Friday, 15 May 2015

زندہ دلان کراچی


کراچی کے بارے میں لکھنے کو قلم اٹھاتا ہوں تو قلم روشنائ کے بجائے خون اگلتا ہے ہمیشہ ہی جب میں شہر سے باہر جاتا ہوں تو ایک سوال جو مجھ سے یہ جاننے کے بعد ضرور کیا جاتا ہے وہ یہ کہ کراچی میں تو حالات بہت خراب ہیں ہر روز ہی کچھ نہ کچھ ہورہا ہوتا ہے اور میرے پاس کوئ جواب نہیں ہوتا میں خاموش ہوجاتا ہوں شرمندگی سے سر جھکا لیتا ہوں کہ میرے پاس اس بات کا کوئ جواب نہیں ہوتا واقعی میڈیا پر ہر روز ہی کراچی کے حوالے سے کوئ نہ کوئ منفی خبر ضرور ہوتی ہے۔

سنہ دوہزار چودہ میں(2014) صرف کراچی میں مختلف واقعات میں دوہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یاد رہے کہ یہ صرف قتل و غارت گری کی وارداتوں کے اعداد و شمار ہیں جن میں ٹارگٹ کلنگ سر فہرست ہے لوٹ مار اور دیگر واقعات میں مارے جانے والوں کی تعداد اسکے علاوہ ہے۔

اس سال یعنی دوہزار چودہ میں ہی چالیس ہزار سے زائد لوٹ مار کے واقعات ایسے ہیں جو پولیس کے ریکارڈ میں درج کئے گئے جن میں سرفہرست رہزنی یعنی گن پوائنٹ پر موبائل فون اور نقدی وغیرہ چھیننے کے واقعات ہیں اسکے علادہ گاڑیاں 
اور موٹر سائکلیں چھیننے کے واقعات ہیں۔

اغوا برائے تاوان، زنا بالجبر اور اجتماعی زیادتی جیسے مکروہ واقعات کا تذکرہ اگر کیا جائے تو یہ فہرست مزید لمبی ہوتی چلی جائے گی

جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے کراچی کو آگ وخون میں گھراہوا ہی دیکھا ہے اس شہر میں کبھی بھی آپ کے ساتھ کسی قسم کی واردات ہوسکتی ہے گن پوئنٹ پر آپ کا موبائل یا گاڑی چھینی جاسکتی ہے یابزور بندوق آپ کے اے ٹی ایم سے منچاہی رقم نکلوائ جاسکتی ہے یا گھر میں گھس کر واردات ہوسکتی ہے اور سب سے تکلیف دہ بات کہ یہ لٹیرے اپنی کارروائ مکمل کرنے کے بعد آرام سے نکل جاتے ہیں اور آپ کی کوئ سنوائ نہیں ہوتی سنوائ ہوبھی جائے حل کوئ نہیں نکلتا نا ہی یہ سب بند ہوتا ہے۔

اسکا ذمہ دار کون ہے اوریہاں حالات بہتر نہ ہونے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں یہ میرا موضوع نہیں یہ بالکل بھی کوئ سیاسی مضمون نہیں ہے۔

شہر قائد کبھی لسانی فسادات کی گردش میں رہا اور یہاں کی سڑکوں پر مسلمانوں کے ایک دوسرے کا قتل عام صرف اس وجہ سے کیا کہ سامنے والا کوئ دوسری زبان بولنے والی وقوم سے تعلق رکھتا تھا کبھی اردو بولنے والوں کو نشانہ بنایا گیا تو کبھی پشتو کبھی بلوچی تو کبھی سندھی ہر کوئ ایک دوسرے پر اپنی حق تلفی کا الزام لگاتا رہا اور اپنا اور دوسروں کا خون بہاتا رہا۔

کبھی یہ شہر مذہبی فسادات کی لپیٹ میں رہا شیعہ سنی آپس میں دست وگریبان رہے کبھی شیعہ امام بارگاہوں میں لاشیں گرتیں تو کبھی سنی مساجد میں نمازیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا پھر دونوں جماعتوں کو عقل آگئ اور یہ کھلم کھلا لڑائ بند ہوئ ہوتا اب بھی ایسا ہی ہے اور زیادہ تر بیچارے شیعہ حضرات نشانہ بنتے ہیں سنی بھی بچے ہوئے نہیں ہیں لیکن اب ایک دوسرے پر الزام تراشیاں نہیں کرتے بلکہ کسی بیرونی ہاتھ کو اسکا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور حقیقت بھی شاید یہی ہے۔

اگر کسی کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ کراچی انکا ہے تو اسکا ثبوت پیش کرنے کیلئے وہ کراچی بند کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ آج بھی ہم ساڑھے سات منٹ میں پورا شہر بند کرواسکتے ہیں اگر کروالیتے ہیں تو کوئ کمال نہیں کرتے وہ ایک مزدور جو صبح روزی کمانے نکلتا ہے اور شام کو آپ کی وجہ سے خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے وہ ان خالی ہاتھوں سے آپ کیلئے تالیاں نہیں پیٹتا بلکہ وہی ہاتھ اٹھا کر آپ کیلئے بد دعا کرتا ہے۔

ہر کسی کا جس کا جہاں جہاں زور چلتا ہے وہ اپنا زور دکھانے کو وہاں کے مزدوروں کو خالی ہاتھ گھر لوٹاتا ہے کاروبار بند کرواتا ہے کچھ گھروں میں چولہا نہیں جل پاتا تو کیا ہوا انکا زور تو ثابت ہوجاتا ہے۔

سوگ ، ہڑتالیں ،احتجاج، ریلیاں ،جلسے جلوس اور سڑکیں بند کرنا اور اسکے نتیجے میں پولیس اور عوام کا تصادم اور دنگا فساد اسکے علاوہ ہے جو عام شہریوں کیلئے ہمیشہ ہی تکلیف کا باعث بنتا آیا ہے۔

ان جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں کے دوران جو املاک کو تقصان پہنچتا ہے وہ الگ کتنی ہی گاڑیاں ،منی بسیں،ٹرک، ٹرالر، دوکانیں، پٹرول پمپس اسکے علاوہ ہزاروں ٹائر اور فرنیچر ایسا ہے جو اس شہر کی سڑکوں پر جل کی خاک ہوا ہے۔ 

ملک کی سب بڑی جامعہ میں ان سب واقعات کی وجہ سے طلباء کا پورا تعلیمی سال برباد ہوجانا کوئ اچھنبے کی بات نہیں آئے دن ہونے والے طلبا تنظیوں کے مابین تصادم اور جامعہ میں ہمہ وقت رینجرز کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ہار مان چکے ہیں۔

ان سب کے علاوہ آئے دن ہونے والے بم دھماکے الگ ہیں جن میں ایک بہت زور دار دھماکے کے ساتھ ہی بہت کچھ ختم ہوجاتا ہے سینکڑوں مر جاتے ہیں اتنے ہی زندگی بھر کیلئے اپاہج ہوجاتے ہیں لاکھوں روپے کی املاک مٹی میں مل جاتی ہے بیسیوں لوگ کاروبار سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

کراچی کی مٹی کی بلاتخصیص بچہ بوڑھا، عورت مرد، کالا گورا، امیر غریب، جاہل عالم، سب کے خون سے سینچائ ہوئ ہے کہتے ہیں کراچی کی مٹی ذرخیز نہیں یہاں پھل پھول نہیں کھلتے سبزہ نہیں ہوتا بھلا جس شہر کی مٹی میں خون کی ملاوٹ اتنی زیادہ ہو وہاں کون سا پھل پیدا ہوگا سوائے نفرت کے اور کون سا پھول کھلے گا سوائے قبر پر ڈلنے والے گلاب کے۔ 

اس شہر کی زندگی میں کب کیا ہوجائے کچھ اندازہ نہیں صبح آپ گھر سے نکلیں تو شام میں گھر واپس آسکیں یہ ضروری نہیں یا رات کوسوئیں تو پتہ نہیں ہوتا کہ صبح کیا حالات ہوں ہوا کس رخ چلے کوئ نہیں بتا سکتا ایک "ان سرٹین" زندگی ہے۔

کراچی کے حالات کے پیش نظر زمبابوے کی کرکٹ ٹیم جہاں خود خانہ جنگی کے حالات ہیں دورہ کرنے سے منع کردیتی ہے زمبابوے کی کرکٹ ٹیم تو ایک طرف ملک کے وزیر اعظم سمیت بڑے بڑے سیاستدانوں کے سامنے جب دورہ کراچی کی بات آتی ہے تو کراچی کے محاورے کے مطابق " خوف سے پھٹ کے ہاتھ میں آجاتی ہے"

اس شہر میں اتنا سب کچھ ہوتا رہا ہے، ہورہا ہے اور میری دعا ہے کہ ایسا ہوتا نہ رہے لیکن پھر بھی آج بھی کراچی ہی پورے ملک کا آدھے سےرزق پیدا کررہا ہے آج بھی اس شہر میں نئے روزگار کے مواقع موجود ہیں، آج بھی شہر کی سڑکوں پر نئے ماڈل کی گاڑیاں چل رہی ہیں۔

اتنا سب کچھ ہوتا ہے لیکن آج بھی یہاں کے رہائشی ہنستے ہیں مسکراتے ہیں خوشیاں بھی مناتے ہیں، آج بھی ہمارے شہر کے پارکوں میں رش ہوتا ہے بچے بوڑھے سب ہی موجود ہوتے ہیں۔

اتنا سب کچھ ہوتا ہے لیکن ہمارے چائے خانوں پر آج بھی رش ہے، سینما ہال آج بھی ہاؤس فل ہوتا ہے، نئے شاپنگ مال آج بھی بن رہے ہیں اور چل بھی رہے ہیں لوگ خریداری کر رہے ہیں آج بھی آپ ہفتہ اور اتوار کو کسی ریسٹورنٹ میں کھانے کی غرض سے جاتے ہیں تو لکھوا کر لے لیجئے کہ آپ بہت ہی خوش قسمت ہیں کہ پہنچتے ہی آپ کو بیٹھنے کی جگہ مل جائے۔

اتنا سب کچھ ہوتا ہے لیکن ہفتہ کی رات کو ساحل سمندر پر موٹر سائیکل کی ریس اب بھی لگتی ہے، پورے شہر سے ہفتہ بھر کی تھکن ختم کرنے لوگ اپنے بال بچوں کے ساتھ ہفتہ کی رات کلفٹن کے ساحل پر بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں کراچی کی سڑکوں پر نوجوان آپ بھی نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کرتے ہیں۔

آپ شاید یہ سوچیں کہ کراچی کی عوام بے حس ہوچکی ہے یہ بے حسی نہیں کراچی زندہ دلوں کا شہر ہے ہم نے مشکل حالات میں جینا سیکھ لیا ہے ہمارے پاس کوئ دوسرا آپشن موجود نہیں یہ تحریر کراچی کی عوام کو خراج عقیدت پیش کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ہے جو نہایت کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

کراچی واقعی زندہ دلوں کا شہر ہے۔

فیضان قادری

Sunday, 10 May 2015

کیا آپ کی شادی نہیں ہورہی؟


(صرف لڑکیاں پڑھیں)

کیا آپ کی شادی نہیں ہورہی؟

کیا آپ کو اپنی پسند کا شریک زندگی نہیں مل رہا؟
یا کیا آپ ابھی تک اپنے خوابوں کے شہزادے کا انتظار کر رہی ہیں؟
اگر ایسا کچھ بھی ہے تو آپ کیلیۓ خوش خبری ہے آپ کی رکی ہوئ شادی ہوسکتی ہے

آپ کو اپنا من پسند جیون ساتھی بھی مل سکتا ہے

اور آپ کے خوابوں کا شہزادہ سفید رنگ کے گھوڑے پر سوار اڑتا ہوا آپ کی والدہ ماجدہ سے آپ کا ہاتھ مانگنے آسکتا ہے لیکن کیسے؟؟

اتنی بے صبری اچھی نہیں تھوڑا سا انتظار اور کیجئے اور آگے پڑھتی جائیے۔

ہمارے ملک کی تقریبا تمام ہی ماؤں کا ارمان ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی اونچے گھرانے میں کسی اچھا خاصا کمانے والے لڑکے سے کردیں کچھ لڑکیاں تو کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں ہی کوئ ایسا لڑکا "سیٹ" کرلیتی ہیں جو بعد میں "شوہر" بنایا جا سکے اور جو بچ جاتی ہیں انکے لیۓ ایسے کسی "شکار" کیلیۓ اچھے خاصے جتن کئے جاتے ہیں اور اس کے حصول کیلیۓ خاندان اور محلے پڑوس کی عورتیں بھی اس جتن میں شریک ہوتی ہیں بعض مرتبہ رشتے لگانی والیوں کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں یہ سب کچھ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کبھی کوئ اچھا اور مناسب رشتہ نہیں مل پاتا اور لڑکیاں گھر بیٹھی رہ جاتی ہیں اب کیا کریں؟ پریشان نہ ہوں یہ تحریر انکے ہی لئے ہے۔

اگر آپ بھی ان میں سے ہیں جو ابھی تک گھر بیٹھی ہیں اور خواب بن رہی ہیں اور جلد از جلد اپنا گھر بسانا چاہتی ہیں تو آپ مجھ سے دوستی کر لیجئے۔

اتنی جلدی تنیجہ نہ نکالئے میرا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنا رشتہ آفر کررہا ہوں بقول شخصے میں تو ان لوگوں میں سے ہوں جو گول گپے والے سے دوبار کھٹائ بھی نہیں مانگ سکتے کسی لڑکی کا ہاتھ کیا مانگیں گے۔

خیر بات کہیں اور چلی جائے گی تو میں یہ کہ رہا تھا کہ اگر آپ ان میں سے ہیں جو ابھی تک گھر بیٹھی ہیں تو آپ مجھ سے دوستی کرلیں اور کوشش کریں کہ کسی طرح میرے دل میں آپ سے شادی کرنے کا خیال پیدا ہوجائے تو آپ کی والدہ ماجدہ کو پسند کا رشتہ بھی مل جائے گا یا آپ کے خوابوں کا شہزادہ آسمان سے نازل ہوجائے گا میرا یقین کیجئے۔

اب میں نے بات کی ہے تو ثابت بھی کرنا ہوگا یعنی کہ پروف دینا ہوگا تو اسکے لیے تھوڑا سا ماضی میں چلتے ہیں۔

یہ تب کی بات ہے جب ہم کالج میں تھے اور ہمارے ساتھ ایک بڑی "کیوٹ" سے لڑکی بھی پڑھا کرتی تھی شیکسپئر نے کہا ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے تو نام نہیں بتاتا لیکن ساتھ پڑھتے پڑھتے بات دوستی تک پہنچی اور جب میں نے کالج سے فارغ ہونے کے بعد اگلے دس سالوں کی پلاننگ کرنا شروع کی تو ایک دن مجھے بتایا گیا کہ کالج کے فورا بعد یہ اسکی شادی ہونے والی ہے انکے ابا کے کوئ بچپن کے بھٹکے ہوۓ دوست کہیں سے واپس آگئے اور انکو اس لڑکی میں اپنی بہو نظر آگئ اور کچھ دنوں میں وہ اسے بیاہ کر لے گئے کچھ عرصہ کے بعد راہ چلتے وہ مجھے ملی اور بقول شاعر

دل کے ارماں آنسؤں میں بہ گئے
انکے بچے آج ہمیں ماموں کہ گئے


یہ تو ہوا ماضی کا واقعہ اب کچھ حال میں آجاتے ہیں.

چند سال پہلے سوکھی سوکھی نوکری کرتے کرتے دل میں خیال آیا کہ کچھ کاروبار بھی کیا جائے بہت سوچ بچار کے بعد ایک دوست کے ساتھ مل کر ایک بوتیک کھول لیا خواتین کا کام تو ساتھ کوئ خاتون بھی ہونی چاہئیں کسی کے ریفرنس سے ایک صاحبہ نے ہمیں جوائن کیا جو کہ تجربہ کار بھی تھیں یعنی اس سے پہلے اپنے کپڑے خود ڈیزائن کیا کرتی تھیں ویسے تو محترمہ "لوکل" تھیں لیکن سٹائل اور رکھ رکھاؤ میں کافی "ہائ فائ" انکا واحد مسئلہ یہ تھا کہ انکی انگریزی عامر خان کے الفاظ میں "تھڑکی دیر چلے پھر لول ہوئ جائے" کبھی کبھی انکو کوئ بات سمجھائ جاتی تو کہتیں

" کہ مجھ میں اتنی "مچیورنس" تو ہے کہ میں یہ بات خود بھی سمجھ سکتی ہوں"

بحرحال بات کہیں اور نکلتی جارہی ہے ساتھ کام کرتے کرتے بہت سی باتیں انہوں نے خود ہی بتا دیں مثلا یہ کہ انکی شادی ہوچکی تھی پھر طلاق ہوگئ وجہ یہ تھی کہ جن سے شادی ہوئ تھی وہ برادری کے نہیں تھے اوپر سے عمر بھی کچھ زیادہ تھی اور شائد کچھ نفسیاتی بھی تھے گھر میں بیٹھ بیٹھ کر ڈیپریشن ہورہا تھا تو گھر والوں نے کام پرلگنے کا مشورہ دیا یہ محترمہ اپنے کام میں تیز تھیں پورا دن انٹرنیٹ پر بیٹھ کر ڈیزائن نکالتی رہتیں اور چار پانچ ڈیزائن ملا کر ایک اور نیا ایجاد کرتیں بولنے کی بہت شوقین اور انکا پسندیدہ موضوع اپنے سابق شوہر کی برائیاں کرنا اور اسکی کسی طرح ایک بار پٹائ کرنے کی پلانگ کرنا تھا انہوں نے ایک سوا سال کی شادی شدہ زندگی کی اسقدر تفصیل بار بار بتائ کہ ہمیں واقعات مع کرداروں کے یاد ہوگئیں خیر اتنا کچھ جان جانے کے بعد ہمارے دل میں بھی نرم گوشہ پھوٹ ہی گیا اور ہم نے انکے ساتھ مل کر کئ مرتبہ اس کارروائ کو عملی جامہ پہنانے کی پوری نیک نیتنی سے پلاننگ کی اور ساتھ ہی انکا ضبط شدہ جہیز کا سامان اور گاڑٰی بازیاب کرانے کیلیے علاقے کے غنڈے مدمعاشوں سے معاملات بھی طے کرنے کی کوشش کی خیر یہ الگ بحث ہے کہ نتیجہ کیا نکلا جو بھی نکلا ہو چونکہ دل میں نرم گوشہ پھوٹ پڑا تھا تو ہم نے انکو اس بات پر آمادہ کرنا شروع کیا کہ یہ سب جھنجھٹ چھوڑ کر دوبارہ شادی کرلیں جیسا کہ گھر والے بھی چاہتے ہیں اور جب وہ اپنی اس ضد سے کہ اب وہ زندگی بھر دوبارہ شادی نہیں کریں گی دستبردار ہوگئیں تو میں نے محترمہ سے اپنا مدعہ بیان کرنے سے پہلے اپنی والدہ ماجدہ سے اس بات کو کرنے کا سوچا اور ابھی میں کسی مناسب موقع کی تاک میں ہی تھا کہ ایک دن وہ آئیں اور آتے ہی ہولیں کہ "بھائیو" آپ لوگ یہاں کیلئے کسی اور کو دیکھ لومیری شادی ہورہی ہے اور شادی کے بعد میں کام نہیں کرسکوں گی "ان کو" پسند نہیں ہے اس سے پہلے انہوں نے ہم میں سے کسی کیلئے بھائ کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا اس کے بعد وہ تقریبا ایک مہینہ ہمارے ساتھ رہیں اور اس دوران اپنی شادی کے کپڑے ڈیزائن کرتی رہیں اور پھر شادی کرکے چلی گئیں ہم بھی مدعو تھے اور افسوس کی بات ہے کہ گئے بھی۔

یہ تو ہوگئے دو واقعات اب ایک تیسرا بھی سن لیجئےکہ تین سے سند رہتی ہے اسی لئے شائد نکاح کے وقت بھی تین مرتبہ قبول ہے قبول ہے اگلوایا جاتا ہے تاکہ بعد میں دونوں میں سے کوئ مکر نہ سکے خیر چلئے ہماری۔

اب یہ بالکل لیٹسٹ ہےہماری ایک دور کی رشتہ دار ہیں ہم سے کوئ پانچ سات سال عمر میں بڑی ہونگی شادی نہیں ہوئ اب تک پہلے پہل رشتے آتے تھے تو انکی طرف سےکوئ نہ کوئ نقص نکال کر انکار ہوجاتا  نتیجہ یہ ہوا کہ رشتے آنا ہی بند ہوگئے بڑھتی عمر کی وجہ سے اماں الگ پریشان رہنے لگیں باقی بھائیوں کی بھی شادیاں ہوگئیں ہم بھی اب ایسے کوئ بچے نہیں رہے ایک دن سوچا کہ چلو ثواب کی نیت سے ہی رشتہ بھیج دیں اور ان سے شادی کرکے نکاح کے علادہ ثواب کا مزہ بھی چکھ لیں ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اڑتی اڑتی خبر آئ کہ موصوفہ کا رشتہ آیا ہے آج ہم تانک جھانک کی نیت سے پہنچے تو دیکھا کہ گھر میں ڈھولک پٹ رہی ہے اور انکا مایوں چل رہا ہے سنا ہے ہونے والے میاں کہیں بیرون ملک مقیم ہیں تو شادی کے فورا بعد یہ بھی چلی جائیں گی۔

ان تین پر ہی بس نہیں گلی محلے کی کون سی ایسی لڑکی بچی ہے جس پر ہم نے اتفاق سے بھی نظر اتلفات ڈالی ہو اور ایک ہی ہفتہ میں گھر پر ڈھولک نہ بجی ہو اب یا تو ہماری ٹائمنگ خراب ہے یا کوئ اور وجہ لیکن یہ بات تو طے ہے آج ہم نے اپنا ٹیلنٹ ڈھونڈ لیا ہے۔

بطور آزمائش ہی کوشش کردیکھیں کیا پتہ بھلا ہوجائے۔



Friday, 8 May 2015

خالو

دوران گفتگو ہمارے ایک خالو کا ذکر آیا تو سوچا کچھ باتیں ان کی شخصیت پر بھی کرلی جائیں ایسے خالو کسی کےبھی ہوسکتے ہیں کہ خالو پر کسی کا زور نہیں چلتا اور ہمارے خالو پر تو خالہ کا بھی نہیں چلتا۔
خالو کے والد صاحب جوکہ شاید مغل بادشاہوں کے بہت بڑے فین تھے انکا نام سید جلال الدین محمد اکبر رکھا دوسرے بیٹے کا نام جہانگیر رکھا گیا مزید انکا کوئ بیٹا نہ ہوا ورنہ یہ سلسلہ یقینا بہادر شاہ تک جاتا۔
بیٹیوں میں البتہ انہوں نے اردو نثر سے متاثرہ ناموں کی ترویج کی نجم السحر خاتون، رفعت جہاں، شوکت آرہ سنجیدہ، عشرت آرہ، جمیلہ، شکیلہ، نزہت پروین، انجم آرا، صاحبزادی، کلثوم بیگم اور دیگر کسی اورنگزیب عالمگیر کو دنیا میں لانے کی کوشش کے دوران بس پیدا ہوگئیں۔
بات یہاں وہاں ہواس سے پہلے اسے واپس خالو کی طرف واپس موڑنا ضروری ہے خیر اپنے نام کی طرح خالو بہت جلالی واقع ہوئے اتنے کہ غصہ ہر دم ناک پر رہتا ہے اور اللہ میاں نے انکو ناک بھی بہت لمبی عطا کی ہے تو تادیر وہاں ٹکا رہتا ہے بہت آصولی آدمی ہیں کوئ بات مزاج کے خلاف یا کوئ چیز اس جگہ نہ ملے جہاں وہ ہونی چاھئے تھی تو بس غصہ چڑھنا شرورع اور بات چیت بند۔
عادات کے اتنے پکے ہیں کہ جیسے وہ صبح ناشتے میں رات کی باسی روٹی چائے میں توڑ کر کھاتے ہیں اور ایسا بچپن سے کرتے آرہے ہیں تو اپنی شادی کی اگلی صبح بھی انہوں نے یہی ناشتہ کیا۔
صبح پانچ بجے اٹھتے ہیں چاہےدنیا ادھر سے ادھر ہوجائے گرمیوں میں جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو چونکہ سورج جلدی نکل آتا ہے اور انکے اٹھنے کا وقت نہیں ہوا ہوتا تو سحری نہیں کرتے پتہ نہیں روزہ کیسے رکھ لیتے ہیں کیوں کہ دوپہر بارہ بجے انکےکھانے کا وقت طےہے۔


رات آٹھ بجے وہ گھر سے نکل جاتے ہیں اور جا کر گھر سے کچھ دور چوک پر بیٹھ جاتے ہیں کیونکہ وہ بچپن سے وہاں بیٹھتے آرہے ہیں پہلے شروع میں انکے کچھ دوست وغیرہ بھی بیٹھا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ سب ہی مصروف ہوتے گئے اب سنا ہے کہ اکیلے بیٹھتے ہیں اور اپنا ایک گھنٹہ وہاں گزار کر گھر واپس آجاتے ہیں اب چاہے بارش ہو یا حالات خراب اس ایک گھنٹے کے دوران آپکو ان سےملنا ہو وہیں ملیں گے۔
اپنے بسترپر ہیں سوئیں گے کہیں بھی اور نہیں انکے لڑکپن میں انکی چھوٹی بہن شوکت آرا سنجیدہ انکے بستر پر سوگئیں یہ انتظار کرتے رہے کہ انکے سونے کا وقت ہو اس سے پہلے وہ خود اٹھ جائیں یا کوئ اٹھا کر انکی جگہ تبدیل کردے لیکن جب یہ نہ ہوا اور انکے سونے کا وقت قریب ہونے لگا تو انکو گود میں اٹھا کر دوسرے کمرے میں فرش پر پھینک آئے انکی اپنی شادی کے موقع پر جب خاندان کے ایک بزرگ انکے بستر پر لیٹ کر سوگئے تو پوری رات چھت پر کرسی ڈال کر بیٹھے رہےکہ انکو اٹھا کر پھینک نہیں سکتے تھے حالانکہ دل یہی چاہتا ہوگا یہاں تک کے انکے اٹھنے کا وقت ہوگیا۔
گھر میں استعمال کی کوئ بھی مشین جیسے گرائنڈر، جوسر، پانی کی موٹر وغیرہ اگر خراب ہوجائے تو خود ٹھیک کریں گے چاہے وہ کتنی ہی ضروری استعمال کی چیز ہو اور انکو وقت نہ مل پارہا ہو اگر باہر کے کسی مکینک سے مرمت کرالی گئ تو حرام ہے کہ اس کا خود استعمال کریں یا اسکے استعمال سے کسی قسم کا فائدہ اٹھا لیں سالوں پرانی بات ہے گھر کی پانی موٹر خراب ہوگئ تو اسکی مرمت باہر سے کسی مستری کو بلا کر کرالی گئ تو کئ سال تک ٹینکی میں ڈول ڈال کر پانی نکالتے اور استعمال کرتے سالوں ایسا ہی کرتے رہے جب عمر کے ساتھ ہڈیوں میں جان کم ہونے لگی اور بالٹی بھرنا دوبھر ہونے لگا تو اپنی اس ضد سے باز آئے۔
جب بچے چھوٹے تھے تو اکثر رات میں کسی ضرورت سے خالہ کمرے کی بتی جلایا کرتیں جس سے انکی نیند میں خلل پڑتا روز خالہ سے تلخ کلامی ہوتی کہ انکی نیند خراب ہورہی ہے اور انکو خیال نہیں کسی روز خالہ نے جواباً شاید کہ دیا کہ آپ کیسے باپ ہیں اپنے بچے کیلئے تھوڑی سی نیند خراب کرنا گوارہ نہیں آخر کیسے وہ اندھیرے میں تمام کام انجام دیں اس بات سے انکو اتنا غصہ چڑھا کہ آج تک رات میں آنکھوں پر پٹی چڑھا کر اور بتی جلا کر سوتے ہیں شروع میں جب خالہ اپنے کام ختم کرکے بتی بجھا دیتیں تو اٹھ کر دوبارہ جلادیا کرتے آہستہ آہستہ کئ سالوں میں یہ عادت چھوڑ دی۔
شروع میں سگریٹ نوشی کے عادی تھی اور روزانہ ایک ڈبیا سگریٹ پینا لازم تھا اگر دن بھر میں پورا پیکٹ ختم نہ ہوتا تو رات سونے سے پہلے پے درپے سگریٹ پھونکتے اور سونے سے پہلے پورا پیکٹ ختم کرتے اصولی آدمی ہیں ایک دن سوچ لیا کہ کل سے سگریٹ نہیں پئیں گے بس جس دن یہ سوچا اس دن اتنی تبدیلی آئ کہ رات سونے سے پہلے تک انہوں نے دو ڈبے سگریٹ ختم کئے اور اسکے بعد سے آج تک دوبارہ کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔
انکے اصول کے خلاف ہے کہ چاہے کچھ ہوجائے کبھی ڈاکٹر کے پاس نہیں جائیں گے دیسی طریقے سے اپنا علاج خود کریں گے ایک مرتبہ گرمی میں چھت پر چڑھے عین دوپہر کے وقت کس کام میں لگے ہوئے تھے لو لگنے سے بے ہوش ہوگئے گھر والے اٹھا کر ہسپتال لے گئے جونہی ہوش میں آئے اور خود کو وہاں پایا غصے میں ڈرپ کھینچ کر نکالی اورپیدل ہی گھر روانہ ہوگئے۔
ہمیشہ ایک ہی درزی سے کپڑے سلواتے ہیں ایک ہی ڈیزائن کی چپل پہنتے ہیں اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ان سب کی خریداری ایک ہی دوکان سے نہ کرتے ہوں جی ہاں بالکل ممکن نہیں ہے۔
پوری زندگی استرے سے شیو بناتے آئے ہیں کہ جب شیو بنانا شروع کیا اس وقت یہی اوزار استعمال کیا تھا۔
یہ تو کچھ باتیں ہوگئیں پختہ عادات کی اس کے علادہ کچھ اور باتیں بھی انکی شخصیت میں قابل ذکر ہیں۔
پرانی چیزوں سے لگاؤ اس قدر ہے کہ کوئ بھی چیز استعمال کے بعد پھینکنے کے قائل نہیں انکا یقین ہے کہ 
ع نہیں کوئ چیز نکمی زمانے میں
شاعر نے تو یہ بات بس یونہی کہ دی لیکن اسکا عملی مظاہرہ اگر وہ خود دیکھ لیتے تو اپنے اس شعر سے دستبرداری کا اعلان باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے کرتے کہ خدا کہ قسم میرا اس شعر سے وہ مطلب نہیں تھا جو انہوں نے لیا ہے۔
انکے گھر کی چھت پر ایک کمرہ ہے اب اسمیں داخلے کہ جگہ ختم ہوچکی ہے اسمیں ہر وہ چیز جو شاید ریسائیکل ہو سکتی ہے سینت کر رکھی ہوئ ہے بعض چیزیں دیکھ کر سوال خود بخود پیدا ہوجاتا کہ انکا کیاکام مثلاً دیوار پر چابیوں کا ایک بڑا گچھا ٹنگا ہوا ہے جس میں تقسیم ہند سے قبل بننے والے تالوں کی جو اپنی زندگیاں پوری کرکے کب کے مٹی میں مل چلے ہیں انکی بھی چابیاں محفوظ ہیں کم از کم ایک ہزار زنگ آلود چابیاں لٹکی ہوئ ہیں کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں اگر سڑک پر چلتے ہوئے انہیں کوئ چابی گری ہوئ مل جاتی اٹھا کر گھر لے آتے اور لاکر اسی گچھے کا حصہ بنا دیتے کہ شاید کبھی کام آجائے لیکن کبھی گھر کا کوئ تالا کھلوانا ہو تو باہر سے تالے چابی والے کو بلایا جاتا ہے مبادہ استعمال سے کوئ چابی ٹوٹ جائے اور اس خزانے میں سے ایک چابی کم ہوجائے۔ ایک کونے میں ایک ریک رکھا ہے اس پر اوپر نیچے تمام جگہ شیشے کی خالی بوتلیں اور مرتبان رکھے ہوئے ہیں اور اپنی قسمت کو رو رہے ہیں ان میں کئ کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہے یہ تو ایک طرف رہی انکی ایک بہن کینیڈا میں مقیم ہیں کئ سال پہلے جب وہ پاکستان آئیں تو پینے کیلئے منرل واٹر کی بوتلیں استعمال کرتی رہیں اور یہ ان بوتلوں کو جمع کرتے رہے یہاں تک کہ تمام بوتلیں اوپر کمرے میں پہنچ گئیں انکے جانے کے بعد یہ خبر ان تک پہنچی تو اب وہ یہ کرتی ہیں کہ جب بھی آتی ہیں خالی ہوجانے والی بوتلوں کو ہاتھ کے ہاتھ ٹھکانے لگاتی رہتی ہیں اور جمع کرنے کا موقع نہیں دیتیں۔
ایک ٹرنک میں گھر کے تمام پرانے لحاف گدے تکیے موجود ہیں، گھر میں سالوں پہلے جو فرج آیا تھا اسکا ڈبہ بھی سنبھال کر رکھا ہوا ہے زمانے کی ہوا اور دھوپ لگنے سے وہ تقریباً برادا بن چکا ہے کہ ہاتھ لگانے سے چھڑنے لگتا ہے اس لئے اسے اب کوئ ہاتھ نہیں لگاتا۔
گھر کی پرانی چوکھٹیں جو دیمک لگنے کہ وجہ سے نکال دی گئ تھیں آج بھی چھت پر رکھی ہوئ ہیں سال چھ مہینے میں ان پر دیمک مار سپرے کرتے ہیں کہ شاید اس طرح وہ قابل استعمال ہوجائیں۔
بڑے بیٹے کی شادی پر جو پھول کمرہ سجانے کیلئے استعمال کئے گئے تھے وہ ایک ٹوکرے میں رکھ کر اسی کمرے میں رکھ آئے تھے آج بھی اسی طرح رکھا ہوا ہے پھول مرجھاگئے اور اس حجلہ عروسی میں ہونے والے واقعات کے نتیجے میں جنم لینے والے بچے اب بستے لٹکا کر سکول جانے کی عمر کو پہنچے حال یہ ہے ٹوکرے کے پھول اب بھی رکھے ہوئے ہیں بالکل برادہ ہوچکے ہیں اور کمرے کا دروازہ کھولنے پر ہوا کے دباؤ کے باعث اڑتے رہتے ہیں لیکن وہ پھینکنے پر رضامند نہیں۔
اسی کمرے میں ایک سیمنٹ کی بوری میں استعمال شدہ سکرو اور کیلیں جمع ہیں جو نصف صدی سے جمع ہوتے ہوتے اب بوری کہ منہ تک آچکی ہیں اسی کمرے میں سیمنٹ کی وہ خالی بوریاں بھی موجود ہیں عرصہ بیس سال قبل گھر کا فر ش پکا کرانے میں استعمال ہوئ تھیں۔
خالو کی عادات اور انکی شخصیت پر بات تو بہت ہوسکتی ہے لیکن وقت اجازت نہیں دیتا
ع وقت ہوا تمام مدح باقی ہے
سوچتا ہوں کہ اگر وہ ایک عام ہی زندگی گزار رہےہوتے تو کچھ بھی ایسا دلچسپ وجود میں ہی نہ آتا اللہ خالو کی عمر دراز کرے کبھی دوبارہ باقی بچ جانے والے واقعات ذکر کرونگا۔
آخر میں بس اتنا ہی کہ اگر یہ کسی اور کے پاس بھی ایسے خالو ہیں تومجھے ضرور مطلع کریں مجھے ایسے 
دوسرے انسان کو دیکھنے کابچپن سے اشتیاق ہے

Friday, 6 June 2014

پریوں کی چراگاہ فیری میڈوز قسط ۴



جو صاحب ہماری جیپ کے ڈرائیور تھے انکے جسم پر گوشت کم اور ہڈیاں زیادہ تھیں یا یوں اگر کہا جاۓ کے انکی ہڈیوں پر صرف کھال منڈھی تھی تو بھی غلط نہیں ہوگا سفید شلوار قمیض جو اپنی اصل رنگت کھو کرمٹیالا ہو چکا تھا اسپر ایک واسکٹ اور سر پر روائتی بلتی ٹوپی پہنی ہوئ تھی اور اس جگہ جہاں فیری میڈو میں خوش آمدید کا بورڈ لگا ہوا تھا اس وقت شام ساڑھے چار بجے اتنی گرمی تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ بغیر کسی مبالغہ کے ایسا لگتا تھا کہ سورج سوا نیزے پر ہو سڑک پہاڑ پتھر حتیٰ کہ درخت اور اکے تمام پتے حدت خارج کر رہے تھے اور ہر ایک چیز پر مٹی کی دبیز تہ جمی ہوئ تھی اور اسکے علاوہ وہاں سکوت سناٹا گہرا اور گرم سناٹا قراقرم ہائ وے پر تین موٹر سائیکلیں فراٹے بھرتی ہوئ آئیں اور گزر گئیں دور تک انکی آوازیں ہمارے کانوں میں رہیں اور پھر وہی گہرا اور پریشان کن سکوت اور حدت جیب پر سوار ہونے کے لیۓ میں نے جب لوہے کے ڈنڈے کو پکڑا تو بخدا ایسا محسوس ہوا کہ جیسے گرما گرم توے پر ہاتھ رکھ دیا ہو اور اندر پہنچ کو یوں لگا کہ برضا و رغبت میں ایک تنور میں آگیا ہوں اور کچھ دیر میں روسٹ ہو جاؤنگا۔

"ہم چل کیوں نہیں رہے ہیں؟" میں نے بلتی ٹوپی والے ڈرائیور سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ احمد آجاۓ تو چلتے ہیں بس اور پھر مجھ سے پوچھنے لگے"آپ
 لوگ کو آنے میں ڈر تو نہیں لگا ناں سر؟
 اصل میں جب ٹورسٹ کا واقعہ ہوا تو ٹی وی والوں نے پھیری میڈو بولا ناں یہی بہت غلط کیا اتنا لوگ ڈر کی وجہ سے نہیں آیا ناں ادھر آپ لوگ کہاں سے آیا ہیں سر؟"
 ہم نے دو چار رسمی سی باتیں کیں اور اپنی ناراضی کا اظہار بھی کیا ٹی وی والوں نے غلط کیا لیکن جو بھی اسکی سزا ہمیں دینا اس گرمی میں ایک تنور نما جیب میں بٹھا نا اور اس دنیا میں جہنم کی یاد دلانا کہاں کا انصاف تھا؟

احمد بھائ کے جیپ میں آنے پر یہ انتظار ختم ہوا اور بلتی ٹوپی نے چابی گھما کر جیپ سٹارٹ کی انجن کا شور بلند ہوا فضا کا جامد سکوت ٹوٹا اور یہ آواز سفر کرتی ہوئ تمام بلندیاں طے کرتی ہوئ فیری میڈو کے جنگل پہنچی اور وہاں میرے استقبال کی تیاریاں شروع ہوئیں اور یہی آواز قراقرم ہائ وے پر سفر کرتی ہوئ دریاۓ سندھ کے ساتھ ساتھ بہتی ہوئ میرے گھر پہنچی اور اسی وقت میرے موبائل فون کی گھنٹی بجی شائد میری امی ہوں اور انکو خبر مل گئ ہو کہ میں ایک خطرناک اور مشکل راستے پر سفر کرنے والا ہوں میں نے اپنا موبائل فون نکالا اور وہ مردہ حالت میں تھا راۓ کوٹ برج اور اطراف کے تمام علاقوں میں موبائل کی کوئ سہولت میسر نہیں ہے تو پھر یہ گھنٹی؟ میں خوف زدہ تھا فیری میڈوز کا جیپ ٹریک دنیا کا ایک مشکل ترین ٹریک ہے اگر کسی بھی قسم کا کوئ حادثہ ہو جاۓ یا جیپ اپنا ٹریک بھول جاۓ کسی بھی دوسری صورت میں آپکی یقینی موت ہوتی ہے اگر آپ خوش قسمت ہوۓ اور کسی ایسی جگہ حادثہ کا شکار ہوۓ جہاں سے آپ کا جسم صحیح حالت میں مل جاۓ اور آپ کے سامان سے آپکا شناختی کارڈ وغیرہ حاصل کرکے آپ کو گھر پہچا دیا جاۓ نہیں تو دوسری صورت بہت خوفناک اور میں کسی بھی ایسی صورت کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا پہلی یا دوسری میں زندہ سلامت اپنے گھر واپس جانا چاہتا تھا مجھے میرے ماں یاد آرہی تھی میں بات کرنا چاہتا تھا کہنا چاہتا تھا کہ امی سفر تھوڑا پیچیدہ ہے آپ دعا کریں لیکن ایسی کوئ صورت نہیں تھی اور مجھے اسکی ضرورت بھی نہیں تھی مجھے معلوم تھا کے میرے لیۓ دعاؤں کا ایک نا ختم ہونے والا ذخیرہ ساتھ ہے اور ہر لمحہ بڑھتا ہی جا رہا ہے لیکن میں نے پھر بھی خیال کرکے امی کو مخاطب کیا اور اپنی درخواست گوش گزار کردی خود بھی جو دعائیں یا آتی گئیں وہ سب پڑھ کر دم کیا مضبوطی سے جم کر پیٹھ گیا.

گھوں گھوں کرتا جیپ کا انجن واپس تاتو کی طرف پلٹا اور راستے سے ہٹ کر کچے راستے پر آگیا ہمارے پیچھے مٹی کا ایک طوفان تھا چھوٹے چھوٹے پتھر جیپ کے پہیوں کے نیچے آتے اور کڑکڑا کر نیچے گرتے اور گرد کے طوفان میں گم ہوجاتے دو تین مرتبہ گھوم گھوم پر جب ہم تھوڑا اوپر ہوۓ تو نیچے کا کا منظر کچھ ایسا تھا کہ کسی نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے یہاں پر بمباری کی گئ ہے اور کسی فلم کا ایسا منظر لگ رہا ہے جیسے کسی بڑی تباہی کے بعد کے لمحات کو فلمایا گیا ہو اور سیٹ کو ویسے ہی محفوظ کر لیا گیا ہو ایک بڑا میدان اور چھوٹے بڑے پتھر بے ترتیبی سے یا انکی ترتیب ہی ایسی تھی پڑے ہو تھے اور گرمی کی وجہ سے بھاپ اٹھتی ہوئ نظر آتی تھی اور ایک پرسراری تھی مجھے یہ منظر کسی دوسرے سیارے کی ایک تصویر لگا کسی سیٹالائیٹ سے اتاری گئ ایک بڑے فریم کی تصویر پھر مجھے یوں محسوس ہوا کہ جب سے کائینات تخلیق ہوئ ہے یہ منظر ایسا ہی ہے اور جب تک یہ کائینات رہے گی یہ منظر بھی ایسا ہی رہے گا اور جب حشر قائم ہوگا تب بھی یہ منظر ایسا ہی ہوگا گویا میرے سامنے ایک ایسی تصویر تھی جسمیں کائنات کی ابتدا اور انتہا دونوں بیک وقت نمایاں تھیں۔

جیپ اوپر ہوتی گئ انجن اسی طرح زور لگاتا رہا گول گول چکر کاٹتے ہوۓ دائیں طرف پہاڑ ایک دیوار کی طرح راستے کے ساتھ لگا ہوا اور راستہ کسی بھی مقام پر اس سے زیادہ چوڑا نہیں تھا کہ اس پر ایک جیپ سے زیادہ گزرنے کی جگہ ہو دو ایک مقامات پر ہمیں اوپر سے آنے والے جیپوں کو جگہ دینا پڑی اور جس انداز سے جگہ فراہم کی گئ وہ کسی بھی کمزور دل انسان کی جان نکالنے کے لیۓ کافی ہے جان تو ہماری بھی حلق میں ہی تھی لیکن ہم بظاہر بہادر بنے ہوۓ تھے بائیں طرف دور ایک اور پہاڑ تھا اور دونوں کادرمیانی فاصلہ کم از کم ڈیڑھ سے دو کلومیٹر رہا ہوگا اور ان دونوں کے درمیاں میں نیچے بہت نیچے بال برابر باریک ایک پانی کی لکیر تھی جو کبھی تو نظر آتی اور کبھی پتھروں میں گم ہو جاتی یہ راۓ کوٹ گلیشئر سے آنے والا پانی تھا جو آگے جا کر دریاۓ سندھ کا حصہ بن جاتا ہے۔

بعض راستے اتنے دشواز گزار ہوتے نہیں جتنا آپ محسوس کرتے ہیں لیکن راۓ کوٹ سے فیری پوائنٹ تک کا جیپ ٹریک اتنا ہی دشوار گزار ہے جتنا آپ محسوس کرتے ہیں یا شائد ایک وقت کے بعد آپ محسوس کرنا چھوڑ دیتے ہیں یا آپ کی حس جواب دے جاتی ہے کم از کم اگر یہ سفر پہلی مرتبہ کیا جاۓ تب ضرور یہی حالت ہوتی ہے مجھے پل صراط پر سفر کرنا اس ٹریک کے مقابلے میں آسان محسوس ہو رہا تھا اور کئ مقامات پر میرا دل کیا کہ میں التجا کرکے جیپ رکوا لوں اور باقی کا سفر پیدل طے کرلوں تقریبا" ڈیڑھ گھنٹہ جیب انہی اونچے نیچے دل دہلا دینے والے راستوں پر سفر کرتی رہی راۓ کا پانی جو شروع میں ایک سوئ کے برابر نظر آتا تھا اب اپنی اصلیت پر واپس آتا ہو محسوس ہوتا تھا اور اسکا یہ مطلب تھا کہ ہم کافی اونچائ پر آچکے تھے ایک موڑ پر میں نے دیکھا دو جیپیں کھڑی ہوئ ہیں اور کچھ نوجوان پاس کھڑے ہیں اور ایک گاؤں کے آثار اکتا دینے والی یکسانیت کا سفر ختم ہوا مجھے اپنے زندہ بچ جانے کی زیادہ خوشی تھی جیپ سے باہر آۓ اپنے ہاتھ پیر ہلا کر خون کی روانی بحال کی جیپ والے کا شکریہ ادا کیا اپنی واپسی کا دن بتایا اور اپنے بیگ اپنے کاندھوں پر لٹکانے بے بعد کچھ دور چل کر فیری پوائنٹ ہوٹل تک آۓ یہاں ہمارے کھانے کا انتظام تھا اور پھر فیری میڈو کا اصل ٹریک کا آغاز ہونا تھا۔






Saturday, 31 May 2014

پریوں کی چراگاہ فیری میڈوز قسط ۳


ہم وہاں نہیں جا سکتے؟

واقعی کیا میری خواہش پوری نہیں ہو سکتی؟ مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا میں اس موڑ پر پہنچ چکا تھا کہ واپس پلٹنا میرے لیۓ نامکنات میں سے تھا فیری میڈو میرے سر پر ایک خواب کی طرح سوار تھا اور اب اسکو سر سے اتارنا میرے لیۓ نا ممکن ہو چکا تھا میں "پوائنٹ آف نو ریٹرن" پر پہنج چکا تھا لیکن اگر راستے بند ہوں اور داخلے کا راستہ نہ ہو تو مٰیں کیسے جا سکتا ہوں؟

میرے پاس فیری میڈو کے جتنے بھی فون نمبر تھے ان میں سے کسی پر بھی رانطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔

میں نے اپنی ہر کوشش کی اور آخر میں "راۓ کوٹ سراۓ" والے رحمت نبی کا نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

"ہیلو" گلگتی لہجے میں ایک قدرے سخت آواز آئ

"جی میں کراچی سے فیضان بات کررہا ہوں رحمت صاحب سے بات ہو سکتی ہے؟"

"نہیں وہ نہیں ہیں گلگت گۓ ہیں کیا بات کرنی ہے؟"

"وہ ٹی وی پر نیوز میں فیری میڈو کی خبر چل رہی ہے اسی کی تصدیق کرنی ہے"

"آپ کا بکنگ ہے کیا سر؟

"نہیں میں آنے والا تھا اگلے کچھ دنوں میں تو اسی لیۓ فون کیا سنا تھا فوج آگئ ہے سیل کردیا ہے فیری میڈو کو؟"

"خدا تباہ کرے انکو سر کچھ نہیں ہوا یہاں پر دوسرا سائڈ میں ہوا ہے فیری میڈو میں سب خیریت ہے آپ کو آنا ہے کب آنا ہے؟ رحمت بھائ گلگت گیا ہے وہ نہیں ہے میرا نام میرجمعہ ہے دو دن میں آجاۓ گا بعد میں فون کرو آپ"

فون منقطع ہوا مجھے کچھ اطمنان ہوا لیکن دوسروں کو کیسے یقین دلایا جاۓ اور خاص کر تب جبکہ سارا زور ہی اس بات پر ہو کہ جایا نہیں جا سکتا اور ٹکٹ نہ کرانا میں نے دوبارہ مونس کو فون کیا اور میں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم کونسا ڈائرکٹ فیری میڈو چلے جائیں گے اور ابھی کافی دن ہیں تو حالات اگر بہتر نہ ہوۓ تو ہم اپنا روٹ تبدیل کر سکتے ہیں سوات کشمیر یا کہیں بھی دوسری جگہ وہ کسی حد تک مطمئن ہوگیا تھا لیکن راضی پھر بھی نہیں ہوا تھا۔

دوسرا فون میں نے اپنے دوسرے ساتھی مبین کو کیا اور اسکو پوری بات شروع سے آخر تک سمجھا دی اس نے وعدہ کیا کہ وہ مونس سے بات کرے گا۔

میں نے اور مبین نے آپس میں یہ طے کیا کہ اگر تو فیری میڈو واقعی بند ہے تو کوئ جا نہیں سکے گا لیکن ہم گھر سے نکلنا چاہتے تھے چاہے وہاں پہنچ پائیں یا نہیں لیکن کچھ آوارہ گردی بحر حال کی جا سکتی تھی منزل پر نہ پہنچنے کا دکھ اپنی جگہ لیکن کیا کوئ اور جگہ ہمیں خوشی نہیں دے سکے گی؟

طے یہ ہوا تھا کہ ہم پروگرام کے مطابق اپنا سفر شروع کریں گے راولپنڈی تک اور اپنی منزل کا حتمی تعین وہاں پہنچنے کے بعد کریں گے اگر تو واقعی کوئ ایسی خبر ملتی ہے تو ہم اپنا پلان تبدیل کر لیں گے ورنہ پہلے سے طے شدہ راستہ ہی طے کیا جاۓ گا۔ تمام تر پروگرام مونس سے پوشیدہ رکھا جاۓ گا اور ایک طرح سے دھوکہ سے اپنے ساتھ لے جایا جاۓ گا۔

کراچی سے براستہ فیصل آباد بزریعہ ٹرین اور وہاں سے بزریعہ کوچ ہم اسلام آباد پہچے اور لاری اڈے سے ٹیکسی لیکر سیدھا پیر ودھائ اور وہاں ہم نے مونس کو ٹیکسی میں سامان کے ساتھ چھوڑا اور ناٹکو بکنگ کاؤنٹر سے راۓ کوٹ برج تک کے تین ٹکٹ خریدے گویا ہم فیری میڈو جا رہے تھے جب ہم واپس ٹیکسی میں آۓ تو ہم سے سوال ہوا

"کہاں کا ٹکٹ لیا ہے؟"

اب تک اندر کا ڈر ختم ہو چکا تھا اور وہ بھی ذہنی طور پر ہمارے ساتھ چلنے پر آمادہ ہو چکا تھا اور اسکے لیۓ کافی محنت کرنا پڑی تھی ہم دونوں کو ہماری رہائش کا انتظام سیکٹر ایف گیارہ میں تھا پوری رات باہر گزارنے کے بعد صبح میں نے احمد بھائ کو فیری میڈو آنے کی اطلاع دی ہم کو پنڈی سے شام ساڑھے چھ بجے کے قریب روانہ ہونا تھا وہاں پہنچے کا اندازاؔ وقت اور تمام دیگر معلومات بھی فراہم کردیں اور ہم نے آگے کے سفر کی تیاری شروع کی جسمیں سامان کی دوبارہ پیکنگ ضروری اور وہ سامان جنکی ضرورت زیادہ اور فوری ہو انکی ترتیب کے حساب سے بیگ میں جگہ بنانا شامل تھا دوپہر کے قریب کچھ مزید سامان کی خریداری کے لیۓ ہم بازار گۓ اور تمام اشیاء شیلف سے نکال نکال کر دوکان دار کے سامنے ڈھیر کرنا شروع کردیں جن میں بسکٹس ، چیونگم ، چاکلیٹ، صابن، ٹشو پیپرز، کھجور، بھنے ہوۓ چنے، کچھ دوائیں، ڈیٹول اور نا جانے کیا کیا ایک ڈھیر کاؤنٹر پر جمع ہو گیا اور دوکاندار کچھ پریشان سا ہمیں دیکھتا تھا

"آپ کو کہاں جا رہے ہیں؟" آخر اس نے سوال کر لیا

" نانگا پربت" کوئ اور سوال نہیں کیا گیا خاموشی سے بل بنایا اور ہم ادا کرکے اپنے تھیلے اٹھا کر باہر آگۓ واپس آکر اس سامان کو بھی پیک کیا اپنے تئیں اطمنان کرنے کے بعد اپنے کیمرے اور موبائل چارج کرے اور ان تمام باتوں کے درمیان جو چیر مسلسل چل رہی تھی وہ ہماری تمباکو نوشی تھی اور میں تھوڑا سا پریشان بھی تھا کہ اسکے بعد کہیں ہمارا ٹریک کرنا مشکل نہ ہو جاۓ لیکن رکتے نہیں تھے۔

سفر شروع ہوا راولپنڈی سے ایبٹ آباد اور یہاں سے قراقرم ہائ وے کا باقعدہ آغاز ہوتا ہے دنیا کا بلاشبہ آٹھواں عجوبہ پر پیج اور پر خطر راستوں پر ایک سڑک ایبٹ آباد سے مانسہرا اور بشام کانواۓ کی پابندی کی وجہ سے یہاں رکنا اور کانواۓ میں شامل ہونا لازمی ہوتا ہے ایک ایسی پابندی جو آپ کو اکثر اوقات بہت خوار کرتی ہے اور ہم بھی بہت ہوۓ(اب یہ پابندی ختم کردی کئ ہے) بشام پر جب پم اترے تو تب رات کے ڈھائ بجتے تھے مکمل اندھیرا اور ٹہرنے کا کوئ انتظام نہیں یونہی فوٹ پاتھ پر بیٹھ کر یا ادھر ادھر گھوم کر وقت گزارنا صبح تک روشنی ہونے تک اندھیرا ایسا کہ اپنا آپ گم ہوتا محسوس ہو اور پاس بیٹھا ہوا شخص بھی نظر نہ آۓ ایک پٹرول پمپ کی روشنی موجود تھی جو کہ پورے علاقے کو روشن تو قطعئ نہ کرتی مگر ایسا کنٹراسٹ پیدا کر رہی تھی کہ جہاں ہم تھی اس اندھیرے کو مزید گہرا کرتی تھی کئ لوگ جو شائد اکثر کے مسافر تھے فوراؔ ہی پٹرول پمپ کے ساتھ چھوٹے سے گھاس کے قطعے پر دراز ہو کر سو گۓ اور انکی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اب وہاں بلکل کوئ جگہ نہ تھی اور ہمارے نصیب میں بس خواری ایک ہوٹل ادھ بنا جہاں بجلی نہیں تھی اندھیرا اور گرمی پورے ماحول پر ایک آواز حاوی تھی جھینگروں کے بولنے کی آواز اور دریاۓ سندھ اپنی مدھم آواز کے ساتھ نیچے بہتا جا رہا تھا ہم سڑک کے ساتھ بیٹھ کر اور کھی ٹہل کر وقت گزارنے کی کوشش کر رہے تھے رات گزر رہی تھی اور اندھیرا دھیرے دھیرے اتر رہا تھا سب سے پہلے بشام کے پہاڑوں کے سر نظر آنا شروع ہوۓ اور فضا اچانک اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا سے گونج اٹھی قریب ہی کوئ مسجد تھی پوچھتے پوچھتے ہم وہاں پہنچے جماعت میں کافی وقت تھا ہم وہیں دراز ہوۓ اور سو گۓ ۔

نماز کے بعد ہم باہر آۓ تو اندھیرا کافی کم ہوچکا تھا اور منظر ہم پر کھل رہا تھا سڑک سے نیچے کی طرف پہاڑی پتھر ایک ترتیب سے رکھے ہوۓ تھے اور کافی نیچے سندھ کا پانی مدھم سروں میں انکے درمیں سے راستہ بناتا ہوا بہتا جا رہا تھا جہاں سے پانی آرہا تھا ادھر کی طرف ایک پل ہے جسکی خوبصورتی اور بناوٹ اپنی مثال آپ ہے پتھر کی محراب نما گولائ اور ستونوں پر جہاں جہاں پانی مسلسل بہتا ہے وہاں سے آپر کی جانب جمی ہوئ دبیز کائ جو دور سے ستون پر اگی ہوئ گھاس معلوم ہوتی ہے سامنے پہاڑ جو ہمالیائ سلسلے کی ایک کڑی سبزہ میں ڈھکےہوۓ اوپر بنے کچھ گھروں کی چمنیوں سے نکلتا دھواں جو آہستہ آہستہ رکتا ہوا اوپر اٹھ رہا تھا کچھ بکریاں پہاڑ سے نیچے اتر رہی تھیں دور سے ننھی ننھی دھائ دیتی تھیں سامنے منظر اور بشام پر اترنے والے صبح اتنی دلکش تھی کہ دل سے خداۓ برتر کی حمد جاری ہوتی تھی اور یہ تو ابتدا تھی ہم نے اپنی گاڑی کے ڈرائیور پر چلنے کے بارے میں سوال کیا تو معلوم ہوا کہ ناشتہ کے بعد یہاں سے روانگی ہوگی موقع غنیمت تھا ہم نے سڑک چھوڑی اور راستے کے ساتھ ساتھ نیچے اترنا شروع کیا سندھ کا پانی ٹھنڈا اور کیف آور تھا اور صبح کی ہوا خوش کن اطمنان والی اور تازگی والی کچھ وقت وہاں گزانے کے بعد ہم اوپر واپس آۓ ناشتہ کیا کانواۓ تیار تھا ساڑھے سات بجے دوبارہ بگل ہوا اور سفر دوبارہ شروع ہوا۔

فوج کی حفاظت میں کانواۓ چلتا رہا اور جہاں بھی یہ کانواۓ رکتا ایک غدر مچ جاتا لوگ ٹوٹ پڑتے راستے میں کھڑے ہوۓ ٹھیلوں پر ہوٹلوں میں رش لگ جاتا پانی پینے اور ٹھنڈا پانی بھرنے کے لیۓ لائنیں لگ جاتیں ایسے ہی ایک جب ہم داسو پر رکے تو دوپہر کے کھانے کا وقت تھا وہیں پر ایک بابا جی توے پر مجھلی سیک کر فروخت کر رہے تھے کوئلوں کی مہک والے وہ مچھلی کسی بھی فائو سٹار ہوٹل میں بکنے والی اور طرح طرح کی مصالحوں میں بنی مچھلی سے زیادہ ذائقہ دار تھی ایک کے بعد جب دوسری کی خواہش دل میں بیدار ہوئ تو معلوم ہوا کہ وہ غدر کی نظر ہو چکی ہے اور دس منٹ سے بھی کم عرصہ میں وہ بابا اپنی دوکان بڑھا چکے تھے۔

رکتے رکتے اسی طرح سفر کرنے ہوۓ شام کے قریب ہم راۓ کوٹ برج پہچے شام کے ساڑھے چار بج رہے تھے جیسے ہی کانواۓ رکا اور ہم اپنا سامان اٹھاۓ باہر آۓ ایک درمیانے قد چھریرے بدن والا سنہری داڑھی اور گھنی مونچھوں والا ایک نو جوان ہماری طرف لپکا " آپ کا نام فیضان ہے؟"

"جی! آپ احمد بھائ؟"

"جی سار میں صبح جگلوٹ گیا تھا کام سے اور واپسی پر ادھر ہی بیٹھ گیا میں بول آیا تھا صبح اوپر کہ مہمان آنے والے ہیں میں ساتھ لیکر واپس آؤنگا" ایک سیاح کیلیۓ مہمان کا لفظ سننا مجھے بہت بھلا معلوم ہوا اور ایک اندرونی خوشی کا باعث بنا۔

" یہی سامان ہے آپکا؟ ادھر دے دیں اور بڑھ کر ہمارا سارا سامان لپک لیا ہم سے۔

" آپ لوگ جلدی پہنچ گۓ ورنہ کانواۓ مغرب پر پہنچتا ہے آج کل ادھر۔ یہ والا جیب ہے بیٹھیں سار" اور ہمارا سامان ایک جیب میں ڈال دیا فیری میڈو جیب سٹاپ شنگریلا ہوٹل راۓ کوٹ برج کے بلکل سامنے ہے اور وہاں سے ایک بورڈ واضح نظر آتا ہے
 فیری میڈو میں خوش آمدید 
welcome to Fairy Meadows 
ڈسٹرکٹ دیامر گلگت بلتستان 

Welcome to Fairy Meadow

Wednesday, 28 May 2014

پریوں کی چراگاہ فیری میڈوز قسط ۲


میں نے کیمرہ بند کیا اور اپنی رفتار تیز کردی دھوپ میں شدت تھی اور مستقل چلنے کے عمل سے گرمی زیادہ محسوس ہو رہی تھی اور گلے خشک تھے اور پانی ہمارے پاس نہیں تھا جو اگے چلے گۓ پانی بھی ساتھ لے گۓ تھے۔

خشک گلے گرمی اور آنکھوں کو چندھیا دینے والی دھوپ کی تیزی میں واپسی کا سفر جاری تھا خراماں خراماں ہم فیری میڈو کی جنت ارضی سے دور ہوتے جا رہے تھے کبھی کبھی ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا اور ہمیں شاداب کر جاتا اور پھر وہی دھوپ اور گرمی کی شدت گویا ہم وہ تھے جو نہ جنت میں تھے اور نہ دوزخ میں درمیان میں تھے ہم پر کبھی بہشت کی ہوائیں چلتیں جو ہمیں تروتازہ کرجاتیں جنکے ساتھ آنے والی مہک مہیں سرشار کر جاتی اور پھر وہی گرمی اور پیاس اور مشقت بھرا سفر۔

یہاں آنے سے کچھ دن پہلے تک مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں کبھی نہیں آسکوں گا کم از کم اس سال تو ہرگز نہیں کافی عرصہ ہوا میں نے فیری میڈو کے بارے میں تارڑ صاحب کی کتاب نانگاپربت میں پڑھا اور جس انداز میں چاچا جی نے فیری میڈو کو بیان کیا وہ تو انکا ہی خاصہ ہے اور اس وقت میرے ذہن پر ایک نقش چھوڑا وقت گزرتا گیا اور یہ نقش مدھم پڑتا گیا کچھ دن ہوۓ میرے سفر سے کوئ سال پھر پہلے بات چیت کے دوران پھر ذکر نکلا اور دوبارہ سے وہ تصویر میرے دماغ میں روشن ہوئ اور میں نے وہاں جانے کے بارے میں باقاعدہ پروگرام بنانا شروع کیا معلومات حاصل کرنا شروع کی اور سب سے ضروری اپنے ساتھ جانے والوں کی تلاش شروع کی چاہتے تو آپ یہی ہیں کہ جن سے آپکا ذہن ملتا ہو اور جو قریبی ہوں وہی آکے ہمسفر بھی ہوں۔

جن سے بھی بات کی کسی کو دفتری مسائل اور کسی کو سفر پر پیسے خرچ کرنا فضول خرچی محسوس ہوا کوئ اتنا لمبا اور کٹھن سفر کرنے سے پریشان کچھ نے مشورہ دیا کہ اگر مری اور نتھا گلی چلا جاۓ تو وہ چلنے کے لیۓ تیار ہیں کسی نے اپنی پسند کی تاریخوں میں سفر کرنے پر زور دیا بلاخر میں ایسی دو روحیں تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا جو اس سفر کے لیۓ آمادہ نظر آئیں ایک رات بیٹھ کر انکو پورا پروگرام راستہ سفری سہولیات ضروری اشیاء اور خرچہ وغیرہ کے بارے میں تمام تفصیلات بتا کر انکو مطمئن کیا روانگی اور واپسی کی تاریخیں طے کرنے کے بعد میں رات اطمنان سے سویا اور رات بھر خواب میں ان چراگاہوں میں چرتا رہا اور خود کو یقین دلاتا رہا کہ ہی خواب نہیں ہے حقیقت ہے اگلا دن ہفتہ کا تھا صبح سات بجے میرا فون زور سے بجنے لگا دوسری طرف مونس تھا:

"بھائ فیری میڈو پر غیر ملکی سیاح مار دیۓ ہیں اور فیری میڈو کو سیل کر دیا گیا ہے اب وہاں کوئ سیاح نہیں جا سکتا مجھے امی نے اٹھا کر بتایا ہے ٹی وی پر بھی دکھا رہے ہیں اور امی نے کہا ہے کہ تم لوگ اپنا پروگرام کینسل کردو"

یار فیری میڈو نہیں ہوگا کچھ اور کہا ہوگا دوبارہ دیکھو" میں یہ بات کسی طرح ماننے کو تیار نہیں تھا۔ "نہیں یار میں نے خود دیکھا ہےفیری میڈو کا نام باربار آرہا ہے:

" اچھا دیکھتے ہیں۔اتنی صبح یہی بتانے کے لیۓ فون کیا ہے تم نے؟"

" جو بھی ہو تم ابھی ٹکٹ مت کروانا"

"اچھا دیکھتے ہیں پہلے پتہ تو کر لینے دو ویسے بھی ابھی کافی وقت ہے"


اور واقعی ایسا ہی تھا ٹی وی پر ایسا ہی بولا جا رہا تھا اس وقت میرا ذہن کسی بھی ایسی خبر کو ماننے کے لیۓ تیار نہیں تھا جو میرے سفر کی راہ میں رکاوٹ بنے میں نے بلال سے رابتہ کیا بلال فیس بک پر فیری میڈو کے ایک پیج کا ایڈمن ہے اور کراچی کی ایک نجی یونیورسٹی کا ٹور ہر سال فیری میڈو لیکر جاتا ہے اور وہاں جانے کے لیۓ میں اسی سے رابطے میں تھا اور اس نے میری کافی مدد کی تھی اس سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ واقعہ ہوا تو ضرور ہے لیکن فیری میڈو میں نہیں بلکہ نانگا پربت بیس کیمپ میں دیامر سائڈ پر ہوا ہے اور وہاں سے فاصلہ کافی زیادہ ہے

یہی خبر میں نے مونس کو سنائ لیکن وہ میری بات ماننے کو تیار نہیں تھا اور بضد تھا کے ٹکٹ نہ کرانا اور اب ہم نہیں جا سکتے

Nanga Parbat..Photo Unkown


Saturday, 24 May 2014

پریوں کی چراگاہ فیری میڈوز قسط ۱


میں نیچے اتر رہا تھا ہر قدم رکتا ہوا پیچھے مڑ مڑ کر اس برف کی ملکہ پر نظریں ڈالتا ہوا کہ جانے کون سے موڑ پر یہ میری نظروں سے اوجھل ہو جاۓ اور میں دوبارہ اسکو دیکھ نہ سکوں کبھی ایک اجلا اور صاف ستھرا دن چمکیلی دھوپ میں نہایا ہوا مکمل ہار سنگھار کے ساتھ سجا ہوا مکمل برہنگی میں اپنے جلوے دکھاتا ہوا بے پردہ مجھے اپنی جانب کھینچتا ہوا اور میں اس سے دور جا رہا تھا میرا دل وہیں اٹکا ہو تھا اور میں مڑ مڑ کر دیکھتا ہوا نیچے اتر رہا تھا بہت التجاؤ اور دعاؤں کے بعد آج دیوی جلوہ دکھانے پر آمادہ ہوئ اور آج ہی مجھے اس سے دور جانا تھا جس راستہ پر میں چل رہا تھا نیچے ہزاروں فیٹ نیچے راۓ کوٹ کا دریا شور مچاتا ہوا بہتا تھا اگر ذرہ بھر بے احتیاتی ہوتی تو میں نیچے اسے دریا کے یخ پانیوں میں گر کر ٹھنڈا ہو سکتا تھا شائد وہاں تک پہنچنے سے پہلے کہیں راستے میں موجود پتھروں سے ٹکرا کر میرے جسم کا بہت تھوڑا حصہ باقی بچتا جو وہاں تک جا پاتا باقی راستے میں ہی بکھر کر ختم ہو چکا ہوتا نانگا پربت ایک قاتل پہاڑ ہے۔

وہ نانگا پربت سے دور جانے کا ایک نہایت غیر موزوں دن تھا محفل اپنے عروج پر تھی میلہ ابھی سجا تھا اور مجھے اسے چھوڑ جانے کا حکم ہو چکا تھا تو اس سے دور ہوتے ہوتے بھی میں کچھ رنگ سمیٹنا چاہتا تھا اپنے پوٹلی میں باندھنا چاہتا تھا اور اسکے لیۓ میں اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی باز نہیں رہ پاتا تھا۔

نانگا پربت کو قاتل پہاڑ بھی کہا جاتا ھے یہ ایک ایسی حسینہ ہے جو اپنے چاہنے والوں کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتی ہے یہ چاہتی ہے کہ اسکے عاشق اسکے سامنے قطارباندھے سر جھکاۓ موجود رہیں کوئ اس پر حاوی ہونے کی کوشش نہ کرے بس دور سے دیدار کا انتظار کریں اور جب اسکا دل ہو یہ انکو تھوڑا یا زیادہ دیدار دے اور پردے میں چلی جاۓ اسکو یہ پسند نہیں کہ کوئ اس پر حاوی ہونے کی کوشش کرے اور ایسا کرنے والے سر پھرے عاشقوں کو اکثر ناکامی کا مہ دیکھنا پڑا اب تک نانگاپربت کو زیر کرنے والوں کی تعداد آپ انگلیوں کے پوروں پر گن سکتے ہیں اور پھر بھی آپ کے بہت سے پور بچ جائیں گے۔

1895 میں البرٹ ایف ممری پہلا سر پھرا تھا جس نے اسکو سر کرنے کا عزم کیا لیکن سخت خراب موسم اور مزاہمت کے بعد اسے ناکام واپس لوٹنا پڑا لیکن اپنے بعد بہت سے سر پھروں کو ہمت دے گیا بہت سوں نے کوشش کی اور اپنے خون سے اس دیوی کو غسل دینے کے بعد بھی ناکام رہے یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔

جرمنوں کو ابتدا سے ہی اس سے کچھ زیادہ لگاؤ رہا اور انہوں نے بار بار اسکو زیر کرنے کی کوششیں کیں ویلی مارکیل کی قیادت میں 1932 میں پہلا جرمن قافلہ نانگا پربت کو سر کرنے پہچھا لیکن کچھ خراب موسم اور کچھ اپنی پلاننگ اور معلومات کی کمی کی وجہ سے ناکام رہا مارکیل دو سال بعد یعنی 1934 میں دوبارہ اس مہم پر آیا لیکن مہم کی ابتدا میں اپنے اہم ساتھی الفریڈ دیزل کی موت اور اس کے بعد خراب ترین موسم کی وجہ سے اپنی مہم ترک کرکے واپس اترنا شروع ہوا لیکن واستے میں شدید طوفان میں گھر کر چھ پورٹر اور اپنے تین ساتھیوں سمیت زندگی کی بازی ہار گیا نانگا پربت کو سر پھرے اور اپنے اوپر حاوی ہونے والے پسند تھے وہ صرف دیدار دینا جانتی تھی اور اسکی مرضی کے خلاف اگر زبردستی کی جاۓ تو وہ جان لینے سے چوکتی نانگا پربت کی گردن پر پیسیوں عاشقوں کا خون ہے جن میں سے اکثر ایسے تھے جنکا جسم بھی واپس نہیں کیا اور اپنے پاس سنبھال لیا۔

اس وقت جب کہ یہ قاتل پہاڑ اکتیس جانیں ان سر پھروں کی جو اپنے اپنے ملکوں سے لمبے لمبے سفر کرکے اپنے گھر کا آرام اور آسودگی چھوڑ کر اپنے ہیم پرگر ہاٹ ڈاگ اور کافی چھوڑ کر صرف اس امید پر آۓ تھے کہ انکا لحاظ کرے گی انکی محبت کی قدر کرے گی اور کچھ ایسوں کی جو محض اپنی روزی کمانے اپنی خاندان کی کفالت کرنے انکو راستہ دکھانے اور انکا بوجھ ڈھونے کے لیۓ گھر سے آۓ تھے ایسے میں ایک اور سر پھرا ہرمن بوہل آسٹریا سے لمبے سفر کرتا 1953 میں نانگا پربت کے دامن تک پہچا یہ جانتے ہوۓ بھی کہ اب تک کسی کو کامیا بی نہیں ملی تھی پھر بھی وہ آگیا تھا اسکے ساتھ ایک تجربہ کار 1932 اور 1934 کی مہمات کے سربراہ ویلی مارکیل کا بھائ ہرلیگ کوفر بھی تھا لیکن بوہل کا عزم دیکھ کر نانگا پربت کو سر جھکانا پڑا ایک وقت جب اسکے باقی تمام ساتھی لوٹ گۓ اور بوہل اکیلا رہ گیا تب بھی اسنے ہمت نہیں ہاری اور سفر جاری رکھا اور بلاخر ایک سخت موسم کا مقابلہ کرنے کے بعد بغیر آکسیجن کے 3 جولائ 1953 نانگا پربت کی شدید نا پسندیدگی کے باوجود اس پر حاوی ہونے میں بلاخر کامیاب ہوا اور یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے آٹھ ہزارۓ کسی پہاژ کی چوٹی تک بغیر آکسیجن رک رسائ حاصل کی۔

ایک حسینہ اگر اپنے اوہر حاوی ہونے کی کوشش کرنے والے کو قتل کرسکتی ہے تو ایسے موقع پر محفل سے دور جانے والے کی جان بھی لے سکتی ہے جب کہ وہ اپنے تمام تر حسن کے ساتھ جلوہ گر ہو اور میں بار بار مڑتا ہوا ایک جھلک کی خاطر کہ کیا معلوم کون سے موڑ پر یہ ہمیشہ کے لیۓ چھپ جاۓ اور میں اسکو دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکوں بلکل ویسے ہی جیسے حرم سے نکلنے والا زائر خانہ کعبہ کو مڑ مڑ کر دیکھتا ہے کہ یہ منظر دوبارہ کبھی نصیب ہوگا بھی کہ نہیں اسی دیوانگی کے ساتھ اس خدا کی بنائ حیرت میں ڈالنے والی تخلیق کو دیکھتا تھا اور اس وارفتگی سے دیکھتا تھا کہ اپنی زندگی خطرے میں ڈالتا تھا اور میں اکیلا نہیں تھا تھوڑی احتیاط کے ساتھ میرا ساتھی بھی ایسا ہی کررہا تھا ان گلابی پھولوں کے ساتھ کھڑا جو اس راستے پر جا بجا موجود تھے میں یہ سوچ رہا تھا کہ فیری میڈو چھوڑنے اور نانگا پربت سے دور جانے کا یہ ایک بہت غیر مناسب موقع ہے لیکن میرا وہاں ہونا بہت سی مشکلات کے بعد ممکن ہوا تھا اور میرے لیۓ کسی معجزے کم نہیں تھا میری آنکھوں میں اندیکھے مناظر کا سحر تھا جو مجھے بلاتے تھے اپنی جانب ایسے ہی کسی موڑ پر نانگا پربت اوجھل ہوا میرے آنکھوں میں وہ تمام مناظر تھے جنکو میں دیکھ آیا تھا ایک بچہ اوپر سے شور مچاتا آرہا تھا ایک گدھے کے ساتھ بھاگتا ہوا اور اس گدھے کی پشت پر ہمارے رک سیک بندھے ہوۓ تھے بچہ اور گدھا جب نظروں سے اوجھل ہوگۓ مبین نے مجھ سے کہا تھا۔

"او مجنوں !! جلدی کرلو بہت راستہ باقی ہے وہ لوگ بہت آگے چلے گۓ ہیں رفتار بڑھاؤ اور کیمرہ بند کرو"

نانگا پربت..... ایک قاتل پہاڑ