Monday, 24 August 2015

ہنگول نیشنل پارک بلوچستان۔ ایک سفر عجب دنیا کا

تصویر فیضان قادری

رات کی تاریکی میں ایک سیاہ اور ہموار سڑک پر ہماری بس چلی جارہی تھی بس کے باہر باندھا گیا پاکستانی پرچم پھڑپھڑ رہا تھا اور اندر سناٹا زیادہ تر مسافر سوئے ہوئے تھے اور جو سوئے ہوئے نہیں تھے وہ یا تو خاموش تھے یا اونگھ رہے تھے بس کے ساؤنڈ سسٹم مسلسل کبھی آہستہ اور کبھی تیز آواز میں ہندوستانی گانے بجا رہا تھا یہ چودہ اگست کی رات تھی اور ہماری بس براستہ مکران کوسٹل ہائے وے کنڈ ملیر کے ساحل کی طرف رواں دواں تھی۔

میرے ساتھ تین اور افراد تھے مصطفیٰ صابر، وسیم احمد اور عمر رشید جو لوگ میرا لکھا ہوا پہلے برداشت کر چکے ہیں وہ مصطفیٰ سے واقف ہونگے لیکن جنہوں نے نہیں پڑھا ان کیلئے مختصر یہ تینوں افراد میرے دفتر کےساتھی ہیں۔

بلوچستان کا نام سنتے ہی اکثر لوگوں کے ذہن میں جو نقشہ آتا ہے وہ یہی ہے کہ جیسے ہی آپ کراچی سے نکل کر بلوچستان میں داخل ہونگے سیاہ ڈھاٹا باندھے ایک یا زیادہ افراد آپ کو روک لیں گے آپ کا سارا قیمتی سامان لوٹ کر آپ کو جان سے مار کر آرام سے وہیں کرسیاں ڈال کر بیٹھ جائیں گے اور آپ کے پیچھے آنے والوں کا انتظار کریں گے اس دوران وہ چائے پیتے رہیں گے چرس کے سوٹے لگائیں گے اور تاش کھیلتے رہیں گے جب تک کہ دوسرا کوئ شکار ادھر نہیں آنکلتا اور شاید یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کا نام آتے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اور آپ کو بھی منع کرتے ہیں کہ آپ خودکشی کا ارادہ ترک کردیں اور گھومنے کا اتنا ہی شوق ہے تو مری وری چلے جائیں وہاں کم از کم جان محفوظ رہے گی۔

اندرون سندھ کے بارے میں بھی عام رویہ یہی ہے کہ وہاں ہر جگہ ڈاکو بیٹھے ہوئے ہیں اور بس انتظار میں ہیں کہ کب آپ تشریف لائیں اور کب وہ آپ کو لوٹ کر گولی ماریں۔

اگر ایسا واقعی ایسا ہوتا تو میں ان علاقوں سے واپسی کے بعد ان سطور کو لکھنے کے قابل نہ ہوتا تو ضمانت میں میں خود کو پیش کرتا ہوں۔

میں ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا باہر اتنا ادھیرا تھا کہ صرف بس کی ہیڈ لائٹ سے پڑنے والے دائرے کے اندر جتنا منظر تھا وہ نظر آرہا تھا یا سامنے سے آتی ہوئ گاڑی کی ہیڈ لائٹ ڈرائیور خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا جبکہ اسکا ساتھی (کو پائیلٹ) جو درمیان میں اس لئے بیٹھا تھا کہ ڈرائیور سے باتیں کرے تاکے اسے نیند نہ آئے مسلسل مجھ سے باتیں کئے جارہا تھا بلوچی لہجے کی اردو اور بات کرنے کا خاص انداز اور ہر بات میں "اڑے" کا اڑنگا لگا کر معنی گرانا ویسے تو بڑا اچھا لگتا ہے لیکن اسکا موضوع کچھ ایسا تھا کہ مجھے الجھن ہونے لگی

"فے زان بھائ آپ کدھر کدھر گھوما ہے"

جواب میں میں نے دوچار جگہیں بتادیں

"واہ آپ تو خوب گھوما ہوا ہے" ایک لمحے کا وقفہ لیا اور دوبارہ بولا" گھوما ہوا مطلب یہ والا نہیں "اپنی کن پٹی پر فون ڈائل کرنے کے انداز میں انگلی گھماتے ہوئے سمجھایا "مطلب گھوما پھرا ہوا ہے"

جواب میں میں نے ایک قہقہ لگایا 

"صرف مولک میں ہی گھوما یا باہر بھی گیا کبھی"

"ہاں گیا باہر بھی" میں نے جواب دیا "کہاں کہاں گیا"

"بس دوبئی ،سعودیہ، عمان وغیرہ۔۔۔ بحرین بس"

"ایران نہیں گیا یہ برابر میں ہے"

"نہیں ایران نہیں گیا ویسے برابر میں تو انڈیا بھی ہے"

"اڑے چھوڑو انڈیا منڈیا وہ کافر کا مولک ہے ایرا ن جاؤ"

"مسلمان ملک تو افغانستان بھی ہے اور برابر میں بھی"

"اڑے ادھر جنگ لگا ہواہے ۔۔۔طالبان تمہارا گلاں کاٹ کے رکھ لیگا باقی کا سمندر میں پھینکے گا"

"کون سے سمندر میں پھیکے گا" افغانستان کے سمندر میں پھینکا جانا بھی اچھا تجربہ ہوگا

"آپ کو کوئ فرق پڑجاوے گا کدھر میں بھی پھینکے"

میں کچھ دیر خاموش رہا تو پھر سوال کیا"آپ گوادر بھی نہیں گیا فے زان بھائ"

"نہیں گوادر ابھی تک نہیں گیا لیکن جانے کی خواہش ہے"

"اڑے خواہش مواہش چھوڑو چلو گوادر ہم لوگ لوکل ہے ادھر کا گوادر ہمارا مولک ہے"

"آپ کب جاؤ کے گوادر مجھے بتانا موقع ہوا تو ضرور چلوں گا"

"ابھی اگلے چار دن میں جارہا ہوں آپ اپنا نمبر دو دفون کا ہمارا گاؤں ہے آپ کو لیکر جائیں گے ساتھ میں ادھر سارا خرچہ ہمارا ذمہ آپ کو کھانا پینا گھر بھی ہے اپنا ہوٹل موٹل کا ٹیشن نہیں ہے آپ کو کوئ"

"آپ گوادر چلو ساتھ پھر وہاں سے آپ کا راہداری بنوا کر آپ کو ایران لیکر جائیں گے"

"کیا بنوا کر"

"راہداری آپ کا شناختی کارڈ رکھوا کر آپ کا ایران کیلئے انٹری پرمٹ بنے گا پاکستان ڈی سی بناکردیگا اس پر آپ ایران جاؤ گھومو پھرو پھر ادھر سے واپسی میں اپنا شناختی کارڈ اٹھاؤ اور جاؤ"

یعنی کہ کوئ بات ہی نہیں نہ ویزا نہ پاسپورٹ اور آپ کے پاس جو شناخت ہے وہ بھی آپ سے لیکر ایک کاغذ پکڑا کر آپ کو سرحد پار ایک دوسرے ملک بھیج دیاجائے اور وہاں آپ گھومو پھرو کوئ مسئلہ نہیں اسکے بعد میری اس اسے اسی موضوع پر بات ہوتی رہی وہ مجھے قائل کرتا رہا یہ بتاتا رہاکہ وہ کتنی بات ایسے گیا ہے اور کچھ نہیں ہوتا وہاں اسکے جاننے والے ہیں سرکاری گاڑی میں گھومیں گے خیر بہت دیر اسی پر بحث کرتا رہا آخر میں نے اسکے منہ پر بڑی بڑی دو تین جماہیاں لیں اور سیٹ کی پشت سے گردن ٹکا کر آنکھیں موند لیں پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے میرے ساتھ دفتر ی امور پر بات چیت ، بحث اور غیبت میں مشغول تھے مجھے خاموش ہوتا دیکھ کر عمر نے پیچھے سے ہی پوچھا 

"ابے تو کیا لگا ہوا ہے اسکے ساتھ؟" عمر رشید ایک بزلہ سنج اور شوخ طبیعت کا مالک انسان ہے جو ہر کسی سے بغیر عمر و مرتبہ کے مذاق یا جملہ بازی کرسکتا ہے پورے دفتر میں سب اس بات سے خوف کھاتے ہیں کہ ان کے بارے میں کوئ بھی ایسی بات جس میں مزاح کا عنصر ہو کسی کو بھی پتہ چل جائے عمر کو پتہ نہ چلے کیونکہ یہ کبھی بھی کسی کا بھی ریکارڈ لگا سکتا ہے۔

"یہ مجھے ایران سمگل ہونے کیلئے قائل کررہا ہے" میں نے کہا

"تو کب جارہے ہو؟؟ میں نے خاموشی اختیار کی اور اسی طرح سونے کی کوشش کرتا رہا اور شاید میری آنکھ بھی لگ گئ یا میں غنودگی میں تھا اور میری آنکھ تب کھلی جب ہماری بس نے سامنے سے آتے ہوئے ایک ٹرک کو بہت خطرناک انداز میں کاٹا اور اسکے بعد مجھے نیند نہیں آئ۔

ہمیں اس سفر میں کل تقریبا دوسو چون (254) کلومیٹر کا سفر طے کرنا تھا اور اتنا ہی واپسی کراچی سے براستہ حب چوکی بوچستان میں داخلے کے بعد حب، وندر، اگور اور ہنگول اس سے آگے کنڈ ملیر کا ساحل اور پھر بوزی پاس سے پہلے پرنسس آف ہوپ تک اور وہاں سے واپسی۔

کنڈ ملیر کےساحل تک سفر ہے اور اس سے آگے "اصل "سفر ہے جو یہ سفر کر چکے ہیں وہ میری بات سے اتفاق کریں گے اور جنہوں نے نہیں کیا وہ تھوڑا سا صبر کریں آگے اس بارے میں معلومات آنے والی ہیں۔

وندر سے آگے ایک مقام زیرو پوائنٹ آتا ہے یہاں سے راستہ دو لخت ہورہا ہے ایک خصدار اور کوئٹہ کی طرف اور ایک ہنگول کی طرف جہاں ہماری بس نے سامنے سے آتے ہوئے ٹرک سے آمنا سامنا کیا وہ جگہ زیرو پوائنٹ سے تھوڑا پہلے تھی اور یہاں ہمارا سٹاپ تھا تمام بسیں رک گئیں دونوں ڈرائیور اتر کر غائب ہوگئے میں بس کے دروازے کے ساتھ کھڑا ہواتھا میری والے بس میں پچھلی سیٹ پر ایک باریش صاحب بیٹھے ہوئے تھے وہ بھی باہر ہی کھڑے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا "آپ پہلے آئے ہیں یہاں" "جی"میں نے جواب دیا تو کہنے لگے بڑی ہمت ہے آپ کی دوبارہ جارہے ہیں میں نے پوچھا کہ انکو مزہ نہیں آرہا تو انہوں نے جواب میں کہا " ارے بھی میں تو بیزار ہوگیا ہوں بس یہ ہماری بیگم ہیں نا انکوہی شوق ہے ہر وقت گھومتے رہنے کا میں نے کہا کہ بھی سمند ر ہی دیکھنا ہے تو کراچی میں کم ہیں ساحل لیکن نہیں بس اتنا لمبا سفر کرکے ساحل دیکھنا ہے میری توبہ ہے آئندہ جوآیا ادھر کبھی"

میں نے انکو انکے حال پر چھوڑا اور پاس بنے چائے کے ہوٹل میں آگیا باقی مسافر بھی یہاں ہی جمع تھے ہمارے ڈرائیور حضرات غائب تھے ہوٹل کے ساتھ ایک جھونپڑا سا بنا ہوا تھا اندر جھانکا تو دونوں وہاں بیٹھے بارے بارے سوٹے لگارہے تھے اور ایک ناگوار بو پھیلی ہوئ تھی بات واضح تھی بغیر کسی ابہام کے

مجھے دیکھ کر ڈرائیور عبدل وہاب بولا" اڑے آنکھیں بند ہورہا ہے ابھی ہمارا چوبیس والٹ کا بیٹری اڑتالیس والٹ کا ہوجائے گا" اور یہ کہتے ہوئے سگریٹ میری طرف بڑھائ " یہ لو آپ بھی لگاؤ" میں نے انکار کیا اور باہر آگیا۔

کچھ دیر میں قافلہ دوبارہ چلا اور اب کی بار عبدالوہاب واقعی راکٹ ہوچکا تھا اور بس کو بھی جہاز سمجھ کر اڑا رہا تھا لیکن چونکہ پورے قافلے کو ایک ساتھ سفر کرنا تھا اس لئے عبدالوہاب کی مشکیں کسی گئیں اور تین میں سے ایک بس ہم سے آگے آگئ اور راستہ روک کر ہمارے آگے چلتی رہی عبدالوہاب پیچ وتاب کھا کر صبر کرگیا اور گٹکا منہ میں ڈال کر خاموشی سے ایک ٹانگ سیٹ پر رکھ کر بس چلاتا رہا۔

کچھ دیر میں روشنی ہوئ تو ایک عجیب منظر تھا سڑک کے دونوں طرف جھاڑیاں اور درخت تھے وہ تمام کے تمام ایک طرف پیلے پیلے پھول لگےہوئے تھے اور دوسری طرف سے بالکل گنجے ایک پتہ بھی نہیں ایسا شاید کسی زور دار آندھی کی وجہ سے ہوا ہوگا اور یہی منظر تمام راستے ساتھ رہا سورج نکل آیا تو تیز دھوپ پھیل گئ اور سیاہ سڑک سورج کی روشنی کو منعکس کرنے لگی تمام منظر ایک اوور ایکسپوز تصویر کی طرح ہوگیا ہم نے آنکھوں پر دھوپ کے چشمے چڑھا لئے۔

صبح ساڑھے چھ بجے ہم کنڈ ملیر ساحل پر پہنچ گئے۔

کنڈ ملیر کا ساحل پاکستان کے خوبصورت ترین ساحلوں میں سے ایک ہے صاف شفاف پانی اور صاف ساحل لیکن جب سے عوام کا رجحان اس طرف بڑھا ہے بس تو اس سے آگے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے بس کچھ سالوں کی بات ہے ہر جانےوالا سیاح اپنا قومی فریضہ ایسے ہی ادا کرتا رہا تو بہت جلد ہی وہاں چھوڑی چھوٹی کچرے کی پہاڑیاں نظر آنا شروع ہوجائیں گی یہ تو ہمارا عام رویہ ہے افسوس کی کوئ بات نہیں۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کی بات ہوتی ہے یا عام طور پر سیاحت کی بات کی جاتی ہے تو شمالی علاقہ جات کو خاص توجہ دی جاتی ہے قدرتی حسن سے مالا مال وادیاں چاہے کوہ مری ہو یا وادئ نیلم یا پھر گلگت بلتستان کی جنت ارضی جہاں کوہ ہندو کش، قراقرم اور ہمالیہ کے طویل پہاڑی سلسلے اور انہی میں کے ٹو، نانگا پربت یا راکاپوشی کے حسین پہاڑ بھی ہیں اور دیومالائ حسن کا حامل ویوسائ کا میدان اور فیری میڈوز کا حسین سبزہ زار بھی اور وادئ کاغان اور جھیل سیف الملوک بھی اور ان سب کے علاوہ پاکستان کے شمال میں ہر ہر قدم پر سبزہ اور جھیلیں پھول اور درخت آپ کا استقبال کرتے ہیں لیکن کیا حسن صرف سبزہ جھیلیں اور پہاڑہی ہیں؟ کیا قدرتی حسن کا مطلب صرف پھول جھرنے اور آپشاریں ہی تصور کی جاتی ہیں یا کچھ اور بھی اس معنی میں تصور کیا جاسکتا ہے۔

پاکستانی مصنفین نے بھی اگر کتابیں لکھیں تو شمال پر صرف سلمان راشد صاحب ہی ہیں جن کے کئ بلاگز اور تحاریر سندھ اور بلوچستان کے حوالے سے ملتی ہیں اور فوٹوگرافر حضرات کا رجحان بھی ادھر ہی رہا نوے فیصد ڈاکومنٹریز بھی جو بنیں تو شمالی علاقہ جات پر مجھے یاد ہے پاکستان ٹیلیوژن پر شام کے وقت ایک پروگرام "فوڈ اینڈ ٹریول آف پاکستان" کے نام سے آیا کرتا تھا جسکی میزبانی ایوب کھوسہ صاحب کیا کرتے تھے بنیادہ طور پر یہ پروگرام بلوچستان کیلئے مخصوص تھا اور دور افتادہ وادیوں اور قبیلوں اور انکے روایتی کھانوں کے بارے میں ہوا کرتا تھا اور اسی پروگرام نے میرے اندر بلوچستان دیکھنے کی ایسی آگ لگائ جو ابھی تک جل رہی ہے بہت ہی کم موقع مل سکا خیر اور سندھ کے حوالے سے بھی مجھے پی ٹی وی کا ایک پروگرام یاد پڑتا ہے جو پروفیسر عبد الرؤف نامی ایک صاحب کیا کرتے تھے اور اسکی صرف چند ہی اقساط تھیں وہ بھی ٹھٹہ، مکلی، اور کینجھر جھیل تک ہی محدود تھیں خیر یہ میرا شکوہ نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوتا رہا لیکن شاید یہی وجہ ہے کہ عوام الناس کا رجحان بھی شمال کی طرف رہا اور دوسرے علاقے خصوصا صوبہ سندھ اور بلوچستان کی طرف دھیان نہیں دیا گیا لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔

صبح صبح ساحل کی ٹھنڈی ہوا نے جب ہمارے بدنوں کو چھوا تو ایک تو سب تازہ دم ہوگئے دوسرے سب کی بھوک خوب چمک اٹھی اور کراچی کے محاورے کے مطابق"کتے کی طرح بھوک لگ رہی تھی" اب مجھے نہیں معلوم کہ کتے کو کیسے بھوک لگتی ہے لیکن اگر ویسے ہی لگتی ہے جیسے ہمیں لگی تھی تو واقعی بڑی کتی بھوک ہے تو ہمارے میزبان جو ہمیں اپنی ذمہ داری پر لائے تھے وہ ہمیں اس کتی بھوک میں فوری ناشتہ فراہم کرنے سے قاصر ثابت ہوئے بلکہ بے بس ثابت ہورہے تھے ہائ وے کے ساتھ ہی ساحل پر ایک "بیچ ویو ریزارٹ ہوٹل" بنا ہوا ہے اسکی واحد خصوصیت ساحل سمندر پر ہونے کی وجہ سے سمندر کا نظارہ ہے اب ساحل پر ہو سمند ر بھی نہ دکھے تو تف ہے لیکن چلیں خیر بیٹھنے کی جگہ ہے ایک پکی چھت ہے ٹیبل اور کرسیاں لگی ہوئ ہیں پہلے پہل بسوں سے ان لوڈ کرکے ہمیں یہاں بٹھایا گیا کہ ناشتہ کریں اور پھر جو کرنا ہے کریں لیکن ایک توا جو باہر کھلے آسمان تلے لگاہوا تھا درجن بھر لکڑیاں ڈالنے کے بعد بھی جب گرم نہ ہوا اور جب یہ معلوم ہوا کہ پہلے انکو ناشتہ دیا جائے گا جنکی بکنگ پہلے سے آئ ہوئ ہے تو اعلان ہوا کہ جوکرنا ہے کرلیں پھر ناشتہ کریں اس اعلان پر ہال میں سے کئ ایک لوگ اٹھ گئے اور جب وہ سرخ سرخ آنکھوں کے ساتھ واپس آئے تو وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں تھے بس مسکراتے رہ گئے۔

ناشتے کے انتظار میں باہر توے کے گرد ایسے رش لگا ہوا تھا جیسے سڑک پر کسی کا ایکسیڈنٹ ہوجانے پر لگ جاتا ہے یعنی کرتا کراتا کوئ کچھ نہیں ہے بس گھیر کر کھڑے ہوجاتے ہیں یہاں بھی یہی ہورہاتھا درجن بھر سے زیادہ لڑکے لڑکیاں توے کوگھیر کر کھڑے تھے اترتے ہوئے پراٹھوں کو دیکھ کر اپنی بھوک بہلارہے تھے۔

ناشتے کے انتظار میں بیٹھا بیٹھا جب بیزار ہوا تو باہر نکلا ہوٹل کے باہر ایک میلا لگا ہواتھا دس کے قریب چھوٹی بڑی بسیں اور اسی حساب کے گاڑیاں پارک تھیں ان کے علاوہ نوجوانوں کی ایک خاصی بڑی تعداد اپنی موٹرسائیکلوں پر وہاں موجود تھی بائیں طرف دیوار پر ایک ہاتھ سے بنی برقع پوش خاتون کی تصویر تھی یعنی دیوار پر کوئلے سے بنائ گئ تھی اور لکھا تھا "لیڈیز واش روم" اور ایک تیر کا نشان راستے کی آگاہی کیلئے بنا ہوا تھا تیر کے نشان کے دوسری طرف مردانہ واش روم تھے جس کی نشاندی کیلئے کوئ نشان یا تصویرنہیں تھی گویا کہ راستے الگ الگ تھے لیکن بیچ کی کاغذی دیوار ایک ہی تھی فرق صرف اتنا تھا کہ مردانہ استراحت خانوں کے سامنے ایک بلوچ بچہ کرسی ڈال کر بیٹھا تھا اور انہیں استعمال کرنے کے اپنی مرضی سے پیسے وصول کررہا تھا جیسے کہ کوئ کم عمر لڑکا ہے اور بال بچے دار نہیں لگتا تو وہ دس یا بیس روپے وصول لیگا لیکن اگر عمر کچھ زیادہ لگے یا بندہ شادی شدہ لگے تو پھر وہ پچاس روپے وصول لیگا کہ آپ کے ساتھ لیڈیز ہوگا ادھر کوئ پیسہ نہیں لیتا وہ بھی ادھر لیگا ایک صاحب سے جب زیادہ پیسے وصولے تو انہوں نے اعتراض کیا کہ جتنے پیسے تونے نکالنے کے لئے ہیں اتنے کا تو میں نے کچھ کھایا بھی نہیں تھاتو بچے نے جواب دیا کہ ادھر اپنا لیڈیز کو بھیج دو ادھر کوئ پیسہ نہیں ہے تو وہ صاحب بولے کہ انکے ساتھ کوئ لیڈیز نہیں ہے اس پر بچے نے یہ کہ کر بات ختم کردی کہ اسمیں تمہارا قصور ہے اس جگہ پر گھٹن اور تعافن اس قدر ہے کہ تھوڑی دیر کھڑا ہونا محال تھا۔

اس باتھ روم سے تھوڑا آگے ایک طرف ہوٹل کا کچا باورچی خانہ ہے جوکہ اینٹوں سےگھیر کر بنادیا گیا ہے اور چھت پر چھپر ہے اسی کے ساتھ ہی دودھ کے خالی ڈبے، چائے کی پتی، بسکٹ کے ریپر کولڈ ڈرنک کے بوتلیں اور دیگر کچرا ڈھیر کی صورت جمع ہورہاہے جسکی صفائ کا کوئ انتظام نہیں باتھ روم کی نکاسی کا بھی کوئ انتظام نہیں ہے اور استعمال شدہ پانی تھوڑی دور پر ساحل پر نکال دیا جاتا ہے ۔

باہر گھوم پھر کر واپس آیا تو اتنا وقت گزر چکا تھا کہ ہال کے اندر ناشتہ بانٹا جارہا تھا پراٹھا اور انڈا اور ایک گلاس چائے ناشتے کے بعد بھی پیٹ میں بہت سی خالی جگہ بچ رہی اور ہم نے بیرے سے کہا کہ اب ہمیں ہمارے خرچ پر کچھ کھلادے تو اس نے اول تو ہمیں بہت بیزاری سے دیکھا پھر کھڑکی سے باہر توے کی طرف اشارہ کرکے بولا پہلے سب کا آرڈر ہوگا پھر آپکا آرڈر لگے گا یہ سن کر ہمارے پیٹ ویسے ہی بھر گئے۔

بات اگر کریں ٹریول اینڈ ٹورزم انڈسٹری کی تو پاکستان میں حکومتی سطح پر کوئ خاطر خواہ پزیرائ نہیں لیکن پرائیوٹ ٹور آپریٹرز ہی ہیں جن کی وجہ سے یہ اب تک زندہ ہے انفرادی طور پر اب بھی کافی بڑی تعداد سفر کرتی ہے لیں عموما فیملیز ٹور آپریٹرز کے ساتھ سفر کرنا پسند کرتے ہیں کہ اس میں ذاتی طور پر کوئ سر درد نہیں ہوتا ساری ذمہ داری اس شخص کی ہوتی ہے جو اس سفر کا آرگینائزر ہے یعنی ٹراسپورٹ رہائش اور کھانا پینا تو جہاں اس کاروبار میں پیشہ ور لوگ ہیں وہیں کچے بچے بھی آگئے ہیں اور فیس بک کے عام ہونے کے بعد سے ایک بہت بڑی تعداد ایسے کچے بچوں کی اس دھندے میں آگئ ہے جن کا واحد مقصد پیسا کمانا ہے اور یہ کوئ بری بات بھی نہیں لیکن جن لوگوں کو آپ اپنے ساتھ لیکر جارہے ہیں ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھنا بھی ان کی ذمہ داری میں شامل ہے جہاں آپ ان سے پیسے نکلوا کر انکو لےکر جارہے ہیں اس جگہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنا بھی اسی ذمہ داری میں شامل ہے جو کام آپ کررہے ہیں اس بارے میں مکمل معلومات ہونا بھی بہت ضروری ہے لیکن ایسا دیکھنے میں بہت کم ہی آتا ہمارے ساتھ بھی ایسے ہی کچے بچے تھے لیکن وقت گزرنے پر یہی کچے بچے بڑے ہوجائیں گے بس انکو کچھ وقت دینا چاھئے لیکن درست رہنمائ بھی ضروری ہے یعنی گروپ ممبران سے جتنا پیسا لیا جائے اسکا کم از کم آدھا تو ان پر خرچ کرہی دیا جائے باقی آدھا آپ بچا بھی لیں تو کوئ مضائقہ نہیں مقصد کچے بچوں پر تنقید نہیں بس درست سمت میں رہنمائ کی کوشش ہے ویسے بھی ہم تو اب رانا صاحب کے ساتھ سفر کرکر کے اضافی اشیاء کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ جہاں ایک سے کام چل سکتا ہو وہاں بھی چار چار لیتے ہیں مبادہ کہیں کم نہ پڑجائیں یعنی حساب لگائیں تین بندوں کیلئے چھ کلو مرغی یعنی کہ ۔۔۔۔اندازہ کرو۔

ہم رات گئے کراچی سے چلے اور صبح صبح جو کنڈ ملیر پہنچ گئے تو کچھ تو اسکا سہرا عبدالوہاب کوجاتا ہے لیکن ایک بہترین سڑک کی موجودگی کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مکران کوسٹل ہائے وے جسکا افتتاح سن 2002 میں جناب جنرل مشرف صاحب کے دور میں ہوا اور تین سال کے قلیل عرصہ میں مکمل ہوا چھ سو تریپن (653) کلومیٹر طویل اس شاہراہ کو بنانے کا بنیادی مقصد اول تو یہ تھا کہ کراچی اور گوادر پورٹ جو کہ سن 1990 سے التوا کا شکار تھی کے درمیان بہتر زمینی راستے کا قیام عمل میں لایا جائے کیوں اب جو سفر باآسانی چھ سے سات گھنٹوں میں طے پاجاتا ہے وہ کوسٹل ہائے سے پہلے کم از کم دو سے تین دن کا اور مشکل ترین سفر ہوا کرتا تھا دوسرا راستہ کراچی سے براستہ کوئٹہ گوادر کیلئے اختیار کیا جاتا جس کے بہتر حالت میں ہونے کے باوجود طوالت کے باعث وقت اتنا ہی درکار ہوتا اس شاہراہ کے قیام کے بعد اب گوادر شہر اور اسکے علاوہ پسنی ، اوڑمارہ اور لیاری بھی پورے پاکستان سے زمینی راستے سے جڑ چکے ہیں اور ساحل مکران سے حاصل ہونے والے سمندری حیات کی ترسیل ملک بھر میں اور اسکے بعد ملک سے باہر جانے میں کافی ہمواری میسر ہوئ ہے اور یہ شاہراہ ان شہروں کی ترقی کی وجہ بھی بنی ہے یہ بات ویسے تو سب جانتے ہی ہیں لیکن پھر بھی یاددہانی کیلئے بتادی جاتی ہے کہ اس کی تکمیل دوست پڑوسی ملک چین کے تعاون سے عمل میں آئ آخر کو چین ہمارا بڑا بھائ ہے دیکھ ریکھ کی ذمہ داری نیشنل ہائے وے اتھارٹی کی ہے۔

ایران سے بذریعہ لانچ سمندری راستے سے ایرانی پٹرول اور ڈیزل پاکستان میں سمگل کیا جاتا ہے اور ملک بھر میں ترسیل کیلئے اسی شاہراہ کا استعمال کیا جاتا ہے اسی لئے جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کرکے اس کے سد باب کی کوشش کی گئ ہیں تمام ہی اہم مقامات پر چکنگ کی جاتی ہے لیکن لانے والے قیامت کا ذہن رکھتے ہیں کہ لے ہی آتے ہیں شہر قائد میں جگہ جگہ سڑک کنارے یہ ایرانی پٹرول قدرے ارزاں قیمت پر مل جاتا ہے جو کہ معیاری نہ ہونے کہ وجہ سے استعمال کرنے والے کی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی ایسے کی تیسی کرتا رہتا ہے خیر یہی جگہ جگہ چیک پوسٹیں اور فوج اور رینجرز کی موجودگی کہ وجہ سے یہاں لوٹ مار کے واقعات کافی کم ہیں اور امن امان ہے یعنی سفر کرنے میں جان کا خطرہ نہیں ہے۔

مکران کوسٹل ہائ وے کا قیام بلا شبہ ملکی اور خاص کر اس سے جڑے ہوئے شہروں اور یہاں کی عوام کی ترقی کیلئے ایک احسن قدم ہے۔

خیر تو ہم کنڈ ملیر کے ساحل پر موجود تھے اور ناشتے سے فارغ ہوکر ہم نے ساحل پر چلے گئے اور ایک کراچیائیٹ ہونے کہ وجہ سے سمندر سے ہمارا رشتہ کافی گہرا ہے اور ہر کراچی والے کی طرح ہمیں بھی سمندر دیکھ کر اسمیں چھلانگ لگانے کا دل کرنے لگتا ہے بچپن سے اب تک پکنک کے نام پر ہم سمندر کا رخ کرتے آئے ہیں تو دلوں میں سمندر کا خوف نہیں اور ویسے بھی اتنے خوبصورت اور صاف ستھرے ساحل کو دیکھ کر تو یہ لازم ٹھہرا تو دوچار ڈبکیاں لگانے کے بعد ہی باہر آئے۔

اس سے پہلے جب میں یہاں آیا تھا تو وہ دسمبر کا مہینہ تھا پانی کا رنگ گہرا نیلا اور آسمان پر سائیبرا سے نقل مکانی کر کے آنے والے پرندوں کے غول کے غول منڈلارہے تھے اور چونکہ دسمبر میں مچھلی کا شکار جائز ہوتا ہے تو گہرے سمندر میں کشتیاں کافی بڑی تعداد میں موجود تھیں مئ سے اگست چونکہ مچھلی کے شکار پر ممانعت ہوتی ہے اس لئے اس مربتہ کشتیاں بھی نہیں تھیں اور آنے والے پرندے واپس جاچکے تھے آسمان جوکہ گہرا نیلا تھا اب مٹیالا اور گہرا نیلا اور سبز پانی اب گدلا اور سفید جھاگ والا ہورہا تھا انسانی عادت ہے کہ چیزوں کو موازنے میں دیکھتا ہے تو میں نے بھی موازنہ کیا اور آج کا پھیکا ساحل مجھے اس قدر نہ بھایا جیسے پہلی مرتبہ یہ میرے دل میں گھر کرگیا تھا۔

خیر نظارہ پھر بھی بہت خوب ہی تھا اور ویسے بھی سمند کو بیٹھ کر بس دیکھنا بھی ایک بھی ایک خوب مشغلہ ہے ساحل پر بنتی مٹتی لہریں اور ان میں بھیگتے لڑکے اور لڑکیاں تو جہاں اتنا کچھ ہو وہاں بندہ بور تو ہرگز نہیں ہوتا میں نے نظارے کیلئے ایک چٹان کا انتخاب کیا اور یہاں چڑھنے کیلئے ایک لمبا چکر کاٹ کر دوسری طرف سے اوپر پہنچنا پڑتا ہے اور وہاں پہنچنے کے دوران چھوٹی موٹی ٹریکنگ اور ہائکنگ کا کیڑا بھی سکون پاجاتا ہے خیر وہاں پہنچ کر ادھر ادھر کیمرے کا بٹن دبا کر کچھ تصویریں بنانے کے بعد میں مصطفیٰ کی تصویریں کھینچتا رہا اور وہ میری خراب کرتا رہا باقی دونوں وہیں ساحل پر رک گئے اور ہمارے ساتھ چلنے سے انکاری ہوکر بیٹھ گئے اسی چٹان پر کچھ اور لڑکے بھی چڑھے ڈوریاں ڈال ڈال کرمچھلیاں پکڑنے کی کوشش کرتے رہے اور ایک بھی مچھلی حاصل نہ ہونے پر واپس چلے گئے نیچے ذرا پرے ایک جھونپڑے کے ساتھ سات آٹھ کشتیاں کھڑی ہوئی تھیں۔

جغرافیہ اور راستے کا بار بار بیان پڑھنے والوں کو اکثر بے مزا کرتا ہے لیکن ان خواہش مند حضرات کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے جو آپ کی روداد کو پڑھ کر اس جگہ جانے کا سوچیں تو کنڈ ملیر کا یہ ساحل جہاں میں اس وقت موجود تھا کراچی سے کل دو سو چھتیس (236) کلومیٹر کے فاصلے پر ہے کراچی سے براستہ حب چوکی لسبیلہ کے بعد آخری بڑا شہر وندر آتا ہے اور یہاں ہی اورماڑہ سے پہلے آخری پٹرول پمپ آتا ہے تو اگر آپ ارادہ کریں اپنی ذاتی گاڑی یا موٹرسائیکل پر سفر کرنے کا تو وندر میں اپنے گاڑی اور موٹر سائیکل کا پٹرول ضرور چیک کرلیں مبادہ آگے چل کر پریشانی کا سامنا ہو وندر سے آگے زیرو پوائنٹ یہاں سے دائیں ہاتھ پر مڑ کر اگلا سٹاپ اگور ہے راستے بھر میں رہنمائ کرنے والے بورڈ آویزاں ہیں راستہ بھٹکنے سے بچنے کیلئے ان پر نظر رکھیں تو کوئ پریشانی ہونے کا اندیشہ نہیں اور اگور سے آگے پڑھتے ہی دریائے ہنگول کا پل آجاتا ہے دریا تو بیچارہ ایک کونے میں سمٹا ہوا پڑا ہے اور نقاہت کے مارے بہنے سے بھی قاصر ہے لیکن اس پر بنایا گیا پل بڑا شاندار اور مضبوط ہے یہ ساتھ ہی ایک ہوٹل ہے جہاں پر ناشتہ چائے اور کھانے وغیرہ کی سہولت موجود ہے یہ علاقہ ہنگول نیشنل پار ک کی حدودمیں آتا ہے سولہ سو پچاس (1650) مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا یہ پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو کہ تین اضلاع لسبیلہ، گوادر اور اوروان پر پھیلا ہوا ہے۔ انیس سو اٹھاسی (1988) میں باقاعدہ اسے نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا اور اسکے بعد یہ پاکستان کا واحد نیشنل پارک ہے جو بیک وقت سمندری، دریائ، صحرائ اور پہاڑی جنگلی حیات کے تحفظ کرنے کا دعوہ کرتا ہے۔

یہاں پائ جانے والی جنگلی حیات کی درست تعداد کا ابھی تک درست اندازہ نہیں لگایا جاسکا لیکن اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ہنگول نیشنل پارک میں تین ہزار مارخود، پندرہ سو کے قریب اڑیال اور تقریبا بارہ سو کے قریب پہاڑی غزال موجود ہیں اس کے علاوہ پائ جانے والی حیات میں سندھی چیتا، لومڑی، لگڑبھگے، پہاڑی بکرے،سیہا، نیولے اور جنگلی بلوں کی مختلف اقسام ہیں دریائے ہنگول میں پائے جانے والے مگرمچھ اور دریائ اور سمندری کچھووں کی مختلف اقسام موجود ہیں، پرندوں میں مستقل پائے جانے والے مخلتف اقسام کے عقاب اسکے علاوہ الو ہیں اور پہاڑی کوے اور نقل مکانی کر کے آنے والے پرندے جو کہ سال کا کچھ حصہ گزار کر لوٹ جاتے ہیں۔

اسی ہنگول پل سے کوئ دس منٹ کے فاصلے پر یعنی کوئ پانچ کلومیٹر مزید سفر کرنے پر کنڈ ملیر کا ساحل موجود ہے اور ہم یہیں موجود تھے اور یہاں سے ہماری روانگی کا وقت گیارہ بجے دن کا طے ہوا تھا کچھ دیر میں یہ وقت بھی آیا اور ہم دوبارہ اپنی اپنی بسوں میں لوڈ ہونا شروع ہوئے اب مزید آگے کی طرف سفر کرنا تھا اور اس سفر کی حد بوزی پاس سے کچھ پہلے "امید کی شہزادی " یعنی پرنسس آف ہوپ تک تھی۔

ساحل سے آگے سفر شروع ہوتے ہیں ایک عجیب دنیا شروع ہوتی ہے سب سے پہلے ایک چڑھائ ہے بس کا انجن زور لگاتا ہوا اس پر چڑھ گیا اب آپ کے دونوں طرف چٹانیں ہیں جو قدرتی طور پر عجیب و غریب پراسرار شکلیں لئے ہوئے ہے اور کہیں کہیں پر سڑک کے دونوں جانب صحرائ ریت آجاتی ہے یعنی ریت کے چھوٹے بڑے ٹیلے اور دور پرے پہاڑ اور بائیں ہاتھ ہر بہت دور سمند اس جگہ کا الفاظ میں اظہار مشکل ہے جیسے کسی پھل کے ذائقہ کو بیان کرنا تو آپ اس کو الفاظ نہیں دے سکتے شاید مختلف مثالوں سے سمجھا سکتے ہیں یا وہی پھل چکھنے کو پیش کرسکتے ہیں میں بھی کوشش کر دیکھتا ہوں میری ناکامی کی صورت میں یہاں کا سفر اختیار کرلیں بات بالکل واضح ہوجائے گی ذائقہ منہ میں گھل کر خود ہی اپنے آپ سمجھ آجائے گا۔

سامنے تین چٹانیں ایسے ابھری ہوئ ہیں جیسے اہرام مصر فراعین مصر خافو، خوفو اور خفران کے مقبرے ہوں لیکن یہ تینوں ایک جسامت کے ہیں اور جسامت میں مختصر بھی اسکے علاوہ کچھ اسی شکل کی اور چٹانیں ہیں جو سڑک کے اوپر سایہ کئے کھڑی ہیں انکی شکلیں بھی کچھ کچھ ان اہراموں سے ملتی ہوئ ہیں۔

کچھ اور آگے چلیں اور یہ آگے چلنا سیدھا سیدھا ہرگز نہیں ہوتا بلکہ سڑک گھومتی ہوئ چل رہی ہے تو کوئ منظر جو سامنے ہوتا ہے وہ بس کچھ دیر ہی ہوتا ہے اور ایک چکر کھانے پر غائب ہوجاتا ہے تو بائیں ہاتھ ہر ایک دیوار ساتھ چلتی ہے اور اپنی ساخت میں ایک مکمل قلعہ نما ہے یعنی ایک سیدھی دیوار جو اوپر سے سپاٹ نہیں بلکہ ایک مناسب فاصلے پر تکون تکون سے برج نما ابھار ہیں دور سے دیکھنے پر یہ قدیم دور کا کوئ قلعہ ہی معلوم ہوتا ہے چونکہ گھمن گھیریوں کی وجہ سے وقت کم ہوتا ہے اس لئے میرے پاس اسکی مکمل تصویر موجود نہیں ہے لیکن جتنی یہ دیوار میں چلتی گاڑی سے کیمرے میں محفوظ کر سکا وہ بھی ایک کمال تصویر ہے۔

مزید اس راستے پر ایک مختصر سا قلعہ ہے جو ایک ٹیلے پر واقع ہے دیکھنے میں کسی عمارت کی باقیات محسوس ہوتا ہے جو بالکل درست حالت میں موجود رہ گیا ہو اب میں کیسے سمجھاؤں کہ اسکی شباہت کیسی ہے کہ یہ بس دیکھ کر ہی سمجھ میں آنے والا ہے سمجھ لیں کہ گاتھک طرز تعمیر میں جو بڑے بڑے ستون ہوا کرتے ہیں اور اوپر چھت جیسے پاکستان کے بیشتر ریلوے سٹیشن ہیں تو کچھ کچھ ویسا۔ 

اسی طرز کی مختلف محیر العقول قسم کی تخلیقات پورے رستے آپ کے ساتھ رہتی ہیں کہیں دیکھنے میں کوئ لائبریری ہے کوئ آپ کے تخیل پر منحصر ہے کہ یونیورسٹی کا کوئ پانی میں لنگر انداز جہاز۔ ایک مجسمہ نما بھی آتا ہے جو کہ مناسب ترمیم کے بعد سنگاپور کی شناخت مچھلی کے جسم والے شیر سے شباہت کھانے لگتا ہے اور اس سے آگے مکمل جسامت والے ابوالہول صاحب موجود ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ بیچارے ذرا زمین سے نزدیکی پر ہیں لیکن ان کی شان و شوکت بھی کچھ کم نہیں دیکھ کر حیرت ہوئ ہے کہ اتنی مماثلت کیونکر ہوسکتی ہے۔

ہونہی چلتے چلتے ہمارے سفر کا آخری مقام آتا ہے اور اسکے بعد واپسی یہاں آپ کو الواع کہنے اور آپ کی آمد کا شکریہ ادا کرنے کو سب سے اونچی چوٹی پر دامن پھیلائے ایک خاتون موجودہیں جو کہ اپنی جاہ وجلال میں ایک شہزادی کی مانند ہیں اور انکو ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ جو کہ اپنی فلموں کے بولڈ سین کے علاوہ اپنے فلاحی کاموں کے حوالے سے بھی پہچانی جاتی ہے نے دوہزار دس (2010) میں اپنے دورہ پاکستان کے دوران پرنسس آف ہوپ یعنی امید کی شہزادی کا نام دیا اور یہ پاکستان کی واحد خاتون ہیں جو اتنے طویل عرصہ سے امیدسے ہیں لیکن انکی امید بر نہیں آتی کوئ صورت نظر نہیں آتی لیکن صورت حال فرق ہوتی جارہی ہے وہاں ہر ہفتے سینکڑوں نہیں تو بیسیوں ایسی صورتیں پہنچتی ہیں جو ایک بیابان میں ایک خاتون کو چاہے مجسمہ ہی سہی کھڑا دیکھ کر اس پر چڑھ دوڑتی ہیں اور ساتھ سلفیاں بنانے کیلئے ان سے قریب سے قریب تر ہونے کی کوشش کرتی ہیں جس کے نتیجے میں مٹی سرکتی ہے اور پچھلے کچھ سالوں کے دوران اسے کافی نقصان ہوا ہے اور اس قدرتی مجسمے کی بنیاد سے کافی مٹی سرک چکی ہے اگر صورت حال یہی رہی تو آنے والے سالوں میں روڈ کے ساتھ لگے بورڈ میں تبدیلی کرکے یہ لکھنا ہوگا کہ پرنسس آف ہوپ واز ہئیر یعنی گزرے زمانوں میں کبھی یہاں ایک مجسمہ ہوا کرتا تھا جسے لوگوں کی حوس اور سلفیاں کھا گئیں صورت حال ملکی حالات کی طرح نازک ہے اور فوری سد باب ضروری ہے۔

یہاں تک کا سفر بھی ایک شاندار تجربہ ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ پکچرابھی باقی ہے میرے دوست تو اگر آپ سفر کا ارادہ کریں تو یہاں پر یہ بس نہ کریں بلکہ اس آگے بوزی پاس تک سفر ضرور کریں کیوں کہ کوسٹل ہائی سے کی اصل پکچر اس سے آگے شروع ہوتی ہے اصل گھمن گھیریاں اور عجیب الخلقت قدرتی عجائبات اس مقام سے آگے نظر آتے ہیں اور اصل لطف اس سے آگے ہے۔

میرے پیچھے بیٹھے ہوئے عمر نے مجھ سے سوال کیا تھا "داد ا یہ تو بڑی عجیب جگہ ہے یہ سب کیسے بنا ہے؟" تو اس وقت میرے پاس کوئ جواب نہیں تھا اور اس بارے میں کوئ تحقیق بھی میسر نہیں ایک روایت ہے جو کہ درست بھی معلوم ہوتی ہے کہ قریب دو ہزار سال پہلے یہ تمام علاقہ زیر آب تھا آہستہ آہستہ پانی اترتا گیا اور یہ تمام تصاویر بنتی گئیں لیکن اصل جواب کوئ جیولوجسٹ ہی دے سکتا ہے۔

یہاں سے ہم سب واپس پلٹے اور اب ہماری منزل اسی ہنگول نیشنل پارک میں موجود ایک قدیمی مندر ہنگلاج ماتا مندر جسے عرف عام میں نانی مندر کہا جاتا ہے تھا یہاں تک آتے ہوئے ہم اسے واپسی حاضری کی نیت سے بہت پیچھے چھوڑ آئے تھے اب یہاں سے پلٹے تو ارادہ مندر میں حاضری کا تھا لیکن پہلے رک کر جمعہ ادا کیا گیا اور دوپہر کا کھانا بھی اسی دوران میں کھایا گیا۔

دریائے ہنگول کے ساتھ ایک راستہ اندر کی طرف جارہا ہے جس کے باہر ایک چوکی ہے اور چند اہلکار وہاں موجود ہیں فی گاڑی شاید سو روپے فیس ادا کرنی پڑتی ہے اور داخلے دروازہ کھل جاتا ہے ایک خستہ سڑک چٹانوں کے درمیان اور دریا اپنی سمٹی ہوئ حالت میں آپ کے بائیں جانب ہوجاتا ہے یہاں بھی عجیب و غریب شکلوں کے پہاڑ ساتھ ساتھ چلتے ہیں داخلے دروازے سے اندر آتے ہیں سامنے ایک جھریوں بھرا پہاڑ اپنی قدامت کی داستان سنا رہا ہے اور ساتھ ہی ایک پتھر کی سل پر جلی حروف میں پانی کے قریب جانے کی ممانعت درج ہے کیوں کہ مگرمچھ موجود ہیں دائیں اور بائیں دونوں اطراف میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مٹی کے کچے گھر بنے ہوئے ہیں اور آباد ہیں یہ لوگ کون ہیں اور یہاں کیوں رہتے ہیں اور سب سے اہم بات کہ انکا ذریعہ معاش کیا ہے یہ سارے سوال ہمارے ذہنوں میں بارہا آئے لیکن ان کا خاطر خواہ جواب نہ مل سکا اس وقت کسی ٹور کمپنی کے ساتھ سفر کرنے کا نقصان سمجھ آیا کہ اگر اکیلے آیا ہوتا تو ان سے مل کر اور بات چیت کرکے اسکا جواب تو حاصل کرنے کی کم از کم کوشش کر دیکھتا۔

پہاڑوں کے شوقین افراد نے کنکورڈیا کے ٹرینگو ٹاورز کی کم از کم تصاویر تو دیکھی ہی ہونگی اور جنہوں نے نہیں دیکھیں وہ باآسانی گوگل پر دیکھ سکتے ہیں گلگت بلتستان کی مشہور پسو کونز بھی اپنی منفرد نوکیلی چوٹیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں لیکن مشہور وہی ہوتا ہے جس پر دنیا کی نظر پڑی ہو لوگ جانتے ہوں پہچانتے ہوں لیکن اگر کچھ چاہے وہ اپنی تخلیق میں یکتا ہو گمنامی میں رہ جائے تو اسمیں قصور اس تخلیق کا نہیں بلکہ اس آنکھ کا ہے جس نے اسے دیکھا لیکن دنیا تک اسکی خبر نہیں پہنچائی یہاں بھی دو ایسے چٹانیں موجود ہیں جو بلندی میں تو نہیں لیکن شکل و شباہت میں پسو کونز اور ٹرینگو ٹاورسے کافی مشابہت رکھتی ہیں۔

ایسے ہی راستوں پر سفر کرتے کرتے ہم ایک ہرے رنگ کے دروازے کے سامنے پہنچے اور وہاں لگے بورڈ پر نارنجی رنگ سے پینٹ کیا گیا ہے

"ہنگلاج ماتا مندر ہنگول بلوچستان۔

جے ماتا دی"

ایک قدرتی غار میں موجود ماتا کے مندر کے بارے میں دعوہ کیا جاتا ہے کہ یہ دولاکھ سال پرانا ہے اور اسکے بنانے میں انسانی ہاتھ استعمال نہیں ہوا یعنی مکمل طور پر قدرتی ہے موجودہ دور میں اس مندر میں سیڑھیاں بھی بنی ہیں اور مندر کے اندرونی حصے میں ٹائل بھی لگے ہوئے ہیں اور اگر غور کیا جائے تو یہ مکمل غار بھی نہیں بلکہ ایک پہاڑی کھو نما ہے اور یہاں دو مورتیاں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انسانوں نے نہیں بنائیں بلکہ ماتا خود اپنے ساتھ لیکر آسمان سے اتری تھیں ایک سندور ملا ہوا بے شکلا پتھر ماتا کی نشانی کے طور پر پوجا جاتا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی دور میں سندھ کے صوفی بزرگ حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائ رحمۃاللہ علیہ نے یہاں کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے ہی اس مندر کو نانی مندر کا نام دیا۔

یہ تو ہوا سب سے مشہور مندر لیکن اس کے علاوہ اور بھی مندر یہاں موجود ہیں جن میں گنیش دیوا مندر، کالی ماتا مندر، گرو گورکھ ناتھ دانی مندر، براہم خود اور تیر خود مندر، گرانانک کھارو اور دیگر مندر جو کہ اسی دروازے کے اندر مختلف مقامات پر موجود ہیں اور ہر سال ہزاروں کے تعداد میں زائرین یہاں آتے ہیں اور مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں ہر سال اپریل میں سالانہ چار روزہ پوجا کا اہتمام ہوتا ہے جس میں پورے ملک اور اسکے علاوہ ہندوستان سے بھی ہندو زائرین یہاں آتے ہیں اور مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں ان کے ٹھہرنے اور کھانے پینے کیلئے یہاں پر سرائے اور کھانا پکانے کی جگہ بنائ گئ ہے لیکن زیادہ رش کی وجہ سے اکثر زائرین ان سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور خیموں میں یا کھلے آسمان کے نیچے وقت گزارتے ہیں۔

ویکیپیڈیا پر اس مندر کے حوالے سے کافی معلومات موجود ہیں خواہش مند حضرات مزید معلومات وہاں پڑھ سکتے ہیں۔

میری ذاتی طور پر ان مسلم زائرین سے جو اس مندر کو یا کسی بھی ایسے جگہ جو کہ کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ کہی جو سکے صرف ایک تاریخی حیثیت میں دیکھنے جاتے ہیں ایک درخواست یہ ہے کہ ان مقامات کے تقدس کا پامال کرکے ان کی دل آزاری کا باعث نہ بنیں اور ان جگہوں کا ویسے ہی احترام کریں جیسے اپنی مسجد کا کرتے ہیں مندر کے اندر جوتوں سمیت داخل ہونا یا مندر کے احاطے میں سگریٹ نوشی کرنا بھی اسی زمرے میں آتی ہے اس سے اجتناب کریں دوسروں کا اور ان کے مذہب کا احترام کریں تاکہ وہ آپ کا اور آپ کے مذہب کا احترام کریں۔

جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ مندر ہمارے سفر کا آخری مقام تھا اسکے بعد واپسی کا سفر شروع ہونا تھا تو طے شدہ پروگرام 
کے تحت ہم دوبارہ بسوں میں لوڈ کئے گئے بسیں سٹارٹ ہوئیں اور ایک پرلطف دن کے اختتام کا آغاز ہوگیا۔

تصویر فیضان قادری

تصویر فیضان قادری

تصویر فیضان قادری

تصویر فیضان قادری


تصویر فیضان قادری

تصویر فیضان قادری

تصویر فیضان قادری

تصویر فیضان قادری

Thursday, 6 August 2015

ایش ٹرے میں بجھایا گیا ایک سگریٹ




جب ابھی سگریٹ ڈبوں میں بند ہوکر نہیں ملا کرتے تھے یا شاید ملتے ہوں لیکن پرانے لوگوں میں سے اکثر جو تمباکو نوشی
کے عادی تھے وہ اپنا سگریٹ خود بنا کرپیا کرتے تھے تمباکو کا ڈبہ، سگریٹ بنانے کا کاغذ، سلائ اور ماچس اپنے ساتھ رکھا کرتے اور جب کبھی سگریٹ کا من ہوتا پیپر میں تمباکو رکھنے سے لیکر سلگانے تک کا عمل اپنے ہاتھ سے کرتے اور شوق فرماتے میرے دادا مرحوم میں نے کبھی دیکھا تو نہیں سنا ضرور ہے کہ اسی طرز پر تمباکو نوشی کیا کرتے تھے یعنی اپنی ہاتھ سے سگریٹ بناتے اور اگر کبھی سگریٹ بنانے کا دل نہ ہوتا یا لوازمات میں سے کوئ ایک بھی کم ہوتا تو حقہ گڑگڑایا کرتے۔

یوسفی صاحب نے بھی ایک ایسے ہی خان صاحب کا ذکر اپنی کتاب "زرگزشت" میں کیا ہے اب وہ وقت نہیں اب نہ لوگوں کے پاس اتنا وقت ہے نہ ہی شوق کی وہ انتہا رہی اب وہ لوگ جو سگریٹ میں "کچھ" بھر کر پینے کے عادی ہیں وہ اس پیچیدہ عمل سے گزرتے ہیں پہلے سگریٹ خالی کی جاتی ہے پھر مصالحہ ملا کر تمباکو دوبارہ بھرا جاتا ہے اور پھر دم لگائے جاتے ہیں گو کہ عمل تھوڑا وقت اور دقت طلب ہے لیکن کہتے ہیں اتظار طلب بڑھادیتا ہے تو اس کے بعد پھر جو سرور ہے وہ وہی جان سکتے ہیں جو کبھی اس عمل سے گزرے ہوں خیر موضوع یہ نہیں۔

اب زمانہ بدل گیا ہے۔

تمباکو نوشی اب بھی کی جاتی ہے سگریٹ اب پیکٹ میں بند باآسانی مہیا ہوجاتا ہے اور ہر سگریٹ نوش ڈبیا سے پہلے سگریٹ نکال کر پیار سے انگلیوں کے درمیان میں رکھتا ہے پھر بڑے پیار سے ہونٹوں سے لگاتا ہے پھر سلگا کر تمباکو کے کڑوے ذائقہ سے لطف اندوز ہوتا ہے اور جب تک سگریٹ ختم نہیں ہوجاتی سگریٹ نوش کے اتنے قریب ہوتی ہے جتنی محبوبہ یا بیوی ہونی چاھئے لیکن جیسے ہی سگریٹ اختتام تک پہنچتی ہے وہ اسے ایش ٹرے میں رگڑ کر یا پیر کے نیچے مسل کر آگے بڑھ جاتا ہے۔

بعض سگریٹ نوش ایک فرض کی طرح سگریٹ پیتے ہیں اسے سلگانے کے بعد پے درپے کش پر کش لگا کر اس کوشش میں ہوتے ہیں جلد از جلد سے ختم کرکے فارغ ہوجائیں اور پھر کوئ اور کام کریں اور بعض بہت آرام آرام سے دھیرے دھیرے کش لگاتے ہیں ساتھ ساتھ گپیں بھی لگاتے ہیں کام بھی کرتے جاتے ہیں ساتھ وقفے وقفے سے کش بھی لگاتے رہتے ہیں ایسے لیکن ایک وقت پر دونوں اس سگریٹ سے ایک جیسا ہی سلوک کرتے ہیں یعنی جب انکا کام پورا ہوجاتا ہے اسے ایش ٹرے میں یا پیر کے نیچے رگڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔

سگریٹ نوشوں کی بھی دو اہم اقسام ہیں نمبر ایک شوقیہ اور دوسرے عادی, شوقیہ سگریٹ نوش کبھی کبھی سگریٹ پی کر اسے رگڑتے ہیں اور دوسرے عادی اور یہ بڑے خطرناک ہوتے ہیں یہ عادتا روزانہ بیسیوں مرتبہ سگریٹ کو اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہیں اور پھر مسل کر پھینک دیتے ہیں۔

تمہید بہت لمبی ہوگئ جی ہاں تمہید بات سمجھانا ضروری تھا موضوع تمباکو نوشی اور تمباکو نوشوں کی اقسام پر بحث نہیں تھا بلکہ کہنا یہ تھا کہ کچھ لوگ رشتوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرتے ہیں پہلے اسے قریب کرتے ہیں پیار سے دیکھتے ہیں پھر ہونٹوں سے لگاتے ہیں پھر سلگادیتے ہیں اور جب رشتے سلگتے ہیں تو یہ مزہ لیتے ہیں اور پھر ایک دن اسی رشتے کو پیروں تلے رگڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں دیکھتے بھی نہیں ان کے وزن سے اور پیروں تلے روندے جانے سے اس رشتے کا کیا حال ہوا ہے بالکل ویسے ہی جیسے ایک سگریٹ نوش کبھی نہیں دیکھتا کہ اس کے رگڑنے سے اس سگریٹ کا کیا حشر ہوا ہے۔

ایسے افراد کی بھی دو اقسام ہیں شوقیہ اور عادی اب شوقیہ تو کبھی کبھار ایسا کرجاتے ہیں اور بعدمیں شاید اپنی اس حرکت پر افسوس بھی ہوجاتا ہو جیسے شوقیہ سگریٹ نوش اگر ایک دو سگریٹ پی لیں تو اکثر ان کے سینے میں درد شروع ہوجاتا ہے اور یہ دھڑکا بھی لگ جاتا ہے کہ اب ان کو دل کا دورہ پڑا ہی پڑا اور وہ افسوس ہی کرتے ہیں کہ پی ہی کیوں لیکن ایک عادی سگریٹ نوش ایک ہی نشست میں بیسیوں سگریٹ پھونک جائے احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کتنے سگریٹ پھونک چکے ہیں اور کتنے ہیں روند چکے ہیں اسی طرح رشتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والوں کو بھی احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کتنے ہی رشتے روند چکے ہیں اور جب احساس ہی نہ ہو تو انسان اپنی عادت سے پیچھا بھی نہیں چھڑاتا نہ ہی اسے برا جانتا ہے۔
مقصد تنقید نہیں بس ایک یاددہانی ہے جیسے ہرسگریٹ کے ڈبے پر لکھا ہوتا ہے
"تمباکو نوشی صحت کیلئے مضر ہے وزارت صحت حکومت پاکستان"

والسلام

Sunday, 26 July 2015

فراست بھائ


"السلام وعلیکم ارے  ماموں کیسے ہیں بڑے دنوں بعد نظر آئے۔" میں اپنے ایک دوست سے ملنے اپنے پرانے محلے گیا تو ماموں نظر آگئے یہ میرے سگے یا رشتے کے ماموں نہیں ہیں بلکہ ہر محلے میں ایک صاحب ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہر ملنے والا ماموں ہی بلاتا ہے مجھے انکا اصلی نام بھی معلوم نہیں ہمشہ ان کو ماموں ہی کہا اور سنا۔
"ارے بھیا ہم تو یہاں ہی ہیں آپ ہی عید بقر عید نظر آتے ہیں" ماموں نے شکوہ کیا
"بس مصروفیات اتنی ہوگئ ہیں کہ وقت ہی نہیں ملتا ادھر آنے کا ایک دو مرتبہ آیا تھا لیکن آپ سے ملاقات نہیں ہوئ آپ سنائیں کیا حال چال ہیں"
"ارے بھیا کیا حال چال سنائیں ٹھیک ٹھاک ہیں اللہ کا کرم ۔ارے  ہاں وہ فراست بھائ کا انتقال ہوگیا "
"اپنے فراست بھائ؟ "میں نے قدرے حیرت سے پوچھا
"ہاں بھئ اپنے ہی اور کون سے۔ میں گیا تھا اور تو کوئ تھا نہیں محلے والوں نے دفنادیا  مجھے تو پرانے جاننے والے نے اطلاع کردی ورنہ معلوم بھی نہ چلتا۔"
"کب ہوا انتقال؟"مجھے یقین نہیں آیا تو میں نے دوبارہ پوچھا
"ارے اسی رمضانوں کے مہینے میں شروع کے دنوں میں ہوگیا بس بھئ اللہ بچائے ایسی تنہائ کی موت سے مرنا تو سب نے ہی ہے لیکن ایسے مرنا نہیں چاہتے ہم۔مالک کرم کرے بس"
"ہوا کیسے ویسے تو ٹھیک ٹھاک تھے"
"ارے بھیا خاک ٹھیک ٹھاک تھے۔۔۔ خیر بس وقت ہوگیا تھا چلے گئے" قدرے توقف کے بعد بولے "چلو بھیا ہم چلتے ہیں  کچھ کام سے جا رہے تھے ذرا پھر ملاقات ہوگی خدا حافظ"
ماموں چلے گئے لیکن میں سوچتا رہ گیا۔
میں میٹرک کے امتحان دے کر فارغ ہوا تھا اور اکثر وقت گھر سے باہر رہتا  انہی دنوں میں میری ماموں سے اچھی دوستی ہوگئ ماموں کی عمر ہم سے کوئ دس سال ہی زیادہ ہوگی لیکن پورے علاقے کا ماموں ہونے کی وجہ سے خود پر ایک بزرگی طاری رکھتے ایک دن کہنے لگے
"ادریس بھائ عمرے پر گئے ہیں اپنا سکوٹر چھوڑ گئے ہیں ہمارے ہاں آپ کو چلانا آتا ہے" ماموں نے مجھ سے پوچھا اور میں تب اپنی عمر کے ان دنوں میں تھا جب کسی بھی سواری کو چلانا جاننا باعث فخر ہوتا ہے گوکہ مجھے سکوٹر ایسا کوئ خاص چلانا نہیں آتا تھا لیکن میں نے پھر بھی حامی بھر لی جس پر ماموں نے مجھے چابی پکڑائ اور  ہم  دستگیر سے لیاقت آباد کے ایک پرانے محلے تک محض خود اعتمادی اور ماموں کی حوصلہ افزائ کی وجہ سے پہنچ پائے ورنہ راستے میں چلنے والے دوسرے تمام افراد نے ہمیں کہیں اور بھیجنے کی پوری کوشش کی خیر اس پرانے محلے میں پہنچے پر ہم نے  موٹر سائیکل ایک دوکان کے آگے کھڑا کیا اور وہاں سے پیدل چلے آگے گلیاں تنگ تھیں اور ان میں راہگیر بھی تھے اور دوکانیں بھی ایک گلی کے نکڑ پر بنے ہوئے چائے خانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ماموں نے کہا "یہ ہوٹل یاد رکھئے گا" اسی گلی میں چند گھر چھوڑ کر  ماموں نے خوب جانچ کرنے کے بعد زور  سے دروازہ پیٹا اور کئ مرتبہ پیٹنے پر اندر سے دروازہ کھلا اور صرف لنگی پہنے ادھیڑ عمر کے ایک صاحب برامد ہوئے یہی فراست بھائ تھے۔
بڑے تپاک سے ملے اور دروازے پر ہی باتیں شروع کردیں حال احوال اور ہمارے تعارف کے بعد  جیسے انہیں یاد آیا اور بولے "ارے آپ یہیں کھڑے رہیں گے کیا اندر آجائیں۔"
دروازے کے ساتھ ایک برامدہ تھا اور ایک دیوار سے دوسری دیوار تک ایک الگنی اس طرح بندھی ہوئ تھی کہ گھر کے اندر جانے کیلئے اسے اٹھا کر اور خود جھک کر اس کے نیچے سے گزرنا پڑتا اسی الگنی پر ایک پتلون بھی ٹنگی ہوئ تھی جو اپنے ہی وزن سے سرک کر الگنی کے درمیانی حصہ میں آگئ تھی اور وہ یقینا کئ مہینوں سے سوکھ رہی تھی کہ اس پر گرد جم چکی تھی اسی برامدے میں ایک دیوار کے ساتھ چند سوکھے ہوئے گملے تھے اور دیوار کےساتھ ہی ایک ٹرالی اور بیلچہ رکھا ہوا تھا اس کے علاوہ بھی بہت سا کاٹھ کباڑ جس میں ایک لوہے کا زنگ آلود دروازہ بھی تھا۔
اس دروازے سے داخل ہوتے ہی ایک کمرہ تھا جسے بیٹھک کہ سکتے ہیں یہاں آدھے فرش پر ایک چٹائ بچھی ہوئ تھی اور ایک کونے میں چادر سے عاری ایک پلنگ بچھا ہوا تھا جس پر کتابوں کا ایک انبار پڑا ہواتھا  اور نیچے کچھ سوٹ کیس اور چند ایک دیگر سامان گھسایا ہوا تھا اوراس پلنگ کے ساتھ ہی  دو کرسیاں تھیں جن کے بان اس قدر ڈھیلے پڑ چکے تھے کہ ان پر بیٹھا نہیں جا سکتا تھا اسی چٹائ پر  چند تکیے اور چادر پڑی ہوئ تھی کئ کتابیں رسالے اور اخبار بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے تھے دیواروں کا رنگ یا تو تھا نہیں اور تھا تو بھی سیاہ پڑ چکا تھا خاص کر ان جگہوں کا جہاں جہاں ہاتھ اکثر لگتے ہیں جیسے بجلی کے بٹن کے ارد گرد اور دروازے کے ساتھ والی دیواریں  سیاہ ہوچکی تھیں چھت سب سے صاف تھی بس مکڑیوں کے بڑے بڑے جالے لگے ہوئے تھے چٹائ  کے پیچھے دیوار پر دو جگہ  سر لگنے کے گول گول نشان تھے  ایک کمرے کی کھڑکی کے نیچے جو باہر برامدے میں کھلتی تھی اور دوسری بجلی کے بلب کے نیچے والی جگہ اور یہ وہ جگہیں تھی جن پر سر ٹکا کر وہ مطالعہ کیا کرتے ہونگے۔
ہمیں بٹھا کر وہ اندر چلے گئے اور جب واپس آئے تو وہ ایک بنیا ن پہنے ہوئے تھے ماموں نے کہیں سے ڈھونڈ کر سگریٹ کا پیکٹ برامد کرلیا تھا اور بیٹھے پھونک رہے تھے فراست بھائ نے واپس آکر ان دو کرسیوں میں سے ایک میں ٹنگ گئے اور ہمارا انٹرویو شروع کردیا کیا نام ہے کیا کرتے ہو کیا پڑھتے ہو کتنے بھائ بہن ہیں والد صاحب کیا کرتے ہیں اور یہ جان کر کہ میرے والد صاحب ٹیچر ہیں وہ اس کرسی میں سے ہل ہل کر باہر نکلے اور مجھ سے مصافحہ کرکے واپس اسی کرسی میں چلے گئے وہ خود بھی کسی مقامی اسکول میں اردو پڑھایا کرتے تھے مزید کچھ دیر ایسے ہی سوال جواب کرتے رہے اس دوران ماموں چٹائ پر پڑی کسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف رہے اور جب سوال جواب ختم ہوئے تو ہمیں بولے نوجوان اب آپ چائے بنالیں سب کیلئے اور  اندر کے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ باورچی خانہ کہاں ہے اور باورچی خانے کا سماں کچھ یوں تھا کہ بیسن میں گندے برتنوں کا انبار لگا ہوا تھا  اور وہاں پڑا ہوا سڑ رہا تھا اور باقاعدہ بدبو آرہی تھی اور جو وہاں نہیں آسکتے تھے وہ ہر جگہ موجود تھے جیسے چولہے کے اوپر نیچے زمین پر  چمچے چمچیاں استعمال کے بعد ہر جگہ بکھرے ہوئے تھے چولہے پر بھی تیل کی ایک تہ جمی ہوئ تھی  وہاں کا ماحول دیکھ کر طبیعت مالش کرنے لگی میں ابھی ماحول ہی دیکھ رہا تھا کہ کہ فراست بھائ اندر آگئے
"میں نے آپ کو بتایا ہی نہیں کہ سامان کہاں رکھا ہوا ہے
 انہوں نے مجھے چینی اور چائے کی پتی نکال کردی چینی کے پیکٹ میں چونٹیاں بھری ہوئ تھیں اور ننھے ننھے لال بیگ بھی اور چائے کی پتی جس طرح بازار سے آئ تھی ویسے ہی رکھی ہوئ تھی تو بچی ہوئ تھی "برتن آپ کو نکانے پڑیں گے اس میں سے" انہوں نے مسکراتے ہوئے ہماری طرف دیکھا "اصل میں ہماری بیگم اپنے گھر گئ ہیں ناں" انہوں نے بتایا
"کہیں دوسرے شہر گئیں ہیں کیا کافی دنوں سے نہیں ہیں شاید لگ رہا ہے" میں نے کہا تو وہ بولے کہ نہیں وہ تو اسی شہر میں ہی ہیں اصل میں وہ شادی کے چار روز بعد ہی چلی گئ تھیں ہم کئ مرتبہ گئے منانے مانیں نہیں ہم نے بھی پھر تین حرف پڑھ دئے کہ کیوں باندھ کر رکھیں نہیں رہنا چاہتیں تو نہ رہیں پھر انہیں اچانک یاد آیا کہ چائے کیلئے دودھ بھی چاھئے ہوگا اور کچھ پیسے پکڑا کر بولے کہ بازار سے دودھ لے آؤں میں گھر سے باہر آیا اور اسی نکڑ کی دوکان سے چائے خرید کر لے آیا واپس آیا تو وہ ماموں سے کسی بہت ہی گہرے موضوع پر گفتگو کررہے تھے ہم چائے کے بعد کافی دیر وہیں بیٹھے رہے اور واپس آگئے۔
ان سے دوسری ملاقات میری اردو بازار میں ہوئ انٹر میں میں نے ڈی جے کالج برنس روڈ میں داخلہ لیا اور زیادہ تر وقت پرانے شہر میں گھومتا رہتا اردو بازار کے ساتھ ہی ایک لڑکیوں کا کالج تھا میں اکثر چھٹی سے کچھ دیر پہلے اردو بازار پہنچ جاتا اور جیسی ہی چھٹی ہوتی باہر آجاتا اور وہیں سے بس پکڑتا اس طرح راستہ بھی ٹھیک ٹھاک گزر جاتا اس طرح کالج کی چھٹی سے کچھ دیر پہلے میں اردو بازار پہنچا تو فراست بھائ ایک دوکان کے باہر کھڑے بحث کررہے تھے ان کے پاس کچھ پیسے کم تھے اور وہ اپنا شناختی کارڈ گروی رکھوا کر کتابیں لے جانا چاہتے تھے جس پر وہ راضی نہیں تھا اور فراست بھائ پہلے تو اسے آرام سے سمجھاتے رہے اور بعد میں دوکاندار کو احمق اور الو کا پٹھا قسم کے شریفانہ القابات سے نوازنے لگے مجھے پہچان کر انہوں نے پوری کہانی سنائ میں ان دنوں ٹیوشن پڑھایا کرتا تھا  میرے پاس کچھ پیسے تھے جس میں نے بقایا رقم پوری کی اور کتابیں انکے حوالے کیں اور انکو کھینچ کر وہاں سے الگ کیا اس کے بعد وہ مجھے بس میں اپنے گھر لے کر گئے اور میری رقم واپس کردی۔
اس کے بعد میری ان سے کئ مرتبہ ملاقات ہوئ کبھی راہ چلتے کبھی دوران سفر گھر سے باہر دیکھ کر کوئ بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ صاحب کس قسم کی زندگی گزار رہے ہیں ہمیشہ صاف اور اجلے استری شدہ کپڑوں میں ہوتے قرینے سے سجے ہوئے بال اور شیو کبھی بڑھا ہوا نہیں ہمیشہ ٹھیک ٹھاک حلیہ میں ہوتے لیکن گھر پہنچتے ہی تمام کپڑے اتار کر ہینگر میں لٹکاتے اور وہی لنگی باندھ لیا کرتے گھر میں بس ایک یہی کام کپڑوں کو ہینگر میں لٹکانے کا قرینے سے کرتے اس کے علاوہ شاید ہی کوئ کام ہو جو اس گھر میں ترتیب سے ہو۔
ان ملاقاتوں کے بعد میں اکثر ان کے گھر جانے لگاکبھی کبھی بساط کے مطابق میں انکا گھر صاف کردیا کرتا وہ کبھی منع بھی نہیں کرتے تھے ہاں لیکن کبھی خود سے نہیں کہا کسی کام کو کھانا بنانے کے شوقین تھے اور اکثر بریانی بنایا کرتے طبیعت کے ملنگ تھے اور بلا کے شاہ خرچ پیسہ خرچ کرتے وقت کبھی ایک لمحہ کو نہیں سوچتے تھے کہتے کہ یہ جائے گا تو اور لیکر واپس آئے گا اور واقعی میں نے انکو کبھی پیسے کی تنگی میں نہیں دیکھا حالانکہ جس اسکو ل میں وہ پڑھاتے تھے وہاں انکی تنخواہ ایسی کچھ زیادہ بھی نہیں تھی۔
بلا کے حجتی آدمی تھے کسی بھی بات پر بحث کرسکتے تھے ایک مرتبہ میں ان کے گھر پہنچا تو ان کے دوتین دوست بھی موجود تھے اور اس بات پر بحث ہورہی تھی کہ گوشت بھوننے سے پہلے ٹماٹر ڈالناچاھئے یا بعد میں  فراست بھائ اپنی بات ثابت کرنے کیلئے بعد میں کئ کھانا پکانے کے رسالے اور کتابیں خرید لائے اور اپنی غلطی ثابت ہونے پر پھر بھی نہیں مانی کہنے لگے ان کو کیا  پتہ گوشت کیسے بھونا جاتا ہے۔
مذہب کے بارے میں ہمیشہ مجھے ایک بات کہتے کہ نوجوان کبھی اس بارے میں پریشان نہیں ہونا بہت آسان ہے بس آپ کو جو اچھا لگتا ہے وہ کرو اور دوسروں کو وہ کرنے دو جو وہ کرتے ہیں ان پر خدائ فوجدار نہ بنو لیکن اللہ رسول ؐ کے حکم سے آگے نہ بڑھو غیبت کرنے اور سننے کے سخت خلاف تھے کبھی ان کے سامنے بات نکل جاتی تو کہتے "میاں کیوں میری عاقبت خراب کرنے پر تلے ہیں آپ" دوسرا اگر مشورہ کی نیت سے کوئ بات کرتا تو پوری بات سنتے اور پھر اپنی رائے دیتے اپنے بارے میں کہتے کہ
"بھئ ہم تو پیٹ کے ہلکے ہیں ہمیں راز نہ بتایا کریں کسی کو کہ دیں اور کل کو روز قیامت آپ ہمارا گریبان پکڑے کھڑے ہوں" لیکن حقیقت میں ان کے سینے میں ہزاروں لوگوں کے انتہائ اہم راز دفن تھے کسی سے کبھی تذکرہ  بھی نہیں کیا ہوگا۔
کبھی کسی کا مذاق نہیں اڑاتے لیکن دوران گفتگو جملہ بازی بڑی سخت کرتے کوئ بھی بات ایسی مل جاتی جوقابل گرفت ہو تو چھوڑتے نہیں تھے ہمیشہ جملہ لگا کر حاضرین سے داد وصولتے۔
رہتے بھلے ہی گندے گھر میں تھے لیکن دل بڑا صاف تھا کبھی کسی کو اپنی زبان سے تکلیف نہیں پہنچائ اگر خود کسی کی بات سے دل دکھا تو فورا معاف کرتے کہتے کہ
" اللہ کہ ہاں پکڑ ہوجاتی ہے میں معاف کروں گا تو لوگ مجھے معاف کریں گے یہ تو چین ری ایکشن ہے نوجوان"
پڑھائ اور اسکے بعد نوکری ہونے کی وجہ سے میرا فراست بھائ کے گھر آنا جانا کافی کم ہوگیا  کبھی کبھی ملاقات ہوجایا کرتی ایک مرتبہ ملے تو معلوم ہوا کہ السر کی شکایت ہوگئ ہے اسکی وجہ یقینی طور پر روز روز باہر کھانا کھانا ہی تھی۔
السر اور کثرت سگریٹ نوشی کی وجہ سے وہ دن بدن کمزور ہوتے گئے لیکن عادات اسی طرح قائم رہیں باہر کھانا کھانا اسکول کے بعد اسی طرح گھومتے رہنا کبھی کچھ نہیں تو کراچی پریس کلب میں بیٹھے رہنا۔
ماموں سے ہی معلوم ہوا کہ انتقال کے دو دن بعد  جب گھر کے اندر سے بدبو آ ئی تو محلے والوں کو پتہ لگا کہ یہ مر چکے ہیں ان کا کوئ بھی رشتہ دار کراچی میں نہیں تھا محلے والوں نے ہی کفن دے کر دفنایا  دو دن کی سڑی ہوئ لاش کر دفنانا کوئ اچھا تجربہ نہیں ہوتا چند ایک افراد نے دور دور سے مٹی ڈال کر جلدی جلدی قبر بند کردی اور پھر اسکول وغیرہ سے معلومات کر کے گھر ان کے رشتہ داروں کو اطلاع دی جو رشتے دار ان کی زندگی اور بیماری میں کبھی نہیں آئے وہ مرنے کے بعد کیوں آتے میں انکی قبر پر گیا اور وہاں سے انکے گھر مالک مکان نے اسے کسی دوکان والے کو کرایہ پر دے دیا تھا انکا سامان اور کتابیں اسی پلنگ پر ڈھیر تھیں میں نے اس ڈھیر سے چن کر چند ایک کتابیں اٹھالیں سب پر فراست بھائ کے دستخط بمع تاریخ کے موجود تھے اور یہ کتابیں لے کر گھر آگیا۔
گوکہ مجھے آخری بار ان سے ملے کئ سال گزر چکے ہیں اور مجھے ان کی عادت بھی نہیں رہی تھی لیکن ان کے چلے جانے پر آنسو بہانے کو دل کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ یار زندہ صحبت باقی درحقیقت یار تو مر کر بھی نہیں مرتا بس صحبت ختم ہوجاتی ہے دل بوجھل کیوں نہ ہو۔
لیکن موت کیا صرف موت ہوتی ہے؟
 ایک ایسا تجربہ ہے جس کے بارے میں کوئ بھی نہیں بتا سکتا ۔
مرنے سے پہلے ایک انسان پر کیا کچھ بیت جاتا ہے اس کے بارے میں کوئ نہیں بتا سکتا۔
  کتنے سارے خیالات کتنی ساری کیفیات وابستہ ہوتی ہیں  اس  واقعہ کے ساتھ جن کے بارے میں کوئ نہیں جانتا اور جو یہ جھیل جاتا ہے وہ بتا نہیں سکتا۔
  بے شک ایک دن ہم سب اسی تجربہ سے گزریں گے۔
میرے بچھڑ جانے والے دوست کے نام

 اللہ ان پر ڈھیروں رحمتیں اور راحتیں نازل فرمائے اور انکا شمار اپنے مقرب بندوں میں فرمائے آمین۔

Monday, 6 July 2015

غیر شرعی پوسٹ

آج کا مسلمان نو جوان ہولی، دیوالی، ویلنٹائن ڈے، مدرز ڈے، فادرز ڈے، نیو ائیر نائٹ اور ہیلووین جیسے ایونٹ منارہا ہے
لیکن ہمارے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ شب برات، سب معراج، ۱۲ ربیع الاول، گیارہویں شریف اور میلاد وغیرہ منعقد کرنا شرک و بدعت ہے یعنی یہ سب غیر اسلامی تہوار ہیں۔

اسی بات پر ایک واقعہ سن لیجئے
یہ واقعہ قدرت اللہ شہاب صاحب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں تحریر کیا ہے واقعہ کچھ یوں ہے کہ شہاب صاحب اپنی کسی سرکاری پوسٹنگ کے نتیجے میں ہندوستان کے کسی دور دراز علاقے میں پہنچے تو وہاں کہ رہائشی خود کو مسلمان توکہتے تھے لیکن کلمہ نماز اور دین سے بالکل دور تھے اور بنیادی معلومات بھی نہیں رکھتے تھے پورے علاقے میں ایک مسجد تھی اور سال میں ایک مرتبہ شہر یا کسی دوسرے گاوں سے ایک مولانا صاحب تشریف لاتے اور سال بھر میں پیدا ہونے والے بچوں کے کانوں میں اذان دیتے اور ان کی چھریوں پر تکبیر پڑھ کر دم کرجاتے جس سے وہ سال بھر اپنے جانور ذبح کرتے۔
اپنے مسلمان ہونے کی واحد علامت جو انہیں معلوم تھی وہ محرم الحرام میں تعزیے کا جلوس نکالنا تھا وہ کہتے کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے محرم میں تعزئے نکالتے ہیں۔
ایک زمانے میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ علیہ جو کہ دارالعلوم دیو بند کے بانی ہیں نے اس علاقے کا دورہ کیا تو انہوں نے اس بستی والوں کو جہاں دین کی بنیادی تعلیم دی وہیں اس بات کی تلقین کی کہ کبھی محرم کے تعزئے نکالنا نہ چھوڑیں اور ہر سال اہتمام سے تعزئے نکالا کریں۔
جب مولانا سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے اس "غیر شرعی" کام کی اتنی تلقین کیوں کی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ لوگ آج تک خود کو مسلمان کہتے آئے صرف اسی وجہ سے ان سے اگر یہ وجہ بھی چھین لی جائے تو دین سے جو کچے دھاگے سے جڑا ہوا رشتہ ہے وہ بھی ٹوٹ جائے گا۔

کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آج کے بہت سے مسلمانوں کا بھی دین سے انہی شب برات اور جشن ولادت مصطفیٰ ﷺ کے جلوسوں اور محفل میلاد کی وجہ سے جڑا ہوا ہے اب اگر ان سے یہ رشتہ بھی چھین لیں گے تو پھر کل آنے والا مسلمان بچہ بھی ہولی، دیوالی اور ویلنٹائن کو اپنا دین سمجھے گا۔
دین کو کلچر میں آنے دیں اور ان دنوں کا منانے دیں خود کو ہی حق نہ سمجھیں دوسروں کو بھی دین میں آنے دیں۔
یہ سطور کسی مسلکی فرقہ کو ہوا دینے کیلئے نہیں ہے بس سوچنے سمجھنے کیلئے ہے۔

والسلام

Tuesday, 16 June 2015

موت کے سائے


"میں نے کبھی کسی انسان کو مرتے ہوئے نہیں دیکھا" 

"مرے ہوئے انسان دیکھے ہیں بہت دیکھے ہیں لیکن کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ کسی انسان کو مرتے ہوئے دیکھ سکوں زندگی اور موت کے درمیانی وقفے میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کر سکوں ایک انسان کو ایک لاش میں تبدیل ہوتے دیکھ سکوں۔"

بعض اوقات قدرت کی طرف سے انسان کو ایسی طاقت عطا کردی جاتی ہے جس کا اسے اندازہ نہیں ہوتا اور جب اس طاقت کے بارے میں معلوم ہوتا ہے تو انسان صرف بے بس محسوس کرتا ہے۔

میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔۔
مجھے لوگوں کے چہرے پر موت کے سائے نظر آجاتے ہیں موت کی سیاہی ۔۔۔۔

مجھے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ شخص اب مرنے والا ہے اسکے پاس وقت اب سالوں یا دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں بچا ہے کچھ ہی گھنٹوں میں اسکی گھڑی میں لگایا گیا الارم بجنے والا ہے۔

اگر آپ یہ جان جائیں کہ جس شخص کو آپ دیکھ رہیں یہ مر نے والا ہے تو آپ اس شخص کیلئے کیا کرسکتے ہیں ۔۔۔ 

کچھ نہیں۔۔۔

آپ اسے تو کیا کسی کو بتا بھی نہیں سکتے۔

کسی کو یہ بتانا کہ اسکا وقت پورا ہوچکا ہے کل اسکی گھڑی میں لگائے گئے الارم کے بجنے کا دن ہے اور اسی کے ساتھ اسے اٹھنا ہوگا کتنا مشکل کام ہے یہ کوئ نہیں جان سکتا اور جسے یہ خبر دی جائے تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اس بات پر یقین کرلے۔۔۔۔ 

کبھی نہیں معلوم سب کوہے لیکن جانا کوئ نہیں چاہتا۔

کبھی سوچا ہے کہ موت ہے کیا؟

ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ یہ جسے ہم زندگی کہتے ہیں یہی موت ہو اور زندگی ہماری اس موت سے شروع ہو یعنی جسمانی مو ت سےجیسے رات سونے کے بعد صبح دوبارہ اٹھنا اور زندگی شروع کرنا بہرحال جہاں ہیں وہاں نہ ہونا موت ہے۔

مجھے لوگوں کے چہرے پر موت کی تاریکی نظر آجاتی ہے۔

گزرتی زندگی میں بہت سے مقامات پر میں اپنے اندر پیدا ہونے والی اس قوت کا مشاہدہ کیا ہے۔

اٹھارویں منزل سے دیکھنے پر سڑک پرچلتی ہوئ گاڑیاں چونٹیاں لگتی ہیں تیزی سے رینگتی ہوئ رنگ برنگی اور سڑک پر چلنے والے لوگ کیڑے مکوڑے بے وقعت بے فائدہ اور فالتو جلدی جلدی گاڑیوں سے بچتے ہوئے سڑک پر ادھر ادھر بھاگتے ہوئے میں گھنٹوں اپنے دفتر سے دبیز شیشوں کے پیچھے سے ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں بیٹھ کر سڑک کا مشاہدہ کرتا رہتا ہوں صرف کچھ بلندی پر آجانے سے زندگی کتنی بے وقعت ہوجاتی ہے۔

ایسے ہی چلتے ٹریفک میں ایک روز جب گاڑیاں ہارن بجاتی زور سے دوڑ رہی تھیں ایک شخص آتی جاتی گاڑیوں کے درمیان راستہ بناتا دوسرے کنارے جانا چاہتا تھا گزرتی گاڑیوں سے ایک سرکس کے کھلاڑی کی طرح بچتا سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا تھا میں اپنی اسی کھڑکی میں بیٹھ کر اس منظر کواوپر سے دیکھ رہا تھا اورتب ہی میں نے اس شخص کے اوپر منڈلاتی ہوئ موت کو دیکھ لیا چانک بریکیں چرچرائیں شور ہوا مجمع اکٹھا ہواگیا وہ کھلاڑی آخر کو گرگیا ایسے ہی بچتے ہوئے ایک گاڑی اسے چھو گئ اور تب ہی موت نے جھپٹا مارا اور وہ ڈھیر ہوگیا بہت سے انسانوں نے اسے گھیر لیا اور مجھے میری اس امید سے دور کردیا کہ میں ایک زندہ کو مردہ میں تبدیل ہوتا دیکھ سکوں کچھ دیر میں ایمبولینسیں آئیں اور مردہ جسم اٹھا کر لےگئیں۔

کئ سال پہلے انگلستان میں میرے ایک چچا صرف مجھے ملنے لندن سے مانچسٹر اپنی گاڑی پر آئے وہ جتنے دن میرے پاس مقیم رہے مجھ سے صرف موت کے بارے میں باتیں کرتے رہے مجھے بتاتے رہے کہ کب انہوں نے پہلی بار موت کا مشاہدہ کیا کب انہوں نے پہلی با ر کسی مردے کو غسل دیا اور اسی قسم کے بور کرنے والی باتیں دنیا کی بے ثباتی اور موت کے متعلق باتیں کسی نوجوان کو جو ایک آزاد معاشرے میں رہ رہا ہوں اور یہ بھی جانتا ہو کہ وہ ہمیشہ یہاں نہیں رہے گا بہت بور کردینے کوکافی ہیں لیکن میں پھر بھی انکی یہ سب باتیں سنتا رہا جانے سے پہلے وہ مجھ سے ایسے ملے جیسے آخری مرتبہ مل رہے ہوں اگلے دن میرے پاس خبر آئ کہ واپسی پر ہائ وے پر کار ایسیڈنٹ میں انکا موقع پر انتقال ہوگیا انگلستان کا موسم اکثر ابر آلود رہتا ہے۔

میری پیاری نانی کا جب آخری وقت آیا ان کے آخری وقت میں ہسپتال کی انتظار گاہ میں لوگوں کے ہجوم کے آگے دم توڑتے اے سی کی گرمی میں اور عوام کے پسینے سے نچڑتے ہوئے جسموں سے گیلی ہوتی ہوئ کرسیوں پر ایک قیدی کی طرح بیٹھے ہوئے صرف میں ہی تھا جو ہر روز اس خبر کا انتظار کیا کرتا تھا اور اسی خبر کے ساتھ میری آزادی بھی پوشیدہ تھی کہ اب یہ اس دنیا میں نہیں رہیں۔

انہیں گھر سے ہسپتال لاتے ہوئے انکے سرخ وسفید چہرے پر میں نے موت کی سیاہی دیکھ لی تھی بے رحم اور ظالم موت۔

موت انسان کے خوابوں کے توڑنے والی چیز ہے سب ارادے ملیامیٹ کرنے والی ۔

میرے گھر کے سامنے ایک جوڑا آکر آباد ہوا نئی نئی زندگی مستقبل کے خواب، بچے اور انکا مستقبل پھر ان بچوں کے بچے لیکن ایک روز وہ مرد تکلیف کی حالت میں اپنی بیوی کو لیکر بھاگا اور اس سے پہلے اس نے مجھے ہی مدد کیلئے پکاراجب میں اس عورت کو اٹھانے اس کمرے میں گیا جہاں وہ موجود تھی تب ہی میں نے اس عورت کے چہرے پر بھی وہی تاریکی دیکھی ایک زندگی کا آغاز اور اسی لمحے ایک کا اختتام دو جڑواں بچوں کو جنم دینے کے دوران ہی وہ عورت مر چکی تھی۔

اپنے ایک عزیز کی عیادت کیلئے میں ایک ہسپتال گیا تووہاں کچھ لوگ اپنے مرتے ہوئے مریض کیلئے اپنی تمام جمع پونجی لگاچکنے کے بعد بھی پیسے جوڑ رہے تھے حالانکہ فیصلہ ہوچکا تھا میں نے ان سے کہا کہ مزید روپے خرچ کرنے کے بجائے یہ پیسے کفن دفن کیلئے سنبھال رکھیں تو ان میں سے ایک شخص جو شاید مریض کا باپ تھا مجھے ایسی نظروں سے دیکھا کہ میں لرز اٹھا اپنے جسم کی تمام قوت جمع کرنے پر بھی میں ایک قدم نہ اٹھا سکا تب مجھے معلوم ہوا کہ اب آئندہ اس خبر کا بوجھ مجھے اکیلے ہی اٹھانا ہوگا۔

جب میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تو مجھے کیوں یہ طاقت عطا ہوئ کیا میں ہمیشہ یہ جان کر خاموش رہونگا کہ میرا کوئ بہت ہی پیارا اس دنیا سے جانے والا ہے اور یہ جان جانے کے باوجود میں غم بھی نہیں منا سکونگا مجھے ایسے لوگوں سے ہنس کرملنا ہوگا جن کے بارے میں میں جانتا ہوں کہ یہ کل اس دنیا سے جانے والا ہے۔

میں نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا گھر سے نکلتا بھی تو اپنی نظریں جھکا کر چلتا کوشش یہ کرتا کہ کسی کے چہرے پر نظر نہ پڑے لیکن پھر بھی بازاروں میں گھومتے ہنستے مسکراتے بے خبر چہروں پر نظر پڑ ہی جاتی۔

میں نے ٹیلیوژن دیکھنا بھی چھوڑ دیا دن بھر گھر میں رہتا سوتا یا کتابیں پڑھتا اور رات دو چار ورق سیاہ کرکے اپنی روزی کما نے کے اسباب پیدا کرلیتا۔

ایک دن ہونہی خیال آیا کہ ایک دن ایسا بھی تو آئے گا۔۔۔ اس سے آگے میں سوچ نہ سکا مجھے جھرجھری آگئ

بے شک سب اس دنیا سے جائیں گے سب ہی کو جانا ہے ۔۔۔

لیکن میں۔۔۔نہیں میں کیسے جاسکتا ہوں میرے بعد اس دنیا کا ستیاناس نہیں ہوجائے گا

لیکن کبھی نہ کبھی تو پھر بھی۔۔۔

کبھی نہ کبھی کب؟؟

یہ تو کو ئ نہیں جانتا یا شاید میرے علاوہ کوئ اور بھی ہوجو یہ بتا سکے۔

لیکن پھربھی کب؟

یہ کوئ نہیں بتا سکتا میں بھی نہیں مجھے تو بس کچھ لمحہ قبل ہی خبر ہوتی ہے ۔

لیکن کب؟

شاید جلد ہی۔

اور جب مجھے خبر ہوگی تو میں کیا کرونگا؟

آج صبح شیو کرتے ہوئے آئنے میں اپنا چہرہ دیکھا تو مجھے اپنے چہرے پر بھی وہی سیاہی نظر آئ۔

اب صرف انتظار کرنا ہے۔۔۔

Wednesday, 10 June 2015

ماضی سے جڑے ہوئے لوگ


پچھلے دنوں میں اپنی گاڑی کاکام کرانے مکینک کے پاس گیا میں چونکہ بہت صبح پہنچ گیا تھا تو وہاں زیادہ لوگ نہیں تھے میرے علاوہ ایک اور صاحب تھے جنہوں نے وہاں موجود ایک اور صاحب سے انکے گاڑی کے متعلق بات چیت شرورع کی ہوئ تھی وہ ان سے گاڑی کا سودا کرنا چاہتے تھے اور دوسرے صاحب بیچنے پر رضامند نہیں تھے کافی دیر گزرنے پر دوسرے صاحب نے موضوع بدلنے کے غرض سے میری گاڑی کی طرف اشارہ کرکے ان سے پوچھا کہ یہ آپ کی گاڑی ہے تو انہوں نے حقارت سے نفی میں گردن ہلادی اور اپنی گاڑی کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہ میری گاڑی ہے جس پر میں نے ان دوسرے صاحب کو بتایا کہ یہ میری گاڑی ہے

جواب میں وہ بولے کہ یہ گاڑی اپنے وقت کی بہترین گاڑی تھی اور ایک کامیاب ماڈل رہا ہے تو پہلے والے صاحب بولے:

''گھوڑا جاہے جتنی بھی اچھی نسل کا رہا ہو لیکن جب وہ بوڑھا ہو جاتا ہے تو کسی کام کا نہیں رہتا''

اس بات پر میں نے انکو جواب دینا چاہا کہ بوڑھا ہونے پر بھلے ہی وہ کسی کام کا نہ رہے لیکن اس مالک کیلئے جسے اس نے بہت سی ریسیں جیت کر دی ہوتی ہیں اور پوری زندگی اسکی خدمت کی ہوتی ہے اس بوڑھے گھوڑے کی اہمیت کم نہیں 
ہوتی لیکن مصحتاً خاموش رہا اسی بات پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا

ہمارے محلے میں ایک بزرگ رہا کرتے تھے جو ایسی ایک گاڑی کے مالک تھے بڑھاپے کہ وجہ سے گاڑی چلانے سے معذور تھے لیکن روز صبح اپنی نگرانی میں گاڑی دھلواتے چمکواتے ریڈیئٹر کا پانی چیک کراتے اور اسکے بعد کافی دیر وہیں بیٹھے رہتے کبھی کبھی گاڑی کے بانٹ کو لاڈ سے سہلاتے ہوئے بھی دیکھے جاتے ایک دن انہون نے مجھے بلایا اور اور چابی حوالے کی کہ گاڑی سٹارٹ کرو اور خود برابر میں بیٹھ گئے اور پھر ہم نے ایک لمبا چکر لگایا اسی دوران وہ مجھے بتاتے رہے کہ گزشتہ چالیس برس سے وہ اس گاڑی کے مالک ہیں گھر میں دوسری گاڑیاں ہیں بچے کہتے ہیں کہ اسے بیچ دیں تو کہتے ہیں اپنی زندگی میں تو وہ ایسا نہیں کر سکتے ہاں جب انکا اتقال ہوجائے تو پھر اس گاڑی کا جو 
مرضی آئے کرنا چالیس سال کے ساتھ اور انسیت کی وجہ سے وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔

ایک اور صاحب کو میں جانتا ہوں جو کسی اچھی پوسٹ سے ریٹائرڈ ہیں کئ نئ ماڈل کی گاڑیاں انکے گھر میں کھڑی ہیں لیکن وہ اپنی کھٹارا گاڑی ہر ہفتے کو نکالتے ہیں مکینک کے پاس جاتے ہیں اور اسکے بعد مسلسل دو دن اسی گاڑی کو چلاتے رہتے ہیں اس سے اسکا انجر پنجر کو پہلے ہی ڈھیلا ہے وہ مزید ڈھیلا ہوجاتا ہے اور دوبارہ مرمت کی ضرورت پڑ جاتی ہے لیکن نہ تو وہ اس گاڑی کو بیچتے ہیں نہ ہی چلانا چھوڑتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ گاڑی انکے پاس تب سے ہے جب انکے پاس کوئ اور گاڑی نہیں تھی بچوں کی پیدائش کے بعد وہ اسے گاڑی پر انکو گھر لائے تھے پھر اسی گاڑی میں وہ اپنے بچوں کو پہلی مرتبہ اسکول چھوڑنے گئے انکے والدین نے اس گاڑی میں انے ساتھ سفر کیا ہے وہ نہ تو اسکو بیچنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں نہ ہی اسکو چلانا چھوڑ سکتے ہیں انکا کہنا ہے یہ انکے گھر کے ایک فرد کی طرح ہے۔

میرے ایک ماموں ہیں انہوں نے بچوں کے دباؤ میں آکر اپنی پرانی گاڑی فروخت کردی جسمیں ہماری مرحومہ نانی جان سفر کیا کرتی تھی بیچنے کو بیچ دی لیکن اسکے بعد واقعتاً انکا کھانا پینا چھوٹ گیا نتیجتاًانکی بیگم نے کچھ پیسے اوپر دیکر وہ گاڑی واپس خرید لی۔

بعض پرانی چیزوں کی ہمیں عادت ہوجاتی ہے یا ان کے ساتھ کچھ ایسی یادیں وابستہ ہوجاتی ہیں کہ خود سے الگ کرنےکے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا لیکن یہ بات انکو کون سمجھائے جو اس بات کے قائل ہیں کہ گھوڑا اگر بوڑھا ہوجائے تو اسے گولی مار دینا چاہئے۔

Thursday, 4 June 2015

سیف الملوک ایک سرد رات کا احوال


رتی گلی کی برف ابھی پگھلی نہیں تھی اور وہاں کے سحر سے ابھی ہم پوری طرح باہر بھی نہیں آئے تھے کہ ہمارے پیر ایک مرتبہ پھر آبلوں کیلئے ترسنے لگے گھر کے آرام سے تنگ آچکے بدن ایک مرتبہ پھر سفر کی بے آرامی اور مشقت کیلئے بےچین ہونے لگے دماغ پر دھن سوار ہوگئ اور نئے سال کی ابتدا کے ساتھ ہی سالانہ چھٹیوں کا اکاؤنٹ جب دوبارہ بھر گیا تو میں نے رانا صاحب پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ جلد از جلد کوئ سفر اختیار کرلیا جائے اور وہ مجھے تسلی دیتے رہے کہ جب سفر کا وقت آئے گا سفر کے اسباب خود بخود بننا شروع ہوجائیں گے۔

لیکن شاید بے چینی تب ہی ہوتی ہے جب وقت آچکا ہوتا ہے رانا صاحب اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں نکال پارہے تھے اور انہوں نے مجھے بارہا سفر کی تاریخ آگے بڑھانے کوبولا لیکن جیسے میں نے کہا کہ وقت آچکا تھا تو میں ٹکٹ کٹا کر لاہور جانے کیلئے تیار ہوگیا۔ 
روانگی سے قبل ہم نے سفر کے ضروری سامان کے حصول کراچی کے مختلف بازاروں کے چکر کاٹنا شروع کردئے جس میں گرم جیکٹ، موزے ،دستانے اور جوتے وغیرہ شامل تھے یہ سب سامان جمع کرنے کے بعد ہم جانب لاہور عازم سفر ہوگئے۔ 
کراچی سے مصطفیٰ صابر جو رتی گلی کے سفر میں بھی میرے ساتھ تھا اور لاہور سے رانا عثمان کے علاوہ راولپنڈی سے فرخ شہزاد میرے ہمسفر تھے ہمسفر اچھے ہوں تو سفر اچھا کٹ جاتا ہے۔ 

کراچی سے ہم لاہور پہنچے وہاں رانا صاحب ہمارے منتظر تھے اور وہاں پہنچتے ہی ہم مانسہرہ کیلئے روانہ ہوگئے فرخ کو اسی بس میں ہمارے ساتھ شامل ہونا تھا ڈائیو سروس کی یہ بس زیادہ تر خالی ہی تھی جس کا فائدہ اٹھا کر میں اور رانا صاحب پچھلی سیٹوں پر دراز ہوگئے گوکہ جگہ تنگ تھی لیکن کہتے ہیں دل میں جگہ ہونی چاہئے ہم دونوں دل سے دل ملا کر اسی طرح سوتے رہے یہاں تک کہ اسلام آباد چنگی نمبر چھبیس سے فرخ شہزاد بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگئے۔ 

صبح فجر کے کچھ پہلے ہم مانسہرہ پہنچ گئے ہمارے بس سٹینڈ پر اترتے ہی چاروں طرف سے کمبلوں کی بکل ماری ہوئ ایک فوج نے ہمیں گھیر لیا کوئ ہمارے بیگ کھینچ رہا تھا اور کوئ ہمیں دکھیل کر اپنی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش میں مصروف جیسے ہمیں اغوا کرنا چاہتا ہو صبح کے نیم اندھیرے میں ایسی صورت حال خاصی پریشان کن تھی ہمیں سب سے محفوظ مقام خدائے ذولجلال کا گھر ہی معلوم ہوا اور ہم سب اپنا سامان اٹھائے وہیں بس سٹینڈ پر بنی مسجد میں داخل ہوگئے۔ 

باہر آنے پر پھر وہی جمگھٹا وہی لڑائ وہی اغوا کی کوششیں کچھ تو اس قدر جزباتی ہوئے کہ آپس میں گالم گلوچ پر اتر آئے قبل اسکے کہ وہ ہاتھا پائ پر اتر آتے رانا صاحب نے ایک شریف اور اس تمام لڑائ سے دور کھڑے ایک مسکراتے ہوئے ایک گاڑی والے سے سودا طے کرلیا کہ وہ ہمیں بالاکوٹ تک چھوڑ آئے وہاں سے آگے کے تمام انتظامات عدیل حسین کی ذمہ داری تھے جن سے ہماری بات پہلے سے طے ہوچکی تھی۔ 

مانسرہ سے بالا کوٹ کا راستہ مکمل گولائیوں والی سڑک پر مشتمل ہے اور کچھ کچھ اسی راستے سے مشابہ ہے جو راولپنڈی سے مری جاتا ہے ایک طرف پہاڑپر زمین سے سروں اوپر دیار کے درخت ہیں اور نیچے گہرائ میں سبزہ اور ان میں بنے ہوئے حسین گاؤں فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ فاصلہ طے کرنے پر دریائے کنہار ساتھ چلنے لگتا ہے کبھی قریب اور کبھی دوری پر ایسی ہی گولائیوں پر چکراتے چکراتے ہم بالاکوٹ سے نزدیک ہوتے جارہے تھے کہ اچانک ہمیں گاڑی روکنا پڑی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے رانا صاحب کی طبیعت بگڑ گئ تھی۔ 

یہ طبیعت بگڑنا ہمارے لئے کافی مفید ثابت ہوا اور اسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرخ اور میں دونوں ہی کیمرے اٹھا کر ادھر ادھر بٹھک گئے سڑک کے پرے تھوڑا نیچےایک جنگل نما علاقہ تھا اور اس سے بھی نیچے ایک گاؤں بلندی سے 


صرف اکا دکا گھر نظر آرہے تھے حالانکہ وہاں اور بھی ہونگے۔ 


رانا صاحب کی طبیعت سنبھلی تو سفر دوبارہ شروع ہوا اور ابکی مرتبہ جو ہم چلے تو بالاکوٹ میں ہی رکے جہاں سے ہمیں عدیل کی قیادت میں سرنگوں کرنا تھا 

بالاکوٹ ایک دلبر شہر ہے اور اس شہر نے ہمارا استقبال بہت اچھےطریقے سے کیا سورج جو ابھی بادلوں میں تھا پوری طرح روشن ہوکر چمکنے لگا اور ہلکی سی کہر میں پہاڑوں کا جو منظر تھا وہ قدرے واضح ہوگیا اور ان پہاڑوں پر جمی برف کی ہلکی سی تہ سورج کی ان شعاؤں کے پڑنے سے دمکنے لگیں گوکہ جہاں سے مجھے یہ منظر دکھائ دے رہا تھا وہاں بجلی کی تاروں ،جا بجا لگے اشتہاری بینروں اور دوکانوں پر لگے بورڈز کی وجہ سے منظر کافی بدنما ہوچکا تھا لیکن پھر بھی یہ ایک قابل دید منظر بلاشبہ تھا کچھ وقت اور گزرا اور سورج کی روشنی نے جان پکڑی تو دھوپ کی چمک اس قدر بڑھ گئ کہ آنکھیں چندھیانے لگیں سردی کی اپنی جگہ قائم تھی اور دھوپ بھی سردی میں کوئ کمی نہیں لا سکی تھی سانس کے ساتھ منہ ناک سے بھاپ نکلے کے عمل میں کسی قدر کمی البتہ ضرور آچکی تھی۔ 

وہیں بازار میں جہاں عدیل کو ہمیں وصول کرنا تھا ہم اپنا سامان رکھ کر ایک ہوٹل میں ناشتہ کی غرض سے داخل ہوگئے اور رانا صاحب اپنا فون کان پر لگائے باہر کھڑے ہوگئے اور کچھ دیر بعد جب وہ اندر واپس آئے تو چہرے پر پریشانی کے آثار نمایا تھے۔ 

"کیا ہوا رانا صاحب" میں نے پوچھا 

"ہاں کیا ہوا عثمان؟" فرخ نے بھی میرے ساتھ ہی سوال کیا 

"کچھ نہیں یار ناشتہ آرڈر کیا؟" رانا صاحب نے موبائل کی سکرین جیکٹ سے رگڑ کر صاف کی 

"بات ہوئ عدیل سے؟" فرخ نے رانا صاحب سے پوچھا 

"نہیں موبائل بند آرہا ہے لیکن میں نے لاہور سے نکلتے ہوئے بتا دیا تھا وہ پہنچ جائے گا راستے میں ہوگا سگنل نہیں مل رہا ہوگا" رانا صاحب نے جواب دیا اور اسی دوران ناشتے کا آرڈر بھی دیا جا چکا تھا۔ 

ناشتہ آیا اور ابھی ہم ناشتہ کر ہی رہے تھے کہ رانا صاحب کے فون کی گھنٹی بجی اور وہ اٹھ کر باہر چلے گئے اور پھر غائب ہوگئے ہم ناشتے سے فارغ ہوچکے اور دو دو پیالی چائے چڑھا چکنے کے بعد بھی جب رانا صاحب واپس نہ آئے تو ہمیں تشویش ہوئ اور سب سے پہلے فرخ باہر گیا اور اسکے پیچھے مصطفیٰ اور آخر میں میں اٹھا پھر خیال آیا کہ یوں سب سامان چھوڑ کر چلے جانا مناسب رہے گا یا نہیں لیکن بعد میں جانے والے بھی جب واپس نہ پلٹے تو میں نے بھی ارادہ کیا کہ باہر جانا ہی چاہئے پتہ نہیں کیا ہوگیا کہ جو باہر جاتا ہے واپس نہیں آتا سامان کے بارے میں ہوٹل والے سے کہ کر میں باہر نکلا تو تینوں میں سے کوئ بھی موجود نہیں تھا ادھر ادھر نظریں دوڑانے پر رانا صاحب تو نہیں لیکن فرخ اور مصطفیٰ نظر آگئے وہ ایک جیپ والے کے ساتھ کھڑے بات چیت میں مصروف تھے جب میں قریب ہوا تو انکے درمیان جو گفتگو ہورہی تھی وہ کچھ اس قسم کی تھی میں نے جہاں سے اس مکالمے کو پکڑا وہاں سے ہی لکھ رہا ہوں 

جیپ والا:"تو اسکو چھوڑو ناں وہ آجائے گا پیچھے" 

فرخ:" یار ایسا تھوڑی ہوسکتا ہے" 

جیپ والا:" آپ کا بکنگ کس کے ساتھ ہے" 

مصطفیٰ:"بھائ نام ہمیں نہیں معلوم لیکن بکنگ ہے ہماری کوئ ہمیں لینے آنے والا ہے" 

جیپ والا:"بھائ ادھر سب گاڑی انجیر کا چلتا ہے ہم بھی انجیر کیلئے کام کرتا ہے" 

ایک لڑکا جو جیپ کی صفائ میں مصروف تھا اس جیپ والے سے کوئ سگنل ملتے ہی غائب ہوگیا اور چند منٹوں میں دو کندھوں پر ہمارے دوبیگ لاد کر باہر آیا اور جیپ پر لوڈ کرنے لگا۔ 

فرخ:" بھائ کیا کررہے ہو رکو ابھی بڑابھائ آجائے سامان کیوں اٹھا لائے ہو" 

اسی موقع پر رانا صاحب کہیں سے نمودار ہوئے اور آتے ہیں اونچی آواز میں سلام کیا 

"السلام وعلیکم " مصافحہ کے بعد سوال کیا "عدیل نہیں آیا؟" 

"یار یہ عدیل کے ساتھ نہیں ہے پتہ نہیں کون ہے زبردستی سامان رکھ رہا ہے گاڑی میں آپ بھی غائب ہوگئے اچانک" مصطفیٰ نے جلدی جلدی معلومات مہیا کیں۔ 

رانا صاحب جو پہلے ہی کچھ پریشان لگ رہے تھے اچانک غصہ کر بیٹھے "یار تم لوگ بچے ہو کیا کوئ بھی سامان اٹھا کر رکھ رہا ہے اور تم لوگ دیکھ رہے ہے کھڑے کھڑے بچوں کی طرح" اسکے بعد جیپ والے سے بولے "یار تم سامان نکالو میری بات ہوگئ ہے بندہ آرہا ہے" 

جیپ والا ہمارا سامان باہر رکھ کر وہیں جیپ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اور منہ میں کوئ بہت ہی بدبودار سگریٹ سلگا کر دبا لیا اور اس سے پہلے اس نے ہم سے یہ کہا کہ وہ یہیں بیٹھا ہوا ہے اگر ہمارا بندہ نہیں آتا تو ہم اسکے ساتھ ناران جائیں کسی اور کے ساتھ نہیں اور ہم اس سے وعدہ کرکے کہ اگر واقعی ایسا ہوا تو بالکل اسی کے ساتھ جائیں گے واپس ہوٹل کے اندر آکر بیٹھ گئے رانا صاحب نے چونکہ ناشتہ نہیں کیا تھا چناچہ انکو ناشتہ کرایا گیا اوروہ بے دلی سے ناشتہ کرتے رہے۔ 

کچھ دیر بعد میں فوٹوگرافی کے غرض سے باہر نکلا ہوٹل کے سامنے ہی ایک کالے رنگ کا بالوں سے بھرا لیکن کیچڑ اور مٹی میں اٹا لیکن معصوم کتورا بھاگتا پھر رہا تھا جب وہ رکتا میں اپنے کیمرے کا زوم اور فوکس سیٹ کرکے اسکی تصویر لینے کیا کوشش کرتا وہ بھاگ جاتا کافی بھاگ دوڑ کے بعد جب اسے کچھ چین آیا تو ایک تو تصویریں ہی بنا سکا اور وہ بھی اسکی مسلسل حرکت کی وجہ سے آؤٹ آف فوکس خیر اسی دوران میں عدیل اپنی ٹیم کے ساتھ ہمیں وصول کرنے پہنچ چکا تھا ابتدائ تعارف کے ہم سب اپنی آگے سفر کیلئے ضروری سامان خریدنے کی غرض سے بازار کی 
طرف چل دئے۔ 

دو ٹیمیں بنائ گئیں ایک میری اور مصطفیٰ کی اور دوسری فرخ اور رانا صاحب سامان آدھا آدھا بانٹ دیا گیا کافی دماغ کھپانے کے بعد جب یہ خریداری مکمل ہوئ اور ہم دونوں بازار میں ٹیم کے باقی افراد کو ڈھونڈتے ہوئے جب اسی ہوٹل تک واپس پہنچے تو دیکھا کہ نہ تو وہاں ہمارا سامان موجود ہے نہ ہی کوئ اور ٹیم ممبر ہم یہ سوچ کر کہ شاید سامان جیپ میں لوڈ کیا جاچکا ہے ہوٹل سے وہاں تک پہنچے جہاں جیپ کھڑی تھی تو وہاں بھی نہ تو جیپ تھی نہ ہی ہوئ ٹیم ممبر وہی جیپ والا ابھی تک اپنی جیپ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ہم نے آواز لگا کر اس سے دریافت کیا کہ ہماری والی جیپ کدھر چلی گئ تو وہ اطمنان سے بولا کہ " وہ تو سب لوگ گیا" 

اب اگر یہ مذاق تھا تو کافی بھونڈا لیکن نہ تو جیپ تھی نہ ہی سامان نہ کوئ اور فرد تو ہمیں اس بات کو سنجیدگی سے لینا پڑا ہم اپنے خرید شدہ سامان کے ساتھ واپس ان تمام دوکانوں میں جھانکتے ہوئے جہاں ہمارے باقی ساتھ خریداری کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے پورے بازار کا ایک چکر لگا آئے ہمیں یہ اطمنان تو تھا کہ ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں گے لیکن سوال یہ کہ گئے تو کہاں گئے اور ایسے گئے کہ واپسی کا کوئ نشان ہی نہیں پورے بازار اور منسلک مقامات پر ڈھونڈائ کرنے کے بعد ہم دونوں واپس آکر اسی ہوٹل کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔ کافی دیر ہم دونوں ایسے ہی بے مقصد سیڑھیوں پر بیٹھے رہے اور انتظار میں رہے کہ ابھی جیپ آتی ہوگی لیکن جیپ کو آنا تھا نہ آئ چنانچہ بلا سوچے سمجھے ہم دونوں اٹھے اور دوبارہ بازار کی طرف چل دئے خیال یہ تھا کہ دوبارہ بازار میں ان سب کو تلاش کریں گے شاید ہم نے دیکھنے میں کوئ غلطی ہوئ ہو بازار پہنچنے پر دور سے فرخ شہزاد اپنا کیمرہ سنبھالے مناظر کو اپنے لینس میں محفوظ کرتے نظر آگئے میں نے دور سے ہی آواز لگا ئ"فرخ کہاں چلے گئے تھے بھائ""میں تو ادھر ہی ہوں" فرخ کی ایک خاص عادت ہے وہ ہر بات مسکرا کر ہی کرتے ہیں لیکن سنجیدگی حد سے زیادہ طاری رکھتے ہیں اور بہت سوچ کر الفاظ کا کم سے کم استعمال کرتے ہیں اور جہاں اپنے دخیرہ الفاظ میں کسی قسم کی کمی کا اندیشہ ہو وہاں صرف مسکرا کر ہی گزارا کرلیتے ہیں۔"یہاں کیا کر رہے ہو بھائ باقی لوگ کہاں گئے" میں نے دوبارہ ہمت کرکے سوال کیا"وہ ادھر گئے ہیں" فرخ نے ایک جانب اشارہ کرکے اپنا جواب مکمل کردیا

"کیا کرنے چلے گئے اور سب کا سامان کہاں ہے؟" مزید ہمت کرنی پڑی معلومات نکلوانا آسان ثابت نہیں ہورہا تھا 

"شاید پٹرول ڈلوانے" شاید کافی پریشان کن تھا یعنی فرخ کو کوئ تشویش نہیں تھی کہ باقی ساتھی کہاں چلے گئے وہ اکیلے ہی گھوم کر تصویریں بنا رہے تھے۔ 

ہم دونوں نے بھی تمام پریشانی کو پرے رکھا اور دوکانوں میں تانک جھانک شروع کردی اور کچھ ضروری اور زیادہ تر غیر ضروری سامان کی خریداری بھی کرڈالی اسی دوران میں رانا صاحب اور باقی کی ٹیم بھی آگئ وہ واقعی ڈیزل بھروانے چلے گئے تھے وہاں رش ہونےکی وجہ سے انکو وقت زیادہ لگ گیا ہمارا سامان پہلے ہی جیپ میں لوڈ کیا جا چکا تھا ۔ 
اب یہاں مناسب رہے گا کہ ان تمام لوگوں کا تعارف کرادیاجائے جو عدیل کے ساتھ ہمیں بالاکوٹ میں ملے۔ 
کفیل جو سب سے کم عمر تھا اور سب سے زیادہ ہنس مکھ بھی بلکہ اسکے چہرے پر تمام وقت مسکراہٹ سجی رہی 
یاسر جو ایک جرمن اوور کوٹ پہن کر ہم سب پر بڑی کڑی نظر رکھتا رہا اور ساتھ ہی ہر جگہ کہ مکمل معلومات بھی رکھتا تھا 
مسکین خاموش طبع جو بھی کام سپرد کیا جاتا خاموشی سے مکمل کرکے کنارے ہوجاتا پورے وقت میں شاید دو یا چار جملے یہ منہ سے ادا کئے ہونگے 
اور عدیل جو کہ اس تمام ٹیم کا لیڈر اور اب سے ہمارا لیڈر پورے علاقے کی مکمل معلومات رکھنے کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی کافی گہرا لگاؤ کافی کتابیں پڑھ رکھی اور تارڑ صاحب کی کافی کتابوں کے حوالے سے ہمارے درمیان بات چیت بھی ہوئ۔ 
ان کے علادہ چاچا جی جو جیپ ڈرائیو کر رہے تھے انکا نام نہ تو میں نے پوچھا نا ہی ضرورت محسوس ہوئ ۔ 
رانا صاحب واپس آگئے تو مزید کچھ خریداری کی گئ جسمیں زیادہ تر پکانے والے اشیاء تھیں پچھلی مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی کھانا پکانے کا شعبہ میرے ذمہ تھا لیکن اس بار ذیشان ساتھ نہیں تھا تو کسی نے مجھے زبیدہ آپا کے لقب سے نہیں نوازا ۔ 
خریداری مکمل ہوجانے پر ہم سب جیپ میں سوار ہوئے فرخ اور مصطفیٰ باقی چاروں کے ساتھ پچھلے حصہ میں جبکہ میں اور رانا صاحب ڈرائیور چاچا کے ساتھ آگے بیٹھے سفر شروع ہوا اور تب تک سورچ کافی اوپر چڑھ چکا تھا آسمان صاف تھا
اور ایک چمکیلا دن نکلا ہوا تھا۔ 

راستے میں پڑنے والا ایک گاوں 



بالاکوٹ




دوران انتظار مصطفیٰ صابر
 

بالا کوٹ سے نکل کر ہم پہلی مرتبہ کاغان پہنچ کر رکے چائے پی گئ چند ایک تصاویر بنائ گئیں اور پھر سفر دوبارہ شروع ہوا اس سے آگے کا سفر بلند و بالا پہاڑ دریائے کنہار کا ساتھ اور پھیلا ہوا وادی کا منظر راستے میں مکڑا پیک کے علادہ بہت سے دوسری چوٹیاں بھی نظر آتی ہیں جو تمام کی تمام برف پوش تھیں یونہی چلتے رہے کہ ہمارے سامنے کا منظر بدل گیا سڑک جو ابھی تک سیاہ تھی اچانک سفید ہوگئ اب ہم وادئ ناران کی حدود میں داخل ہورہے تھے۔ 

"سر اس سال تو برف باری ابھی کم ہوئ ہے ورنہ ابھی تک تو گزرنے کا راستہ بھی بند ہوچکا ہوتا ہے ادھر پرسوں پہلی برف باری ہوئ ہے نیچے اور کاغان میں تو ابھی برف گری ہی نہیں " عدیل نے پچھلی سیٹ سے ہمیں معلومات مہیا کیں 

ایسا ہی کچھ شکوہ صبح ان صاحب نے بھی کیا تھا جن کےساتھ ہم نے مانہسرہ سے بالا کوٹ کا سفر کیا تھا پچھلے کچھ سالوں میں اگر دیکھا جائے تو ملک میں بارش اور برف باری کا سلسلہ کافی کم ہوتا جا رہا ہے قسمت سے اگر کسی سال یہ مقدار ضرورت کے مطابق ہوئ بھی ہے تو ملک کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کی صورت میں اسکا اثر دیکھنے میں آیا ہے میں غلط بھی ہوسکتا ہوں لیکن اسکی وجہ بارش یا برف باری کے بجائے خود ہماری نا اہلی ہے ہم نے نہ تو پانی ذخیرہ کرنے کا کوئ بہتر انتظام کیا نہ ہی کوئ دوسرا حل نکالا نتیجہ یہ کہ ہم آج بھی 1960 میں ہی کھڑے ہیں جبکہ دیگر ممالک اس دوڑ میں ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ 

گھومتی ہوئ اس سڑک پر جو کہ ناران جارہی تھی ہماری جیپ آہستہ خرامی سے (آہستہ خرامی درست لفظ ہے ؟ میں نے یہ لفظ اسی طرح پڑھا ہوا ہے لیکن مجھے شک ہے کہ یہ غلط بھی ہو سکتا ہے اگر یہ غلط ہے تو میری اصلاح کریں اور صحیح لفظ سے میری معلومات میں اضافہ کریں شکریہ) چلتی جارہی تھی کچھ سفر کرنے کے بعد دریائے کنہار ہمارے بائیں ہاتھ پر آگیا آہستہ آہستہ نیلی بلکہ سبز رنگت میں بہتا ہوا اور سردی کی وجہ سے اسکا پاٹ اتنا ہوچکا تھا کہ پیدل بھی اسکو پار کیا جا سکتا تھا دوسرے کنارے پر بہت سے درخت خزاں کی بہار دکھارہے تھے یعنی پتوں اور پھولوں سے بے نیاز ایک مقام پر ایسے ہی درختوں کا پورا جھنڈ نظر آیا جن کے پتے سوکھ کر گرنے کے قریب تھے اور اس عمر کو پہنچے پر سرخی مائل بھورے رنگ کے ہوچکے تھے یہ ایسا نظارہ تھا کہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ اگر میں کسی اور موسم میں یہاں آیا ہوتا تو میرا دھیان کبھی ان درختوں کی طرف یوں نہ جاتا جیسا کہ بھی میں ان کو دیکھ رہا ہوں یعنی کہ سبز رنگ میں درخت دوسرے بہت سے درختوں کے درمیان اپنی الگ پہچان کرانے میں ناکام رہتے لیکن اس وقت اپنی منفرد رنگت کی وجہ سے بہت ہی نمایاں نظر آرہے تھے۔ 

خیر ہم یونہی آگے بڑھتے رہے سڑک آگے چل کر سیدھی ہوئ اور سامنے رنگ برنگی چھتوں والے ہوٹل نظر آنا شروع ہوگئے یعنی کہ ناران شہر آچکا تھا دور سے سفید پیش منظر میں پہاڑوں کے دامن میں یہ رنگ برنگی چھتیں اور انکے پس منظر میں ایک برف پوش چوٹی اور ایک باریک لکیر کی صورت میں بہتا سبز رنگ دریائے کنہار اس نظارے میں بس چند چیزیں ایسی تھیں جو اس با ت یا یقین دلا رہے تھے کہ یہ اسی دنیا کا نظار ہے ایک تو پکی سڑک اگر سڑک سے صرف نظر کرلیں تو وہاں ایک موبائل فون کمپنی کا ٹاور بھی تھا ایک نہیں کئ ایک تھے لیکن پہلی نظر میں ایک ہی نظر آیا۔ 

دریا پر بنے ایک کنکریٹ کا پل پار کرکے ہم ناران شہر میں داخل ہوگئے شروع میں لکڑی کے بنے کچھ کیبن ہیں اور اس سے آگے سڑک کے دونوں جانب ہوٹل ،ریسٹ ہاؤسز اور دوکانیں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بنے ہوئے ہیں اور اس دن وہ تما م کے تمام بند تھے کچھ کے دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے بعض نے دروازے اور کھڑکیوں پر لکڑی کے تختے ٹھونک کر انکو بند کیا ہوا تھا اس وقت شہر میں داخل ہونے والے صرف ہم تھے اور ہم ایسے داخل ہوئے جیسے کوئ فاتح داخل ہوتا ہے بغیر کسی مزاحمت کے ہماری سواری ایک سرے سے دوسرے سرے تک بغیر روک ٹوک کے گزرتی گئ کسی نے راستے میں آکر یہ نہیں کہا کہ ہمارے یہاں سستے کمرے کرائے پر خالی ہیں ناں ہی کسی نے اس بات پر اصرار کیا کہ اصل پشاوری کچن کڑھائ یا ناران کے مشہور چپلی کباب کھائے بغیر آگے سفر کرنا کفران نعمت کے مترادف ہےہم چلتے رہے یہاں تک کہ ناران کا پل آگیا جہاں سے ایک راستہ پی ٹی ڈی سی ناران کی طرف جا رہا ہے اس وقت دوپہر کےکوئ ڈیڑھ بج رہے تھے ہم چونکہ ارادہ کرکے آئے تھے کہ آج کی رات ناران میں قیام کریں گے اور کل صبح جھیل کا ٹریک کریں گے تو سب سے پہلا کام ایک کمرے کی تلاش کرنا تھا جو کہ عام حالت میں اتنا مشکل نہیں ہوتا لیکن اس روز کافی مشکل کام ثابت ہوا کیوں کہ سب سے پہلے تو ایک ایسے ہوٹل کی تلاش جو کھلا ہوا ہو اور ایسا کوئ ہوٹل نہیں تھا پھر کسی ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار کی تلاش جس کے پاس چابی بھی ہو یہ اتنا آسان نہیں ہم ایک ایسا کمرہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن وہ اتنا مختصر تھا کہ آٹھ افراد کو اپنے اندر سما تو سکتا تھا سلا نہیں سکتا تھا سونے کی اگر کوئ ترتیب بنا بھی لی جاتی پھر بھی کم از کم دوافراد کو باتھ روم میں سونا پڑتا اس دوڑ دھوپ میں کچھ وقت ضائع ہوا اور تب ہی ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے کھانا کھا لیا جائے سو ہم واپس آکر وہیں جہاں جیپ سے اترے تھے بیٹھ گئے ایک کھانے کا ہوٹل کھلا ہوا تھا اور ہمارا سامان جیپ سے اتار کر یہیں رکھا ہوا تھا کھانا تیار ہوا اور ابھی ہم نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ جیپ والے چاچا ہمارے پاس آئے اور رانا صاحب کو مخاطب کرکے بولے 

"عثمان بھائ آپ نے اوپر جانا ہے تو کل کا انتظار نہیں کرو ابھی جاؤ آج موسم کیسا شاندار ہے کل کا کیا بھروسہ بارش 
آجائے کہ طوفان ہو" 
اور بات واقعی قابل غور تھی کہ واقعی اس دن موسم بہت شاندار تھا تیز چمکیلی دھوپ نکلی ہوئ تھی اور آسمان بالکل صاف کہیں ایک بادل کا ٹکرا بھی نہیں تھا کسی بھی برفانی ٹریک کیلئے ایک نہایت موزوں دن انگریزی میں کہتے ہیں کہ "آئیڈیل ٹائم" وہ واقعی آئیڈیل ٹائم تھا 

یعنی بقول شاعر 
خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد 
سر من فدائ راہی کہ سوار خواہی آمد 
یعنی کہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ محبوب نے ارادہ کیا ہے میری جانب آنے کا تو میں نے اپنا سر اس راہ پر قربان کردیا جس پر چل کر وہ آنے والا ہے 

تمام بادل چھٹ گئے ،سورج نکل آیا ،راستے صاف ہوگئے ،حالات سازگار ہوگئے ،گری ہوئ طبیعت بحال ہوگئ، ہمت جوان ہوگئ جب سیف الملوک کی طرف ہم نے رخت سفر باندھا ۔ 

چاچا مزید بولے کہ جیپ کیلئے زنجیر کا پوچھا ہے اگر مل جائے تو اوپر جھیل تک جیپ ہی چلی جائے گی یعنی کہ ٹریک کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی جس پر ہمیں اعتراض تھا کہ ہم تو ٹریک کرنے ہی آئے تھے پھر طے یہ پایا کہ جیپ میں سامان لاد کر اوپر بھیج دیا جائے اور ہم سب ٹریکنگ کرکے اوپر پہنچیں اور جو جیپ میں جانا چاہےوہ جیپ میں بھی جاسکتا ہے۔ 
ویسے بھی کہتے ہیں کہ کل کس نے دیکھا ہے تو جب یہ فیصلہ ہوگیا کہ اوپر کا سفر آج ہی کیا جائے گا تو ہم سب کے اندر بجلیاں سے بھر گئیں جلدی جلدی تمام تیاریاں مکمل کی گئیں جو گرم کپڑے ، موزے جوتے ، دستانے، ٹوپیاں اور وہ سب جو کچھ ضروری تھا وہ نکال کر پہن اوڑھ لیا گیا کھانے کا ارداہ ترک کیا گیا اور اسکی جگہ بس ہلکا پھلکا آسرا کرلیا گیا باقی سامان جو ساتھ لیکر چلے تھے وہ اس ترتیب سے رکھ لیا گیا کہ بوقت ضرورت نکالنے میں آسانی رہے۔ 
سب تیاریاں مکمل ہوگئیں عدیل نے سلیپنگ بیگ اور کمبلوں کا انتظام کسی ریسٹ ہاؤس سے کرلیا یہ سب سامان جیپ میں رکھ کر ہم بھی بیٹھ گئے فیصلہ یہ ہوا تھا کہ ہم آدھے راستے تک جیپ میں جائیں گے اور اسکے بعد جیپ سامان لیکر اوپر پہنچ جائے گی اور ہم باقی کا راستہ پیدل طے کریں گے فرخ اور مصطفیٰ پورا راستہ پیدل طے کرنا چاہتے تھے انکو روکا تو نہیں گیا لیکن وہ خود ہی ہمارے ساتھ جیپ میں سوار ہوچکے تھے جب سب بیٹھ گئے تو چاچا نے چابی گھما کر جیپ سٹارٹ کی انجن نے زور لگایا ہم راستے سے ہٹ کر تھوڑا نیچے اترے اور پھر ایک راستے پر ہوگئے محبوب کی طرف سفر شروع ہوچکا تھا دید کی طلب اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔جب ہم سب جیپ میں تما سامان کے ساتھ ٹھس ٹھسا کر بیٹھ گئے تو ڈرائیور چاچا نےتمام تیاریاں چیک کرنے کے بعد پوچھا "چلیں جی" 
"چلیں" رانا صاحب نے پچھلی سیٹ سے جواب دیا 
"چلو جی بسم اللہ" جیپ سٹارٹ ہوگئ 

ہوٹل سے ہم ناران پل تک آئے اور وہاں نے سے ہم نے سڑک چھوڑ دی اور جھیل تک جانے والے ٹریک پر آگئے۔ 




 








آئیڈیل ٹائم 




نارن شہر دھوپ میں





جانے کی تیاریاں


ہر عروج کو زوال ہے اور ہر بلندی کو پستی اسی طرح ہر سفر کی کوئ نہ کوئ منزل کوئ نہ کوئ پڑاؤ کوئ نہ کوئ اختتام کبھی یوں بھی تو ہوتا ہے کہ انسان نہیں چاہتا کہ منزل آجائے اور سفر ختم ہوجائے یوں بھی ہوتا ہے کہ جس محبوب کی دید کی طلب دل میں ہر پل بسا کر جیتے رہے وہ سامنے آئے تو آنکھیں بند کرلیں کہ دیکھ لینے پر دل میں طلب وہ نہیں رہے گی جو کہ دیکھنے سے پہلے تھی آپ انہیں کتابی باتیں کہ سکتے ہیں لیکن کیا کتابی باتوں کا حقیقت سے کوئ تعلق نہیں ہوتا؟ ہوتا ہوگا جبھی کتابیں لکھی جاتی ہیں آپ یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ میں بہت زیادہ رومانٹک ہورہا ہوں ممکن ہے آپ ٹھیک سمجھ رہے ہوں یا میں الفاظ کی ڈگڈگی بجا کر خود کو بڑا اور منجھا ہوا مصنف ثابت کرنا چاہتا ہوں تو بھی آپ اپنی جگہ درست ہونگے کیونکہ ہر کسی کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ جیسا چاہے سمجھ سکتا ہے۔ 

جب بھی منزل قریب آنے لگتی ہے میرے اوپر کچھ دیر کیلئے ایک مایوسی طاری ہوناشروع ہوجاتی ہے یہ وہی کیفیت ہے جسکا اوپر ذکر کیا گیا ہے اسی لئے جب جیپ چل پڑی تو میرے دل میں وہی کیفیت بیدار ہوئ منزل قریب ہوتی جارہی ہے منزل تک پہنچنا اور پھر واپسی کا سفر شروع لیکن کیا کریں کہ ایسا کرنا بھی ضروری ہے خیر چھوڑئے ان باتوں کو کام کی بات کرتے ہیں۔ 

جیپ نے چڑھائ شروع کی ابتدا میں یہ خاصی ہموار اور آسان چڑھائ ثابت ہوئ لیکن آگے چلنے پر جب پیچ و خم شروع ہوا تو کئ جگہ ایسا ہوا کہ جیپ اوپر جانے کو زور مار رہی ہے لیکن برف میں پھسل کر نیچے آتی جارہی ہے پہیوں پر زنجیر چڑھے ہونے کی وجہ سے ہر چکر پر عجیب سی ایک آواز نکل رہی تھی جیسے کوئ آرا مشین چل رہی ہو۔ 

چڑھائ کے ساتھ ساتھ منظر کھلتا چلا جا رہا تھا ایک مقام سے نیچے دیکھنے پر ناران شہر ایک پیالے کی صورت نظر آنے لگا اور جہاں سے چڑھائ شروع ہوئ تھی وہاں بنا ہوا لال چھت والا "ہوٹل ڈیمنچی" یہ بتا رہا تھا کہ ہم کتنا اوپر آچکے ہیں اس ہوٹل کی خاص بات اسکی پیشانی پرلکھی ہوئ ایک عبارت " ایڈونچر ودھ کمفرٹ" پتہ نہیں انکی مراد اپنے ہاں کی رہائشی سہولیات کی تشہیر تھا یا کہ مہم جوئ سہولت سے کرانا چاہتے ہیں فرخ کو اعتراض تھا کہ یہ عبارت صحیح نہیں ہے خیر انکا ہوٹل انکی مرضی فی الحال یہ ہمیں ہماری بلندی سے آگاہی دے رہا تھا ہم اتنا اوپر آچکے تھے کہ یہ ہمیں صرف ایک لال دھبہ نظر آنے لگا۔ 

اسی آہستگی اور احتیاط سے چڑھائ کے دوران ایک موڑ آیا حسب معمول جیپ نے زور لگایا اور کئ گز نیچے کھسک آئ لیکن اس مرتبہ ہوا کچھ یوں کہ جیپ کھسک کر صرف نیچے ہی نہیں آئ بلکہ ایک جھٹکے کے ساتھ پھسل کر کنارے تک چلی آئ اور قریب تھا کہ کھائ میں گر جاتی لیکن اللہ کا کرم ہوا اور جند فیٹ ادھر ہی رک گئ جیپ کے گھسٹنے سے برف میں لمبے لمبے نشان پڑگئے تھے جیپ کو قابو میں کرنے کے بعد ڈرائیور چاچا نے پیچھے مڑ کر ہمیں دیکھا انکے چہرے پر عجیب مسکراہٹ تھی جسکااکوئ بھی مطلب ہوسکتا تھا ۔ 

آرا مشین کی گرگراہٹ سے ساتھ جیپ ہلتی ڈولتی کچھ دیر اور چلی اور رک گئ ہمیں یہاں اترنا تھا اور یہاں سے آگے پیدل ٹریک کرنا تھا ہم جیپ سے اترے اور باہر ایک تیز اور سخت موسم نے ہمارا استقبال کی اترے ہی تیز ہوا کا تھپیڑا منہ پر لگا اور ٹھنڈک ہڈیوں تک اتر گئ۔ 

جیپ سے اترتے ہی مصطفیٰ نے بولا "جب جیپ پھسلی تو میں نے کلمہ پڑھ لیا تھا موت سامنے نظر آرہی تھی" 

"میں نے بھی تم لوگ تو آگے تھے ضرورت پڑنے پر کود سکتے تھے لیکن پیچھے سے نکلنا تو ناممکن ہی تھا" میں نے جواب دیا 

ہمارا سامان اتار لیا گیا تھا اور برف میں چلنے کیلیے ہم ضروری تیاریاں کر رہے تھے سردی کی وجہ سے ہماری انگلیاں سن ہورہی تھیں سب سے مشکل ٹانگوں پر گیٹرز چڑھانا ہورہا تھا کیوں کہ پنڈلیوں پر پلیٹنے کے بعد زپ چڑھا کر اسے کسنا ہوتا ہے جوکہ ہاتھ سب ہوجانے کی وجہ سے بہت مشکل ثابت ہورہا تھا خیر اس تیاری کے بعد ہم چلنا شروع ہوئے۔ 

جہاں ہم کحڑے تھے وہاں زمین مکمل طور پر برف میں چھپی ہوئ تھی برف نرم تھی اور ہمارے پاؤں اسمیں دھنس رہے تھے چاروں طرف بھی باقی سب کچھ تو برف میں تھا لیکن پیچھے کی طرف ایک پہاڑ بھورے رنگ میں تھا اور اس پر ہلکی سی برف کی تہ کہیں کہیں جمی ہوئ تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے تھوڑا سا چونا کہیں کہیں مل دیا گیا ہو اور اسکے ٹھیک سامنے ایک دوسرا پہاڑ مکمل برف میں دفن تھا لیکن کہیں کہیں بھورا رنگ جھلک رہا تھا اور اسی پہاڑ پر چند برف کے بوجھ سے جھکے ہوئے درخت تھے جنکا سبزہ پوری طرح چھپا تو نہیں تھا لیکن نمایاں بھی نہیں ہورہا تھا اور ان دونوں کے پس منظر میں ایک عظیم الجثہ چوٹیوں کا سلسلہ تھا جہاں برف ابھی پوری طرح پڑ نہیں سکی تھی۔ 

ہم نے چلنا شروع کیا لیکن اس سے پہلے ایسا کیسا ہوسکتا تھا کہ رانا صاحب ساتھ ہوں اور ہم تصویریں نہ بنائیں چلنے سے پہلے ڈھیروں ڈھیر تصاویر بنائ گئیں کچھ تصاویر میں ایسی بنائ گئیں جسمیں چہرے پر خوف طاری کیا گیا مخفلف پوز مارے گئے گروپ بندیاں اورانفرادی یہ سلسلہ بہت زیادہ طول پکڑ جاتا لیکن اس مقام پر ہوا اتنی تیز اور ٹھنڈ ی تھی کہ چند لمحوں میں ہی محسوس ہونے لگا کہ خون رگوں میں جم جائے گا اور یونہی کھڑے کھڑے ہی موت گلے لگا لےگی میں نے ہی زور ڈالا اور قافلہ رواں ہوگیا فرخ البتہ ہمارا انتظار کئے بغیر ہی آگے جا چکا تھا۔ 

ہماری جیپ ہمیں اتار کر اوپر جاچکی تھی ایک جیپ جو ہم سے آگے چل رہی تھی ہمیں رکی ہوئ نظر آئ اور کچھ ہی دیر میں ہماری برابر آگئ ہمیں دیکھ کر ڈرائیور نے گاڑی روکی سلام جواب کے بعد ہم سے پوچھا 

"سر جی کدھر جل ساں" 

"جھیل تے بھائ اتھے رات گزاراں گے" رانا صاحب نے جواب دیا 

"کیوں مرنے چلے ہو ۔۔۔۔سردی بہت زیادہ ہے واپس پلٹ جاؤ"جیپ والے نے گویا ہمیں وارننگ دی تھی 

"نہیں جی اللہ مالک ہے" رانا صاحب نے جواب دیا 

"اللہ تو مالک ہے ہی بندے کو بھی عقل کرنی چاہئے" جیپ کے اندر ایک ادھیڑ عمر کے صاحب اور تین لڑکے بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں جھانک کر ایسے دیکھ رہے تھے گویا ہمارا آخری دیدار کرنا چاہ رہے ہوں شاید انہوں نے ایسے دیوانے پہلے نہیں دیکھے تھے 

اس با ت کے جواب میں عادل نہیں اس جیپ ڈرائیور سے مقامی زبان میں کچھ بات چیت کی جس پر وہ "چلو جی اللہ کے حوالے" کہ کر جیپ آگے بڑھا گیا 

"کیا بولا تم نے اسے" میں نے عدیل سے پوچھا 

"بولنا کیا تھا بھائ میں نے بولا کہ جب دیکھ رہے ہو میرے ساتھ آئے ہیں تو میری ذمہ داری ہے ہم انتظام کرکے آئے ہیں " 

ہم چلتے رہے برف اتنی تھی کہ چلتے ہوئے ہمارے پیر دھنس جاتے یہ بالکل تازہ اور نرم برف تھی چلنے کیلئے زور نہیں لگانا پڑتا تھا لیکن احتیاط بحرحال ضروری تھا۔ 


عادل نے ہمیں بتایا کہ اس وقت درجہ حرارت منفی پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تھا یہ نہیں پوچھا گیا کہ یہ ٹمپریچر کہاں نوٹ کیا تھا اور ہوا کا زاویہ معلوم نہیں کیسا تھا کہ ہر طرف سے گھس رہی تھی پورے جسم کو ڈھانپنے کے بعد چہرے کا جو حصہ کھلا تھا خاص طور پر ناک اور آنکھیں وہ اس ہوا کی وجہ سے کافی پریشانی میں تھیں ہر سانس کے ساتھ ٹھنڈی ہوا اندر جاتی اور جسم کو گرما جاتی(جی ہاں گرما جاتی کبھی برف سے دھواں نکلتا دیکھا ہے ویسی ہی گرمی) آکسیجن کہ کمی یا شاید سردی کی وجہ سے سانس ذرا سا چلنے سے چڑھنے لگتا یا وجہ شاید خوف رہی ہو موت کا خوف۔ 


جہاں سے سفر شروع ہوا



ہم آدھا گھنٹہ چلیں ہونگے کہ منزل قریب آگئ جھیل سیف الملوک پاکستان کی شاید ان چند جھیلوں میں سے ایک ہے جو کہ آسانی سے ہاتھ آجاتی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ دیگر آسانی سے ہاتھ آجانے والی جھیلوں کی طرح سیاحوں نے اسکا ناطقہ بند کیا ہوا ہے فرض کریں آپ ایک حسین لڑکی ہیں ( مرد حضرات بھی کریں) اورہر روز رشتہ کیلئے لوگ آپ کو دیکھنے آجائیں شروع میں تو یقینا دل میں لڈو پھوٹیں گے لیکن جب یہ سلسلہ زور زور چل نکلے اور سینکڑوں لوگ آپ کا دیدار کرنے آنا شروع ہوجائیں تو آپ کیسا محسوس کریں گے / گی؟ یہی حال کچھ اس جھیل کا بھی ہے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں آتے ہیں اور اگر آپ بھول سے پیک سیزن میں یہاں پہنچ جائیں تو یہاں آپ کو ہزاروں سیاحوں کے ساتھ سینکڑوں خوانچے والے، اور مختلف اشیاء فروخت کرنے والوں کے علاوہ بے حساب "تاڑو" بھی مل جائیں گے اگر آپ کے ساتھ خواتین ہیں تو آپکو انہیں ان سےبچانے میں کافی پریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے کیوں کہ ایک چھوڑو ہزار اور مل جائیں گے۔ 

خیر بات کسی اور رخ نکل گئ چلتے چلتے ہم مڑے تو اچانک ہی جھیل کو اپنے سامنے پایا گو کہ وہ مکمل طور پر برف کی چادر میں پردہ پوش تھی اور ہم جھیل سے کافی بلندی پر تھے لیکن محبوب کا سامنے ہونا ایک الگ ہی کیفیت ہے پردہ دار ہونے سے کوئ خاص فرق نہیں پڑتا ہمارے باقی ساتھی یعنی عدیل اینڈ کمپنی ہماری رہائش کیلئے کوئ مناسب جگہ ڈھونڈنے چلے گئے تھے ۔ 

پہلی ملاقات 


فرخ ایک کشتی میں سوار ہمارا انتظار کررہا تھا آپ میں سے اکثر نے جھیل سیف المکوک کی تصاویر میں جھیل میں چلتی ایک کشتی دیکھی ہوگی یہ وہی کشتی تھی لیکن تب وہ کشی برف میں دھنسی ہوئ تھی برف میں پھنسی اس کشتی کو دیکھ کر مجھے پتہ نہیں کیوں کشتی نوح یاد آگئ برف میں دھنسی ہوئ مسافروں کے انتظار میں جس کیلئے اسے ابھی بہت انتظار کرنا تھا فرخ ہمیں دیکھتے ہی بولا "کہاں رہ گئے تھے یہاں بیٹھ بیٹھ کر سوکھ گیا" 
"یار ہم ناتجربہ کار ٹریکر ہیں آرام آرام سے ٹریک کرتے ہیں" رانا صاحب نے مزاح کے انداز میں جواب دیا 

بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ انہیں سکون کی نیند صرف اپنے بستر پر آتی ہے چاہے دوسری جگہ کتنا ہی آرامدہ بستر اور ماحول مہیا کردیا جائے وہ مزہ نہیں آتا جو اپنے بستر پر ہونے میں آتا ہے بات بھی درست ہے اصل چیز وابستگی ہے جو آپکی اس مقام کے ساتھ ہے وابستگی کی بات ہے تو بہت سے ایسے ہیں جو روزگار اور دوسرے سلسلوں میں پاکستان سے باہر مقیم ہیں لیکن وہ ہمیشہ یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ پاکستان پاکستان ہے اور اس جیسا ملک دوسرا کوئ نہیں ہے میرے بہت سے دوست اور جاننے والے یہی کہتے ہوئے پائے گئے ہیں اور بہت تھوڑے عرصہ کیلئے میراذاتی تجربہ بھی یہی رہا تارڑ صاحب نے بھی کچھ ایسا ہی تجربہ بیان کیا ہے کہ وہ ملک سے وابستگی کیلئے پاکستان کا جھنڈا اپنے رک سیک پر لگایا کرتے تھے اور دوسرے ملکوں کے جھنڈوں کے بیچ انکی آنکھیں اپنے ملک کا جھنڈا تلاش کرتی تھیں جھنڈا ایک علامت ہے ایک اعلان ہے قوم سے وابستگی کا دنیا بھر میں جتنے بھی پاکستانی سفارت خانے ہیں ان پر پرچم لہرایا جاتا ہے، ملک بھر کی تمام سرکاری عمارتوں پر پرچم لگایا جاتا ہے یوم آزادی اور دیگر قومی دنوں کے موقع پر ملک کے تقریبا ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے، تمام فوجی شہدا کے تابوت بھی قومی پرچم سے ڈھکے جاتے ہیں ایسا ہی ایک پاکستانی پرچم میں نے اس برف زار میں بھی لہراتا دیکھا سفید پس منظر میں شان سے لہراتا ہواپاکستانی پرچم تیز ہوا کے باعث پھڑپھڑاتا ہوا کچھ کچھ بوسیدہ ہوچلا تھا لیکن تب بھی اسکی شان میں کوئ کمی نہیں آئ تھی میرے دل سے ہمشہ دعا نکلتی ہے کہ یہ ملک ہمشہ قائم ودائم رہے اور یہ پرچم ہونہی لہراتا ہے اور جو اس ملک کے خلاف ہیں اور اسکی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں انکو ہمیشہ رسوائ کا سامنا رہے آمین ہم نے رک کر پرچم کو سلامی دی اور رانا صاحب نے اس منظر کو کیمرے میں محفوظ کرلیا ہم آگے چلے جہاں ہمارا سامان ایک ڈھیر کی صورت برف پر پڑا ہواتھا۔ 

اس مقام سے جھیل کا منظر اپنی پوری وسعت کے ساتھ نظر آرہا تھا پورے منظر میں واحد مصنوعی چیز جھیل پر بنایا گیا لکڑی کا پل تھا اور ہاں چند لوہے کے بنے کچرہ دان بھی تھے جو صرف برفباری کے دنوں میں پورے بھرتے ہیں سال کا باقی حصہ اسکے ارد گرد اور جھیل میں اور جھیل کے ساحل پر کچرہ پھینک کر اسکا منہ چڑاتے ہیں کسی اکا دکا نے کوئ کچرہ ان میں ڈال دیا تو ڈال دیا۔ 

جہاں سے ہم چل کر آرہے تھے وہاں پیچھے کی طرف برف کے بیچوں بیچ بغیر چھت دیوار کے ایک دروازہ کھڑا ہوا تھا جسکے دونوں پٹ بند تھے یقینا یہ کسی گھر کا دروازہ ہی تھا گھر گر جائے اور دروازہ بچ جائے یہ کیونکر ممکن ہو یہ بھی ممکن تھا کہ وہ بہشتی دروازہ ہو لیکن جب آپ خود بہشت میں ہوں تو کسی دروازے کی کیا ضرورت ہم اس دروازے کی پرسرائیت پر غور کر ہی رہے تھے کہ عدیل اور باقی لڑکے ہمارے پاس آگئے وہ ہمارے ٹھکانے کیلئے کوئ مناسب جگہ دیکھ آئے تھے سامان اٹھایا گیا ہمارا رخ جھیل پر بنے اس لکڑی کے پل کی طرف تھا جھیل کے ساتھ ہی فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کا ایک ہٹ بنا ہوا ہے سیزن نہ ہونے کی وجہ سے وہ بند تھا عدیل نے اس کے نزدیک ہی خیمہ نصب کرنے کا کہا تھا کیوں کہ ہم کمرے بند ہونے کے باوجود اسکے بارامدے کی چھت کو استعمال کر سکتے تھے۔ 

خیمہ نصب ہونا شروع ہوا شام ڈھلنے والی تھی اور سورج کی آخری بچ جانے والی چند کرنیں چوٹیوں کو سونا بنا رہی تھیں اس پوری سلطنت میں آج داخل ہونے والے ہم تھے اور کوئ نہیں تھا میں اپنا سامان رکھ کر باہر آگیا میرے عین سامنے جھیل سیف المکوک تھی مکمل برف پوش لیکن اسکے باجود اسکے حسن میں کوئ کمی نہیں تھی تین اطراف سے پہاڑوں میں گھری اور دور کہیں بادلوں میں ملکہ پربت بھی تھی یہ میری اس رات سیف الملوک سے پہلی ملاقات تھی۔ 

تھا تخیل جو ہم سفر میرا 
آسماں پر ہوا گزر میرا 
اڑتا جاتا تھا،اور نہ تھا کوئ 
جا ننے والا چرخ پر میرا 
تارے حیرت سے دیکھتے تھے مجھے 
راز سربستہ تھا سفر میرا 
حلقہ صبح و شام سے نکلا 
اس پرانے نظام سے نکلا 
کیا سناؤں تمہیں ارم کیا ہے؟ 
خاتم آرزوئے دیدہ وگوش 
شاخ طوبیٰ پر نغمہ ریز طیور 
بے حجابانہ حور جلوہ فروش 
ساقیان جمیل بدست 
پینے والوں میں شور نوشانوش

 اقبال نے تو کتنی آسانی سے اپنے جنت کے سفر کی داستان بیان کردی لیکن بس مجبور ہیں کہ ہم کو وہ طرز عطا نہ ہوا کہ جو محسوس کریں وہ بتا بھی سکیں

خیمہ لگ چکا تو سب سامان اندر رکھ دیا گیا بس کھانے کا سامان اورلکڑیاں ہٹ کے برامدے میں پہنچا دی گئیں کفیل اور یاسر اندھیرا ہونے سے پہلے تمام کام مکمل کر لینا چاہتے تھے انہوں نے جلانے کیلئے لکڑیاں کاٹنا شروع کردیں مسکین نے برامدے کو صاف کرکے بیٹھنے کی جگہ بنالی اور عدیل پکانے کا گوشت اور سبزیاں وغیرہ لیکر دھونے کیلئے جھیل کے اس حصہ کی طرف چلا گیا جہاں پانی ابھی جما نہیں تھا۔ 
اندھیرا ہونے میں تھوڑی ہی دیر تھی سورج کی آخری کرنیں اپنے نور سے پہاڑوں کی چوٹیوں سے منعکس ہورہی تھیں اور رنگ بکھیر رہی تھیں وہاں سکوت تھا خاموشی تھی سکون تھا اور ہمارے بالکل سامنے بدیع الجمال جھیل سیف الملوک تھی۔

رات گزارنے کی تیاریاں 


رات گزارنے کی تیاریاں



گم ہوتی ہوئی روشنی میں جھیل کا منظر 




جھیل پر لگا ہوا ہمارا خیمہ اور چمکتے تارے










 







فرخ ہٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا جبکہ میں رانا صاحب اور مصطفیٰ جھیل کو تھوڑا اور قریب سے دیکھنے کیلئے کافی آگے تک چلے آئے مدھم ہوتی ہوئ روشنی میں جھیل کا منظر کسی کو بھی ہیپناٹائز کرنے کیلئے کافی تھا پچھلی رات ہونے والی برف باری سے بننے والی لہریں جھیل کی سطح پر واضح تھیں ہمیں بتایا گیا تھا کہ چند دن ہوئے کسی منچلے نے جھیل پر سائیکل چلائ تھی اور اسکے پہیوں کے نشان اس وقت تک دیکھے جا سکتے تھے۔ 

"میں نے اپنے سفر کا آغاز یہاں سے ہی کیا تھا" رانا صاحب گویا ہوئے " انیس سو ننانوے میں جب میں نے میٹرک کیا تھا تو گھر سے پہلی بار نکلا تھا اس وقت یہاں کچھ بھی نہیں تھا" وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے 

"وہ سامنے دیکھ رہے ہو" انہوں نے جھیل کے دوسرے کنارے پر ملکہ پربت کی جانب اشارہ کیا "وہاں پر ایک بابا جی ہوتے تھے ایک چھوٹا سا کھوکھا تھا صرف چائے اور پکوڑے ملتے تھے" رانا صاحب ناسٹلجک ہونے لگے تھے 

"تب یہاں اتنے لوگ بھی نہیں آتے تھے اب تو ---- یہاں اتنا رش ہونے لگا ہے کہ جیسے مری کی مال روڈ ہو 

"ہاں وقت کے ساتھ ایسا ہوتا ہی ہے اس سے مقامی آبادی کا فائدہ بھی ہے انکا کاروبار بھی چلتا ہے اسی سے" مصطفیٰ نے جواب دیا جوکہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں تھا 

"ہاں لیکن جب ہمارے جیسا کوئ پاگل یہاں آتا ہے تو اسے اچھا نہیں لگتا یہ سب" رانا صاحب نے جواب دیا 

"سر جی ہمارے جیسے پاگلوں کی وجہ سے دنیا کی ترقی تو نہیں روکی جاسکتی ناں وقت کے ساتھ خود کو بدلنا پڑتا ہے ایڈجسٹمنٹس کرنی پڑتی ہیں ماحول کے ساتھ ساتھ" مصطفیٰ نے جواب دیا اور اسکے بعد خاموشی ہوگئ ہم ایک اندازے کے مطابق جھیل کے اندر تقریبا چانچ چھ فٹ تک جاچکے تھے عام حالات میں ایسا قطعی ممکن نہیں تھابرف اتنی تھی کہ ہمارے پیر پنڈلیوں تک دھنسے ہوئے تھے۔ 

کافی دیر تو ہم محویت کے عالم میں اس پورے منظر کو دیکھتے رہے پھر سورج غروب ہوا اندھیرا جیسے جیسے گہرا ہونا شروع ہوا آسمان سینکڑوں ہزاروں تاروں سے بھرتا چلا گیا اور ذرا سی دیر میں گویا ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چھوٹے بڑے تیز اور دھیمے کچھ ٹمٹماتے کچھ روشن جگنو سے پھیل گئے ہمارے خیمے کے اوپرسیا ہی مائل آسمان پر اور جھیل کے اوپر پہاڑوں سے پرے انکی وجہ سے رات کے حسن میں یوں اضافہ ہورہا تھا جیسے بقول شاعر 

ع
 یکے چشم سیاہ داری، یوئم سرمہ درو کردی 
اہا ظالم چہا کردی، بلا اندر بلا کردی 

یعنی ایک تو تمہاری آنکھیں پہلے سے ہی کالی تھیں اوپر سے تم نے ظلم یہ کیا کہ سرمہ لگا لیا یہ تو تم نے غضب ہی کردیا ہماری تو موت کا سامان ہوگیا کہ جھیل کا حسن پہلے ہی ناقابل برداشت ہورہا تھا اوپر ظلم یہ کہ تاروں نے تو مزید سنگھار کرادیا ہم آنکھیں چار کرتے رہے اور بہکتے رہے مدہوش ہوتے رہے 

ع 
 خدا بچائے تیرے مست مست آنکھوں سے 
فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے 

ہم دیکھتے رہے اور بہکتے رہے کہ قصور اس منظر کا تھا جو ہمارے سامنے تھا 


ع 
 رگ رگ میں عوض خون کے مئے دوڑ رہی ہے 
وہ دیکھ رہے ہیں مجھے مخمور نظر سے 

یعنی کہ شراب میں نے نہیں پی یہ تو قصور ان شرابی آنکھوں کا ہے جو مجھے دیکھتی ہیں تو نشہ بڑھتا جاتا ہے یعنی یہ ماحول کا اثر تھاجو بڑھتا جارہا تھا۔ 
پس منظر میں آسمان پہلے سرمئ ہوا پھر جامنی پھر آہستہ آہستہ سیاہ ہوتا گیا کچھ دیر میں سب کچھ اس اندھیرے میں ڈوب گیا اور صرف اندھیرا باقی رہا اور تارے اور ہم ۔اندھیرا بڑھنے کے ساتھ ہم نے اوپر واپسی کا سفر شروع کیا لیکن آدھے راستے میں الگ الگ ہوکر رک گئے ایسا کچھ آسان نہیں تھا وہاں سے خود کو واپس لانا ۔ 
ہٹ کے برامدے میں لکڑیاں جلا کر آگ لگالی گئ تھی اندھیرا ہونے پر سردی کی شدت میں واضح طور پر اضافہ محسوس ہونے لگا تھا ہم سب جہاں کہیں مدہوشی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے آگ کے نزدیک جمع ہوگئے یا زبردستی آواز لگا کر بلالئے گئے۔ 
یخنی تیار کی گئ اور ذرا دیر میں سب گرم گرم یخنی کی چسکیاں لے رہے تھے 
"یار کہتے ہیں ادھر رات میں پریاں اترتی ہیں" اندھیر ے میں سے سوال ہوا 
"کہنے کی باتیں ہیں سب" رانا صاحب نے دل توڑ دیا 
"یار تنی رومینٹک باتیں صرف کہنے کی کیسے ہوسکتی ہیں" مصطفیٰ شایدکسی پری سے ملاقات کا خواہش مند تھا 
"رات باہر گزارو کوئ آئ تو دیکھ لینا ہمیں بھی بلا لینا" فرخ نے مشورہ دیا 

"یار کوئ نہیں آتا ادھر آیا بھی تو برفانی چیتا آئے گا رات بس" ہنس مکھ پورٹر کفیل نے یقینا" مسکراتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا ہوگا 
"واقعی آتا ہے یا مذاق کررہے ہو" رانا صاحب نے پوچھا 
"نہیں نہیں واقعی آتا ہے کبھی کبھی" عدیل نےکفیل کی بات کی تصدیق کی 
"اگر واقعی آتا ہے تو میں دعا کرتا ہوں کہ آج رات آجائے میں اپنی زندگی کا سب سے انوکھا تجربہ کرنا چاہونگا" رانا صاحب ایسے لہجے میں کہا جیسے وہ نیند میں ہوں 
"رانا صاحب خیر ہوگئ بعد میں آکر دیکھ لینا سب کو شوق نہیں ہوا"میں نے کہا 
ایسی ہی گپ شب کچھ دیر اور چلی اور رات جوں جوں گہری ہوتی گئ سردی کا زور بڑھتا ہی گیا منہ سے دھواں تو پہلے ہی جاری تھا لیکن ان ہاتھوں کو کھلا رکھنا مشکل ہونے لگا ذرا دیر کو اگر دستانے اتارتے تو انگلیاں سن ہوجاتیں اور تصویریں کھینچے والوں کو یہ مشکل لاحق تھی کہ دستانے پہن کر کیمرہ چلانا بھی کوئ آسان نہیں ۔ 
ہم سب آگ کے گرد جمع تھے لیکن ایک مصیبت یہ کہ گیلی لکڑیوں کے جلنے سے پیدا ہونے والا دھواں آنکھوں کی سخت آزمائش کررہا تھا سب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے لیکن اگر منہ موڑتے تو سردی اور ہوا کا زور ہمارے رخ دوبارہ ادھر ہی موڑدیتا کوئ مشکل سی مشکل تھی حل یہ نکالا گیا کہ ہم سب اس چھت تلے جمع ہوگئے اب ہوا کا زور کم ہوگیا اورہم آگ سے منہ موڑ کر بیٹھ گئے۔ 
جب ہمیں بیٹھے بیٹھے بہت دیر گزر چکی ہماری باتوں کا ذخیرہ جو کہ پہلے ہی کم تھا ختم ہونے لگا رانا صاحب کی سپیکر سے بجنے والے گانے دہرائے جانے لگے تو خیال آیا کہ وقت کافی ہوچکا ہوگا لیکن جب معلوم ہوا کہ ابھی صرف ساڑھے چھ بجے ہیں تو ایک لمحہ تو سوچ کر روح فنا ہوگئ کہ اتنی لمبی رات کیسے گزرے گی جب کہ ابھی تو بس ابتدا ہی تھی۔ 
کھانے بنانے کی ذمہ داری میری تھی اور کھانا بنانے کا سامان عدیل نے پہلے ہی تیار رکھا ہوا تھا اندھیرے میں کھانا بنانے کا تجربہ میں اس سے پہلے بھی کرچکا تھا لیکن اس وقت اتنی سردی نہیں تھی اگر وہ چاروں میرے ساتھ نہ ہوتے تو شاید کچھ بھی نہ بن پاتا بس اندازے سے ہوتا چلا گیا میں نے جذبات میں تین کلو گوشت میں تقریبا آدھا پاؤ کٹی ہوئ لال مرچیں اور اس سے کچھ زیادہ تیز ہری مرچیں ڈال دیں اور جب یہ کھانا کھایا گیا تو بعد میں سب ہی جام جیلی کی بوتلوں میں انگیاں ڈال ڈال کر چاٹ رہے تھے اور گڑ کی ڈلیاں چبارہے تھے حلق اور معدے تک تیزابیت پھیل چکی تھی۔ 
کھانے کے بعد کافی کا دور چلا اور پھر کافی دیر بے سر پیر گفتگو جو کہ اصل رنگ ہے کسی بھی رت گجے کا کبھی لطیفہ گوئ ہوتی اور زور دار قہقہے لگتے مردانہ محافل میں جو لطیفے عموما گردش کرتے ہیں اور ایسے شریفانہ نہیں ہوتے کہ یہاں ذکر کئے جاسکیں اور اگر انکو شرافت کا جامہ کسی طرح پہنا بھی دیا جائے تو سارا لطف اسی جامے میں رہ جاتا ہے باہر کچھ نہیں رہتا خیر بے جا صفائ برطرف یہ محفل یونہی چلتی رہی سب سے پہلے مصطفیٰ نے اٹھنے کا ارادہ کیا سردی اور تھکن اب اسکی برداشت ہونے لگی تھی خیمہ کے اندر بستر لگ چکے تھے وہ اٹھا اور پردہ گرا کر خیمہ میں روپوش ہوگیا۔ 
تخیل اگر مضبوط ہو تو جو سوچا جائے وہ ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے کوئ بھی مصور اپنا خیال ہی پینٹ کرتا ہے جو وہ سوچتا ہے اور جو وہ دیکھتا ہے وہ اپنے رنگوں کے ذریعے دنیا کو دکھاتا ہے یہ اسکو عطا کردا صلاحیت ہے ہم سب ہی اپنے تخیل میں بہت کچھ دیکھتے ہیں جب بھی آپ کوئ کتاب پڑھتے ہیں تو مناظر اور کرداروں کی تصاویر آپ کے ذہنوں میں خود بخود بنتی جاتی ہیں کردار اپنے آپ حرکت کرنا شروع کردیتے ہیں جب کچھ اور وقت گزرا تو فرخ بھی اٹھ کر اندر چلا گیا صرف میں اور رانا صاحب بیٹھے رہے اور باقی چاروں عدیل ،کفیل، مسکین اور یاسر ہم کچھ دیر مزید انکے ساتھ بیٹھے رہے پھر کمبلوں میں خود کو لپیٹ کر ہٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے ہمارے سامنے ایک خالی کینوس تھا اور ہمارا تخیل اتنا مضبوط تھا کہ جو کچھ سوچا وہ دیکھا بھی۔ 
سب سے پہلے جھیل کے دوسرے کنارے پر ملکہ پربت کی طرف سے گھڑ سوار آنا شروع ہوئے وہ چند سو کی تعداد میں آکر جمع ہوگئے ان کے ہاتھوں میں مشعلیں تھیں ہوا سے پھڑپھڑاتی ہوئ شعلے لپک رہے تھے وہ کچھ دیر وہیں رکے رہے پھر ان میں سے چند ایک آگے بڑھے اور اپنے گھوڑوں کولیکر جھیل میں اتر گئے اور جھیل کی سطح پر گھوڑے دوڑاتے ہوئے درمیان تک آئے باقی سب دوسرے کنارے پر کھڑے رہے ان میں سے کسی کی نظر ہم پر پڑی اور وہ رک گیا 

"کون ہوتم؟" ان میں سے کسی نے وہیں سے سوال کیا 
جواب میں ہم نے اپنی سانس تک روک لی کوئ جواب نہ دیا 

دوبارہ کوئ سوال نہیں ہوا جھیل کے درمیان میں انہوں نے الاؤ روشن کرنا شروع کیا لیکن ہم پر بھی نگاہ رکھی ہم دم سادھے بیٹھے رہے الاؤ روشن ہوگیا آگ بھڑک اٹھی شعلے اوپر اٹھنے لگے اور انکی نارنجی روشنی میں ہم نے ملکہ پربت کا حسن دیکھا پھروہ سب غائب ہوگئے آگ روشن رہی الاؤ بھڑکتا رہا پھر ڈھول کی تھاپ پر اس آگ کے گرد رقص شروع ہوا رقص کرنے والوں کی شکلیں واضح نہیں تھیں ہم بھی ان رقص کرنے والوں میں شامل تھے تیرےعشق نچایا تھیا تھیا۔ 

رقص ختم ہوا وہ سب جہاں سے آئے تھے وہیں چلے گئے الاؤ بجھ گیا ادندھیرا ہوگیا ہم وہیں بیٹھے رہے ہمارا دل بہلانے کو آسمان پر لاکھوں تارے موجود تھے بڑی دیر تک ہم ان سے کھیلتے رہے ہم جو چاہتے تارے وہی شکل اختیار کرلیتے پھر بادل آتے گئے تارے چھپتے چلے گئے آسمان بے نور ہوگیا ہمارا جلایا ہوا الاؤ بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا تھا۔ 

میں نے سوچا ہم یہاں کیوں آئے ہیں کیا بس ایک برف میں چھپی ہوئ جھیل کو دیکھنے یا یہ ثابت کرنے کہ ہم انتہائ سخت موسم میں زندہ رہ سکتے ہیں یا کوئ اور وجہ تھی شائد ہم وہ پروانے تھے جو شمع پر قربان ہونے پہنچ گئے تھے بلا سوچے سمجے نتیجہ یا نقصان کی پروا کئے بغیریہی عشق کی پہلی سیڑھی ہے نتیجہ سے بے پروا ہونا۔ 

"سلسلہ قاف کی ایک جھیل میں جہاں صنوبر کے بہت سے درخت ایستادہ ہیں اور جس کے کنارے گھنے بید کی شاخیں صدیوں سے سورج کو روکے کھڑی ہیں ایک ڈونگا تیر رہتا ہے جس میں ایک جواں سال شہزادی بال کھولے لیٹی رہتی ہے اس علاقے کے متعدد دیو مالا نے اس شہزادی کی زندگی سے وقت کو خارج کردیا ہے اور شہزادی کی عمر آج بھی اتنی ہی ہے جتنی آج سے کئ ہزار برس پہلے تھی۔ جب شہزادی کو اس گھو راندھیرے میں زندگی بسر کرتے کے قرن گزر گئے تو اس نے بید کے جھنڈ میں چہچہانے والی چڑیوں سے درخواست کی کہ وہ کہیں سے اسے روشنی کی ایک کرن لادیں لیکن چڑیاں اسی طرح چہچہاتی رہیں۔ اس نے صنوبر کی شاخوں میں بسیرا لینے والے پرندوں سے گڑگڑا کر کہا کہ وہ روشنی کے پہاڑ سے اجالے کی ایک ڈلی توڑ کر لادیں پر اسکی گڑگڑاہٹ جھیل میں ڈوب کر رہ گئ۔ان تاریک لمحوں میں ایک شام وہ رشنی کی تمنا میں سسکیاں بھر رہی تھی تو پروانوں کا ایک گروہ ادھر آنکلا۔ شہزادی نے انہیں پکار کر اپنی طرف بلایا اور کراہتے ہوئے کہا۔"میں روشنی کی ایک کرن کیلئے ترس گئ ہوں اور میرے ساتھی میری مدد نہیں کرتے تم میں سے جو کوئ مجھے روشنی لادے گا میں اس کے ساتھ شادی کرلوں گی" یہ سنتے ہی پروانے دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل گئے اور روشنی حاصل کرنے کیلئے شمعوں پر جل جل کر مرنے لگے کئ سال گزر گئے ان پروانوں کے بچے اور پھر ان کے بچے اور ان بچوں کے بچے شہزادی کا سوئمبر جیتنے کی غرض سے دھڑا دھڑ جلتے رہے لیکن وہ اس ڈونگے کا کوئ کونہ منور نہ کرسکے۔ صدیاں گزر گئیں زمانے بنتے اور بگڑتے رہے اور پروانے جلتے رہے ایک دن ایک کاہل جگنو اچانک اس وادی میں جانکلا اور اڑتا گھومتا بید کی شاخوں سے ہوتا ہوا اس جھیل کے کنارے پہنچ گیا شہزادی خوشی سے چلا اٹھی اس نے اپنی بانہیں آگے پھیلا کر کہا "تم میرے لئے روشنی لے آئےمیرے پروانے" جگنو شہزادی کی بات سمجھے بغیر اس کی جھولی میں گرگیا اور شہزادی کے چہرے پر روشنی کی لہریں مٹنے ابھرنے لگیں اس نے جگنو سے شادی کرلی اور ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے لیکن اس شادی کی خبر پروانوں کو آج تک نہیں ملی وہ اسی طرح جل رہے ہیں اور شعلوں پر جھپٹ رہے ہیں آج بھی ہر پروانہ جو سر سے کفن لپیٹے شعلے کی طرف لپکتا ہے یہی سمجھتا ہے کہ اس نے سہرا باندھ رکھا ہے اور وہ شہزادی کو بیاہنے جا رہا ہے۔"(اشفاق احمد گڈریا ۔۔ایک پرانی روایت) 

ہم بھی ایسی ہی پروانے تھے جو اس رات جھیل کی شہزادی کیلئے اپنے پروں میں آگ لگا کر روشنی لئے پہنچے تھے اور ہم اسی آگ کی حدت کے سہارے زندہ تھے جو ہمارے پروں میں لگی تھی لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اسکی حدت میں کمی آتی جارہی تھی گزرتی رات ہماری زندگی کی آخری رات ثابت ہوسکتی تھی ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا تھا اس سے بچنے کیلئے ہم اٹھے اور خیمہ کے اندر اپنے بستروں میں جاگھسے۔ 

سنا ہے کہ جو لوگ سردی سے اکڑ کر مرتے ہیں وہ مسکراتے ہوئے ملتے ہیں ایسا عضلات کے اکڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن موت کیا صرف موت ہوتی ہے ایک ایسا تجربہ ہے جس کے بارے میں کوئ بھی نہیں بتا سکتا مرنے سے پہلے ایک انسان پر کیا کچھ بیت جاتا ہے اس کے بارے میں کوئ نہیں بتا سکتا کتنے سارے خیالات کتنی ساری کیفیات وابستہ ہوتی ہونگی اس کے ساتھ جن کے بارے میں کوئ نہیں جانتا جو یہ جھیل جاتا ہے وہ بتا نہیں سکتا بے شک ایک دن ہم سب اسی تجربہ سے گزریں گے۔ 

ہمارے خیمے کی چادر کے نیچے کچی برف تھی اور اس پر ہمارے بستر لگے ہوئے تھے تو جب ہمارے جسموں کے وزن اس برف پر پڑتے تو وہ دھنسنا شروع ہوجاتی کروٹ بدلنے پر یہ عمل ہو بار ہوتا اور "کھر کھر اور کھرچ کھرچ " کی آواز نکلتی اور ایسا ہر چند لمحے بعد ہوتا یعنی ہم سب ہی بے آرام تھے جب ہم اندر آئے تھے تو میں نے گھڑی میں وقت دیکھا تھا تب رات کے پونے دس بجے تھے یعنی ابھی بہت رات کاٹنا تھی برف میں کافی دیر چلنے پھرنے سے میرے جوتے گیلے ہوگئے تھے اور موزے بھی جب تک میں باہر تھا تو سردی اس قدر نہیں محسوس ہورہی تھی جتنی کہ اندر آنے پر جوتے اتارنے کے بعد سے ہونا شروع ہوگئ تھی دوسرے اپنے بیگ کے مکمل چھان بین کے بعد میں موزوں کی دوسری جوڑی ڈھونڈنے میں ناکام رہا تھا وہ تو اللہ بھلا کرے رانا صاحب کا کہ انہوں نے اپنے بیگ سے مجھے دوسرے موزے نکال دئے تھے لیکن ٹھنڈے پیروں پر صرف موزے چڑھا لینے سے سردی میں کوئ کمی نہیں آئ تھی میں اپنے سلیپنگ بیگ کے اندر لیٹا کبھی ہلکے ہلکے اور کبھی بری طرح کانپ رہا تھا مجھے لگ رہا تھا جیسے میری ٹانگیں ٹخنوں کے نیچے سے کٹ چکی ہیں 

"یار ایسا سونا تو بہت مشکل ہے" میرے الفاظ کچھ اندر ہی جم گئے 

"سو چا چپ چاپ" رانا صاحب نے بھی ہلکورے لیتی ہوئ آواز میں ڈانٹا 

"چپ تو کرجاؤنگا لیکن سو نہیں پاؤنگا" میں نے دہائ دی لیکن کوئ جواب نہیں آیا تھوڑی دیر بعد میں نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولنا چاہا تو میرے دانت کٹکٹانا شروع ہوگئے اور دوسری طرف سے رانا صاحب کے خراٹے بلند ہوئے مجھے انکی اس نیند پر رشک آمیز غصہ آیا 

میں آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرتا لیکن نیند تو کیا آتی میں نے محسوس کیا کہ مصطفیٰ اور فرخ بھی اپنے بستروں میں پڑے کانپ رہے تھے 

"یار ٹمپریچر کیا ہوگا ابھی" میں نے دونوں سے ہی سوال کیا 

"مائنس ٹویلو سے زیادہ ہوگا(زیادہ مطلب کم)" فرخ کا جواب آگیا 

"یہ کیسے پتہ بھائ" میں نے پوچھا 

"یار میرا سلیپنگ بیگ اتنا ہی سپورٹ کرتا ہے اور مجھے بھی سردی لگ رہی ہے شاید منفی پندرہ سے نیچے ہو کچھ" فرخ کے جواب کے بعد سردی اور زیادہ محسوس ہونا شروع ہوگئ 

"واہ بھائ کیا تیرا تھرمامیٹر ہے" مصطفیٰ نے داد دی 

"فرخ بھائ ابھی کوئ نہیں کوئ نہیں مائنس اٹھارہ انیس ہوگا ٹمپریچر" عدیل نے تصیح کی 

"اور بھائ چپ ہوجا یار اور سردی لگ رہی ہے" مصطفیٰ ٹھہر ٹھہر کر اپنا جملہ مکمل کیا جس پر کفیل نے ایک دھیما قہقہ لگایا ساتھ ہی میں بھی ہنسنے لگا اور مصطفیٰ اور فرخ بھی شاید یاسر بھی کیمپ کے اندر ہم سب چاہتے ہوئے بھی اپنی ہنسی روک نہیں پارہے تھے سانس پھولنے لگا اور آنکھوں سے پانی نکلنے کی نوبت آپہنچی لیکن ہنسی نہ رک پائ ایسے میں رانا صاحب کی زور دار "ہوں" کی آواز آئ وہ شاید خواب میں کسی پری سے ملاقات کر رہے تھے اور ہم مخل ہوگئے پھر رانا صاحب کی نیند میں آواز آئ 

" پانی" 

کسی نے بھی جواب نہیں دیا انہوں نے بھی دوبارہ کوئ آواز نہیں دی سب ہی خاموش ہوگئے اور خاموشی طویل ہوگئ کافی دیر گزری میں اپنے پیروں کو گرم کرنے میں ناکام رہا اور سردی سے بے حال اٹھ کر بیٹھ گیا کیمپ کے اندر ایک ٹارچ روشن چھوڑ دی گئ تھی یاسر نے مجھ سے وجہ پوچھی اور پھر ایک گرم شال میرے طرف پھینکی کہ اس سے اپنے پیر ڈھانپ لوں سلیپنگ بیگ کے اندر میں نے وہ شال اپنے پیروں کے گرد لپیٹ لی اور دوباری لیٹ گیا میرے اٹھنے اور دوبارہ لیٹنے میں مشکل سے کوئ بیس سیکنڈ کا وقفہ ہوگا لیکن تب تک بستر ٹھنڈہ ہوچکا تھا اور ایسا پہلی بات نہیں ہوا تھا چت لیٹ کر بستر گرما لیں اور کروٹ لیں اور فورا دوبارہ اسی رخ پر پلٹ جائیں تو بھی بستر ٹھنڈا ہی ملتا تھا میں نے وقت دیکھا گیارہ بجے تھے ایک طویل سرد رات کو ختم ہونے میں نہیں آرہی تھی بلکہ شہری اعتبار سے تو ابھی رات شروع بھی نہیں ہوئ تھی۔ 

کہتے ہیں کہ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے ویسے تو یہ باکل غلط بات ہےلیکن کچھ دیر بعد میری آنکھ لگ گئ اور تب کھلی جب رانا صاحب پانی کیلئے ایک مرتبہ پھر آواز لگا رہے تھے اس بات کفیل اپنے بستر سے نکلا اور سامان میں دبی ہوئ پانی کی ایک بوتل نکالی اسے ہلایا بوتل ہلانے پر اندر سے "کڑ کڑ " کی آوازآئ 

"عثمان بھائ پانی جم گیا ہے" کفیل نے اعلان کیا 

"یار کوئ مالٹا پڑا ہوگا دیکھو میرا حلق سوکھ گیا ہے" رانا صاحب واقعی پیاسے ہورہے تھے 
کفیل نے ایک مالٹا چھیل کر رانا صاحب کو دیا اور اسے منہ میں رکھتے ہی رانا صاحب نے کہا "یار یہ بھی جما ہوا ہے" 
"سر جی ابھی تو کچھ نہیں کرسکتے آپ تھوڑا سا کھا لیں حلق تو گیلا ہوجائے گا" کفیل نے صورت حال سے آگاہ کیا 
رانا صاحب اپنے بسترمیں دراز ہوچکے تھے رات بھر اسی طرح آنکھ لگتی اور کھلتی رہی ایک مرتبہ آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ فرخ اپنے بستر میں بیٹھا ہوا تھا اسے سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی آخری مربتہ جب آنکھ کھلی تو مجھے خیمے کے پردے کے باہر روشنی محسوس ہوئ یعنی کہ ایک طویل سرد رات اختتام کو پہنچنے والی تھی باقی سب بھی اپنے اپنے بستروں میں پڑے کسمسا رہے تھے کچھ دیر میں جب سورج نکل آیا تو ایک ایک کرکے باہر نکلے ہمارے باہر آتے ہی عدیل اور باقی لڑکوں نے سامان باندھنا شروع کردیا سورج نکل چکا تھا اور تمام جہاں روشن تھا تمامتر منظر سفید براق صبح کی روشنی میں سفیدی کچھ نیلگوں سی تھی رات کے اندھیرے میں جو کچھ چھپ گیا 

تھا وہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے سامنے عیاں ہوگیا اور ایسی اجلی صبح اس منظر کو چھوڑ کر ہمیں چلے جانا تھا یہ ایسا ہی تھا کہ بھری محفل سے کوئ دنیا چھوڑ کر جاتا ہے 

ع
 اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آجائے 


لیکن ہم خود بھٹک رہے تھے اپنی مرضی سے سامنے منزل کو چھوڑ کر جارہے تھےمیں جھیل کی طرف چہرہ کئے کھڑا تھا 

آخری منظر کو یاد بنا کر اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا پھر میں پلٹا جھیل کی طرف سے آواز آئ 

"رک جاؤ ۔۔۔نہ جاؤ" 

"میں نہیں رک سکتا" 

"تم تو کہتے تھے تمہیں مجھ سے محبت ہے" 

"مجھے تم سے محبت ہے لیکن میں رک نہیں سکتا" 

"میں نے پہلے ہی کہا تھا یہاں کوئ زندگی نہیں بتا سکتا" 

"تم نے ٹھیک کہا تھا۔۔۔۔مجھے اجازت دو" 

"تم بھی ان ہزاروں لوگوں میں سے نکلے جو مجے چھوتے ہیں، میرے بدن سے اپنی خوشی کے لمحات نچوڑتے ہیں اور پھر پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے چلے جاتے ہیں آتے ہیں تو صرف مجھ سے جھوٹی محبت کا دعوہ کرتے ہیں" 


"میری محبت جھوٹی نہیں لیکن میں رک نہیں سکتا" 

"رک جاؤ ۔۔۔مجھے بھی تم سے محبت ہے" 

"ہم ایک دوسرے سے محبت نباہ نہیں سکتے بہتر ہے مجھے اجازت دو بہت کچھ ہے جس سے میں جکڑا ہواہوں" 

"کوئ نشانی دے جاؤ" 

"کیایہ کافی نہیں کہ میں یہاں آیا تھا اور میری کچھ سانسیں ابھی بھی موجود ہیں" 

"کچھ دیر ہی رک جاؤ" 

"نہیں بس اتنا ہی وقت لکھا تھا جو دے چکا" 

"اچھا۔۔۔۔جاؤ تمہیں اجازت ہے" 

میں نے ایک آخری نظر ڈالی اور پلٹ گیا اور واپسی کے راستے پر چل دیا کفیل میرے برابر سے گزرا اس کے کندھے پر سامان لدا ہوا تھا اور اس میں وہ خیمہ بھی تھا جس میں ہم نے رات گزاری تھی