کیا کہ " یہ کس کا بچہ ہے" کہ مبادا ہماری والدہ یا والد وہاں موجود ہوں لیکن اتنے بچوں کی موجودگی میں ہماری آواز ان تک نہ پہنچ پائ ہو لیکن جب کوئ بھی متوجہ نہ ہوا تو وہ ہمارے پاس آئیں پیار سے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا  "بیٹا کس کے ساتھ آئے ہو "   انکی آواز میں ایسا پیار اور اپنائیت تھی کہ  ہم انہیں اپنا ہمدرد جان کر  اور بھی اونچے سروں میں رونا شروع ہوگئے  اس پر وہ خاتون اور بھی پریشان ہوگئیں اور اسی پریشانی کے عالم میں بولیں " آئے ہائے لگتا ہے بچہ کہیں سے بھٹک کر یہاں آگیا ہے" تب تک ہمارے ارد گرد دیگر بچوں کا جمگھٹا بھی لگ چکا تھا   اور جوں ہی ان شفیق خاتون کا جملہ مکمل ہوا  ہم اس بات سے مطمئن ہوگئے کہ انکو ہمارا مسئلے کا علم ہوگیا ہے اور دل میں خیال پیدا ہوا کہ اب اگر انہوں نے کان پکڑ کر ہمیں یہاں سے نکال دیا تو ہم کہاں جائیں گے اور مزید انہوں نے مفت کے کیک کے پیسے طلب کر لئے تو کیا ہوگا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر انہوں نے لاوارث جان کر ہمیں اپنے گھر نوکر بنا کر رکھ لیا تو پھر ہمارا کیا بنے گا اوریہ سب سوچ کر ایسے بکھر کر روئے کہ کیا کسی نے آنسو بہائے ہونگے ہچکی ہی بندھ گئ۔
پھر ہم سے پوچھا گیا کہ "بیٹا کس کے گھر آئے تھے" تب لے دے کہ ہمیں اپنی بیچاری پھوپھی کا ہی نام ذہن میں آیا " بے بی پھپی" آگے سے سوال ہوا " کہاں رہتی ہیں" اب اسکا  ہم کیا جواب دیتے اگر معلوم ہوتا تو خود نہ چلے جاتے وہاں۔۔۔ بےوقوف لوگ۔
ہمیں پانی پلایا گیا اور  تب ہماری جان میں جا ن آئ جب ہم نے سنا کہ کوئ کہ رہا ہے "بیٹا  ہم تمہیں ڈھونڈ کر تمہاری پھپھی کے گھر پہنچا دیں گے تم یہ بتاؤ پھوپھا کا کیا نام ہے" اب ہم پھوپھاکو انکل کہتے تھے اور وہی بتا دیا کہ انکا نام" انکل "ہے ا ب کون سے انکل ہیں اور ان کے ماں باپ نے انکا کیا نام رکھا تھا اسکا تب ہمارے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا۔
وہاں پر موجود کسی صاحب نےصلاح دی  کہ بچے کو لیکر  کالونی کا ایک چکر لگا لیں جس کسی گھر میں تقریب ہورہی ہوگی یہ وہیں آیا ہوگا  ہم سے ہمارا نام اور ابو کا نام بھی پوچھ لیا گیا تھا کہ اگر نوبت آئ تو مسجد سے اعلان کرو ا دیں گے کالونی میں زیادہ گھر نہیں ہیں اور جس گھر کا بچہ ہے وہ بھی اسے تلاش کر ہی رہے ہونگے تو اسی گھر کے دو افراد  ہماری انگلی پکڑے باہر نکلے اور چلتے ہوئے گلی کے کونے تک چلے گئے  گلی کی دوسری طرف سے دو بچے چلے آرہے تھے ہمیں یوں روتا دیکھ کر ان میں سے ایک نے ہم سے پوچھا  " تم مدثر کے کزن ہو؟" یہ سننا تھا کہ ہمارے  چہرے پو گویا رونق آگئی ایسے ہی روتے بسورتے مشکل  اقرار کیا  تو بچوں نے بتایا کہ وہ لوگ ہمیں دھونڈ رہے ہیں اور ابھی مدثر انہیں ملا تھا تو اس نے بتایا کہ اسکا کزن گم ہوگیا ہے جسے تلاش کیا جارہا ہے ان دونوں انکلز نے بچوں سے مدثر کا گھر معلوم کیا اور وہ دونوں بھی ہمارے ساتھ ہی چلے اور ہمیں لئے لئے جونہی وہ مسجد کے پاس پہنچے جہاں سے ہماری گمشدگی کا آغاز ہوا تھا ہمیں سب کچھ جیسے یاد آگیا  جھٹ ہاتھ چھڑایا اور سیدھا گیٹ تک پہنچے اور تیر کی طرح اندر داخل ہوگئے صحن میں ہی ہمارے ابو اور چند اور بزرگ موجود تھے ہم سیدھا جاکر ابو سے لپٹ گئے اور پھر وہاں سے جو بھاگے تو امی کی گود میں جاکر دم لیا اور سسک سسک کر رونے لگے کچھ دیر میں جب  معاملات نارمل ہوگئے ہماری تلا ش میں بھیجی گئی ٹیمیں بھی واپس آگئیں اور ہم بھی رو دھو کر چپ ہوگئے تو کسی نے چھیڑنے کی خاطر سوال کیا کی " فیضان تم کہاں چلے گئے تھے" تو ہم نے بظاہر تمام گزری باتوں کو بھلاتے ہوئے کہا تھا کہ "دوست کی سالگرہ میں" جس پر ایک بھرپور قہقہ لگا تھا اور پھر اس رات جب تک وہ تقریب جاری رہی سب کی توجہ کا مرکز ہم ہی رہے۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ جب بھی ہم کسی رشتہ دار کے گھر جاتے تو ہمیں انکے گھر کا نمبر اور انکل کا نام پہلے سے یاد کرایا جاتا۔

Wednesday, 20 July 2016

ٹیمون اور پمبا.....ایک لازاوال دوستی کی داستان


...چلیں آج ایک کہانی سناتا ہوں آپ کو
لائن کنگ دیکھی ہے آپ نے؟
..دیکھی ہی ہوگی بھلا لائن کنگ دیکھے بغیر آپ بڑے کیسے ہوگئے
.ٹیمون بھی یاد ہوگا غار میں رہنے والا میر کیٹ

ٹیمون کو غار میں رہنا پسند نہیں تھا اسکو باہر کی دنیا دیکھنی تھی سامنے نظر آنے والے ٹیلے سے پرے کی دنیا دیکھنے کا شوق تھا لیکن اسکی ماں کو ڈر تھا کہ اپنے بل سے باہر نکلنے پر ٹیمون باہر کی دنیا کا مقابلہ نہیں کرپائے گا باہر پھرنے والے جنگلی جانور اسے مار ڈالیں گے اگر وہ ان سے بچ بھی گیا تو بھوک پیاس سے مر جائے گا اپنی خوراک کا بندوبست نہیں کرسکے گا

لیکن اپنی مختصر زندگی کو ٹیمون ایک بل میں گزارنے سے بہتر سمجھتا تھا کہ باہر نکل جائے چاہے جنگلی جانوروں کی غذا بن جائے ۔

ایک دن اس نے اپنی ماں سے کہا کہ "میری ماں میری دنیا اس ٹیلے کے پار ہے مجھے وہاں جانے دو" اور تب ہی اسکی ماں نے یہ جانا کہ اسکی زندگی واقعی اس ٹیلے کے پار ہے اور اس نے ٹیمون کو اجازت دے لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ "اگر تم اس ٹیلے کے پار نہ جاسکو یا راستے میں خطرہ ہو تو واپس پلٹ آنا" جواب میں ٹیمون نے کہا " میں ڈر کر واپس آنے کیلئے نہیں جارہا ہوں ماں اب میں تب ہی واپس آونگا جب اس ٹیلے کے پار جو دنیا ہے اسے دیکھ نہ لوں"



ٹیمون اور اسکی اماں جان
















یوں ٹیمون اپنے بل سے نکلا اور ٹیلے کے رخ چلااور خوش خوش چلا آتے جاتے راستے میں ملنے والے جانوروں اور کیڑے مکوڑوں پر "شو" مارتا ہوا کہ وہ اپنے بل سے نکل کر باہر کی دنیا دیکھنے نکل چکا ہے اور سب نے ہی حیرت کا اظہار کیا کچھ نے اسکی بات کو ہنسی میں آڑایا غرض جتنے منہ اتنی باتیں

کہانی آگے بڑھتی ہے ٹیمون یونہی چلتا نظارے مارتے ایک بڑے گھنے جنگل میں پہنچتا ہے بھوک پیاس اور گرمی سے نڈھال پریشان حال ناتجربہ کاری کے باعث کھانا پینا تلاش کرنا بھی اسکے بس میں نہ تھا جب ہی اس نے سوچا کہ واپس گھر لوٹ جائے اور اپنے خیال سے باز رہے لیکن وہ واپس نہ پلٹا اور اسی جنگل میں بھوک اور گرمی سے نڈھال ہوگر گر پڑا اور بےہوش ہوگیا۔















کچھ گھنٹے گزرے یا کچھ دن جب ٹیمون کو ہوش آیا تو وہ حیران ہوا کہ وہ زندہ کیسے بچ گیا سورج ڈھل چکا تھا اور تب ہی اسکی ملاقات پمبا سے ہوئ




پمبا ایک عجیب الخلقت اور عجیب انوکھی فطرت کا بھاری جسم اور باریک ٹانگوں والا جانور جسکے دکھانے کے دانت بہت بڑے بڑے دیکھنے میں جتنا خطرناک اندر سے اتنا ہی نرم اور رحمدل اور ہمدرد
ٹیمون کو جنگل میں اکیلے اس حالت میں دیکھ کر پمبا نے ہی اسکی مدد کی

دونوں میں تعارف ہوا
دونوں ہی گھروں سے دنیا دیکھنے نکلے تھے اپنے اپنے بلوں سے باہر ٹیلے کے پار جو دنیا ہے اسکی سیاحت کی خاطر اب جو دونوں ساتھ ہوئے تو خوشی سے پھولے نہ سمائے ٹیمون جو چھوٹا منحنی سا تھا بڑے دیو ہیکل پمبا پر سوار ہوگیا اور پمبا اپنے بھاری جسم اور باریک مظبوط ٹانگوں کے ساتھ اسے اٹھائے پھرتا یوں ٹیمون کو سواری مل گئ اور پمبا کو ایک ساتھ۔
دونوں ساتھ کھاتے ساتھ پیتے اور ساتھ گھومتے پھرتے اور یوں ان دونوں نے آدھی دنیا کے گرد چکر لگا لیا۔


ٹیمون اور پمبا ایک ساتھ خوش باش

جب گھروں سے نکلے بہت دن ہوئے تو ایک روز ٹیمون پمبا سے بولا "اے میرے دوست میرے ہمدم یوں تو مجھے کوئ غم نہیں جیسی زندگی میں نے چاہی تھی تیرے ملنے کے بعد مجھے وہ سب کچھ ملا تیرے ساتھ میں بہت خوش ہوں لیکن اب دل کرتا ہے کچھ روز اپنے گھر ہو آوں ماں، باپ بھائ بہن اور یار دوستوں سے مل آوں اب انکی یاد آتی ہے نہ جانے کس حال میں ہونگے"

اس پر پمبا بولا "میرے دوست حال تو میرا بھی یہی ہے میں بھی اپنے گھر جانا چاہتا ہوں تو یہی بہتر ہے کہ ہم دونوں کچھ دنوں کیلئے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں اور پھر ہم واپس اسی جگہ ملیں جہاں ہم پہلی مرتبہ ملے تھے"

پمبا نے ٹیمون کو اپنے اوپر سوار کیا اور اسے اسکے گھر چھوڑ آیا

دونوں اپنے اپنے گھروں کو پہنچے ٹیمون کے گھر والے خوش ہوئے کہ وہ لوٹ آیا ہے کچھ دن تو آدھی دنیا کے سفر کی داستان سنانے میں ہی گزر گئے ایک رات جب وہ اپنے ماں کے ساتھ لیٹا باتیں کررہا تھا تو اسکی ماں نے وہ بات کردی جسکا اسے ہمیشہ سے ڈر تھا "کہ بیٹا تم نے شادی کے بارے میں کیا سوچا"


اب ٹیمون انکو سمجھاتا کہ وہ شادی نہیں کرسکتا کیوں کہ اسے واپس انے دوست کے پاس جانا ہے اور پھر وہاں سے باقی آدھی دنیا کے سفر کا آغاز کرنا ہے لیکن اسکی ماں نہ مانی اور ہونہی اسے مناتی رہی کبھی روٹھ جاتی کبھی زبردستی اپنی بات منواتی بلاخر اسے مانتے ہی بنی تب ہی اسکی ماں نے بتایا کہ جب وہ سفر میں تھا تب ہی اس نے ٹیمون کیلئے لیڈی ٹیمون بھی پسند کر رکھی تھی اور جونہی ٹیمون نے ہار مانی جھٹ پٹ اسکی شادی کردی گئ۔


ٹیمون اور اسکی لیڈی ٹیمون

ٹیمون اپنی نئ زندگی میں مگن ہوا اور ہنسی خوشی رہنے لگا وہ اکثر پمبا کا ذکر اپنی لیڈی ٹیمون کے ساتھ کرتا اور اسے اپنے سفر کے قصے سناتا رہتا یوں اسکے دن اور رات گزرتے رہے۔

پمبا سے رابطہ ہوئے بہت عرصہ ہوگیا اور ٹیمون جب اسکی یاد میں اداس ہونے لگا تو اسنے ارادہ باندھا کہ وہ پمبا کی کچھ خبر لے اور اسی ارادے سے وہ وہاں جا پہنچا جہاں ایک مرتبہ دوران سفر پمبا نے نشاندہی کی تھی کہ وہاں سے قریب اسکا گھر ہے جہاں وہ رہا کرتا تھا۔

آخر کار ٹیمون نے پمبا کو تلاش کرلیا دونوں دوست ملے حال چال کے بعد گلے شکوے ہوئے اور تب پہ ٹیمون نے جانا کے پمبا نے بھی شادی کرلی ہے اور اپنا گھر بسا لیا ہے۔



پمبا اور اسکی بیگم


ٹیمون کچھ دن پمبا کے پاس گزار کر واپس اپنے گھر آگیا پمبا کے پاس وہ جتنے دن رہا وہ پہاڑوں ، جھرنوں ندی نالوں اور مختلف وادیوں کی باتیں کرتے رہے اور پرانے سفروں کو یاد کرتے رہے جاتے جاتے ٹیمون نے پمبا سے کہا جانے اب دوبارہ انہیں یوں گھومنا میسر آئے گا بھی کہ نہیں کیونکہ دونوں ہی اپنی اپنی زندگیوں مصروف ہوچکے ہیں اس پر پمبا نے ٹیمون کو یقین دلایا کہ اگر وہ کچھ دن فرصت کے نکال کر اسکے پاس آسکتا ہے تو وہ پھر پہلے کی طرح ساتھ سفر کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں اور ٹیمون اس سے وعدہ کر آیا کہ جیسے بھی ممکن ہوا وہ ضرور کچھ وقت نکالنے کا بندوبست کریگا۔


ٹیمون واپس آیا اور پھر دوبارہ زندگی کی مصروفیات میں مگن ہوگیا لیکن پمبا سے کیا ہوا وعدہ اسے یاد تھا اور پھر ایک وقت آیا کہ ٹیمون اداس رہنے لگا ہر پل بس پمبا کو یاد کرتا اور اس وقت کو جو اس نے پمبا کے ساتھ سفر میں گزارا۔


اور ایک روز اسکی بیوی نے کہا کہ جو وقت تم میرے ساتھ گزارتے ہو لیکن میرے ساتھ ہوتے ہوئے بھی میرے ساتھ نہیں ہوتے تو تم جاو اور سفر کرو لیکن یہ وعدہ کرو کے تم جلد لوٹ کر میرے پاس آو گے۔
ٹیمون کی خوشی کی انہتا نہ رہی اور اس نے وعدہ کیا کہ وہ جلد سفر کو مختصر کرکے اسکے پاس واپس آجائے گا۔


ٹیمون نے پمبا کو اطلاع پہنچائ اور تیاری میں مگن ہوا پمبا بھی خوش ہوا اور وہ بھی تیاری میں مگن ہوگیا۔


ٹیمون اور پمبا خوش ہیں کہ وہ دوبارہ ساتھ سفر کریں گے

ٹیمون اور پمبا خوش ہیں کہ وہ دوبارہ ساتھ سفر کریں گے گو کہ یہ سفر پہلے جتنا طویل نہ ہوسکے گا لیکن پھر بھی وہ امید رکھتے ہیں کہ جو وقت انکو میسر ہوگا وہ اسے یادگار بنا کر آنے والے دنوں میں اچھی یادوں کا ذخیرہ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

اگر ٹیمون اور پمبا ساتھ سفر کرتے ہیں تو یقین کریں کہ واپسی پر انکے دونوں کے پاس سب کو سنانے کیلئے بہت سی کہانیاں ہونگی۔
دعا کریں کہ انکا سفر کامیاب رہے۔

Saturday, 17 October 2015

دوبارہ رتی گلی۔۔۔قسط نمبر دو

مظفر آباد کا بس اڈا اسی حالت میں تھا جیسا ملک بھر کا کوئ بھی بس اڈا ہوتا ہے  وہی کھینچ تان وہی گھسیٹ ویسا ہی ہارن اور سواریاں کھینچنے والوں کا شور فرق صرف اتنا تھا کہ رات بھر ہونے والی بارش کی وجہ سے وہاں گھٹنوں گھٹنوں نہیں تو ٹخنوں ٹخنوں کیچڑ تھی اور اسی کیچڑ میں پھچ پھچ کرتے ہم سب دواریاں کیلئے کسی بس یا کوسٹر کی تلاش میں گھوم رہے تھے ۔
"رانا صاحب کوئ چھت والی بس پکڑ لیں پہلے جیسی" میں نے رانا صاحب سے کہا
"او نہیں یار بہت ٹائم لگ جانا ہے پچھلی باری بھی شام کرادی تھی"
"تو ہم کون سا برات میں جارہے ہیں کسی کی دیر ہوجائے تو ہوجائے کیا فرق پڑتا ہے"
"نہیں یار اس بار ٹائم تھوڑا ہے کوئ ٹیکسی پکڑیں گے ادھر  سے بھی" رانا صاحب کی اس بات سے میں قدرے اداس ہوگیا
"یار کوئ سامان بھی نہیں لینا کیا ٹریک پر کیا کریں گے ہم کھانا وانا؟" رانا صاحب بس کسی طرح یہاں سے نکل جانا چاہتے تھے اس پر مجھے خیال آیا کہ ہم نے کوئ خریداری کھانا پکانے یا بنانے کے حوالے سے نہیں کی نہ ہی کوئ بات چیت اس بارے میں ہوئ تھی اب تک
"نہیں وہ سارا انتظام ہوچکا ہے تو فکر نہ کر "
میں اور رانا صاحب بس کی تلاش میں تھوڑا آگے نکل آئے جبکہ چودھری اور بلوچ پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی الگ الگ یہی کچھ کر رہے تھے کہ جلد از جلد مظفر آباد سے نکل جانے کا سامان ہوجائے  اچانک ہی رانا صاحب کا فون بجنے لگا دوسری طرف چودھری صاحب تھے اور کہ رہے تھے بھاگ کر آجاؤ کوسٹر نکل رہی ہے ہم دونوں بھاگم بھاگ ان تک پہنچے تو وہ ایک چودہ سیٹر کوسٹر کا دروازہ تھامے فاتحانہ انداز میں کھڑے تھے دیکھتے ہی شور مچانے لگے کہ جلدی بیٹھو بلوچ صاحب بس کے اندر ایک سیٹ میں پھنسے ہوئے بیٹھ چکے تھے اور تب ہی چودھری صاحب نے راز کی بات بتائ کہ"رانا صاحب بات یہ ہے کہ اگلی گاڑی نکلنی ہے گھینٹے بعد اسمیں تین سیٹیں ہیں ایک بندے کو دروازے کے ساتھ بیٹھنا ہوگا وہ میں بیٹھ جاؤنگا آپ اندر بیٹھو یہ بھائ (ایک صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) تھوڑی دور پر آگے اترجائیں گے تو جگہ ہوجائے گی"
یہ سن کر رانا صاحب باغی ہوگئے کہ ایسے سفر نہیں کرنا  اور یہ کہ کمر ٹوٹ جائے گی آڑھا ترچھا راستہ ہے "تم میری بات نہیں سمجھ رہے ہو"
بلوچ صاحب کو حکم ہوا  اور وہ بھی اتر گئے اور انکے اترتے ہی تین مسافر جو سوار ہوگئے اور بس نکل گئ ہم وہیں کھڑے وہ گئے جس پر چودھری صاحب خفا ہوگئے اور بلوچ صاحب بھی اور بولے
"سرکار آپ ایویں جذباتی ہوگئے چلے جاتے اسی میں کچھ نہیں ہوتا"
"ہاں تمہیں تو جگہ مل گئی تھی شامت اسکی آتی جو دروازے پر بیٹھتا" رانا صاحب نے جواب دیا
"یار کیا ہوجاتا بدل بدل کر سفر گزر جاتا ویسے بھی جگہ آگے تو خالی ہونی ہی تھی کبھی نہ کبھی"
"اتنا شوق تھا خود بیٹھتے دروازے پر اندر کیوں گھس گئے تھے"
"واہ جی واہ سرکار میں کیوں بیٹھتا مجھے تو سیٹ مل گئ تھی " بلوچ صاحب کی اس بات پر سب کھلکھلا کر ہنس دئے۔
"او جی کوئ نہیں۔۔۔اڈے پر کھڑے ہیں مل جائے کی کوئ گاڑی ایسی کون سی جلدی ہے ابھی تو بس ساڑھے سات ہوئے ہیں ناشتہ نہ کرلیں ویسے بھی ایک گھنٹے میں دوسری کوسٹر کو نکلنے والی ہے آلریڈی بات کرچکا ہوں میں" چودھری نے صلاح دی جس پر بلوچ صاحب بولے
" لو جی سبحان اللہ رانا صاحب ویسے بھی صبح کوئ بغیر ناشتہ سفر کرتا ہے کیا آپ کو جلدی پڑی ہے چلو چلو چلو"
"گاڑی میں سب سے پہلے خود گھس کربیٹھ گئے جلدی مجھے پڑی ہے واہ جی واہ خیر چلو" رانا صاحب نے کہا
ہم سب اڈے سے نکل کر مظفر آباد کے مرکزی بازار پہنچے دھیما دھیما نیچی چھتوں والی دوکانیں برتن، سبزیاں، گوشت سب فروخت ہورہا تھا لیکن ہمیں کوئ ہوٹل نظر نہیں آیا چلتے چلتے ہم پل تک پہنچے اور سب سے پہلے نظر آنے والے ہوٹل میں بیٹھ گئے۔
"رانا صاحب کترینہ کیف" میں نے رانا صاحب کو مخاطب کیا ہوٹل کے عین سامنے ماسٹر ڈی وی ڈی کے بورڈ کے نیچے کترینہ کیف کا بڑا سا پوسٹر لگا ہوا تھا۔
رانا صاحب پوسٹر اور پھر مجھے دیکھ کر مسکرائے پچھلی بار رانا صاحب کو شکایت تھی کہ ہم نے کترینہ کیف کا پوسٹر انہیں کیوں نہیں دکھایا لیکن مظفر آباد میں کنٹرول لائن سے کچھ ہی فاصلے پر ہندوستانی کترینہ کیف یوں ہمارے شہر میں موجود ہونا قدرے تشویش ناک ہی ہے خیر ہم نے ناشتہ کیا اور  واپس پورا راستہ طے کرکے بس اڈے پر پہنچ گئے ساڑھے آٹھ بجنے والے تھے کوسٹر تیار کھڑی تھی ہم نے پیچھے والی سیٹ جو قدرے کشادہ تھی اپنے قبضے میں کرلی اور وہاں بیٹھ گئے سامان چھت پر چڑھا دیا گیا۔
بس چلی اور انہی راستوں سے گزرتی ہوئ منزل  کی طرف روانہ ہوئ فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار منظر ایک کھڑکی میں قید ہوکر نظر آرہا تھا باہر جاتی ہوئ بہار تھی سبزہ کہیں تو بالکل سیاہی مائل سبز تھا اور کہیں مرجھایا ہوا بھورے رنگ کا البتہ نیلم کافی سبز رنگ میں بہ رہا تھابس چلی تو مجھے نیند آنے لگی بلوچ صاحب سو چکے تھے اور چودھری صاحب  کھڑکی کے ساتھ بیٹھے تھے کہ تصویریں بنا سکیں اور رانا صاحب ایک اچھے شاگرد کی طرح انکے ساتھ لگے ہوئے تھے مجھے کوئ کام نہیں تھا میں بھی اونگھ گیا سوتے جاگتے منظر دیکھتے ہم چلتے رہے  اور سوئے منزل بڑھتے رہے ایک دو جگہ بس رکی مسافر چڑھے اترے اور دوپہر ہوتے ہوتے دو بجے کے قریب ہم دواریاں پہنچ گئے چھوٹی کوسٹر نے بس کے مقابلے میں بہت کم وقت لیا۔
بس سے اتر کر ہم سب وہیں پل کے ساتھ ہی کھڑے ہوگئے کیوں کہ جیپ کو یہاں ہی آنا تھا رانا صاحب اور بلوچ بازار کی طرف جیپ کی تلاش میں چلے گئے ۔
پچھلے سال کی مقابلے میں جگہ میں کافی تبدیلی آچکی تھی کچھ موسم کا اثر تھا اور کچھ کام جو اس وقت مکمل نہیں تھے وہ اب مکمل ہوچکے تھے جیسے پل کے ساتھ دیوار کی تعمیر کا کام پچھلے سال ابتدائ مراحل میں تھا جبکہ اب وہ مکمل ہوچکا تھا دوسرے وہ درخت جو پل کے نیچے دریا کے کنارے بالکل ٹنڈمنڈ تھا اب ہرا بھرا تھا ہرا بھرا تو نہیں اپنی بہار دکھاکر اب مرجھانے کے قریب ہونے کو تھا چند ایک سفید پھول باقی تھے اور دیگر درخت بھی کچھ پھل پھول دکھا رہے تھے پل سے اور پر دیکھنے میں ایک گیسٹ ہاؤس کے برامدے میں لگا ہوا سیب کا درخت پھلوں سے بھرا ہوا تھا ہرے ہرے کشمیری سیب دل چاہا چند ایک تو توڑ کرکھا ہی لوں لیکن وہ کافی بلندی پر تھے اس لئے باز رہا۔
رانا صاحب تھوڑے انتظار کے بعد واپس آتے نظرآئے اور ان کے ساتھ ہی ایک اور  نظیر بھی یہ نظیر وہی صاحب ہیں جو پچھلی مرتبہ ہمارے آنے سے چند گھٹے قبل نکل گئے تھے اور  جن کے نہ ہونے کی وجہ سے ابرار ہمارے پلے پڑا تھا لیکن دواریاں پہنچنے کے بعد میرا دل ابرار سے ملنے کو کررہا تھا  لیکن نظیر سے ہی معلوم ہوا کہ ابرار پنڈی میں تھا خیر نظیر سے تعارف ہوا ٹریک کے متعلق سوال ہوئے دوپہر کا کھانا بھی وہی کھا لیا گیا جیپ بھی تیار ہوچکی تھی سامان لادا گیا اور پھر ہم سب بھی لوڈ ہوگئے۔
جیپ سٹارٹ ہوئ اور پل سے نیچے اتر کر اسی راستے پر چڑھ گئ جہاں سے ہم پچھلی مرتبہ گئے تھے چل پڑی اونچے نیچے راستوں پر ڈولتی اسی لکڑی کے پل پر پہنچی پہلے کی نسبت پل مزید خستہ ہوچکا تھا جیپ کے وزن سے چرچرایا اور ایک وقت آیا جب ایسا لگا کہ پل ٹوٹ جائے گا اور جیپ نالے کے تیز پانی میں بہ جائے گی لیکن ڈرائیور  صدیق نے کمال مہارت سے جیپ کو پار لگا دیا۔
دواریاں سے دومیل تک ایک پکا جیپ ٹریک بن چکا ہے اب یہ فاصلہ بس دو گھنٹے میں سمٹ چکا ہے سیری، چھک، جھبہ،د ورے بن سب جیپ میں بیٹھے گزر جاتا ہے اور تمام مناظر بھی جو اس راستے میں آتے ہیں بس ایک سرسری نظارہ ملتا رہتا ہے۔
میں اور رانا صاحب جیپ کے اگلے حصہ میں بیٹھے ہوئے تھے جبکہ باقی تینوں پیچھے  یہ ایک تین سیٹوں والی جیپ تھی یعنی ویگن کی طرز پر ایک کے پیچھے ایک سیٹیں لگا کر نو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش پیدا کی گئ تھی اور سامان  کیلئے اوپر جنگلا لگایاگیا تھا تو کافی گنجائش تھی آگے بیٹھنے سے منظر بھی صاف نظروں میں آرہا تھا کہیں کہیں سبزے کے درمیان جلی ہوئ بھوری گھاس ایسے لگ رہی تھی جیسے آگ لگی ہوئ ہو دھوپ ڈھلنے لگی تھی ساڑھے تین اور چار کے درمیان کا وقت ہوگا دھوپ چمک رہی تھی اور  درمیان میں بہتے ہوئے نالے میں سے شعائیں پھوٹ رہی تھیں ایک عجیب شوں شوں کی آواز آرہی تھی نالے کے بہاؤ کی پچھلی مرتبہ یہ نالہ بغیر آواز کے ٹنوں کے برف کے اندر اندر بہ رہا تھا پہاڑوں کے اوپر سے آتے ہوئے چھوٹے چھوٹے نالے بھی اس میں مل رہے تھے اور ٹریک پر سے گزرنے کی وجہ سے جیپ جب جب ایسے کسی بہتے پانی پر سے گزرتی چھپ چھپ کی آواز آتی ایک جگہ ایسی آئ کہ ایسا ہی ایک نالہ اوپر سے بڑی زوروں میں بہتا ہوا نیچے جارہا تھا اور اس جگہ پہاڑ کا کٹاؤ کافی زیادہ تھا  یعنی کوئ دس بارہ فیٹ اندر ایک غار جیسی جگہ بن گئ تھی جیسے ہی ہم اس جگہ پہنچے جیپ رکوالی گئے صدیق نے بھی جیپ چھوٹے چھوٹے پتھروں پر چڑھا کر جیپ اس غار کے نزدیک لیجا کر روک دی ایک ایک کرکے ہم سب باہر آگئے اور  باہر آتے ہی سفر میں پہلی مرتبہ ہماری جسموں سے ٹھنڈی یخ ہوا ٹکرائ باہر اتر کر ہم نے انگڑائیاں لیکر بدن کو سیدھا کیا نالے کے دوسری طرف جگہ پہچان میں آگئ یہ وہی جگہ تھی جہاں سے پہلی مرتبہ آتے ہوئے ہم نے کافی نیچے اتر کر ایک پل صراط کی طرح اس جگہ کو پار گیا تھا اس سے آگے دورے بن تھا جہاں ہم نے رات گزاری تھی۔
جیپ سے اتر کر تھوڑی سے چہل قدمی کی چودھری نے رانا صاحب سے پوچھا
"رانا صاحب کوئ انتظام ہے چائے بناتے ہیں ادھر سوہنی جگہ ہے بڑی"
"ہاں یا نظیر کوئ انتظام ہے ادھر چائے کا؟" رانا صاحب نے الٹا نظیر سے سوال کیا
"نہیں سر ادھر کدھر ہوگا انتظام آس پاس کوئ گاؤں بھی نہیں ورنہ ادھر سے ہوجاتا" نظیر کے اس جواب پر بلوچ کو تشویش ہوئ
"یار رانا صاحب کھانے کا کوئ سامان لیا نہیں ساتھ کھائیں گے کیا ادھر برف؟" اس سوال پر چودھری کا قہقہ گونجا کہ بلوچ کو اپنی فکر پڑگئ کھائے گا نہیں تو چلے گا کیسے "یار بلوچ ابھی دوپہر کو تونے چھتیس سو روٹیاں کھائی تھیں وہ سب ہضم ہوگئیں؟"
اور جواب میں بلوچ کے جو ایک پتھر سے ٹیک لگا کر لیٹ چکے تھے نہایت معصومانہ انداز میں گردن ہلاکر اقرار کیا جس پر چودھری نے اپنے سر سے ٹوپی اتار کر اپنے گھٹنے پر ماری "شاباش اے بھئی"
کچھ دیر ادھر ادھر بیٹھنے اور گھومنے اور چائے کی جگہ  چشمے کا پانی خوب خوب پی کر ہم دوبارہ  جیپ میں بیٹھے اور آگے چلے دورے بن سے تھوڑا ہی آگے جھگیاں آگیا اور دوسرے طرف آبادی نظر آنے لگی ان ہی گھروںمیں سے کسی ایک میں ہم نے ایک رات گزاری تھی دور سے اس گھر کی پہچان کرنا آسان نہیں تھا آبادی میں چند بچے گھوم رہے تھے اور مال مویشی بندھے ہوئے نظر آرہے تھے ذہن بار بار وہی واقعات دہرا رہا تھا جو گزر چکے تھے۔
ہم نے جھگیاں کو بھی  پیچھے چھوڑ دیا اور وہاں سے آگے ٹریک کچھ کچھ ناہموار ہوگیا چھوٹے بڑے پتھر ٹائروں کے نیچے آتے اور جیپ ڈولنے لگتی اور ناہمواری کے ساتھ ساتھ ٹریک کافی تنگ بھی ہوگیا تھا جیپ بہت کنارے پر چلنے لگی بہت نیچے رتی گلی نالہ  پوری آب و تاب سے بہ رہا تھا اور خطرہ محسوس ہوتا کہ کہ اگر ایک انچ بھی ہم ادھر ادھر ہوئے تو سیدھا اس نالے میں جاگریں گے اور اس کے بعد اللہ ہی حافظ لیکن شکر خدا کا کہ ایسا کچھ ہوا نہیں اور صدیق نے مہارت سے گاڑی کو قابو میں رکھا اور ہمیں پار لے گیا دومیل پر ٹریک کا اختتام ہوتا ہے اور وہاں ایک خیمہ بستی پہلے سے آباد تھی رنگ رنگ کے خیمے دور سے نظر آنا شروع ہوگئے تھے۔
کیمپ سائٹ پر ہمارا استقبال رئیس خان انقلابی صاحب نے کیا اور یہاں ہمارے قیام کی تمام ذمہ داری انکی ہی تھی اس وقت سائٹ پر  سات مختلف رنگوں کے خیمے ساتھ ساتھ لگے ہوئے تھے اور کچھ خیمے وہاں سے الگ کچھ دوری پر لگے ہوئے تھے اور وہاں کیا ہی خوب نظارہ تھا شام ہونے والی تھی اور بالکل سامنے والے پہاڑ کی چوٹی پر دھوپ کسی ایسے زاوئے سے پڑر ہی تھی کہ وہ بس آدھا روشن تھا اور باقی اندھیرے میں اور پہاڑ پر سبزے کے ساتھ ساتھ  پتلی پتلی نالیوں کی صورت میں جمی ہوئ برف ایسے لگ تھی جیسے چونا ڈالا گیا ہو کیمپ سائٹ پر گھاس بھوری سے ہوچکی تھی اور  اسی بھوری گھاس میں ننھے ننھے سفید، نیلے اور خون رنگ پھول بہار دکھا رہے تھے یہاں انسانی قدموں کے باعث یہ بہت کم تعداد میں باقی رہ گئے تھے اور کہیں کہیں صرف کناروں پر باقی تھے لیکن سامنے کی طرف پہاڑوں کی دوسری طرف یہ یوں لگ رہے تھے کہ انکی کثرت کی وجہ سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پورے پہاڑ پر زنگ لگ چکا ہو اور ان زنگ آلود پہاڑوں کے اورپر اتنا صاف  آسمان کہ  گمان ہوتا تھا کہ کسی پردے پر نیلا رنگ پھیر دیا گیا ہو اور اس پردے پر سفید روئ کے گالے جیسے بادل  یقین نہیں ہوتا تھا کہ اتنا شفاف آسمان بھی ہوسکتا ہے۔
 دوپہر میں جب  دواریاں سے نکلے تھے تو موسم خوشگوار تھا گرمی نہیں تھی لیکن دھوپ چبھ رہی تھی راستے میں جہاں ہم کچھ دیر کورکے وہاں خنکی تھی لیکن سردی محسوس نہیں ہورہی تھی لیکن ڈھلتی شام میں کیمپ سائٹ پر ہوا ایسی تیز ٹھنڈی تھی کہ لگتا تھا سینکڑوں سوئیاں جسم کو چھید رہی ہوں جیکٹ نکال کر پہنا   باقی تینوں بھی ادھر ادھر بیٹھے ہوئے نظارہ کررہے تھے  اچانک ہی غیب سے ایک لڑکا پیالیوں میں سوپ لئے حاضر ہوا اور ہم سب کوپکڑا کر غائب ہوگیا ایسی تیز سردی میں گرم گرم سوپ یا یخنی جو بھی تھی بہت مزا دے گئ ایک تازگی آگئ ہمیں ایک خیمہ الاٹ ہوچکا تھا جسمیں ہم چاروں کا سامان رکھا جاچکا تھا اور ہم  خیمے کے باہر ہی تختوں پر بیٹھے ہوئے تھے کہ رانا صاحب  اپنے جوتے کس کر کھڑے ہوگئے اور ہم سب سے بھی کھڑے ہونے کو کہا
"یا ابھی اندھیرا ہونے میں ٹائم ہے جب تک چھوٹی جھیل کا چکر لگا آتے ہیں"
"چلو جی بسم اللہ" بلوچ صاحب کھڑے ہوگئے
"چل یا ر مولوی اٹھ یار رانا صاحب نے آرام سے نہیں بیٹھنے دینا" چودھری صاحب نے  میرے کندھے پر زور ڈال کر اٹھتے ہوئے کہا تھا اور کھڑے ہونے کے بعد مجھے ہاتھ دیا اور کھینچ کر کھڑا کردیا

ہم چاروں اور نظیر وہاں سے اٹھ کر چھوٹی جھیل کی طرف چلنے لگے گوکہ میرا خیال تھا کہ جب تک ہم 
وہاں پہنچتے وہاں اندھیرا ہوجائے گا لیکن رانا صاحب کو یقین تھا کہ ہم روشنی میں واپس بھی آجائیں گے۔

پہلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تیسرا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

Monday, 28 September 2015

دوبارہ رتی گلی



میں ایک مرتبہ پھر مظفر آباد میں تھا گوکہ یہ میرے پروگرام کا حصہ نہیں تھا اور مجھے اس وقت کہیں اور ہونا چاھئے تھا ایسا بھی نہیں کہ میں کہیں اور کے ارادے سے نکلا تھا اور مظفر آباد جا پہنچا   بلکہ اس سال میرے پروگرام میں کسی قسم کا ٹریک کرنا شامل نہیں تھا اور میں کافی صبر (جبر)سے خود کو آمادہ کرچکا تھا کہااس سال گھر میں بیٹھنا ہے اور جو کام زندگی میں زیادہ اہم ہیں ان پر توجہ کرنی ہے لیکن میں پھر مظفر آباد پہنچ چکا تھا۔
ایک شام میں گھر میں صوفے پر لیٹا ٹی وی چینل بدل بدل کر  اشتہار دیکھ رہا تھا  تو میرے پاس ایک فون آگیا داتا کی نگری والے رانا عثمان دوسری جانب موجود تھے اور کسی دوسرے نمبر سے مجھ سے بات کررہے تھے رانا صاحب فون پر زیادہ تو عجلت میں رہتے ہیں اور جلدی کام کی بات ختم کرکے "ہور دس کی حال اے" کہ کر دل لگی پر اتر آتے ہیں فون اٹھانے پر جب سلام دعا اور حال احوال کے بعد رانا صاحب نے کہا " اور سناؤ کیا نئی تازی ہے" تو میں سمجھ گیا کہ انہوں نے بس دل لگی کیلئے فون کیاہے۔
"نئی تازی کیا ہوگی رانا صاحب بس وہی پرانی ہے"
"اچھا تو کوئ نئی کرلے"
"ایک ہو نہیں رہی آپ نئی کی بات کررہے ہیں" ہماری مراد اپنی شادی تھی
"اچھا سن مذاق چھوڑ" رانا صاحب اچانک سنجیدہ ہوگئے
"جی سے حکم"
"حکم شکم کچھ نہیں بس تو ایک کام کر  لاہور آجا جمعہ کو ہم رتی گلی جارہے ہیں تو بھی چل رہاہے ساتھ" یہ فون اتوار کی شام کو آیا تھا یعنی چھٹے دن مجھے لاہور پہنچنا تھا ایک لمحہ کو میں گھوم گیا
"اگلے جمعہ کو میں کیسے آؤنگا لاہور بھائ"
"ٹرین میں آجا یا بس میں آجا جیسے دل کرے"
"بھائ میرا مطلب تھا کہ میں ایسے کیسے آجاؤں بہت مشکل ہے میں نہیں آسکتا"
"اچھا میری بات سن میرا بھی کوئ لمبا چوڑا پرگرام نہیں ہے بس تجھے دو دن چھٹی لینی ہوگی جمعہ اور پیر ہفتہ اتوار تیری چھٹی ہوتی ہے بس  کوئ مسئلہ نہیں ہوگا تو آجا"
میں نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی کچھ ادھر ادھر کے بہانے کچھ توجیہات وغیرہ وغیرہ لیکن رانا صاحب نے فون اس نیت سے ہی کیا تھا کہ میرے ہر سوال کا جواب دیں گے اور آخر میں فیصلہ اپنے حق میں کراکر ہی دم لیں گے یعنی رتی گلی میں مجھے اپنا ہمسفر کریں گے۔
کافی وقت انہوں نے مجھے مختصر الفاظ میں پورا پروگرام بار بار سمجھانے میں صرف کیا کہ کیسے ہم سفر شروع کریں گے پہلادن کہا صرف ہوگا پہلی رات کہاں گزاری جائے گی پھر آگے سفر کیسے شروع ہوگا اور کیسے کیسے ہم  سفر مکمل کرکے واپس لوٹیں گے مجھے رانا صاحب کی پلاننگ پر کوئ شک و شبہ نہیں تھا لیکن اچانک سے خود کو سفر پر آمادہ کرلینا مشکل ہورہا تھا۔
"یار رانا صاحب میرے پاس کوئ سامان بھی نہیں ہے" میں نے آخری با ت کی
"کدھر گیا تیرا سامان"
"یار وہ زین لیکر چلا گیا"
"کون زین"
"یار میرے دفتر میں ہے مصطفیٰ کے ساتھ گیا ہے وہ میرا سب سامان لیکر چلا گیا جوتوں سمیت، رک سیک سلیپنگ بیگ میٹرس ،سٹک سب کچھ"
جب یہ فون آیا اس سے ایک روز قبل ہی مصطفیٰ صابر دفتر کے کچھ لڑکوں کے ساتھ شمال یاترا کیلئے نکلا تھا  انہوں نے بھی مجھے ساتھ ملانے کی بہت کوشش کی  لیکن میں انکے چنگل سے بھی نکل گیا تھا خیر تو ایک رات زین جو ان میں سے ایک تھامیرے گھر آیا اور میرے سامان میں سے مذکورہ بالا سامان اپنے ساتھ لیکر چلا گیا اب میں بغیر ہتھیار کا سپاہی تھا جسے جنگ پر بلایا جارہا تھا۔
"تمہارا سارا سامان میں لیکر آجاؤنگا تم بس اپنے پہننے کے کپڑے لیکر آجاؤ" رانا صاحب نے اس مشکل کو بھی حل کردیا
"اچھا سنیں تو سہی۔۔۔ مجھے گھر پر تو بتانے دیں میں امی کو بتا کر آپ کو بتاتا ہوں"
"چلو مجھے بتاؤ گھر پر بات کرکے اور سن جب تو آئے گا ناں تو پنڈی سے کراچی ڈائیوو کا ٹکٹ میری طرف سے ہوگا تیرا واپسی کا" رانا صاحب نے آفر دی ایک دو اور باتیں ہوئیں اور فون بند ہوگیا فون بند کرنے کے بعد میں گھر سے باہر نکل گیا تھوڑی دیر بے مقصد ادھر ادھر گھوم کر واپس آیا اور گھر میں داخل ہوتے ہیں مجھے کچھ یاد آگیا اور میں نے رانا صاحب کو فون گھما دیا
"رانا صاحب میرے پاس کیمرہ بھی نہیں ہے" رانا صاحب یہ سن کر غصہ ہوگئے
"اور یار ۔۔۔۔۔ تو میرا کیمرہ لے لینا اب بند کر" کہنے کو تو رانا صاحب نے کہ دیا لیکن پورے سفر میں کیمرہ نوزائیدہ بچے کی طرح سینے سے لگائے گھومتے رہے اور ہماری جو تصویریں کھینچیں وہ اب تک ہمیں دینے سے بھی انکاری نہیں ہیں تو دے بھی نہیں رہے جبکہ اپنی تصاویر روز تبدیل کر رہے ہیں ویسے مذاق ایک طرف ہم نے خود یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس سفرنامہ کے لکھنے سے پہلے نہ تو بتائیں گے اور نہ ہی کوئ تصویر لگائیں تاکہ ایک طرح کا سرپرائز ہوجائے خیر۔
اگلی صبح  ناشتے کی میز پر  ویسے تو ہم ناشتہ میز پر نہیں کرتے دسترخوان بچھا کر کرتے ہیں چلیں  اسکو ایسے کہ لیتے ہیں اگلی صبح ناشتے کے وقت میں نے امی سے کہا
"امی وہ کل عثمان بھائ کو فون آیا تھا"
"لاہور والے عثمان کا؟ پھر کوئ نیا فتور ڈالا ہوگا اسنے تمہارے دماغ میں" امی ایک دم غصہ کرگئیں میرے حلق میں نوالہ اٹک گیا
"کہیں جانے کیلئے کہا ہوگا تم سے؟"
"نہیں وہ کہ رہے تھے کہ ایک گروپ لیکر کشمیر جارہے ہیں تو میں بھی اگر چل سکتا ہوں تو چلوں" میں نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے بات آگے بڑحائ۔
 " مجھے گروپ لیکر جانے میں انکی مدد کرنی ہوگی پورے سفر کا خرچہ انکا بلکہ دوچار ہزار کما بھی لونگا۔۔۔معاونت کرنا ہوگی انکی مجھے" پتہ نہیں ان معاملات میں اتنی ڈھٹائ سے اتنا صاف جھوٹ کیسے بول جاتا ہوں میں۔
"دیکھ لو تمکو چھٹی مل جائے گی دفتر سے اور کتنے دن کا ہوگا یہ ٹور۔۔گھر میں ویسے ہی کوئ نہیں ہوتا اور تم بھی نکل جاتے ہو ہفتوں ہفتوں کیلئے" جیب سے پیسے نہ لگنے اور الٹا کچھ کما کر لوٹنے والی بات کام کرگئ میں نے امی کو سرسری سی معلومات دیں اور یہ کہ کر کہ واپسی پر آپکو مکمل معلومات دیدونگا سب معاملات کی دفتر چلا گیا۔
دفتر پہنچ کر مجھے اندازہ ہوگیا کہ معاملات گرم ہیں اور ایسے میں چھٹی چاہے ایک دن کی ہی سہی کی بات کرنا فضول ہے پورا دن چپ کرکے کام کرتے نکل گیاشام ہوئ تو پھر رانا صاحب کا فون آگیا
"ہاں بات ہوئ؟"
"گھر پر تو بات ہوگئ امی نے تو اجازت دے دی ہے لیکن دفتر میں نہیں ہوئ کل ماحول دیکھ کر بات کرتا ہوں"
"چلو خیر ہے کوئ بات نہیں تو تیاری کر انشاءاللہ ساتھ جائیں گے دونوں بھائ"
دو دن اور گزر گئے اور میں چھٹی کی بات نہیں کرسکا تب ہی میں نے ارادہ کیا کہ دفتر میں بغیر بتائے نکل جاؤں گا اور بعد میں کوئ بہانہ کردونگا  بدھ کے دن گھر آکر میں نے ایک بڑے تھیلے میں مختصر سامان باندھا اور ایک دوست سے بات کی کہ وہ مجھے صبح دفتر چھوڑ دے کیوں کہ واپسی میں دفتر سے ہی سیدھا سٹیشن جانا تھا  صبح اپنا تھیلا اٹھا کر اور جینز اور ٹی شرٹ پہن کر دفتر چلا گیا تھیلا میں نے دفتر کے نیچے ایک پان والے کے کیبن پر رکھوا دیا کیوں کہ ساتھ لیکر جانا وبال جان بن سکتا تھا شام میں گھر  پر کچھ ضروری کا م کا بہانہ کرکے جلدی نکل گیا اور پان والے سے اپنا تھیلا اٹھا کر ساڑھے چار بجے  سیدھا کینٹ سٹیشن پہنچ گیا وہاں معلوم ہوا کہ راولپنڈی کیلئے تیز گام شام پانچ بجے روانہ ہوگی ریزرویشن نہ ہوسکی اور میں صرف ٹکٹ لیکر پلیٹ فارم پر انتظار کرنے لگا  آپ اگر عادی مجرم نہیں اور کبھی کبھی چوری کرتے ہیں تو چوری کرتے ہوئے آپ کو ایسا  ہی محسوس ہوتا ہے کہ تمام دنیا کی نظریں آپ پر لگی ہوئ ہیں  مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہونے لگا کہ  پلیٹ فارم پر موجود ہر انسان مجھے عجیب نظروں سے گھور رہا ہے  سب جانتے ہیں کہ میں دفتر میں جھو ٹ بول کر اس وقت پلیٹ فارم پر ٹرین کے انتظار میں کھڑا ہوں میرے لیئے زیادہ دیر کھڑا ہونا محال ہونے لگا اور میں ادھر ادھر بے مقصد گھومنے لگا ۔
معمول کے مطابق ٹرین ایک گھنٹہ لیٹ تھی جو کہ تقریبا پونے دوگھنٹے بعد  پلیٹ فارم پر ایک ارتعاش پیدا کرتی ہوئ آگئ میرے پاس چونکہ کسی مخصوص ڈبے کی سیٹ نہیں تھے لہٰذا میں پہلا ڈبہ جو میرے سامنے آکر رہا اسی میں سوار ہوگیا ٹرین کے اندر ایک عجیب افرا تفری کا عالم تھا اور ایک بھی سیٹ خالی نہیں تھی اپنے سامان کا تھیلا بغل میں دابے میں ایک کونے میں کھڑا ہوگیا ٹکٹ چیکنگ کے دوران میں نے ٹی ٹی سے کہاکہ میرے لئے کسی سیٹ کا بندوبست کردے تو وہ بے اعتنائ سے بولا کہ فی الحال ممکن نہیں آگے سٹیشن پر چیک کرلیجئے گا اگر ہوا تو ٹکٹ بنادیں گے جب میں نے اس سے کہا کہ مجھے پنڈی تک سفر کرنا ہے اور ایسے سفر بہت مشکل ہوجائے گا تو وہ یہ بول کر کہ آپ کو پہلے خیال کرنا چاھئے تھاآگے بڑھ گیا میں دل میں ایک موٹی سے گالی دیکر دوسرے میرے جیسے دربدرمسافروں کی دیکھا دیکھی گیٹ کے ساتھ زمین پر اپنے سامان سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا محبوب سے ملاقات کیلئے سفر کی دربدری کا آغاز ہوچکا تھا۔
ملتان تک یونہی  سفر کیا دن گیارہ بجے کے قریب ملتان پہنچ کر  تین سو روپےرشوت کے عوض ایک برتھ مل گئ اور میں اپنا تھیلا سر کے نیچےد با کر سوگیا کئ گھنٹے سونے کے بعد گرمی اور حبس سے آنکھ کھلی تو معلوم ہوا ٹرین کسی بیابان میں کھڑی ہے دھوپ ڈھل چکی تھی اور سورج اپنا سفر پورا کرنے کے بعد غروب کی تیاری میں تھا گھڑی دیکھی تو چھ بجنے میں کچھ منٹ باقی تھے فون نکالا تو رانا صاحب  اس دوران کئ مرتبہ فون کرچکے  اور  میرے فون کی بیٹری بھی تقریبا مردہ کرچکے تھے انکو فون کیا تو وہ دفتر سے گھر کیلئے نکل چکے تھے اور گھر پینچتے ہی بقول انکے وہ پنڈی کیلئے روانہ ہوجاتے باقی ساتھ بھی تیار ہیں اور انکے گھر پر انکا انتظار کررہے ہیں اس وقت تک مجھے باقی ساتھیوں کا کچھ علم نہ تھا کہ کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں خیر فون پر تفصیل میں جانا مناسب نہیں تھا انہوں نے میری بابت دریافت کیا اور میں نے ظاہر ہے لاعملی کا اظہار کردیا کہ میں خود نہیں جانتا تھا کہ میں کہا ہوں۔
اسی طرح رکتے رکتے چلتے رہے رات اندھیری ہوگئ وقت مقررہ سے سات گھنٹے تاخیر سے میں پنڈی سٹیشن پر اتر گیا  یعنی رات تقریبا گیارہ بجے اور اس وقت تک میرے موبائل کی بیٹری مکمل طور پر مردہ ہوچکی تھی اب مجھے جو پریشانی لاحق تھی وہ یہ کہ رانا صاحب  کو اطلاع کیسے کروں گئے وقتوں میں لوگ چیزیں یادکرنے کیلئے انہیں لکھ لیا کرتے تھے ہمارے اساتذہ بھی ہمیں یاد کرنے کا یہی گر بتاتے تھے کہ چیزوں کو لکھ لیا کرو تاکہ وہ ازبر ہوجائیں نئے وقتوں میں ہم نے یہ سارا کام موبائل پر چھوڑ دیا   نام، پتے، فون نمبر اور دیگر معلومات بھی فون میں ہی موجود ہوتی ہیں ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی معلومات سامنے آجاتی ہیں اصل مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب فون ساتھ نہ ہو یا ہماری طرح فون کی بیٹری مردہ ہوچکی ہو بارہا پر زور ڈالنے پر بھی رانا صاحب کا فون نمبر ذہن  میں نہ آیا تب ہی میں نے بھاگ دوڑ شروع کی کہ کسی طرح فون کو چارج کرلوں اور اپنے آمد کی اطلاع کرسکوں اور میں فون اور اسکا چارجر ہاتھ میں لئے سٹیشن سے ہاہر نکلا اور  فون چارج کرنے کی سعی میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں ایک آواز سنائ دی
"اوئے فیضان" یہ رانا صاحب تھے جو ایک سفید رنگ کی  پرانے ماڈل کی ٹویوٹا کرولا سے برامد ہوئے تیزتیز قدموں سے چلتے ہوئے آئے اور مجھ سے لپٹ گئے
"یقین جان تجھے یہاں دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہورہی ہے کہ انتہا نہیں" رانا صاحب اردو کے  نیم لاہوری لہجے  میں الف پر زبر کے ساتھ انتہا کہتے ہیں مزا اور بھی دوبالا ہوجاتاہے وہیں کھڑے کھڑے خیر خیریت دریافت کرتے رہے پھر چونک کر بولے
 "تیرا سامان کدھر ہے؟"
"کون سا سامان آپ نے تو کہا تھا سامان میں لیکر آؤنگا تم خالی ہاتھ آجاؤ میں بس یہ لیکر آیا ہوں"میں نے اپنے سامان کے تھیلے کو ہوا میں جھلایا
رانا صاحب  فوری طور پر پریشان ہوگئے وہ قطعی یہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ میں واقعی ہاتھ ہلاتا پہنچ جاؤنگا اور کچھ بھی ساتھ نہیں لاؤنگا اور اسی خیال میں وہ میرے لئے کسی قسم کا سامان نہیں لائے تھے فوری طور پر ایمرجنسی نافظ ہوگئ
"جوتے توہیں ناں تمہارے پاس؟"
"آپ نے کہا تھا کہ سب سامان آپ لارہے ہیں تو میں جوتے بھی نہیں لایا بس پہنے کے دوجوڑے ساتھ لایا ہوں"
رانا صاحب نے پریشانی میں اپنا ماتھا کھجایا اور بولے چل کچھ کرتے ہیں گاڑٰ ی میں بیٹھو ابھی چلو اور میں گاڑی میں بیٹھ گیا رانا صاحب کہتے ہیں کچھ کرتے ہیں تو مطلب سب کچھ وہ خود ہی کرلیں گے۔
گاڑی کے اندر دو افراد مزید سوار تھے پچھلی سیٹ پر ایک صاحب پیلی ٹی شرٹ میں ملبوس تھے اور اپنے کیمرے پر نظریں جمائے بیٹھے  تھے میرے اندر بیٹھنے پر انہوں نے ہاتھ ملایا  اور اپنا تعارف کرایا "نوید"
اگلی سیٹ سے ایک اور ہاتھ آیا "حافظ محمد نوید" ایک لمحے یوں لگا کہ جیسے اگلی سیٹ والے صاحب پہلے والے صاحب کا مکمل تعارف کرارہے ہیں
میں نے دونوں سے ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کرایا پہلے والے نوید صاحب نے اگلے والے نوید صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا "یہ بلوچ ہے"
یہ شاید کسی قسم کی انتباہ تھی یا کیا تھا مجھے سمجھ نہیں آیا لیکن اگلی سیٹ والے بلوچ صاحب نے ایک چھوٹا سا قہقہ لگایا اور بولے "پراؤڈ ٹوبی بلوچ"
اس گاڑی میں میرے علاوہ ایک رانا صاحب تھے دوسرے کیمرے والے نوید صاحب جو چودھری  تھے پکے لاہورئے اور جب انکو معلوم ہوا کہ مجھے پنجابی نہیں آتی تو تھوڑے سے بور ہوگئے اور دوسرے حافظ محمد نوید  پراؤڈ ٹو بی بلوچ سوار تھے  جو ڈیرا غازی خان سے آئے تھےسب سے پہلے میرے سامان کا انتظام شروع ہوا  ایک اضافی بیگ جو رانا صاحب کے ساتھ تھا خالی کیاگیا ایک جیکٹ چودھری  صاحب کے پاس تھی وہ مجھے دی گئ  بلوچ صاحب نے جرابیں اور مفلر اگر ضرورت ہوئ تو میرے لئے مخصوص کردیا  گاڑی گھمائ گئ اور راجہ بازار میں ایک بند ہوتی ہوئ دوکان میں گھس کر جوتے خریدے گئے یوں میرا سامان مکمل ہوگیا چوھدی صاحب مجھے چھیڑتے ہوئے کہنے لگے
"مولوی تو اتنی دور سے آم لینے آیا ہے کوئ سامان نہیں لایا منہ اٹھا کے خالہ کے گھر آیا ہے یا ٹریک کرنے۔۔ ہیں؟"یہ جملہ انہوں نے خالص پنجابی میں ادا کیا جسے میں نے صرف کامن سینس کی مدد سے سمجھا اور جواب میں  میں نے  کہا کہ میں تو رانا صاحب کی وعدے پر آگیا ایسے ہی انہوں نے دھوکہ کردیا تو میری کمر پر کس کے دھپ رسید کرکے بولے "شاباش اے بھئ"
سامان مکمل ہوا تو سوال ہوا کہ اب سفر شروع کیا جائے اچانک رانا صاحب کو جیسے کچھ یاد آیا "اوئے تونے کھانا کھایا ہے کہ نہیں؟"
میں نے نفی میں گردن ہلائ تو گاڑی ایک ریسٹورنٹ پر رکوائ گئ اور میرے اعزاز میں سب نے دوبارہ کھانا کھایا پراؤڈ بلوچ صاحب خاموشی سے کھانا کھاتے رہے جس پر چودھری  صاحب نے  کہا کہ بلوچ کھاتے ہوئے سانس بھی روک لیتا کہ ہوا اندر چلی جائے گی تو ایک نوالے کی جگہ کم پڑجائے گی جس پر بلوچ صاحب نے لقمہ ہاتھ میں پکڑے پکڑے زور زور سے قہقہے لگائے اور آخر میں یہ کہ کر نوالہ منہ میں ڈال لیا کہ "چودھری تو بھی نا یار ڈسٹرب کرتا ہے"
کھانے اور چائے کے بعد سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا اس وقت رات کے ڈھائ بجنے والے تھے شہر کے اندر ہی ایک لمبا چکر کاٹ کر ہم مرکزی بس اڈے پر آئے اور وہاں ڈرائیور نے ٹائر چیک کرانے گاڑی روک لی رانا صاحب موقع غنیمت جان کر خود کو ہلکا کرنے کیلئے اتر گئے اور اندھیر ے میں غائب ہوگئے انکے جانے پر چودھری صاحب بھی باہر آگئے اور سگریٹ سلگا کر گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے چند سیکنڈ گزرے ہونگے کہ قدرے حیرانی کے ساتھ مجھ سے مخاطب ہوئے اور بولے
"او مولوی تو واقعی بغیر سامان کے ٹریک پر نکلا تھا گھر سے؟" میں نے اثبات میں گردن ہلائ تو دوبارہ ایک دھپ کمر پر رسید کی "شاباش اے بھئ"
جب سفر دوبارہ شروع ہوا تو اس وقت رات کے تین بجے تھے راولپنڈی کے آخری چوک پر آئے اور آخری چیز جو روشنی میں تھی وہ سڑک کے دائیں جانب لگا ہوا بورڈ تھاجس پر جلی حروف میں مری لکھا ہوا تھا اور تیر کا نشان سیدھا چلے جانے کا اشارہ کر رہا تھا۔
گاڑی کے اندر مدھم آواز میں نصرت فتح علی خان صاحب کی آواز میں کوئ غزل لگی ہوئ تھی اور اگلی سیٹ سے بلوچ صاحب کے دھیمے خراٹوں کی آواز آرہی تھی اور گاڑی کے اندر کی بتی گل تھی میں تھوڑی دیر میں غنودگی میں چلا گیا کبھی آنکھ کھلتی تو گاڑی کی ہیڈ لائٹ میں مری کے چیڑ کے درخت ہیولوں کی صورت گزرتے ہوئے نظر آتے کسی موڑ پر نیچے وادی میں جلتے بجلی کے بلب چھوٹے چھوٹے ٹمٹماتے جگنوؤں کی مانند نظر آتے او ر کبھی غائب ہوجاتے ہاں البتہ ان علاقوں کی مخصوص مہک  پوری فضا میں موجود تھی ایسے ہی اونگھتے سوتے جاگتے اندھیرے میں مری کو ہم نے پیچھے چھوڑ دیا رات کے سیاہ اور سفید دھاگے جدا ہوئے اور آسمان پر سرمئ سویرا ابھرنے لگا ایسے میں جو آواز سب سے پہلے گونجی وہ آذان کی آواز تھی آذان کی آواز کان میں پڑتے ہی چودھری نے شورمچا دیا "روکو روکو روکو گاڑی روکو" سڑک کے کنارے گاڑی رک گئ ہم سب گاڑی میں بیٹھے رہے یہاں تک کہ آذان مکمل ہوگئ ایک انجانے مقام پر فرحت دیتی ہوئ خنک ہوا میں آذان کی آواز نے ہمیں یوں جکڑا کہ ہم گاڑی سے باہر آئے انگڑایاں لیکر اپنے جسموں کو سیدھا کیا  پاس ہی کہیں ایک پہاڑی جھرنے کے بہنے کی آواز آرہی تھی بلوچ نے اندھیرے میں اسے دریافت کیا اور ہم سب نے باری باری اسی چشمے سے وضو کیا اور اس مسجد کو تلاش کرکے داخل ہوگئے اس روز فجر کی نماز میں اس مسجد میں امام اور موذن صاحب کے علاوہ داخل ہونے والے نمازی بس ہم پانچ ہی تھے۔